تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ …: } یعنی میاں بیوی ایک دوسرے سے لباس کی طرح مل جاتے ہیں، انھیں جدا رکھنا یقینًا ان پر شاق ہو گا، اس لیے انھیں رمضان کی راتوں میں مباشرت کی اجازت دے دی گئی۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ میاں بیوی کا آپس میں کوئی پردہ نہیں، بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ ”وہ ایک دوسرے کی شرم گاہ کو نہیں دیکھ سکتے“ ان کے ایک دوسرے کا لباس ہونے کے منافی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں: ”میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک ہی برتن سے غسل کر لیتے، جو میرے اور آپ کے درمیان ہوتا، جبکہ ہم دونوں جنبی ہوتے۔“ [بخاری، الحیض، باب مباشرۃ الحائض: ۲۹۹] عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی روایت کہ میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی شرم گاہ نہیں دیکھی، صحیح نہیں۔ [دیکھیے ضعیف ابن ماجہ للألبانی: ۶۶۸]
➌ {وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ:} اس سے صحبت کی لذت کے ساتھ ساتھ پاک دامنی کا حصول اور اولاد کی طلب مراد ہے۔ کفار کی خواہش کے مطابق مسلمانوں کا اولاد کی کثرت سے اجتناب جائز نہیں۔
➍ فجر کے سفید دھاگے سے مراد صبح صادق ہے۔ اس ”سفید دھاگے“ اور ”سیاہ دھاگے“ کے سمجھنے میں بعض صحابہ کو غلط فہمی ہو گئی۔ انھوں نے سرھانے کے نیچے سفید دھاگا اور سیاہ دھاگا رکھ لیا اور اس کے واضح ہونے کا انتظار کرتے رہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اس سے مراد رات کی سیاہی سے صبح کی سفیدی واضح ہونا ہے۔“ [بخاری، الصوم، باب قول اللہ تعالٰی: «و کلوا واشربوا …» : ۱۹۱۶، عن عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ] معلوم ہوا کہ قرآن سمجھنے کے لیے صرف عربی زبان سیکھ لینا کافی نہیں، بلکہ حدیث بھی ضروری ہے۔
➎ فجر تک کھانے پینے اور جماع کی اجازت سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جنابت کی حالت میں روزہ رکھ سکتا ہے، غسل اذان کے بعد کر لے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بھی یہ ثابت ہے۔ [بخاری، الصوم، باب الصائم یصبح جنبا: ۱۹۲۵، ۱۹۲۶، ۱۹۳۰]
➏ {اِلَى الَّيْلِ:} یعنی سورج غروب ہونے تک۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے، کیونکہ یہود و نصاریٰ دیر سے افطار کرتے ہیں۔“ [أبو داوٗد، الصیام، باب ما یستحب من تعجیل الفطر: ۲۳۵۳]
➐ {وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ فِي الْمَسٰجِدِ:} رمضان سے چونکہ اعتکاف کا خاص تعلق ہے، اس لیے یہاں اعتکاف کے احکام کی طرف اشارہ فرما دیا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء محدثین روزے کے عنوان کے بعد اعتکاف کا عنوان باندھتے ہیں۔ اعتکاف کا معنی اپنے آپ کو کسی کے ساتھ یا کسی جگہ روک کر رکھنا ہے۔ (راغب) اعتکاف میں بیوی سے مباشرت جائز نہیں، نہ مسجد سے نکلنا ہی جائز ہے، سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔ اگر مباشرت کرے گا یا مجبوری والی ضرورت کے بغیر نکلے گا تو اعتکاف باطل ہو جائے گا۔ ہاں مسجد میں جاکر عورت اپنے خاوند سے ملاقات کر سکتی ہے، جیسا کہ بعض ازواج مطہرات نے مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے جا کر ملاقات کی اور بیوی خاوند کی خدمت بھی کر سکتی ہے۔ [بخاری، الاعتکاف، باب ہل یخرج المعتکف …: ۲۰۳۵، ۲۰۳۰، ۲۰۳۱]
