ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 188

وَ لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ وَ تُدۡلُوۡا بِہَاۤ اِلَی الۡحُکَّامِ لِتَاۡکُلُوۡا فَرِیۡقًا مِّنۡ اَمۡوَالِ النَّاسِ بِالۡاِثۡمِ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸۸﴾٪
اور اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے مت کھائو اور نہ انھیں حاکموں کی طرف لے جائو، تاکہ لوگوں کے مالوں میں سے ایک حصہ گناہ کے ساتھ کھا جائو، حالانکہ تم جانتے ہو۔ En
اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اورنہ اس کو (رشوةً) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو
En
اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھایا کرو، نہ حاکموں کو رشوت پہنچا کر کسی کا کچھ مال ﻇلم وستم سے اپنا کر لیا کرو، حاﻻنکہ تم جانتے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 188) ➊ {وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ …:} روزے کی حالت میں اللہ کے حکم سے آدمی تین نہایت مرغوب اور حلال چیزیں ترک کر دیتا ہے، اس مناسبت سے اب حرام سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ جو مال بھی نا جائز طریقے سے حاصل کیا جائے، خواہ اس میں مالک کی رضا مندی بھی شامل ہو، وہ باطل(یعنی ناحق) طریقے سے کھانا ہے، مثلاً سود، زنا کی اجرت، نجومی کی فیس، شراب کی فروخت، لاٹری یا جوئے کے ذریعے سے کمائی یا گانے بجانے کی اجرت، الغرض تمام ناجائز وسائل باطل کے ساتھ کمانے میں آ جاتے ہیں۔
➋ { تُدْلُوْا:} یہ باب افعال کے مصدر { اِدْلاَءٌ } سے جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے، جو { دَلْوٌ } سے بنا ہے، جس کا معنی ڈول ہے۔ { اِدْلاَءٌ } کا اصل معنی ڈول ڈالنا ہے، جیسا کہ سورۂ یوسف میں ہے: «فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ» [یوسف: ۱۹] تو اس نے اپنا ڈول ڈالا۔ پھر کوئی چیز کسی کی طرف لے جانے یا بھیجنے کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا۔ حکام کی طرف لے جانے کے دو معنی ہیں اور دونوں یہاں مراد ہیں، ایک یہ کہ آدمی کو معلوم ہے کہ فلاں زمین یا مال فلاں شخص کا ہے، مگر اس کے پاس ثبوت نہیں، اگر میں مقدمہ کر دوں تو عدالت سے اپنے حق میں فیصلہ کروانے میں کامیاب ہو جاؤں گا، چنانچہ وہ حاکم کے پاس مقدمہ لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا۔ «‏‏‏‏وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ» یعنی جانتے ہوئے ایسا کرنا تو نہایت برا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: یاد رکھو! میں ایک بشر ہی ہوں اور میرے پاس جھگڑنے والے آتے ہیں، تو شاید ان میں سے ایک اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ زبان آور ہو تو میں اسے سچا سمجھتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ کر دوں، سو میں جس کے لیے کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے، خواہ وہ اسے لے لے یا اسے چھوڑ دے۔ [بخاری، المظالم، باب إثم من خاصم وہو بعلمہ: ۲۴۵۸]
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ قاضی جس کے حق میں کسی چیز کا فیصلہ کر دے وہ اس کے لیے حلال ہو جاتی ہے، لیکن اس آیت اور حدیث سے ان کی بات کا باطل ہونا ظاہر ہے۔ دوسرا معنی اس آیت کا یہ ہے کہ حکام کو بطور رشوت مال دے کر دوسرے کا حق باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔ { رِشَاءٌ } ڈول کی رسی کو کہتے ہیں، جس کے ذریعے سے پانی نکالا جاتا ہے، اسی طرح راشی رشوت کے ذریعے سے اپنا مطلب حاصل کرتا ہے۔ { رَاشِيْ } رشوت دینے والا اور {مُرْتَشِيْ} رشوت لینے والا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی۔ [ترمذی، الأحکام، باب ما جاء فی الراشی …: ۱۳۳۷، و صححہ الألبانی] اگر اپنا حق لینے کے لیے تاوان دینا پڑے تو یہ رشوت نہیں، اگرچہ جہاں تک ہو سکے اس سے بھی بچنا لازم ہے، کیونکہ یہ گناہ میں اور بری عادت ڈالنے میں مدد ہے، ہاں کوئی بے بس ہو جائے تو الگ بات ہے، لیکن لینے والا لعنت کا مستحق ہو گا اور کبیرہ گناہ کا مرتکب ہو گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

188۔ 1 ایسے شخص کے بارے میں ہے جس کے پاس کسی کا حق ہو لیکن حق والے کے پاس ثبوت نہ ہو اس کمزوری سے فائدہ اٹھا کر وہ عدالت یا حاکم مجاز سے اپنے حق میں فیصلہ کروا لے اس طرح دوسرے کا حق غصب کرلے یہ ظلم ہے اور حرام ہے۔ عدالت کا فیصلہ ظلم اور حرام کو جائز اور حلال نہیں کرسکتا۔ یہ ظالم عند اللہ مجرم ہوگا (ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

188۔ اور آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل [247] طریقوں سے نہ کھاؤ، نہ ہی ایسے مقدمات اس غرض سے حکام تک لے جاؤ کہ تم دوسروں کے مال کا کچھ حصہ ناحق طور پر ہضم کر جاؤ، حالانکہ حقیقت حال تمہیں معلوم ہوتی ہے
[247] باطل طریقوں سے مال کھانے کی صورتیں:۔
باطل طریقوں سے دوسروں کا مال ہضم کرنے کی کئی صورتیں ہیں مثلاً چوری، خیانت، دغا بازی، ڈاکہ، جوا، سود اور تمام نا جائز قسم کی تجارتیں اور سودے بازیاں ہیں اور اس آیت میں بالخصوص اس نا جائز طریقہ کا ذکر ہے جو حکام کی وساطت سے حاصل ہو۔ اس کی ایک عام صورت تو رشوت ہے کہ حاکم کو رشوت دے کر مقدمہ اپنے حق میں کرا لے اور اس طرح دوسرے کا مال ہضم کر جائے اور دوسری یہ کہ مثلاً تمہیں معلوم ہے کہ فلاں جائیداد یا فلاں چیز زید کی ہے۔ لیکن اس کی ملکیت کا کوئی ثبوت اس کے پاس موجود نہیں ہے اور تم مقدمہ کی صورت میں ایچ پیچ کے ذریعہ وہ چیز زید سے ہتھیا سکتے ہو تو اس طرح عدالت کے ذریعہ تم اس چیز کے مالک بن سکتے ہو۔ اس طرح بھی دوسرے کا مال ہضم کرنا حرام ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا ”میں ایک انسان ہی ہوں۔ تم میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے ایک دوسرے کی نسبت اپنی دلیل اچھی طرح پیش کرتا ہو اور میں جو کچھ سنوں اسی کے مطابق فیصلہ کر دوں اور اگر میں کسی کو اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ دینے کا فیصلہ کر دوں تو اسے چاہیے کہ نہ لے۔ کیونکہ میں اسے آگ کا ٹکڑا دے رہا ہوں۔“ [بخاري، كتاب الاحكام، باب موعظة الامام للخصوم]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

منصف، انصاف اور مدعی ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں ہے جس پر کسی اور کا مال چاہیئے اور اس حقدار کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو یہ شخص کا انکار کر جائے اور حاکم کے پاس جا کر بری ہو جائے حالانکہ وہ جانتا ہو کہ اس پر اس کا حق ہے وہ اس کا مال مار رہا ہے اور حرام کھا رہا ہے اور اپنے تئیں کو گنہگاروں میں کر رہا ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:551/3]‏‏‏‏
