ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 187

اُحِلَّ لَکُمۡ لَیۡلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمۡ ؕ ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لِبَاسٌ لَّہُنَّ ؕ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ تَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ فَتَابَ عَلَیۡکُمۡ وَ عَفَا عَنۡکُمۡ ۚ فَالۡـٰٔنَ بَاشِرُوۡہُنَّ وَ ابۡتَغُوۡا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمۡ ۪ وَ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الۡخَیۡطُ الۡاَبۡیَضُ مِنَ الۡخَیۡطِ الۡاَسۡوَدِ مِنَ الۡفَجۡرِ۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیۡلِ ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوۡہُنَّ وَ اَنۡتُمۡ عٰکِفُوۡنَ ۙ فِی الۡمَسٰجِدِ ؕ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ فَلَا تَقۡرَبُوۡہَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾
تمھارے لیے روزے کی رات اپنی عورتوں سے صحبت کرنا حلال کر دیا گیا ہے، وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔ اللہ نے جان لیا کہ بے شک تم اپنی جانوں کی خیانت کرتے تھے تو اس نے تم پر مہربانی فرمائی اور تمھیں معاف کر دیا، تو اب ان سے مباشرت کرو اور طلب کرو جو اللہ نے تمھارے لیے لکھا ہے اور کھائو اور پیو، یہاں تک کہ تمھارے لیے سیاہ دھاگے سے سفید دھاگا فجر کا خوب ظاہر ہو جائے، پھر روزے کو رات تک پورا کرو اور ان سے مباشرت مت کرو جب کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں، سو ان کے قریب نہ جائو۔ اسی طرح اللہ اپنی آیات لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ وہ بچ جائیں۔ En
روزوں کی راتوں میں تمہارے لئے اپنی عورتوں کے پاس جانا کردیا گیا ہے وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو خدا کو معلوم ہے کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنے حق میں خیانت کرتے تھے سو اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سےدرگزرفرمائی۔اب (تم کو اختیار ہے کہ) ان سے مباشرت کرو۔ اور خدا نے جو چیز تمہارے لئے لکھ رکھی ہے (یعنی اولاد) اس کو (خدا سے) طلب کرو اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔ پھر روزہ (رکھ کر) رات تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو۔ یہ خدا کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جانا۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں
En
روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لئے حلال کیا گیا، وه تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو، تمہاری پوشیده خیانتوں کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے، اس نے تمہاری توبہ قبول فرما کر تم سے درگزر فرمالیا، اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاه دھاگے سے ﻇاہر ہوجائے۔ پھر رات تک روزے کو پورا کرو اور عورتوں سے اس وقت مباشرت نہ کرو جب کہ تم مسجدوں میں اعتکاف میں ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں، تم ان کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ وه بچیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 187) ➊ ابن کثیر میں ہے کہ ابتدا میں جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو روزہ کھولنے سے لے کر صرف نماز عشاء تک کھانا پینا اور عورت سے صحبت جائز تھی، اگر کسی شخص نے عشاء کی نماز پڑھ لی، یا وہ اس سے پہلے سو گیا تو اس کا روزہ شروع ہو جاتا تھا، پھر اگلے روز افطار یعنی سورج غروب ہونے تک کھانا پینا اور جماع اس پر حرام ہوتا تھا، بعض لوگ ضبط نہ کر سکے اور رات کو بیویوں سے صحبت کر بیٹھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دور میں لوگ جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو ان پر کھانا پینا اور بیویاں حرام ہو جاتی تھیں اور وہ اگلی شام تک کے لیے روزے دار ہو جاتے تھے… تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ [أبو داوٗد، الصیام، باب مبدأ فرض الصیام: ۲۳۱۳] ایک انصاری صحابی قیس بن صرمہ رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت ہے کہ وہ روزے کی حالت میں دن بھر کھیت میں کام کرتے رہے، افطار کے وقت گھر آئے اور بیوی سے پوچھا، کوئی چیز کھانے کے لیے ہے؟ بیوی نے جواب دیا نہیں، آپ ٹھہرئیے، میں جا کر پڑوسیوں سے کچھ لاتی ہوں۔ بیوی کے چلے جانے کے بعد ان کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گئے۔ بیوی کو یہ دیکھ کر بڑا افسوس ہوا، پھر اگلے دن انھیں (بغیر کھائے پیے ہی) روزہ رکھنا پڑا۔ ابھی آدھا دن نہیں گزرا تھا کہ کمزوری کی وجہ سے غش کھا گئے۔ اس کا علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاری، الصوم، باب قول اللہ جل ذکرہ: «‏‏‏‏أحل لکم …» ‏‏‏‏: ۱۹۱۵]
➋ {هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ …: } یعنی میاں بیوی ایک دوسرے سے لباس کی طرح مل جاتے ہیں، انھیں جدا رکھنا یقینًا ان پر شاق ہو گا، اس لیے انھیں رمضان کی راتوں میں مباشرت کی اجازت دے دی گئی۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ میاں بیوی کا آپس میں کوئی پردہ نہیں، بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ وہ ایک دوسرے کی شرم گاہ کو نہیں دیکھ سکتے ان کے ایک دوسرے کا لباس ہونے کے منافی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک ہی برتن سے غسل کر لیتے، جو میرے اور آپ کے درمیان ہوتا، جبکہ ہم دونوں جنبی ہوتے۔ [بخاری، الحیض، باب مباشرۃ الحائض: ۲۹۹] عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی روایت کہ میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی شرم گاہ نہیں دیکھی، صحیح نہیں۔ [دیکھیے ضعیف ابن ماجہ للألبانی: ۶۶۸]
➌ {وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ:} اس سے صحبت کی لذت کے ساتھ ساتھ پاک دامنی کا حصول اور اولاد کی طلب مراد ہے۔ کفار کی خواہش کے مطابق مسلمانوں کا اولاد کی کثرت سے اجتناب جائز نہیں۔