➑ {فِي الْمَسٰجِدِ:} اس لفظ سے معلوم ہوا کہ اعتکاف گھر میں نہیں ہوتا، مسجد میں ہوتا ہے، عورت ہو یا مرد۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں مسجد میں اعتکاف کرتی تھیں۔ [بخاری، الصوم، باب اعتکاف النساء: ۲۰۳۳، ۲۰۳۴] اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اعتکاف ہر مسجد میں ہو سکتا ہے۔ وہ روایت کہ ”تین مسجدوں کے سوا اعتکاف نہیں“ منکر ہے۔ صحیح بخاری میں امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کے غیر ثابت ہونے کی طرف اشارہ کرنے کے لیے باب قائم کیا ہے: {”اَلْاِعْتِكَافُ فِي الْمَسَاجِدِ كُلِّهَا“} ”تمام مسجدوں میں اعتکاف (کے جائز) ہونے کا بیان۔“ مسئلہ: احادیث میں سحری کے وقت کھانا کھا کر روزہ رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے، انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔“ [بخاری، الصوم، باب برکۃ السحور من غیر إیجاب: ۱۹۲۳۔ مسلم: ۱۰۹۵] اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”ہمارے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان فرق سحری کھانے کا ہے۔“ [مسلم، الصیام، باب فضل السحور …: ۱۰۹۶] لہٰذا سحری کے وقت کچھ کھا پی کر روزہ رکھنا چاہیے۔
➒ {تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا:} یہ احکام یعنی صبح صادق تک مباشرت اور کھانے پینے کا جائز ہونا، فجر سے سورج غروب ہونے تک ان چیزوں کی ممانعت اور اعتکاف کی حالت میں عورتوں سے مباشرت کی ممانعت، یہ کام اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں، ان کی سختی سے پابندی کرو۔ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[241] یعنی مباشرت اس لیے کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اولاد مقدر فرمائی ہے وہ عطا فرما دے گویا اس آیت سے عزل اور لواطت اور دبر میں جماع کرنے وغیرہ سب باتوں کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔
اور اگر کوئی شخص رمضان میں دن کو روزہ کی حالت میں مباشرت کرے تو اسے اس کا کفارہ ادا کرنا ہو گا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے:
[242] یعنی رات کی تاریکی سے سپیدہ فجر نمایاں ہو جائے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔
[243] براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جب کوئی روزہ رکھتا اور افطار کرنے سے پہلے سو جاتا تو پھر اگلی شام تک کچھ نہ کھا سکتا تھا۔ قیس بن صرمہ نے روزہ رکھا جب افطار کا وقت آیا تو بیوی سے پوچھا: ”کیا کھانے کو کوئی چیز ہے؟“ وہ بولیں۔ نہیں، لیکن میں ابھی جاتی ہوں تو تمہارے کھانے کو کچھ لے آتی ہوں۔ بیوی چلی گئی، قیس دن بھر کے تھکے ماندے تھے۔ نیند نے غلبہ کیا اور وہ سو گئے۔ بیوی نے واپس آ کر دیکھا تو بہت دکھ ہوا۔ الغرض انہوں نے کچھ کھائے پئے بغیر پھر روزہ رکھ لیا۔ لیکن ابھی آدھا دن ہی گزرا تھا کہ بے ہوش ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا گیا تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاري۔ كتاب الصوم، باب قول الله آيت احل لكم ليلة الصيام الرفث۔۔ الخ، اور ترمذي، ابواب التفسير، باب آيت مذكور]
1۔ نیز عبد اللہ بن ابی اوفی سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر (غزوہ فتح مکہ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ آپ نے ایک آدمی (بلالؓ سے) فرمایا کہ اتر اور میرے لیے ستو گھول۔ وہ کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تو سورج کی روشنی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اتر اور میرے لیے ستو گھول۔ بلالؓ پھر کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تو سورج کی روشنی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسری بار فرمایا: اتر اور میرے لیے ستو گھول۔ آخر وہ اترے اور ستو گھولا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی لئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کہ جب ادھر سے رات کا اندھیرا شروع ہو تو روزہ افطار کرنے کا وقت ہو گیا۔ [بخاري: كتاب الصوم، باب الصوم فى السفر والافطار]
