تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ لَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا …:} حج کا ذکر آیا تو ایام حج میں جاہلیت کی ایک رسم کا رد فرمایا۔ براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی، انصار جب حج کرتے، پھر (واپس) آتے تو اپنے گھروں کے دروازوں سے داخل نہیں ہوتے تھے، اب انصار کا ایک آدمی(حج سے) آیا اور اپنے دروازے کی طرف سے داخل ہو گیا تو گویا اسے اس کی عار دلائی گئی تو یہ آیت اتری: «وَ لَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى وَ اْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا» [بخاری، العمرۃ، باب قول اللہ تعالٰی: «و أتوا البیوت من أبوابہا» : ۱۸۰۳]
دوسری روایت میں براء بن عازب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جاہلیت میں جب لوگ احرام باندھ لیتے تو گھروں کی پچھلی طرف سے گھر آتے، تو اس پر یہ آیت اتری۔ [بخاری، التفسیر، بابٌ: «ولیس البر بأن تأتوا البیوت …» : ۴۵۱۲] آیت میں دونوں کا رد ہے۔
➌ {”وَ لَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ“} اس میں { ”لَيْسَ“ } کی تاکید ”باء“ کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے ”نیکی ہر گز یہ نہیں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک موقوف روایت میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے۔ آگے چل کر ارشاد ہوتا ہے کہ بھلائی گھروں کے پیچھے سے آنے میں نہیں بلکہ بھلائی تقویٰ میں ہے گھروں میں دروازوں سے آؤ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ جاہلیت کے زمانہ یہ دستور تھا کہ احرام میں ہوتے تو گھروں میں پشت کی جانب سے آتے جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [صحیح بخاری:4512] ابوداؤد طیالسی میں بھی یہ روایت ہے۔ [طیالسی:717:صحیح علی شرط الشیخین] انصار کا عام دستور تھا کہ سفر سے جب واپس آتے تو گھر کے دروازے میں نہیں گھستے تھے دراصل یہ بھی جاہلیت کے زمانہ میں قریشیوں نے اپنے لیے ایک اور امتیاز قائم کر لیا تھا کہ اپنا نام انہوں نے حمس رکھا تھا احرام کی حالت یہ تو براہ راست اپنے گھروں میں آ سکتے تھے لیکن دوسرے لوگ سیدھے راستے گھروں میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ سے اس کے دروازے سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہ ایک انصاری صحابی سیدنا قطبہ بن عامر رضی اللہ عنہما بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اسی دروازے سے نکلے اس پر لوگوں نے صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو ایک تجارت پیشہ شخص ہیں یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اس دروازے سے کیوں نکلے؟ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جواب دیا کہ میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح کرتے دیکھا کیا۔ مانا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حمس میں سے ہیں لیکن میں بھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر ہی ہوں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی [حاکم:483/1:صحیح] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ سے بھی یہ روایت مروی ہے حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں بہت سی قوموں کا یہ رواج تھا کہ جب وہ سفر کے ارادے سے نکلتے پھر سفر ادھورا چھوڑ کر اگر کسی وجہ سے واپس چلے آتے تو گھر کے دروازے سے گھر میں نہ آتے بلکہ پیچھے کی طرف سے چڑھ کر آتے جس سے اس آیت میں روکا گیا، [تفسیر ابن ابی حاتم:401/1] محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں اعتکاف کی حالت میں بھی یہی دستور تھا جسے اسلام نے ختم کیا، عطا فرماتے ہیں اہل مدینہ کا عیدوں میں بھی یہی دستور تھا جسے اسلام نے ختم کر دیا۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کے حکموں کو بجا لانا اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے رک جانا اس کا ڈر دل میں رکھنا یہ چیزیں ہیں جو دراصل اس دن کام آنے والی ہیں جس دن ہر شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو گا اور پوری پوری جزا سزا پائے گا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقوله تعالى: {يسألونك عن الأهلة}؛ ـ جمع هلال ـ ما فائدتها وحكمتها أو عن ذاتها {قل هي مواقيت للناس}؛ أي: جعلها الله تعالى بلطفه ورحمته على هذا التدبير، يبدو الهلال ضعيفاً في أول الشهر، ثم يتزايد إلى نصفه، ثم يشرع في النقص إلى كماله، وهكذا ليعرف الناس بذلك مواقيت عباداتهم؛ من الصيام وأوقات الزكاة والكفارات وأوقات الحج، ولما كان الحج يقع في أشهر معلومات، ويستغرق أوقاتاً كثيرة قال: {والحج}؛ وكذلك تعرف بذلك أوقات الديون المؤجلات، ومدة الإجارات ومدة العدد والحمل، وغير ذلك مما هو من حاجات الخلق، فجعله تعالى حساباً يعرفه كل أحد من صغير وكبير وعالم وجاهل، فلو كان الحساب بالسنة الشمسية لم يعرفه إلا النادر من الناس.
{وليس البر بأن تأتوا البيوت من ظهورها}؛ وهذا كما كان الأنصار وغيرهم من العرب إذا أحرموا لم يدخلوا البيوت من أبوابها؛ تعبداً بذلك وظنًّا أنه برٌّ، فأخبر تعالى أنه ليس من البرِّ ؛ لأن الله تعالى لم يشرعه لهم، وكل من تعبد بعبادة لم يشرعها الله ولا رسوله فهو متعبد ببدعة، وأمرهم أن يأتوا البيوت من أبوابها؛ لما فيه من السهولة عليهم التي هي قاعدة من قواعد الشرع.
ويستفاد من إشارة الآية أنه ينبغي في كل أمر من الأمور أن يأتيه الإنسان من الطريق السهل القريب الذي قد جعل له موصلاً، فالآمر بالمعروف والناهي عن المنكر، ينبغي أن ينظر في حالة المأمور، ويستعمل معه الرفق والسياسة التي بها يحصل المقصود أو بعضه، والمتعلم والمعلم ينبغي أن يسلك أقرب طريق وأسهله يحصل به مقصوده، وهكذا كل من حاول أمراً من الأمور، وأتاه من أبوابه، وثابر عليه فلا بد أن يحصل له المقصود بعون الملك المعبود.
{واتقوا الله}؛ هذا هو البرُّ الذي أمر الله به، وهو لزوم تقواه على الدوام بامتثال أوامره واجتناب نواهيه، فإنه سبب للفلاح الذي هو الفوز بالمطلوب والنجاة من المرهوب، فمن لم يتق الله تعالى لم يكن له سبيل إلى الفلاح، ومن اتقاه فاز بالفلاح والنجاح.