مجاہد سعید بن جبیر، عکرمہ، مجاہد، حسن، قتادہ، سدی مقاتل بن حیان، عبدالرحمٰن بن زید اسلم رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں کہ باوجود اس علم کے کہ تو ظالم ہے جھگڑا نہ کر، [تفسیر ابن ابی حاتم:393/1:]‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں انسان ہوں میرے پاس لوگ جھگڑا لے کر آتے ہیں شاید ایک دوسرے سے زیادہ حجت باز ہو اور میں اس کی چکنی چپڑی تقریر سن کر اس کے حق میں فیصلہ کر دوں [حالانکہ درحقیقت میرا فیصلہ واقعہ کے خلاف ہو]‏‏‏‏ تو سمجھ لو کہ جس کے حق میں اس طرح کے فیصلہ سے کسی مسلمان کے حق کو میں دلوا دوں وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے خواہ اٹھا لے خواہ نہ اٹھائے، [صحیح بخاری:2680]‏‏‏‏ میں کہتا ہوں یہ آیت اور حدیث اس امر پر دلیل ہے کہ حاکم کا حکم کسی معاملہ کی حقیقت کو شریعت کے نزدیک بدلتا نہیں، فی الواقع بھی نفس الامر کے مطابق ہو تو خیر ورنہ حاکم کو تو اجر ملے گا، لیکن اس فیصلہ کی بنا پر حق کو ناحق بنا لینے والا اللہ کا مجرم ٹھہرے گا اور اس پر وبال باقی رہے گا، جس پر آیت مندرجہ بالا گواہ ہے، کہ تم اپنے دعوے کو باطل ہونے کا علم رکھتے ہوئے لوگوں کے مال مار کھانے کے لیے جھوٹے مقدمات بنا کر جھوٹے گواہ گزار کر ناجائز طریقوں سے حکام کو غلطی کھلا کر اپنے دعووں کو ثابت نہ کیا کرو،
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں لوگو! سمجھ لو کہ قاضی کا فیصلہ تیرے لیے حرام کو حلال نہیں کر سکتا اور نہ باطل کو حق کر سکتا ہے، قاضی تو اپنی عقل سمجھ سے گواہوں کی گواہی کے مطابق ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ صادر کر دیتا ہے اور وہ بھی آخر انسان ممکن ہے خطا کرے اور ممکن ہے خطا سے بچ جائے تو جان لو کہ اگر فیصلہ قاضی کا واقعہ کے خلاف ہو تو تم صرف قاضی کا فیصلہ اسے جائز مال نہ سمجھ لو یہ جھگڑا باقی ہی ہے یہاں تک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دونوں جمع کرے اور باطل والوں پر حق والوں کو غلبہ دے کر ان کا حق ان سے دلوائے اور دنیا میں جو فیصلہ ہوا تھا اس کے خلاف فیصلہ صادر فرما کر اس کی نیکیوں میں اسے بدلہ دلوائے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:550/3]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِاور اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے مت کھاؤ کھانے سے مراد لینا ہے اور اپنے مال سے مراد دوسرے لوگوں کا مال ہے۔ دوسروں کے مال کو اپنا مال اس لیے کہا کہ مسلمان کے شایاں یہی ہے کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے اور اپنے بھائی کے مال کا اسی طرح احترام کرے جس طرح وہ اپنے مال کا احترام کرتا ہے۔ دوسرے کے مال کو اپنا مال کہنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ دوسرے کا مال کھائے گا تو دوسرا شخص بھی جب اس کو قدرت حاصل ہو گی، تو اس کا مال کھانے کی جسارت کرے گا (اس لیے کسی دوسرے کا مال کھانا ایسا ہی ہے جیسے وہ اپنا مال کھا رہا ہے۔) چونکہ مال کھانے کی دو قسمیں ہیں: (۱) حق کے ساتھ مال کھانا۔ (۲) اور باطل طریقے سے مال کھانا، اور حرام صرف باطل طریقے سے مال کھانا ہے اس لیے یہاں اس کو باطل سے مقید کیا ہے اور اس میں غصب کر کے، چوری کر کے، امانت میں خیانت کر کے اور ادھار لی ہوئی چیز کا انکار کر کے مال کھانا، سب شامل ہے، نیز اس میں وہ معاوضہ بھی شامل ہے جو حرام ہے، جیسے سودی لین دین اور ہر قسم کے جوئے سے حاصل شدہ مال، کیونکہ یہ مال کسی جائز معاوضے کے طور پر حاصل نہیں ہوا۔
باطل طریقے سے مال کھانے میں خرید و فروخت اور اجارہ میں دھوکہ اور ملاوٹ کے ذریعے سے حاصل کیا ہوا مال بھی شامل ہے۔ مزدوروں سے کام لینا اور پھر ان کی اجرت کھا جانا بھی باطل طریقے سے مال کھانا ہے۔
اسی طرح ان مزدوروں کا کسی کام کی اجرت لینا اور اس کے عوض پورا کام نہ کرنا بھی حرام کھانا اور باطل ہے۔
ان عبادات اور تقرب الٰہی کے کاموں پر اجرت لینا جو اس وقت تک صحیح نہیں ہوتیں جب تک ان میں صرف رضائے الٰہی مقصود نہ ہو، باطل طریقے ہی سے مال کھانے میں داخل ہے۔