2۔ عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو! تم بلالؓ کی اذان کہنے سے سحری کھانے سے رک نہ جانا۔ بلالؓ تو اس لیے اذان دیتا ہے کہ جو شخص (تہجد کی نماز میں) کھڑا ہو وہ لوٹ جائے۔ اور صبح یا فجر کی روشنی وہ نہیں ہے جو اس طرح لمبی ہوتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر بتلایا کہ یہ صبح کاذب ہے۔ پھر ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے جدا کر کے دائیں بائیں کھینچا (یہ صبح صادق ہے) [بخاري۔ كتاب الطلاق۔ باب الاشارة فى الطلاق والامور] اسی طرح روزہ رکھتے وقت آخری وقت کھانا پینا افضل ہے۔ [بخاري، كتاب الصوم باب تاخير السحور]
فقہاء نے اعتکاف کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ ایک مسنون جو سنت نبوی سے ثابت ہوتا ہے۔ اس کی عام مدت دس دن ہے اور رمضان کے آخری عشرہ کی صورت میں 9 یا دس دن بشرط رؤیت ہلال عید۔ ایک دفعہ آپ جب اعتکاف کے لیے اپنے خیمہ کی طرف گئے تو دیکھا کہ آپ کی کئی بیویوں نے بھی مسجد نبوی میں اعتکاف کے لیے خیمے لگا رکھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ ان بیویوں نے یہ حسن نیت کی بنا پر نہیں بلکہ جذبہ رقابت سے کیا ہے۔ لہٰذا ان کے سب خیمے اٹھا دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خیمہ بھی اٹھوا دیا اور یہ رمضان کا آخری عشرہ تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سال رمضان میں اعتکاف نہیں کیا بلکہ عید کے بعد شوال میں کر لیا۔
اور ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا۔ پھر جبریلؑ نے آپ کو بتلایا کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرہ میں ہو گی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشرہ بھی اعتکاف میں گزارا۔ اسی طرح اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعتکاف بیس دن کا ہو گیا۔ ان سب احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسنون اعتکاف ایک عشرہ سے کم نہیں ہوتا اور افضل اعتکاف رمضان کا آخری عشرہ ہے اور اس بات میں اعتکاف کرنے والے کو اختیار ہے کہ وہ چاہے تو اکیسویں رات نماز عشاء اور قیام اللیل کے بعد اعتکاف میں بیٹھ جائے یا مغرب کے بعد ہی بیٹھ جائے یا صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد بیٹھ جائے۔
اور اعتکاف کی دوسری قسم اعتکاف واجب ہے۔ یعنی وہ اعتکاف جو اعتکاف کرنے والا اللہ سے عہد کر کے اپنے اوپر واجب قرار دے لیتا ہے اس کی کوئی مدت متعین نہیں۔ یہ سات دن کا بھی ہو سکتا ہے، تین دن کا بھی، ایک دن کا بھی۔ حتیٰ کہ صرف ایک رات کا بھی اور اس کا کوئی وقت بھی متعین نہیں خواہ رمضان میں ہو یا کسی دوسرے مہینہ میں اور اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں نے جاہلیت کے زمانہ میں یہ منت مانی تھی کہ ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا۔ ”تو آپ نے فرمایا کہ اپنی منت پوری کرو۔ “ [بخاري، كتاب الصوم۔ باب الاعتكاف ليلا]
واضح رہے کہ منت صرف وہی پوری کرنی چاہیے جس میں اللہ کی معصیت نہ ہوتی ہو اور اگر کسی خلاف شرع کام پر منت مانی ہو تو اسے ہرگز پورا نہ کرنا چاہیے۔
[246] اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ان حدوں سے تجاوز نہ کرنا بلکہ یوں فرمایا کہ ان حدوں کے قریب بھی نہ پھٹکنا اور ان دونوں قسم کے فقروں میں جو فرق ہے وہ سب سمجھ سکتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
