تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { تُدْلُوْا:} یہ باب افعال کے مصدر { ”اِدْلاَءٌ“ } سے جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے، جو { ”دَلْوٌ“ } سے بنا ہے، جس کا معنی ڈول ہے۔ { ”اِدْلاَءٌ“ } کا اصل معنی ڈول ڈالنا ہے، جیسا کہ سورۂ یوسف میں ہے: «فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ» [یوسف: ۱۹] ”تو اس نے اپنا ڈول ڈالا۔“ پھر کوئی چیز کسی کی طرف لے جانے یا بھیجنے کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا۔ حکام کی طرف لے جانے کے دو معنی ہیں اور دونوں یہاں مراد ہیں، ایک یہ کہ آدمی کو معلوم ہے کہ فلاں زمین یا مال فلاں شخص کا ہے، مگر اس کے پاس ثبوت نہیں، اگر میں مقدمہ کر دوں تو عدالت سے اپنے حق میں فیصلہ کروانے میں کامیاب ہو جاؤں گا، چنانچہ وہ حاکم کے پاس مقدمہ لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا۔ «وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ» یعنی جانتے ہوئے ایسا کرنا تو نہایت برا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”یاد رکھو! میں ایک بشر ہی ہوں اور میرے پاس جھگڑنے والے آتے ہیں، تو شاید ان میں سے ایک اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ زبان آور ہو تو میں اسے سچا سمجھتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ کر دوں، سو میں جس کے لیے کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے، خواہ وہ اسے لے لے یا اسے چھوڑ دے۔“ [بخاری، المظالم، باب إثم من خاصم وہو بعلمہ: ۲۴۵۸]
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ قاضی جس کے حق میں کسی چیز کا فیصلہ کر دے وہ اس کے لیے حلال ہو جاتی ہے، لیکن اس آیت اور حدیث سے ان کی بات کا باطل ہونا ظاہر ہے۔ دوسرا معنی اس آیت کا یہ ہے کہ حکام کو بطور رشوت مال دے کر دوسرے کا حق باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔ { ”رِشَاءٌ“ } ڈول کی رسی کو کہتے ہیں، جس کے ذریعے سے پانی نکالا جاتا ہے، اسی طرح راشی رشوت کے ذریعے سے اپنا مطلب حاصل کرتا ہے۔ { ”رَاشِيْ“ } رشوت دینے والا اور {”مُرْتَشِيْ“} رشوت لینے والا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی۔ [ترمذی، الأحکام، باب ما جاء فی الراشی …: ۱۳۳۷، و صححہ الألبانی] اگر اپنا حق لینے کے لیے تاوان دینا پڑے تو یہ رشوت نہیں، اگرچہ جہاں تک ہو سکے اس سے بھی بچنا لازم ہے، کیونکہ یہ گناہ میں اور بری عادت ڈالنے میں مدد ہے، ہاں کوئی بے بس ہو جائے تو الگ بات ہے، لیکن لینے والا لعنت کا مستحق ہو گا اور کبیرہ گناہ کا مرتکب ہو گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مجاہد سعید بن جبیر، عکرمہ، مجاہد، حسن، قتادہ، سدی مقاتل بن حیان، عبدالرحمٰن بن زید اسلم رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں کہ باوجود اس علم کے کہ تو ظالم ہے جھگڑا نہ کر، [تفسیر ابن ابی حاتم:393/1:] بخاری و مسلم میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں انسان ہوں میرے پاس لوگ جھگڑا لے کر آتے ہیں شاید ایک دوسرے سے زیادہ حجت باز ہو اور میں اس کی چکنی چپڑی تقریر سن کر اس کے حق میں فیصلہ کر دوں [حالانکہ درحقیقت میرا فیصلہ واقعہ کے خلاف ہو] تو سمجھ لو کہ جس کے حق میں اس طرح کے فیصلہ سے کسی مسلمان کے حق کو میں دلوا دوں وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے خواہ اٹھا لے خواہ نہ اٹھائے، [صحیح بخاری:2680] میں کہتا ہوں یہ آیت اور حدیث اس امر پر دلیل ہے کہ حاکم کا حکم کسی معاملہ کی حقیقت کو شریعت کے نزدیک بدلتا نہیں، فی الواقع بھی نفس الامر کے مطابق ہو تو خیر ورنہ حاکم کو تو اجر ملے گا، لیکن اس فیصلہ کی بنا پر حق کو ناحق بنا لینے والا اللہ کا مجرم ٹھہرے گا اور اس پر وبال باقی رہے گا، جس پر آیت مندرجہ بالا گواہ ہے، کہ تم اپنے دعوے کو باطل ہونے کا علم رکھتے ہوئے لوگوں کے مال مار کھانے کے لیے جھوٹے مقدمات بنا کر جھوٹے گواہ گزار کر ناجائز طریقوں سے حکام کو غلطی کھلا کر اپنے دعووں کو ثابت نہ کیا کرو،
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں لوگو! سمجھ لو کہ قاضی کا فیصلہ تیرے لیے حرام کو حلال نہیں کر سکتا اور نہ باطل کو حق کر سکتا ہے، قاضی تو اپنی عقل سمجھ سے گواہوں کی گواہی کے مطابق ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ صادر کر دیتا ہے اور وہ بھی آخر انسان ممکن ہے خطا کرے اور ممکن ہے خطا سے بچ جائے تو جان لو کہ اگر فیصلہ قاضی کا واقعہ کے خلاف ہو تو تم صرف قاضی کا فیصلہ اسے جائز مال نہ سمجھ لو یہ جھگڑا باقی ہی ہے یہاں تک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دونوں جمع کرے اور باطل والوں پر حق والوں کو غلبہ دے کر ان کا حق ان سے دلوائے اور دنیا میں جو فیصلہ ہوا تھا اس کے خلاف فیصلہ صادر فرما کر اس کی نیکیوں میں اسے بدلہ دلوائے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:550/3]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ولا تأخذوا أموالكم أي أموال غيركم، أضافه إليهم لأنه ينبغي للمسلم أن يحب لأخيه ما يحب لنفسه، ويحترم ماله كما يحترم ماله، ولأن أكله لمال غيره يجرئ غيره على أكل ماله عند القدرة، ولما كان أكلها نوعين: نوعاً بحقٍّ ونوعاً بباطل، وكان المحرم إنما هو أكلها بالباطل قيده تعالى بذلك، ويدخل بذلك أكلها على وجه الغصب والسرقة والخيانة في وديعة أو عارية أو نحو ذلك، ويدخل فيه أيضاً أخذها على وجه المعاوضة بمعاوضة محرمة، كعقود الربا والقمار كلها فإنها من أكل المال بالباطل، لأنه ليس في مقابلة عوض مباح، ويدخل في ذلك أخذها بسبب غش في البيع والشراء والإجارة ونحوها، ويدخل في ذلك استعمال الأجراء وأكل أجرتهم، وكذلك أخذهم أجرة على عمل لم يقوموا بواجبه، ويدخل في ذلك أخذ الأجرة على العبادات والقربات التي لا تصح حتى يقصد بها وجه الله تعالى، ويدخل في ذلك الأخذ من الزكوات والصدقات والأوقاف والوصايا، لمن ليس له حق منها أو فوق حقه، فكل هذا ونحوه من أكل المال بالباطل، فلا يحل ذلك بوجه من الوجوه حتى ولو حصل فيه النزاع والارتفاع إلى حاكم الشرع، وأدلى من يريد أكلها بالباطل بحجة غلبت حجة المحق، وحكم له الحاكم بذلك، فإن حكم الحاكم لا يبيح محرماً ولا يحلل حراماً، إنما يحكم على نحو مما يسمع، وإلا فحقائق الأمور باقية، فليس في حكم الحاكم للمبطل راحة ولا شبهة ولا استراحة، فمن أدلى إلى الحاكم بحجة باطلة، وحكم له بذلك فإنه لا يحل له، ويكون آكلاً لمال غيره بالباطل والإثم، وهو عالم بذلك فيكون أبلغ في عقوبته وأشد في نكاله.
وعلى هذا؛ فالوكيل إذا علم أن موكله مبطل في دعواه لم يحل له أن يخاصم عن الخائن كما قال تعالى: {ولا تكن للخائنين خصيماً}.