اس حرام کھانے میں ان لوگوں کا زکٰوۃ، صدقات، اوقاف اور وصیتوں کا مال کھانا بھی داخل ہے جو اس مال کے مستحق نہیں۔ یا وہ مستحق تو تھے مگر اپنے حق سے زیادہ مال وصول کیا۔
(مال کھانے کی) مذکورہ بالا اور ان جیسی دیگر تمام اقسام باطل طریقے سے مال کھانے کے زمرے میں داخل ہیں۔ جس کا کھانا کسی بھی پہلو سے جائز نہیں۔ حتی کہ اگر اس میں نزاع واقع ہو جائے اور جھگڑا شرعی عدالت میں چلا جائے اور وہ فریق جو باطل طریقے سے مال کھانا چاہتا ہے کوئی ایسی دلیل پیش کرتا ہے جو اصلی حق دار کی دلیل پر غالب آ جاتی ہے اور حاکم اس دلیل کی بنیاد پر اس کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہے (تو عدالتی فیصلے کے باوجود یہ مال حرام اور باطل ہی رہے گا)، اس لیے کہ کسی حاکم کا فیصلہ کسی حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں کر سکتا، کیونکہ حاکم تو صرف پیش کردہ دلائل سن کر فیصلہ کرتا ہے ورنہ معاملات کے اصل حقائق تو اپنی جگہ موجود رہتے ہیں، اس لیے باطل طریقے سے مال ہڑپ کرنے والے کے لیے حاکم کے فیصلے میں کوئی خوشی اور اس مال کے باطل ہونے میں کوئی شبہ اور اس کے لیے کوئی راحت نہیں۔ بنابریں جو کوئی جھوٹے ثبوت کے ساتھ کوئی جھوٹا مقدمہ حاکم کی عدالت میں دائر کرتا ہے اور حاکم اس ثبوت کی بنیاد پر اس کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہے تو یہ مال اس شخص کے لیے جائز نہیں اور وہ غیر کے مال کو جانتے بوجھتے باطل اور گناہ کے طریقے سے کھانے کا مرتکب ہو گا، اس لیے وہ سخت ترین سزا اور عقوبت کا مستحق ہے۔ اسی بنا پر جب وکیل کو یہ معلوم ہو جائے کہ اس کا موکل اپنے دعوے میں جھوٹا ہے تو اس کے لیے اس خائن کی وکالت کرنا جائز نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَلَا تَكُ٘نْ لِّلْخَآىِٕنِیْنَ خَصِیْمًا (النساء:4؍105) اور خیانت کرنے والوں کی حمایت میں کبھی جھگڑا نہ کرنا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ولا تأخذوا أموالكم أي أموال غيركم، أضافه إليهم لأنه ينبغي للمسلم أن يحب لأخيه ما يحب لنفسه، ويحترم ماله كما يحترم ماله، ولأن أكله لمال غيره يجرئ غيره على أكل ماله عند القدرة، ولما كان أكلها نوعين: نوعاً بحقٍّ ونوعاً بباطل، وكان المحرم إنما هو أكلها بالباطل قيده تعالى بذلك، ويدخل بذلك أكلها على وجه الغصب والسرقة والخيانة في وديعة أو عارية أو نحو ذلك، ويدخل فيه أيضاً أخذها على وجه المعاوضة بمعاوضة محرمة، كعقود الربا والقمار كلها فإنها من أكل المال بالباطل، لأنه ليس في مقابلة عوض مباح، ويدخل في ذلك أخذها بسبب غش في البيع والشراء والإجارة ونحوها، ويدخل في ذلك استعمال الأجراء وأكل أجرتهم، وكذلك أخذهم أجرة على عمل لم يقوموا بواجبه، ويدخل في ذلك أخذ الأجرة على العبادات والقربات التي لا تصح حتى يقصد بها وجه الله تعالى، ويدخل في ذلك الأخذ من الزكوات والصدقات والأوقاف والوصايا، لمن ليس له حق منها أو فوق حقه، فكل هذا ونحوه من أكل المال بالباطل، فلا يحل ذلك بوجه من الوجوه حتى ولو حصل فيه النزاع والارتفاع إلى حاكم الشرع، وأدلى من يريد أكلها بالباطل بحجة غلبت حجة المحق، وحكم له الحاكم بذلك، فإن حكم الحاكم لا يبيح محرماً ولا يحلل حراماً، إنما يحكم على نحو مما يسمع، وإلا فحقائق الأمور باقية، فليس في حكم الحاكم للمبطل راحة ولا شبهة ولا استراحة، فمن أدلى إلى الحاكم بحجة باطلة، وحكم له بذلك فإنه لا يحل له، ويكون آكلاً لمال غيره بالباطل والإثم، وهو عالم بذلك فيكون أبلغ في عقوبته وأشد في نكاله.

وعلى هذا؛ فالوكيل إذا علم أن موكله مبطل في دعواه لم يحل له أن يخاصم عن الخائن كما قال تعالى: {ولا تكن للخائنين خصيماً}.