] ایک اور روایت میں ہے کہ یہ قصور کئی ایک حضرات سے ہو گیا تھا جن میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے جنہوں نے عشاء کی نماز کے بعد اپنی اہلیہ سے مباشرت کی تھی پھر دربار نبوت میں شکایتیں ہوئی اور یہ رحمت کی آیتیں اتریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:2948] ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آ کر یہ واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر رضی اللہ عنہ تم سے تو ایسی امید نہ تھی اسی وقت یہ آیت اتری ایک روایت میں ہے کہ سیدنا قیس رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز کے بعد نیند سے ہوشیار ہو کر کھا پی لیا تھا اور صبح حاضر ہو کر سرکار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنا قصور بیان کیا تھا ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب مباشرت کا ارادہ کیا تو بیوی صاحبہ نے فرمایا کہ مجھے نیند آ گئی تھی لیکن انہوں نے اسے بہانہ سمجھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:2943] اس رات آپ دیر تک مجلس نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بیٹھے رہے تھے اور بہت رات گئے گھر پہنچے تھے ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی ایسا ہی قصور ہو گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:2949:حسن]
«مَا کَتَبَ اللّٰہُ» سے مراد اولاد ہے، بعض نے کہا جماع مراد ہے بعض کہتے ہیں لیلۃ القدر مراد ہے قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد یہ رخصت ہے تطبیق ان سب اقوال میں اس طرح ہو سکتی ہے کہ عموم کے طور پر سبھی مراد ہیں۔ جماع کی رخصت کے بعد کھانے پینے کی اجازت مل رہی ہے کہ صبح صادق تک اس کی بھی اجازت ہے۔
شاگردان ابن مسعود رضی اللہ عنہ، عطا، حسن، حاکم بن عیینہ، مجاہد، عروہ بن زبیر، ابو الشعشاء، جابر بن زیاد، اعمش اور جابر بن رشد رحمہ اللہ علیہم اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ہم نے ان سب کی اسناد اپنی مستقل کتاب کتاب الصیام میں بیان کر دی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابن جریری نے اپنی تفسیر میں بعض لوگوں سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ سورج کے طلوع ہونے تک کھانا پینا جائز ہے جیسے غروب ہوتے ہی افطار کرنا، لیکن یہ قول کوئی اہل علم قبول نہیں کر سکتا کیونکہ نص قرآن کے خلاف ہے قرآن میں حیط کا لفظ موجود ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سن کر تم سحری سے نہ رک جایا کرو وہ رات باقی ہوتی ہے اذان دے دیا کرتے ہیں تم کھاتے پیتے رہو جب تک عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان نہ سن لو وہ اذان نہیں کہتے جب تک فجرطلوع نہ ہو جائے۔ [صحیح بخاری:623] مسند احمد میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ فجر نہیں جو آسمان کے کناروں میں لمبی پھیلتی ہے بلکہ وہ جو سرخی والی اور کنارے کنارے ظاہر ہونے والی ہوتی ہے۔ [مسند احمد:23/4:حسن] ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اس میں ہے کہ اس پہلی فجر کو جو طلوع ہو کر اوپر کو چڑھتی ہے دیکھ کر کھانے پینے سے نہ رکو بلکہ کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ سرخ دھاری پیش ہو جائے۔ [سنن ابوداود:2348، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ایک اور حدیث میں صبح کاذب اور اذان بلال کو ایک ساتھ بھی بیان فرمایا ہے۔ [صحیح مسلم:1094] ایک اور روایت میں صبح کاذب کو صبح کی سفیدی کے ستون کی مانند بتایا ہے، دوسری روایت میں اس پہلی اذان کو جس کے مؤذن بلال رضی اللہ عنہ تھے یہ وجہ بیان کی ہے کہ وہ سوتوں کو جگانے اور نماز تہجد پڑھنے والوں اور قضاء لوٹانے کے لیے ہوتی [سنن ابوداود:2346، قال الشيخ الألباني:صحیح] فجر اس طرح نہیں ہے جب تک اس طرح نہ ہو [یعنی آسمان میں اونچی چڑھنے والی نہیں][صحیح بخاری:621] بلکہ کناروں میں دھاری کی طرح ظاہر ہونے والی۔