➍ فجر کے سفید دھاگے سے مراد صبح صادق ہے۔ اس سفید دھاگے اور سیاہ دھاگے کے سمجھنے میں بعض صحابہ کو غلط فہمی ہو گئی۔ انھوں نے سرھانے کے نیچے سفید دھاگا اور سیاہ دھاگا رکھ لیا اور اس کے واضح ہونے کا انتظار کرتے رہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اس سے مراد رات کی سیاہی سے صبح کی سفیدی واضح ہونا ہے۔ [بخاری، الصوم، باب قول اللہ تعالٰی: «و کلوا واشربوا …» : ۱۹۱۶، عن عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ] معلوم ہوا کہ قرآن سمجھنے کے لیے صرف عربی زبان سیکھ لینا کافی نہیں، بلکہ حدیث بھی ضروری ہے۔
➎ فجر تک کھانے پینے اور جماع کی اجازت سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جنابت کی حالت میں روزہ رکھ سکتا ہے، غسل اذان کے بعد کر لے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بھی یہ ثابت ہے۔ [بخاری، الصوم، باب الصائم یصبح جنبا: ۱۹۲۵، ۱۹۲۶، ۱۹۳۰]
➏ {اِلَى الَّيْلِ:} یعنی سورج غروب ہونے تک۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے، کیونکہ یہود و نصاریٰ دیر سے افطار کرتے ہیں۔ [أبو داوٗد، الصیام، باب ما یستحب من تعجیل الفطر: ۲۳۵۳]
➐ {وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ فِي الْمَسٰجِدِ:} رمضان سے چونکہ اعتکاف کا خاص تعلق ہے، اس لیے یہاں اعتکاف کے احکام کی طرف اشارہ فرما دیا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء محدثین روزے کے عنوان کے بعد اعتکاف کا عنوان باندھتے ہیں۔ اعتکاف کا معنی اپنے آپ کو کسی کے ساتھ یا کسی جگہ روک کر رکھنا ہے۔ (راغب) اعتکاف میں بیوی سے مباشرت جائز نہیں، نہ مسجد سے نکلنا ہی جائز ہے، سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔ اگر مباشرت کرے گا یا مجبوری والی ضرورت کے بغیر نکلے گا تو اعتکاف باطل ہو جائے گا۔ ہاں مسجد میں جاکر عورت اپنے خاوند سے ملاقات کر سکتی ہے، جیسا کہ بعض ازواج مطہرات نے مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے جا کر ملاقات کی اور بیوی خاوند کی خدمت بھی کر سکتی ہے۔ [بخاری، الاعتکاف، باب ہل یخرج المعتکف …: ۲۰۳۵، ۲۰۳۰، ۲۰۳۱]
➑ {فِي الْمَسٰجِدِ:} اس لفظ سے معلوم ہوا کہ اعتکاف گھر میں نہیں ہوتا، مسجد میں ہوتا ہے، عورت ہو یا مرد۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں مسجد میں اعتکاف کرتی تھیں۔ [بخاری، الصوم، باب اعتکاف النساء: ۲۰۳۳، ۲۰۳۴] اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اعتکاف ہر مسجد میں ہو سکتا ہے۔ وہ روایت کہ تین مسجدوں کے سوا اعتکاف نہیں منکر ہے۔ صحیح بخاری میں امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کے غیر ثابت ہونے کی طرف اشارہ کرنے کے لیے باب قائم کیا ہے: {اَلْاِعْتِكَافُ فِي الْمَسَاجِدِ كُلِّهَا} تمام مسجدوں میں اعتکاف (کے جائز) ہونے کا بیان۔ مسئلہ: احادیث میں سحری کے وقت کھانا کھا کر روزہ رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے، انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: سحری کھاؤ، کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔ [بخاری، الصوم، باب برکۃ السحور من غیر إیجاب: ۱۹۲۳۔ مسلم: ۱۰۹۵] اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان فرق سحری کھانے کا ہے۔ [مسلم، الصیام، باب فضل السحور …: ۱۰۹۶] لہٰذا سحری کے وقت کچھ کھا پی کر روزہ رکھنا چاہیے۔
➒ {تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا:} یہ احکام یعنی صبح صادق تک مباشرت اور کھانے پینے کا جائز ہونا، فجر سے سورج غروب ہونے تک ان چیزوں کی ممانعت اور اعتکاف کی حالت میں عورتوں سے مباشرت کی ممانعت، یہ کام اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں، ان کی سختی سے پابندی کرو۔ (ابن کثیر)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

187۔ 1 ابتدا اسلام میں ایک حکم یہ تھا کہ روزہ افطار کرنے کے بعد عشاء کی نماز یا سونے تک کھانے پینے اور بیوی سے مباشرت کرنے کی اجازت تھی سونے کے بعد ان میں سے کوئی کام نہیں کیا جاسکتا تھا ظاہر بات ہے یہ پابندی سخت تھی اور اس پر عمل مشکل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ دونوں پابندیاں اٹھا لیں اور افطار سے لے کر صبح صادق تک کھانے پینے اور بیوی سے مباشرت کرنے کی اجازت فرما دی۔ 187۔ 2 یعنی رات ہوتے ہی (سورج غروب کے فورا بعد) روزہ افطار کرلو تاخیر مت کرو جیسا کہ حدیث میں بھی روزہ جلد افطار کرنے کی تاکید اور فضیلت آئی ہے دوسرا یہ کہ ایک روزہ افطار کئے بغیر دوسرا روزہ رکھ لینا اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت سختی سے منع فرمایا ہے۔ (کتب حدیث) 187۔ 3 اعتکاف کی حالت میں بیوی سے مباشرت اور بوس و کنار کی اجازت نہیں ہے البتہ ملاقات اور بات چیت جائز ہے۔ اعتکاف کے لئے مسجد ضروری ہے چاہے مرد ہو چاہے عورت۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے بھی مسجد میں اعتکاف کیا اس لئے عورتوں کا اپنے گھروں میں اعتکاف میں بیٹھنا صحیح نہیں ہے البتہ مسجد میں ان کے لئے ہر چیز کا مردوں سے الگ انتظام کرنا ضروری ہے تاکہ مردوں سے کسی طرح اختلاط نہ ہو جب تک مسجد میں معقول محفوظ اور مردوں سے بالکل الگ انتظام نہ ہو عورتوں کو مسجد میں اعتکاف بیٹھنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے یہ ایک نفلی عبادت ہے جب تک پوری طرح تحفظ نہ ہو اس نفلی عبادت سے گریز بہتر ہے فقہ کا اصول ہے۔ (درء المفاسد یقدم علی جلب المصالح) (مصالح کے اصول کے مقابلے میں مفاسد سے بچنا اور ان کو ٹالنا زیادہ ضروری ہے)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

187۔ روزوں کی راتوں میں تمہارے لیے اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا ہے۔ وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس [239] ہو۔ اللہ کو معلوم ہے کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے [240] تھے۔ لہذا اللہ نے تم پر مہربانی کی اور تمہارا قصور معاف کر دیا۔ سو اب تم ان سے مباشرت کر سکتے ہو اور جو کچھ اللہ نے تمہارے لیے مقدر کر رکھا ہے [241] اسے طلب کرو۔ اور فجر کے وقت جب تک سفید دھاری [242]، کالی دھاری سے واضح طور پر نمایاں نہ ہو جائے تم کھا پی سکتے ہو۔ [243] پھر رات تک اپنے [244] روزے پورے کرو۔ اور اگر تم [245] مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو پھر بیویوں سے مباشرت نہ کرو۔ یہ ہیں اللہ تعالیٰ کی حدود، تم ان کے قریب بھی نہ [246] پھٹکو۔ اسی انداز سے اللہ تعالیٰ اپنے احکام لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں
[239] میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہونے کا مفہوم:
میاں بیوی کے تعلقات کے لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف استعارہ فرمایا۔ جس کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جس طرح لباس اور جسم کے درمیان کوئی اور چیز حائل نہیں ہوتی اسی طرح میاں بیوی کا تعلق ایک دوسرے کے ساتھ ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ تم دونوں ایک دوسرے کے راز دار اور راز دان ہو۔ تیسرے یہ کہ تم دونوں ایک دوسرے کی عزت کے شریک ہو اور چوتھے یہ کہ تم دونوں ایک دوسرے کے پردہ پوش ہو وغیرہ وغیرہ۔
[240] رمضان میں رات کو مباشرت کی اجازت:۔
ابتدائے اسلام میں رمضان کی راتوں میں اپنی بیویوں سے مباشرت کرنے کے متعلق کوئی واضح حکم موجود نہ تھا۔ تاہم صحابہ کرامؓ اپنی جگہ اسے نا جائز سمجھتے تھے۔ پھر بعض صحابہؓ مکروہ سمجھتے ہوئے بھی اس کام سے باز نہ رہ سکے۔ چنانچہ براء بن عازبؓ فرماتے ہیں کہ جب روزے فرض ہوئے تو لوگ سارا مہینہ عورتوں کے پاس نہ جاتے۔ پھر بعض لوگوں نے چوری چوری یہ کام کر لیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ [بخاري، كتاب التفسير، زير آيت مذكوره]
[241] یعنی مباشرت اس لیے کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اولاد مقدر فرمائی ہے وہ عطا فرما دے گویا اس آیت سے عزل اور لواطت اور دبر میں جماع کرنے وغیرہ سب باتوں کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔
اور اگر کوئی شخص رمضان میں دن کو روزہ کی حالت میں مباشرت کرے تو اسے اس کا کفارہ ادا کرنا ہو گا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے:
روزہ توڑنے کا کفارہ:۔
حضرت ابو ہریرۃؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص (سلمہ بن صخر بیاضیؓ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں تباہ ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیوں کیا بات ہوئی؟ کہنے لگا! میں رمضان میں اپنی عورت پر جا پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تو ایک غلام آزاد کر سکتا ہے؟ کہنے لگا، مجھ میں یہ قدرت نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا دو مہینے کے پے در پے روزے رکھ سکتا ہے؟ کہنے لگا۔ نہیں (اتنا مقدور ہوتا تو یہ روزہ ہی کیوں توڑتا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اچھا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟ کہنے لگا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا کہ اچھا بیٹھ جاؤ۔ اتنے میں آپ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا آ گیا جس میں پندرہ صاع کھجور آ سکتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا۔ لے ٹوکرا لے جا اور اسے محتاجوں میں تقسیم کر دے۔ وہ کہنے لگا کہ میں اسے ان لوگوں میں تقسیم کروں جو ہم سے بڑھ کر محتاج ہوں۔ قسم اس پروردگار کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ مدینہ کے دونوں کناروں میں اس سرے سے اس سرے تک کوئی گھر والے ہم سے زیادہ محتاج نہیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ کی کچلیاں نظر آنے لگیں اور فرمایا جا اپنے بیوی بچوں کو ہی کھلا دے۔ [بخاري۔ كتاب الايمان والنذور۔ باب من اعان المعسر فى الكفارة] اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ فرضی روزہ توڑنے کا کفارہ بعینہ وہی ہے جو سورۃ مجادلہ کی آیت نمبر 3 اور 4 میں مذکور ہے۔ اور دوسری یہ کہ کفارہ دینے والا اگر محتاج اور تنگ دست ہو تو اس کی صدقہ و خیرات سے مدد کی جا سکتی ہے جیسا کہ عنوان باب سے معلوم ہوتا ہے۔
[242] یعنی رات کی تاریکی سے سپیدہ فجر نمایاں ہو جائے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔
بعض صحابہ کا قرآن فہمی میں غلطی کھانا:۔
عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میں نے رات کو ایک سفید ڈوری اور ایک کالی ڈوری (اپنے تکیے کے نیچے) رکھ لیں۔ انہیں دیکھتا رہا مگر تمیز نہ ہوئی (کھاتے پیتے رہے) جب صبح ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنے تکیے تلے دو ڈوریاں رکھ لی تھیں۔“ آپ نے (مزاحاً) فرمایا: ”تمہارا تکیہ تو بہت بڑا ہے جس کے نیچے (صبح کی) سفید ڈوری اور (رات کی) کالی ڈوری آ گئی۔“ [بخاري، كتاب التفسير، باب آيت مذكور]
[243] براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جب کوئی روزہ رکھتا اور افطار کرنے سے پہلے سو جاتا تو پھر اگلی شام تک کچھ نہ کھا سکتا تھا۔ قیس بن صرمہ نے روزہ رکھا جب افطار کا وقت آیا تو بیوی سے پوچھا: ”کیا کھانے کو کوئی چیز ہے؟“ وہ بولیں۔ نہیں، لیکن میں ابھی جاتی ہوں تو تمہارے کھانے کو کچھ لے آتی ہوں۔ بیوی چلی گئی، قیس دن بھر کے تھکے ماندے تھے۔ نیند نے غلبہ کیا اور وہ سو گئے۔ بیوی نے واپس آ کر دیکھا تو بہت دکھ ہوا۔ الغرض انہوں نے کچھ کھائے پئے بغیر پھر روزہ رکھ لیا۔ لیکن ابھی آدھا دن ہی گزرا تھا کہ بے ہوش ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا گیا تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاري۔ كتاب الصوم، باب قول الله آيت احل لكم ليلة الصيام الرفث۔۔ الخ، اور ترمذي، ابواب التفسير، باب آيت مذكور]
[244] روزہ کھولنے میں جلدی اور سحری دیر سے کھانا:۔
یعنی آغاز سحر سے لے کر آغاز رات یعنی غروب آفتاب تک روزہ کا وقت ہے۔ غروب آفتاب کے فوراً بعد روزہ افطار کر لینا چاہیے۔ یہود غروب آفتاب کے بعد احتیاطاً اندھیرا چھا جانے تک روزہ نہیں کھولتے تھے۔ اس لیے آپ نے فرمایا کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک روزہ جلد افطار کرے گی۔ (روزہ کھولنے میں جلدی اور سحری دیر سے کھانا چاہیے۔) [بخاري، كتاب الصوم۔ باب تعجيل الافطار]
1۔ نیز عبد اللہ بن ابی اوفی سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر (غزوہ فتح مکہ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ آپ نے ایک آدمی (بلالؓ سے) فرمایا کہ اتر اور میرے لیے ستو گھول۔ وہ کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تو سورج کی روشنی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اتر اور میرے لیے ستو گھول۔ بلالؓ پھر کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تو سورج کی روشنی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسری بار فرمایا: اتر اور میرے لیے ستو گھول۔ آخر وہ اترے اور ستو گھولا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی لئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کہ جب ادھر سے رات کا اندھیرا شروع ہو تو روزہ افطار کرنے کا وقت ہو گیا۔ [بخاري: كتاب الصوم، باب الصوم فى السفر والافطار]