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ فجر دوہیں ایک تو بھیڑیئے کی دم کی طرح ہے اس سے روزے دار پر کوئی چیز حرام نہیں ہوتی ہاں وہ فجر جو کناروں میں ظاہر ہو وہ صبح کی نماز اور روزے دار کا کھانا موقوف کرنے کا وقت ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:3003:جید] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو سفیدی آسمان کے نیچے سے اوپر کو چڑھتی ہے اسے نماز کی حلت اور روزے کی حرمت سے کوئی سروکار نہیں لیکن فجر جو پہاڑوں کی چوٹیوں پر چمکنے لگتی ہے وہ کھانا پینا حرام کرتی ہے۔ حضرت عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ آسمان میں لمبی لمبی چڑھنے والی روشنی نہ تو روزہ رکھنے والے پر کھانا پیناحرام کرتی ہے نہ اس سے نماز کا وقت آیا ہوا معلوم ہوسکتا ہے نہ حج فوت ہوتا ہے لیکن جو صبح پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھیل جاتی ہے یہ وہ صبح ہے کہ روزہ دار کے لیے سب چیزیں حرام کر دیتی ہے اور نمازی کو نماز حلال کر دیتی ہے اور حج فوت ہو جاتا ہے ان دونوں روایتوں کی سند صحیح ہے اور بہت سے سلف سے منقول ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔
[صحیح بخاری:1925] صحیح مسلم شریف میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں صبح نماز کا وقت آجانے تک جنبی ہوتا ہوں تو پھر کیا میں روزہ رکھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی بات میرے ساتھ بھی ہوتی ہے اور میں روزہ رکھتا ہوں اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو سب اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واللہ! مجھے تو امید ہے کہ تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ تقویٰ کی باتوں کو جاننے والا میں ہوں۔ [صحیح مسلم:1110]
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ جب صبح کی اذان ہو جائے اور تم میں سے کوئی جنبی ہو تو وہ اس دن روزہ نہ رکھے، اس کی اسناد بہت عمدہ ہے اور یہ حدیث شرط شیخین پر ہے۔ جیسے کہ ظاہر ہے یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، [صحیح بخاری:1925] سنن نسائی میں یہ حدیث بروایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما ہے، وہ اسامہ بن زید سے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں اور مرفوع نہیں اور بعض دیگر علماء کا یہی مذہب ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، عطا، ہشام بن عروہ اور حسن بصری رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر جنبی ہو کر سوگیا ہو اور آنکھ کھلے تو صبح صادق ہو گئی ہو تو اس کے روزے میں کوئی نقصان نہیں سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما والی حدیث کا یہی مطلب ہے اور اگر اس نے عمدا غسل نہیں کیا اور اسی حالت میں صبح صادق ہو گئی تو اس کا روزہ نہیں ہو گا عروہ، طاؤس اور حسن رحمہ اللہ علیہم یہی کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں اگر فرضی روزہ ہو تو پورا تو کر لے لیکن قضاء لازم ہے اور نفلی روزہ ہو تو کوئی حرج نہیں، ابراہیم نخعی رحمہ اللہ یہی کہتے ہیں، خواجہ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت ہے بعض کہتے ہیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث سے منسوخ ہے لیکن حقیقت میں تاریخ کا پتہ نہیں جس سے نسخ ثابت ہو سکے۔
پھر فرماتا ہے کہ روزے کو رات تک پورا کرو اس سے ثابت ہوا کہ سورج کے ڈوبتے ہی روزہ افطار کر لینا چاہیئے، بخاری مسلم میں امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ادھر سے رات آ جائے اور ادھر سے دن چلا جائے توروزے دار افطار کر لے۔ [صحیح بخاری:1954] بخاری مسلم میں سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک لوگ افطار کرنے میں جلدی کریں گے خیر سے رہیں گے۔ [صحیح بخاری:1957] مسند احمد میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ مجھے سب سے زیادہ پیارے وہ بندے ہیں جو روزہ افطار کرنے میں جلدی کرنے والے ہیں۔ [مسند احمد:329/2:ضعیف] امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو حسن غریب کہتے ہیں۔