2۔ عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو! تم بلالؓ کی اذان کہنے سے سحری کھانے سے رک نہ جانا۔ بلالؓ تو اس لیے اذان دیتا ہے کہ جو شخص (تہجد کی نماز میں) کھڑا ہو وہ لوٹ جائے۔ اور صبح یا فجر کی روشنی وہ نہیں ہے جو اس طرح لمبی ہوتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر بتلایا کہ یہ صبح کاذب ہے۔ پھر ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے جدا کر کے دائیں بائیں کھینچا (یہ صبح صادق ہے) [بخاري۔ كتاب الطلاق۔ باب الاشارة فى الطلاق والامور] اسی طرح روزہ رکھتے وقت آخری وقت کھانا پینا افضل ہے۔ [بخاري، كتاب الصوم باب تاخير السحور]
قطبین پر نماز اور روزے:۔
بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ قطبین کے قریب جہاں رات اور دن کئی کئی مہینوں کے ہوتے ہیں، وہاں نماز اور روزہ کے لیے اوقات کی تعیین کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ سوال بس برائے سوال ہی ہے کیونکہ قطبین پر اتنی شدید سردی ہوتی ہے کہ وہاں انسانوں کا زندہ رہنا ہی نا ممکن ہے اور جہاں سے انسانی آبادی شروع ہوتی ہے۔ وہاں کے دن رات خط استوا کی طرح واضح نہ سہی اتنے واضح ضرور ہوتے ہیں کہ صبح و شام کے آثار وہاں پوری باقاعدگی سے افق پر نمایاں ہوتے ہیں اور انہی کا لحاظ رکھ کر وہاں کے باشندے اپنے سونے جاگنے، کام کرنے اور تفریح کے اوقات مقرر کرتے ہیں۔ لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ یہ آثار نماز اور سحر و افطار کے معاملہ میں وقت کی تعیین کا کام نہ دے سکیں اور جہاں کئی کئی مہینے رات اور دن ہوتے ہیں۔ وہاں صرف روزہ کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ زندگی کے دوسرے مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ مثلاً وہ لوگ کتنے گھنٹے سوتے ہیں۔ کمائی اور کاروبار کب اور کیسے کرتے ہیں اور کتنے گھنٹے کرتے ہیں۔ ان سب باتوں کا جواب یہی ہے کہ ایسے مقامات پر انسان سردی کی وجہ سے زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔
[245] اعتکاف کے احکام اور مسائل:۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اعتکاف ہر مسجد میں ہو سکتا ہے اور صرف مسجد میں ہی ہو سکتا ہے۔ رمضان میں بھی ہو سکتا ہے اور غیر رمضان میں بھی، مگر چونکہ رمضان میں دوسرے مہینوں کی نسبت بہت زیادہ ثواب ملتا ہے اور رمضان میں اعتکاف فرض کفایہ کی حیثیت رکھتا ہے لہٰذا اسی کی زیادہ اہمیت ہے۔ بہتر تو یہی ہے کہ آخری عشرہ رمضان اعتکاف میں گزارا جائے۔ تاہم یہ کم وقت حتیٰ کہ ایک دن کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ اعتکاف کی حالت میں شرعی عذر کے بغیر باہر نہ جانا چاہئے۔ نہ زیادہ دنیوی باتوں میں مشغول ہونا چاہئے اور اعتکاف کی حالت میں اپنی بیویوں سے صحبت بھی منع ہے۔
فقہاء نے اعتکاف کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ ایک مسنون جو سنت نبوی سے ثابت ہوتا ہے۔ اس کی عام مدت دس دن ہے اور رمضان کے آخری عشرہ کی صورت میں 9 یا دس دن بشرط رؤیت ہلال عید۔ ایک دفعہ آپ جب اعتکاف کے لیے اپنے خیمہ کی طرف گئے تو دیکھا کہ آپ کی کئی بیویوں نے بھی مسجد نبوی میں اعتکاف کے لیے خیمے لگا رکھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ ان بیویوں نے یہ حسن نیت کی بنا پر نہیں بلکہ جذبہ رقابت سے کیا ہے۔ لہٰذا ان کے سب خیمے اٹھا دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خیمہ بھی اٹھوا دیا اور یہ رمضان کا آخری عشرہ تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سال رمضان میں اعتکاف نہیں کیا بلکہ عید کے بعد شوال میں کر لیا۔
اور ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا۔ پھر جبریلؑ نے آپ کو بتلایا کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرہ میں ہو گی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشرہ بھی اعتکاف میں گزارا۔ اسی طرح اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعتکاف بیس دن کا ہو گیا۔ ان سب احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسنون اعتکاف ایک عشرہ سے کم نہیں ہوتا اور افضل اعتکاف رمضان کا آخری عشرہ ہے اور اس بات میں اعتکاف کرنے والے کو اختیار ہے کہ وہ چاہے تو اکیسویں رات نماز عشاء اور قیام اللیل کے بعد اعتکاف میں بیٹھ جائے یا مغرب کے بعد ہی بیٹھ جائے یا صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد بیٹھ جائے۔
اور اعتکاف کی دوسری قسم اعتکاف واجب ہے۔ یعنی وہ اعتکاف جو اعتکاف کرنے والا اللہ سے عہد کر کے اپنے اوپر واجب قرار دے لیتا ہے اس کی کوئی مدت متعین نہیں۔ یہ سات دن کا بھی ہو سکتا ہے، تین دن کا بھی، ایک دن کا بھی۔ حتیٰ کہ صرف ایک رات کا بھی اور اس کا کوئی وقت بھی متعین نہیں خواہ رمضان میں ہو یا کسی دوسرے مہینہ میں اور اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں نے جاہلیت کے زمانہ میں یہ منت مانی تھی کہ ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا۔ ”تو آپ نے فرمایا کہ اپنی منت پوری کرو۔ “ [بخاري، كتاب الصوم۔ باب الاعتكاف ليلا]
واضح رہے کہ منت صرف وہی پوری کرنی چاہیے جس میں اللہ کی معصیت نہ ہوتی ہو اور اگر کسی خلاف شرع کام پر منت مانی ہو تو اسے ہرگز پورا نہ کرنا چاہیے۔
[246] اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ان حدوں سے تجاوز نہ کرنا بلکہ یوں فرمایا کہ ان حدوں کے قریب بھی نہ پھٹکنا اور ان دونوں قسم کے فقروں میں جو فرق ہے وہ سب سمجھ سکتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

رمضان میں مراعات اور کچھ پابندیاں ٭٭