«لہا احادیث من ذکراک تشغلہا» «عن الشراب وتلہیہا عن الزاد»
یعنی اسے تیرے ذکر اور تیری باتوں میں وہ دلچسپی ہے کہ کھانے پینے یک قلم بےپرواہ ہو جاتی ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص دوسری سحری تک رک رہنا چاہے تو یہ جائز ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزے کو روزے سے مت ملاؤ جو ملانا ہی چاہے تو سحری تک ملا لے لوگوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ملا دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم جیسا نہیں مجھے تو رات ہی کو کھلانے والا کھلادیتا ہے اور پلانے والا پلا دیتا ہے۔ [صحیح بخاری:1967] ایک اور روایت میں ہے کہ ایک صحابیہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی آپ سحری کھا رہے تھے فرمایا آؤ تم بھی کھا لو اس نے کہا میں تو روزے سے ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم روزہ کس طرح رکھتی ہو اس نے بیان کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح سحری کے وقت سے دوسری سحری کے وقت تک کا ملا ہوا روزہ کیوں نہیں رکھتیں؟ [تفسیر ابن جریر الطبری:3042:ضعیف] مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سحری سے دوسری سحری تک کا روزہ رکھتے تھے، [عبدالرزاق:7752:ضعیف] ابن جریر میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما وغیرہ سلف صالحین سے مروی ہے کہ وہ کئی کئی دن تک پے در پے بغیر کچھ کھائے روزہ رکھتے تھے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ عبادت کے طور پر نہ تھا کہ بلکہ نفس کو مارنے کے لیے ریاضت کے طور پر تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے سمجھا ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے روکنا صرف شفقت اور مہربانی کے طور پر تھا نا کہ ناجائز بتانے کے طور پر جیسے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر رحم کھا کر اس سے منع فرمایا تھا، پس سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے عامر رحمہ اللہ اور ان کی راہ چلنے والے اپنے نفس میں قوت پاتے تھے اور روزے پر روزہ رکھے جاتے تھے، یہ بھی مروی کہ جب وہ افطار کرتے تو پہلے گھی اور کڑوا گوند کھاتے تاکہ پہلے غذا پہنچنے سے آنتیں جل نہ جائیں، مروی ہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ سات سات دن تک برابر روزے سے رہتے اس اثناء میں دن کو یا رات کو کچھ نہ کھاتے اور پھر ساتویں دن خوب تندرست چست وچالاک اور سب سے زیادہ قوی پائے جاتے۔
ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے دن کا روزہ فرض کر دیا رہی رات تو جو چاہے کھا لے جو نہ چاہے نہ کھائے پھر فرمان ہوتا ہے کہ اعتکاف کی حالت میں عورتوں سے مباشرت نہ کرو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے جو شخص مسجد میں اعتکاف میں بیٹھا ہو خواہ رمضان میں خواہ اور مہینوں میں اس پر دن کے وقت یا رات کے وقت اپنی بیوی سے جماع کرنا حرام ہے جب تک اعتکاف پورا نہ ہو جائے ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے لوگ اعتکاف کی حالت میں بھی جماع کر لیا کرتے تھے جس پر یہ آیت اتری اور مسجد میں اعتکاف کئے ہوئے پر جماع حرام کیا گیا۔ مجاہدرحمہ اللہ اور قتادہ رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:541/3:]
چونکہ قرآن پاک میں روزے کے بیان کے بعد اعتکاف کا ذکر ہے اس لیے اکثر مصنفین نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں روزے کے بعد ہی اعتکاف کے احکام بیان کئے ہیں اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اعتکاف روزے کی حالت میں کرنا چاہیئے یا رمضان کے آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی رمضان شریف کے آخری دنوں میں اعتکاف کیا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امہات المؤمنین رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اعتکاف کیا کرتی تھیں۔ [صحیح بخاری:2026]