ابتدائے اسلام میں یہ حکم تھا کہ افطار کے بعد کھانا پینا، جماع کرنا عشاء کی نماز تک جائز تھا اور اگر کوئی اس سے بھی پہلے سوگیا تو اس پر نیند آتے ہی حرام ہو گیا، اس میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو قدرے مشقت ہوئی جس پر یہ رخصت کی آیتیں نازل ہوئیں اور آسانی کے احکام مل گئے رفث سے مراد یہاں جماع ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما عطا مجاہد سعید بن جبیر طاؤس سالم بن عبداللہ بن عمرو بن دینا حسن قتادہ زہری ضحاک، ابراہیم نخعی، سدی، عطا خراسانی، مقاتل بن حبان رحمہم اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:367/1]‏‏‏‏ لباس سے مراد سکون ہے، ربیع بن انس رحمہ اللہ لحاف کے معنی بیان کرتے ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:381/1]‏‏‏‏ مقصد یہ ہے کہ میاں بیوی کے آپس کے تعلقات اس قسم کے ہیں کہ انہیں ان راتوں میں بھی اجازت دی جاتی ہے پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ اس آیت کا شان نزول کیا ہے؟ جس میں بیان ہو چکا ہے کہ جب یہ حکم تھا کہ افطار سے پہلے اگر کوئی سوجائے تو اب رات کو جاگ کر کھا پی نہیں سکتا اب اسے یہ رات اور دوسرا دن گزار کر مغرب سے پہلے کھانا پینا حلال ہو گا۔
سیدنا قیس بن صرمہ انصاری رضی اللہ عنہ دن بھر کھیتی باڑی کا کام کر کے شام کو گھر آئے بیوی سے کہا کچھ کھانے کو ہے؟ جواب ملا کچھ نہیں میں جاتی ہوں اور کہیں سے لاتی ہوں وہ تو گئیں اور یہاں ان کی آنکھ لگ گئی جب آ کر دیکھا تو بڑا افسوس ہوا کہ اب یہ رات اور دوسرا دن بھوکے پیٹوں کیسے گزرے گا؟ چنانچہ جب آدھا دن ہوا تو سیدنا قیس رضی اللہ عنہ بھوک کے مارے بے ہوش ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ذکر ہوا اس پر یہ آیت اتری اور مسلمان بہت خوش ہوئے۔ [صحیح بخاری:1915]‏‏‏‏ روایت میں یہ بھی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم رمضان بھر عورتوں کے پاس نہیں جاتے تھے لیکن بعض لوگوں سے کچھ ایسے قصور بھی ہو جایا کرتے تھے جس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ [صحیح بخاری:4508
]
‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ یہ قصور کئی ایک حضرات سے ہو گیا تھا جن میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے جنہوں نے عشاء کی نماز کے بعد اپنی اہلیہ سے مباشرت کی تھی پھر دربار نبوت میں شکایتیں ہوئی اور یہ رحمت کی آیتیں اتریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:2948]‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آ کر یہ واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر رضی اللہ عنہ تم سے تو ایسی امید نہ تھی اسی وقت یہ آیت اتری ایک روایت میں ہے کہ سیدنا قیس رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز کے بعد نیند سے ہوشیار ہو کر کھا پی لیا تھا اور صبح حاضر ہو کر سرکار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنا قصور بیان کیا تھا ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب مباشرت کا ارادہ کیا تو بیوی صاحبہ نے فرمایا کہ مجھے نیند آ گئی تھی لیکن انہوں نے اسے بہانہ سمجھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:2943]‏‏‏‏ اس رات آپ دیر تک مجلس نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بیٹھے رہے تھے اور بہت رات گئے گھر پہنچے تھے ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی ایسا ہی قصور ہو گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:2949:حسن]‏‏‏‏
«مَا کَتَبَ اللّٰہُ» سے مراد اولاد ہے، بعض نے کہا جماع مراد ہے بعض کہتے ہیں لیلۃ القدر مراد ہے قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد یہ رخصت ہے تطبیق ان سب اقوال میں اس طرح ہو سکتی ہے کہ عموم کے طور پر سبھی مراد ہیں۔ جماع کی رخصت کے بعد کھانے پینے کی اجازت مل رہی ہے کہ صبح صادق تک اس کی بھی اجازت ہے۔
صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب [ِمنَ الفجر]‏‏‏‏ کا لفظ نہیں اترا تھا تو چند لوگوں نے اپنے پاؤں میں سفید اور سیاہ دھاگے باندھ لیے اور جب تک ان کی سفیدی اور سیاہی میں تمیز نہ ہوئی کھاتے پیتے رہے اس کے بعد یہ لفظ اترا اور معلوم ہو گیا کہ اس سے مراد رات سے دن ہے۔ [صحیح بخاری:1917]‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دو دھاگے [سیاہ اور سفید]‏‏‏‏ اپنے تکیے تلے رکھ لیے اور جب تک ان کے رنگ میں تمیز نہ ہوئی تب تک کھاتا پیتا رہا صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا تکیہ بڑا لمبا چوڑا نکل اس سے مراد تو صبح کی سفیدی کا رات کی سیاہی سے ظاہر ہونا ہے۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1916]‏‏‏‏ مطلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امر قول کا یہ ہے کہ آیت میں تو دھاگوں سے مراد دن کی سفیدی اور رات کی تاریکی ہے اگر تیرے تکیہ تلے یہ دونوں آ جاتی ہوں تو گویا اس کی لمبائی مشرق و مغرب تک کی ہے، صحیح بخاری میں یہ تفسیر بھی روایتا موجود ہے۔ [صحیح بخاری:4509]‏‏‏‏ بعض روایتوں میں یہ لفظ بھی ہے کہ پھر تو تو بڑی لمبی چوڑی گردن والا ہے، بعض لوگوں نے اس کے معنی بیان کئے ہیں کہ کند ذہن ہے لیکن یہ معنی غلط ہیں، بلکہ مطلب دونوں جملوں کا ایک ہی ہے کیونکہ جب تکیہ اتنا بڑا ہے تو گردن بھی اتنی بڑی ہی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بخاری شریف میں سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کا اسی طرح کا سوال اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی طرح کا جواب تفصیل وار یہی ہے، آیت کے ان الفاظ سے سحری کھانے کا مستحب ہونا بھی ثابت ہوتا ہے اس لیے کہ اللہ کی رخصتوں پر عمل کرنا اسے پسند ہے، حضور علیہ السلام کا فرمان ہے کہ سحری کھایا کرو اس میں برکت ہے [صحیح بخاری:1923]‏‏‏‏ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں سحری کھانے ہی کا فرق ہے۔ [صحیح مسلم:1096]‏‏‏‏ سحری کا کھانا برکت ہے اسے نہ چھوڑو اگر کچھ نہ ملے تو پانی کا گھونٹ ہی سہی اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔ [مسند احمد:44/3:صحیح بالشواھد]‏‏‏‏ اسی طرح کی اور بھی بہت سے حدیثیں ہیں سحری کو دیر کر کے کھانا چاہیئے ایسے وقت کہ فراغت کے کچھ ہی دیر بعد صبح صادق ہو جائے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سحری کھاتے ہی نماز کے لیے کھڑے ہو جایا کرتے تھے اذان اور سحری کے درمیان اتنا ہی فرق ہوتا تھا کہ پچاس آیتیں پڑھ لی جائیں۔ [صحیح بخاری:1921]‏‏‏‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تک میری امت افطار میں جلدی کرے اور سحری میں تاخیر کرے تب تک بھلائی میں رہے گی۔ [مسند احمد:147/5:صحیح بالشواھد]‏‏‏‏ یہ بھی حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام غذائے مبارک رکھا ہے۔ [سنن ابوداود:2344، قال الشيخ الألباني:صحیح بالشواھد]‏‏‏‏ مسند احمد وغیرہ کی حدیچ میں ہے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی ایسے وقت کہ گویا سورج طلوع ہونے والا ہی تھا لیکن اس میں ایک راوی عاصم بن ابو نجود منفرد ہیں اور مراد اس سے دن کی نزدیکی ہے جیسے فرمان باری تعالیٰ فاذا بلغن اجلہن الخ یعنی جب وہ عورتیں اپنے وقتوں کو پہنچ جائیں مراد یہ ہے کہ جب عدت کا زمانہ ختم ہو جانے کے قریب ہو یہی مراد یہاں اس حدیث سے بھی ہے کہ انہوں نے سحری کھائی اور صبح صادق ہو جانے کا یقین نہ تھا بلکہ ایسا وقت تھا کہ کوئی کہتا تھا ہو گئی کوئی کہتا تھا نہیں ہوئی کہ اکثر اصحاب رسول اللہ رضی اللہ عنہم کا دیر سے سحری کھانا اور آخری وقت تک کھاتے رہنا ثابت ہے۔ جیسے ابوبکر، عمر، علی، ابن مسعود، حذیفہ، ابوہریرہ ابن عمر، ابن عباس، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اجمعین اور تابعین کی بھی ایک بہت بڑی جماعت سے صبح صادق طلوع ہونے کے بالکل قریب تک ہی سحری کھانا مروی ہے، جیسے محمد بن علی بن حسین، ابومجلز، ابراہیم نخعی، ابوالضحی، ابووائل رحمہ اللہ علیہم وغیرہ،
شاگردان ابن مسعود رضی اللہ عنہ، عطا، حسن، حاکم بن عیینہ، مجاہد، عروہ بن زبیر، ابو الشعشاء، جابر بن زیاد، اعمش اور جابر بن رشد رحمہ اللہ علیہم اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ہم نے ان سب کی اسناد اپنی مستقل کتاب کتاب الصیام میں بیان کر دی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابن جریری نے اپنی تفسیر میں بعض لوگوں سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ سورج کے طلوع ہونے تک کھانا پینا جائز ہے جیسے غروب ہوتے ہی افطار کرنا، لیکن یہ قول کوئی اہل علم قبول نہیں کر سکتا کیونکہ نص قرآن کے خلاف ہے قرآن میں حیط کا لفظ موجود ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سن کر تم سحری سے نہ رک جایا کرو وہ رات باقی ہوتی ہے اذان دے دیا کرتے ہیں تم کھاتے پیتے رہو جب تک عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان نہ سن لو وہ اذان نہیں کہتے جب تک فجرطلوع نہ ہو جائے۔ [صحیح بخاری:623]‏‏‏‏ مسند احمد میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ فجر نہیں جو آسمان کے کناروں میں لمبی پھیلتی ہے بلکہ وہ جو سرخی والی اور کنارے کنارے ظاہر ہونے والی ہوتی ہے۔ [مسند احمد:23/4:حسن]‏‏‏‏ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اس میں ہے کہ اس پہلی فجر کو جو طلوع ہو کر اوپر کو چڑھتی ہے دیکھ کر کھانے پینے سے نہ رکو بلکہ کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ سرخ دھاری پیش ہو جائے۔ [سنن ابوداود:2348، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں صبح کاذب اور اذان بلال کو ایک ساتھ بھی بیان فرمایا ہے۔ [صحیح مسلم:1094]‏‏‏‏ ایک اور روایت میں صبح کاذب کو صبح کی سفیدی کے ستون کی مانند بتایا ہے، دوسری روایت میں اس پہلی اذان کو جس کے مؤذن بلال رضی اللہ عنہ تھے یہ وجہ بیان کی ہے کہ وہ سوتوں کو جگانے اور نماز تہجد پڑھنے والوں اور قضاء لوٹانے کے لیے ہوتی [سنن ابوداود:2346، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ فجر اس طرح نہیں ہے جب تک اس طرح نہ ہو [یعنی آسمان میں اونچی چڑھنے والی نہیں]‏‏‏‏[صحیح بخاری:621]‏‏‏‏ بلکہ کناروں میں دھاری کی طرح ظاہر ہونے والی۔
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ فجر دوہیں ایک تو بھیڑیئے کی دم کی طرح ہے اس سے روزے دار پر کوئی چیز حرام نہیں ہوتی ہاں وہ فجر جو کناروں میں ظاہر ہو وہ صبح کی نماز اور روزے دار کا کھانا موقوف کرنے کا وقت ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:3003:جید]‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو سفیدی آسمان کے نیچے سے اوپر کو چڑھتی ہے اسے نماز کی حلت اور روزے کی حرمت سے کوئی سروکار نہیں لیکن فجر جو پہاڑوں کی چوٹیوں پر چمکنے لگتی ہے وہ کھانا پینا حرام کرتی ہے۔ حضرت عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ آسمان میں لمبی لمبی چڑھنے والی روشنی نہ تو روزہ رکھنے والے پر کھانا پیناحرام کرتی ہے نہ اس سے نماز کا وقت آیا ہوا معلوم ہوسکتا ہے نہ حج فوت ہوتا ہے لیکن جو صبح پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھیل جاتی ہے یہ وہ صبح ہے کہ روزہ دار کے لیے سب چیزیں حرام کر دیتی ہے اور نمازی کو نماز حلال کر دیتی ہے اور حج فوت ہو جاتا ہے ان دونوں روایتوں کی سند صحیح ہے اور بہت سے سلف سے منقول ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔
مسئلہ ٭٭
مسئلہ: چونکہ جماع کا اور کھانے پینے کا آخری وقت اللہ تعالیٰ نے روزہ رکھنے والے کے لیے صبح صادق کا مقرر کیا ہے اس سے اس مسئلہ پر بھی استدلال ہوسکتا ہے کہ صبح کے وقت جو شخص جنبی اٹھا وہ غسل کر لے اور اپنا روزہ پورا کر لے اس پر کوئی حرج نہیں، چاروں اماموں اور سلف و خلف کے جمہور علماء کرام کا یہی مذہب ہے، بخاری و مسلم میں سیدہ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جماع کرتے صبح کے وقت جنبی اٹھتے پھر غسل کر کے روزہ رکھتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جنبہ ہونا احتلام کے سبب نہ ہوتا تھا، سیدہ ام سلمہ والی روایت میں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ افطار کرتے تھے نہ قضاء کرتے تھے،
[صحیح بخاری:1925]‏‏‏‏ صحیح مسلم شریف میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں صبح نماز کا وقت آجانے تک جنبی ہوتا ہوں تو پھر کیا میں روزہ رکھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی بات میرے ساتھ بھی ہوتی ہے اور میں روزہ رکھتا ہوں اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو سب اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واللہ! مجھے تو امید ہے کہ تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ تقویٰ کی باتوں کو جاننے والا میں ہوں۔ [صحیح مسلم:1110]‏‏‏‏