بخاری و مسلم میں ہے کہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اعتکاف کی حالت میں حاضر ہوتی تھیں اور کوئی ضروری بات پوچھنے کی ہوتی تو وہ دریافت کر کے چلی جاتی ایک مرتبہ رات کو جب جانے لگیں تو چونکہ مکان مسجد نبوی سے فاصلہ پر تھا اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ ہو لیے کہ پہنچا آئیں راستہ میں دو انصاری صحابی مل گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ کو دیکھ کر شرم کے مارے جلدی جلدی قدم بڑھا کر جانے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہر جاؤ سنو یہ میری بیوی صفیہ ہیں وہ کہنے لگے سبحان اللہ! [کیا ہمیں کوئی اور خیال بھی ہو سکتا ہے؟] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان انسان کی رگ رگ میں خون کی طرح پھرتا رہتا ہے مجھے خیال ہوا کہ کہیں تمہارے دل میں کوئی بدگمانی نہ پیدا کر دے۔ [صحیح بخاری:2035]
آیت میں مراد مباشرت سے جماع اور اس کے اسباب ہیں جیسے بوس و کنار وغیرہ ورنہ کسی چیز کا لینا دینا وغیرہ یہ سب باتیں جائز ہیں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں میری طرف جھکا دیا کرتے تھے میں آپ کے سر میں کنگھی کر دیا کرتی تھی حالانکہ میں حیض سے ہوتی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کے دنوں میں ضروری حاجت کے رفع کے سوا اور وقت گھر میں تشریف نہیں لاتے تھے سیدہ عائشہ فرماتی ہیں اعتکاف کی حالت میں تو چلتے چلتے ہی گھر کے بیمار کی بیمار پرسی کر لیا کرتی ہوں۔ [صحیح بخاری:2029] پھر فرماتا ہے کہ یہ ہماری بیان کردہ باتیں اور فرض کئے ہوئے احکام اور مقرر کی ہوئی حدیں ہیں روزے اور روزوں کے احکام اور اس کے مسائل اور اس میں جو کام جائز ہیں یا جو ناجائز ہیں غرض وہ سب ہماری حدبندیاں ہیں خبردار ان کے قریب بھی نہ آنا نہ ان سے تجاوز کرنا نہ ان کے آگے بڑھنا۔
بعض کہتے ہیں یہ حد اعتکاف کی حالت میں مباشرت سے الگ رہنا ہے بعض کہتے ہیں ان آیتوں کے چاروں حکم مراد ہے پھر فرمایا جس طرح روزے اور اس کے احکام اور اس کے مسائل اور اس کی تفصیل ہم نے بیان کر دی اسی طرح اور احکام بھی ہم اپنے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت سب کے سب تمام جہان کے لیے بیان کیا کرتے ہیں تاکہ وہ یہ معلوم کر سکیں کہ ہدایت کیا ہے اور اطاعت کسے کہتے ہیں؟ اور اس بنا پر وہ متقی بن جائیں جیسے اور جگہ ہے آیت «هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ عَلٰي عَبْدِهٖٓ اٰيٰتٍ بَيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» [57۔ الحدید: 9] وہ اللہ جو اپنے بندے پر روشن آیتیں نازل فرماتا ہے تاکہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے اللہ تعالیٰ تم پر رافت و رحمت کرنے والا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
كان في أول فرض الصيام يحرم على المسلمين الأكل والشرب والجماع في الليل بعد النوم ، فحصلت المشقة لبعضهم، فخفف الله تعالى عنهم ذلك وأباح في ليالي الصيام كلها الأكل والشرب والجماع، سواء نام أو لم ينم، لكونهم يختانون أنفسهم بترك بعض ما أمروا به، {فتاب}؛ الله {عليكم}؛ بأن وسع لكم أمراً كان لولا توسعته موجباً للإثم، {وعفا عنكم}؛ ما سلف من التخون {فالآن}؛ بعد هذه الرخصة والسعة من الله {باشروهن}؛ وطئاً وقبلة ولمساً وغير ذلك {وابتغوا ما كتب الله لكم}؛ أي: انووا في مباشرتكم لزوجاتكم التقرب إلى الله تعالى، والمقصود الأعظم من الوطء، وهو حصول الذرية وإعفاف فرجه وفرج زوجته، وحصول مقاصد النكاح، ومما كتب الله لكم ليلة القدر الموافقة لليالي صيام رمضان، فلا ينبغي لكم أن تشتغلوا بهذه اللذة عنها وتضيعوها، فاللذة مدركة وليلة القدر إذا فاتت لم تدرك.
{وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر}؛ هذا غاية للأكل والشرب والجماع، وفيه أنه إذا أكل ونحوه شاكًّا في طلوع الفجر فلا بأس عليه، وفيه دليل على استحباب السحور للأمر، وأنه يستحب تأخيره، أخذاً من معنى رخصة الله وتسهيله على العباد، وفيه أيضاً دليل على أنه يجوز أن يدركه الفجر وهو جنب من الجماع قبل أن يغتسل، ويصح صيامه لأن لازم إباحة الجماع إلى طلوع الفجر، أن يدركه الفجر وهو جنب، ولازم الحق حق {ثم}؛ إذا طلع الفجر {أتموا الصيام}؛ أي: الإمساك عن المفطرات {إلى الليل}؛ وهو غروب الشمس، ولما كان إباحة الوطء في ليالي الصيام ليست إباحة عامة لكل أحد، فإن المعتكف لا يحل له ذلك استثناه بقوله: {ولا تباشروهن وأنتم عاكفون في المساجد}؛ أي: وأنتم متصفون بذلك.
ودلت الآية على مشروعية الاعتكاف وهو لزوم المسجد لطاعة الله تعالى وانقطاعاً إليه، وأن الاعتكاف لا يصح إلا في مسجدٍ، ويستفاد من تعريف المساجد أنها المساجد المعروفة عندهم، وهي التي تقام فيها الصلوات الخمس، وفيه أن الوطء من مفسدات الاعتكاف.
تلك المذكورات وهو تحريم الأكل والشرب والجماع، ونحوه من المفطرات في الصيام، وتحريم الفطر على غير المعذور، وتحريم الوطء على المعتكف، ونحو ذلك من المحرمات {حدود الله}؛ التي حدها لعباده ونهاهم عنها فقال: {فلا تقربوها}؛ أبلغ من قوله فلا تفعلوها؛ لأن القربان يشمل النهي عن فعل المحرم بنفسه، والنهي عن وسائله الموصلة إليه.
والعبد مأمور بترك المحرمات والبعد منها غاية ما يمكنه، وترك كل سبب يدعو إليها، وأما الأوامر فيقول الله فيها تلك حدود الله فلا تعتدوها فينهى عن مجاوزتها {كذلك}؛ أي: بيَّن الله لعباده الأحكام السابقة أتم تبيين وأوضحها لهم أكمل إيضاح {يبين الله آياته للناس لعلهم يتقون}؛ فإنهم إذا بان لهم الحق اتبعوه، وإذا تبين لهم الباطل اجتنبوه، فإن الإنسان قد يفعل المحرم، على وجه الجهل بأنه محرم ولو علم تحريمه لم يفعله، فإذا بين الله للناس آياته؛ لم يبق لهم عذر ولا حجة، فكان ذلك سبباً للتقوى.