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ جب صبح کی اذان ہو جائے اور تم میں سے کوئی جنبی ہو تو وہ اس دن روزہ نہ رکھے، اس کی اسناد بہت عمدہ ہے اور یہ حدیث شرط شیخین پر ہے۔ جیسے کہ ظاہر ہے یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، [صحیح بخاری:1925]‏‏‏‏ سنن نسائی میں یہ حدیث بروایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما ہے، وہ اسامہ بن زید سے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں اور مرفوع نہیں اور بعض دیگر علماء کا یہی مذہب ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، عطا، ہشام بن عروہ اور حسن بصری رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر جنبی ہو کر سوگیا ہو اور آنکھ کھلے تو صبح صادق ہو گئی ہو تو اس کے روزے میں کوئی نقصان نہیں سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما والی حدیث کا یہی مطلب ہے اور اگر اس نے عمدا غسل نہیں کیا اور اسی حالت میں صبح صادق ہو گئی تو اس کا روزہ نہیں ہو گا عروہ، طاؤس اور حسن رحمہ اللہ علیہم یہی کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں اگر فرضی روزہ ہو تو پورا تو کر لے لیکن قضاء لازم ہے اور نفلی روزہ ہو تو کوئی حرج نہیں، ابراہیم نخعی رحمہ اللہ یہی کہتے ہیں، خواجہ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت ہے بعض کہتے ہیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث سے منسوخ ہے لیکن حقیقت میں تاریخ کا پتہ نہیں جس سے نسخ ثابت ہو سکے۔
ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی ناسخ یہ آیت قرآنی ہے لیکن یہ بھی دور کی بات ہے اس لیے کہ اس آیت کا بعد میں ہونا تاریخ سے ثابت نہیں بلکہ اس حیثیت سے تو بظاہر یہ حدیث اس آیت کے بعد کی ہے، بعض لوگ کہتے ہیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ’ لا‘ کمال نفی کا ہے یعنی اس شخص کا روزہ کامل نہیں کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا والی حدیث سے جواز صاف طور سے ثابت ہو رہا ہے یہی مسلک ٹھیک بھی ہے۔ اور دوسرے تمام اقوال سے یہ قول عمدہ ہے اور یوں کہنے سے دونوں روایتوں میں تطبیق کی صورت بھی نکل آتی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرماتا ہے کہ روزے کو رات تک پورا کرو اس سے ثابت ہوا کہ سورج کے ڈوبتے ہی روزہ افطار کر لینا چاہیئے، بخاری مسلم میں امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ادھر سے رات آ جائے اور ادھر سے دن چلا جائے توروزے دار افطار کر لے۔ [صحیح بخاری:1954]‏‏‏‏ بخاری مسلم میں سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک لوگ افطار کرنے میں جلدی کریں گے خیر سے رہیں گے۔ [صحیح بخاری:1957]‏‏‏‏ مسند احمد میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ مجھے سب سے زیادہ پیارے وہ بندے ہیں جو روزہ افطار کرنے میں جلدی کرنے والے ہیں۔ [مسند احمد:329/2:ضعیف]‏‏‏‏ امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو حسن غریب کہتے ہیں۔
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ بشری بن خصاصیہ کی بیوی صاحبہ لیلیٰ فرماتی ہیں کہ میں نے دو روزوں کو بغیر افطار کئے ملانا چاہا تو میرے خاوند نے مجھے منع کیا اور کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ کام نصرانیوں کا ہے تم تو روزے اس طرح رکھو جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ رات کو روزہ افطار کر لیا کرو۔ [مسند احمد:225/5:صحیح]‏‏‏‏ اور بھی بہت سی احادیث روزے سے روزے کو ملانے کی ممانعت آئی ہے۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزے سے روزہ نہ ملاؤ تو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپصلی اللہ علیہ وسلم خود تو ملاتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم جیسا نہیں ہوں میں رات گزارتا ہوں میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے لیکن لوگ پھر بھی اس سے باز نہ رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دن دو راتوں کا برابر روزہ رکھا پھر چاند دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر چاند نہ چڑھتا تو میں یونہی روزوں کو ملائے جاتا گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عاجزی ظاہر کرنا چاہتے تھے۔ [صحیح بخاری:1965]‏‏‏‏
بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے اور اسی طرح روزے کے بے افطار کئے اور رات کو کچھ کھائے بغیر دوسرے روزے سے ملا لینے کی ممانعت میں بخاری و مسلم میں سیدنا انس سیدنا ابن عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی مرفوع حدیثیں مروی ہیں۔ [صحیح بخاری:1964]‏‏‏‏ پس ثابت ہوا کہ امت کو تو منع کیا گیا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اس سے مستثنیٰ تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی طاقت تھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی جاتی تھی، یہ بھی خیال رہے کہ مجھے میرا رب کھلا پلا دیتا ہے اس سے مراد حقیقتاً کھانا پینا نہیں کیونکہ پھر تو روزے سے روزے کا وصال نہ ہوا بلکہ یہ صرف روحانی طور پر مدد ہے جیسے کہ ایک عربی شاعر کا شعر ہے ؎:
«لہا احادیث من ذکراک تشغلہا» «عن الشراب وتلہیہا عن الزاد»
یعنی اسے تیرے ذکر اور تیری باتوں میں وہ دلچسپی ہے کہ کھانے پینے یک قلم بےپرواہ ہو جاتی ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص دوسری سحری تک رک رہنا چاہے تو یہ جائز ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزے کو روزے سے مت ملاؤ جو ملانا ہی چاہے تو سحری تک ملا لے لوگوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ملا دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم جیسا نہیں مجھے تو رات ہی کو کھلانے والا کھلادیتا ہے اور پلانے والا پلا دیتا ہے۔ [صحیح بخاری:1967]‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ ایک صحابیہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی آپ سحری کھا رہے تھے فرمایا آؤ تم بھی کھا لو اس نے کہا میں تو روزے سے ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم روزہ کس طرح رکھتی ہو اس نے بیان کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح سحری کے وقت سے دوسری سحری کے وقت تک کا ملا ہوا روزہ کیوں نہیں رکھتیں؟ [تفسیر ابن جریر الطبری:3042:ضعیف]‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سحری سے دوسری سحری تک کا روزہ رکھتے تھے، [عبدالرزاق:7752:ضعیف]‏‏‏‏ ابن جریر میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما وغیرہ سلف صالحین سے مروی ہے کہ وہ کئی کئی دن تک پے در پے بغیر کچھ کھائے روزہ رکھتے تھے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ عبادت کے طور پر نہ تھا کہ بلکہ نفس کو مارنے کے لیے ریاضت کے طور پر تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے سمجھا ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے روکنا صرف شفقت اور مہربانی کے طور پر تھا نا کہ ناجائز بتانے کے طور پر جیسے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر رحم کھا کر اس سے منع فرمایا تھا، پس سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے عامر رحمہ اللہ اور ان کی راہ چلنے والے اپنے نفس میں قوت پاتے تھے اور روزے پر روزہ رکھے جاتے تھے، یہ بھی مروی کہ جب وہ افطار کرتے تو پہلے گھی اور کڑوا گوند کھاتے تاکہ پہلے غذا پہنچنے سے آنتیں جل نہ جائیں، مروی ہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ سات سات دن تک برابر روزے سے رہتے اس اثناء میں دن کو یا رات کو کچھ نہ کھاتے اور پھر ساتویں دن خوب تندرست چست وچالاک اور سب سے زیادہ قوی پائے جاتے۔
ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے دن کا روزہ فرض کر دیا رہی رات تو جو چاہے کھا لے جو نہ چاہے نہ کھائے پھر فرمان ہوتا ہے کہ اعتکاف کی حالت میں عورتوں سے مباشرت نہ کرو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے جو شخص مسجد میں اعتکاف میں بیٹھا ہو خواہ رمضان میں خواہ اور مہینوں میں اس پر دن کے وقت یا رات کے وقت اپنی بیوی سے جماع کرنا حرام ہے جب تک اعتکاف پورا نہ ہو جائے ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے لوگ اعتکاف کی حالت میں بھی جماع کر لیا کرتے تھے جس پر یہ آیت اتری اور مسجد میں اعتکاف کئے ہوئے پر جماع حرام کیا گیا۔ مجاہدرحمہ اللہ اور قتادہ رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:541/3:]‏‏‏‏
پس علمائے کرام کا متفقہ فتویٰ ہے کہ اعتکاف والا اگر کسی ضروری حاجت کے لیے گھر میں جائے مثلاً پیشاب پاخانہ کے لیے یا کھانا کھانے کے لیے تو اس کام سے فارغ ہوتے ہی مسجد میں چلا آئے وہاں ٹھہرنا جائز نہیں نہ اپنی بیوی سے بوس وکنار وغیرہ جائز ہے نہ کسی اور کام میں سوائے اعتکاف کے مشغول ہونا اس کے لیے جائز ہے بلکہ بیمار کی بیمار پرسی کے لیے بھی جانا جائز نہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ چلتے چلتے پوچھ لے اعتکاف کے اور بھی بہت سے احکام ہیں بعض میں اختلاف بھی ہے جن سب کو ہم نے اپنی مستقل کتاب کتاب الصیام کے آخر میں بیان کیے ہیں وللہ الحمد والمنۃ۔
چونکہ قرآن پاک میں روزے کے بیان کے بعد اعتکاف کا ذکر ہے اس لیے اکثر مصنفین نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں روزے کے بعد ہی اعتکاف کے احکام بیان کئے ہیں اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اعتکاف روزے کی حالت میں کرنا چاہیئے یا رمضان کے آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی رمضان شریف کے آخری دنوں میں اعتکاف کیا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امہات المؤمنین رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اعتکاف کیا کرتی تھیں۔ [صحیح بخاری:2026]‏‏‏‏
بخاری و مسلم میں ہے کہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اعتکاف کی حالت میں حاضر ہوتی تھیں اور کوئی ضروری بات پوچھنے کی ہوتی تو وہ دریافت کر کے چلی جاتی ایک مرتبہ رات کو جب جانے لگیں تو چونکہ مکان مسجد نبوی سے فاصلہ پر تھا اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ ہو لیے کہ پہنچا آئیں راستہ میں دو انصاری صحابی مل گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ کو دیکھ کر شرم کے مارے جلدی جلدی قدم بڑھا کر جانے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہر جاؤ سنو یہ میری بیوی صفیہ ہیں وہ کہنے لگے سبحان اللہ! [کیا ہمیں کوئی اور خیال بھی ہو سکتا ہے؟]‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان انسان کی رگ رگ میں خون کی طرح پھرتا رہتا ہے مجھے خیال ہوا کہ کہیں تمہارے دل میں کوئی بدگمانی نہ پیدا کر دے۔ [صحیح بخاری:2035]‏‏‏‏
حضرت امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس واقعہ سے اپنی امت کو گویا سبق سکھا رہے ہیں کہ وہ تہمت کی جگہوں سے بچتے رہیں ورنہ ناممکن ہے کہ وہ پاکباز صحابہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کوئی برا خیال بھی دل میں لائیں اور یہ بھی ناممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نسبت یہ خیال فرمائیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
آیت میں مراد مباشرت سے جماع اور اس کے اسباب ہیں جیسے بوس و کنار وغیرہ ورنہ کسی چیز کا لینا دینا وغیرہ یہ سب باتیں جائز ہیں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں میری طرف جھکا دیا کرتے تھے میں آپ کے سر میں کنگھی کر دیا کرتی تھی حالانکہ میں حیض سے ہوتی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کے دنوں میں ضروری حاجت کے رفع کے سوا اور وقت گھر میں تشریف نہیں لاتے تھے سیدہ عائشہ فرماتی ہیں اعتکاف کی حالت میں تو چلتے چلتے ہی گھر کے بیمار کی بیمار پرسی کر لیا کرتی ہوں۔ [صحیح بخاری:2029]‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ یہ ہماری بیان کردہ باتیں اور فرض کئے ہوئے احکام اور مقرر کی ہوئی حدیں ہیں روزے اور روزوں کے احکام اور اس کے مسائل اور اس میں جو کام جائز ہیں یا جو ناجائز ہیں غرض وہ سب ہماری حدبندیاں ہیں خبردار ان کے قریب بھی نہ آنا نہ ان سے تجاوز کرنا نہ ان کے آگے بڑھنا۔
بعض کہتے ہیں یہ حد اعتکاف کی حالت میں مباشرت سے الگ رہنا ہے بعض کہتے ہیں ان آیتوں کے چاروں حکم مراد ہے پھر فرمایا جس طرح روزے اور اس کے احکام اور اس کے مسائل اور اس کی تفصیل ہم نے بیان کر دی اسی طرح اور احکام بھی ہم اپنے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت سب کے سب تمام جہان کے لیے بیان کیا کرتے ہیں تاکہ وہ یہ معلوم کر سکیں کہ ہدایت کیا ہے اور اطاعت کسے کہتے ہیں؟ اور اس بنا پر وہ متقی بن جائیں جیسے اور جگہ ہے آیت «هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ عَلٰي عَبْدِهٖٓ اٰيٰتٍ بَيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» [57۔ الحدید: 9]‏‏‏‏ وہ اللہ جو اپنے بندے پر روشن آیتیں نازل فرماتا ہے تاکہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے اللہ تعالیٰ تم پر رافت و رحمت کرنے والا ہے۔