تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اگر کوئی مسلمان کسی کافر کو قتل کر دے تو قصاص میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا، بعض لوگوں نے کہا کہ کافر کو قتل کرنے کی صورت میں مسلمان کو قتل کر دیا جائے گا، مگر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صریح فرمان کے خلاف ہے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [وَ اَنْ لاَّ یُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ] ”اور یہ کہ کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔“ [بخاری، الدیات، باب لا یقتل المسلم بکافر: ۶۹۱۵] مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کو چوپاؤں کی مانند بلکہ ان سے بھی گمراہ تر قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف(۱۷۹)۔
➌ {”مِنْ اَخِيْهِ“} یہاں مقتول کے وارث کو قاتل کا بھائی قرار دینے میں ایک طرح کی سفارش ہے کہ بے شک قاتل نے تمھارے آدمی کو قتل کیا ہے مگر مسلمان ہونے کے ناتے تم اس کے بھائی ہو، تمھیں اسے کچھ نہ کچھ معافی دینی چاہیے۔ معافی کی دو صورتیں ہیں، ایک تویہ کہ صدقہ کرتے ہوئے دیت لیے بغیر معاف کر دیں۔ دوسری یہ کہ دیت لے لیں، پھر خواہ پوری لے لیں یا اس میں سے کچھ معاف کر دیں۔ اگر وہ معاف کرتے ہوئے قصاص کی جگہ دیت قبول کر لیں تو ان پر لازم ہے کہ دیت کا تقاضا اچھے طریقے سے کریں اور قاتل کے قبیلے والوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اچھے طریقے سے دیت ادا کر دیں۔ استطاعت ہوتے ہوئے دیت ادا نہ کرنا ظلم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [مَطْلُ الْغَنِیِّ ظُلْمٌ] ”غنی کا (کسی کا حق دینے میں) دیر کرنا ظلم ہے۔“ [بخاری، الحوالات، باب الحوالۃ وہل یرجع فی الحوالۃ: ۲۲۸۷]
➍ {تَخْفِيْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ:} ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں صرف قصاص تھا دیت نہیں تھی، اب اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما کر دیت لینے کی بھی اجازت دے دی ہے۔ [بخاری، التفسیر، باب «یأیہا الذین آمنوا …» : ۴۴۹۸]
➎ {فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ:} دیت لے کر بھی کوئی آدمی اگر قاتل کو قتل کرے تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اگلی امتوں میں سے یہود پر اللہ تعالیٰ نے قصاص فرض کیا تھا، ان میں عفو کا قانون نہیں تھا اور نصاریٰ میں صرف عفو کا حکم تھا قصاص کا نہیں تھا۔ اس امت پر اللہ تعالیٰ نے آسانی اور مہربانی فرمائی اور دونوں باتوں کی اجازت دی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مقتول کے وارثوں کو دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے خواہ وہ فدیہ لے لیں یا قصاص۔ [بخاري كتاب فى اللقطة باب كيف تعرف اهل مكة اهل مكه نيز مسلم، كتاب الحج، باب تحريم مكة]
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت کی ابتدا میں ﴿كتب عليٰ﴾ کے الفاظ قصاص کی فرضیت اور وجوب کا تقاضا کرتے ہیں۔ پھر بھی دیت کی رعایت یا رخصت بھی بیان فرما دی۔ بلکہ اگر مقتول کے وارث معاف ہی کر دیں تو اسے بہت بہتر عمل قرار دیا گیا تو پھر قصاص کی فرضیت یا وجوب کیا رہ گیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا روئے سخن اسلامی معاشرہ یا اسلامی حکومت کی طرف ہے کہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خون ناحق کا ضرور قصاص لے۔ خواہ مقتول کا کوئی وارث موجود ہو یا نہ ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ مقتول کے وارث تو ہوں مگر انہیں قصاص لینے میں کوئی دلچسپی نہ ہو بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض دنیوی مفادات کی خاطر یہ قتل ہی ورثا کے ایماء سے ہوا ہو۔ جو بھی صورت ہو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مجرم کو گرفتار کر کے اسے کیفر کردار تک پہنچائے۔
[224] اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں قصاص تھا دیت کا دستور نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت پر قصاص فرض کرنے کے بعد فرمایا ﴿فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ﴾ جس سے مراد دیت کا مطالبہ ہے اور ﴿وَاَدَاءٌ اِلَيْهِ بِاِحْسَانٍ﴾ سے مراد یہ ہے کہ قاتل کو بلا چون و چرا ادائیگی کر دینا چاہیے۔ یہ اگلے لوگوں کے مقابلہ میں تخفیف ہے۔
﴿فَمَنِ اعْتَدَيٰ بَعْدَ ذٰلِكَ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ دیت قبول کرنے کے بعد بھی اسے قتل کر دے۔ [بخاري، كتاب التفسير، زير آيت مذكوره]
اگر انسان کی نیت میں بگاڑ ہو تو زیادتی کی کئی شکلیں بن سکتی ہیں۔ ایک شکل تو وہی ہے جس کا مندرجہ بالا آیت میں ذکر کیا گیا ہے کہ مقتول کا وارث وقتی طور پر دیت لے کر مالی فوائد حاصل کر لے۔ پھر جب کبھی موقع ملے تو قاتل کو مار بھی ڈالے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ قاتل اور اس کے ورثاء حکومت کے دباؤ کے تحت دیت ادا کر دیں۔ مگر بعد میں ان پر کسی نئے ظلم چوری یا ڈاکہ وغیرہ کی سکیم تیار کرنا شروع کر دیں۔ ایسی تمام صورتوں میں وہ اللہ کے غضب کے مستحق ٹھہریں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ لوگ مرد کو عورت کے بدلے قتل نہیں کرتے تھے جس پر «اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ» [5۔ المائدہ: 45] نازل ہوئی پس آزاد لوگ سب برابر ہیں جسن کے بدلے جان لی جائے گی خواہ قاتل مرد ہو خواہ عورت ہو اسی طرح مقتول خواہ مرد ہو خواہ عورت ہو جب کہ ایک آزاد انسان نے ایک آزاد انسان کو مار ڈالا ہے تو اسے بھی مار ڈالا جائے گا اسی طرح یہی حکم غلاموں اور لونڈیوں میں بھی جاری ہو گا اور جو کوئی جان لینے کے قصد سے دوسرے کو قتل کرے گا وہ قصاص میں قتل کیا جائے گا اور یہی حکم قتل کے علاوہ اور زخموں کا اور دوسرے اعضاء کی بربادی کا بھی ہے، امام مالک رحمتہ اللہ علیہ بھی اس آیت کو آیت [النفس بالنفس] سے منسوخ بتلاتے ہیں۔
لیکن جمہور کا مذہب ان بزرگوں کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ غلام مال ہے اگر وہ خطا سے قتل ہو جائے تو دیت یعنی جرمانہ نہیں دینا پڑتا صرف اس کے مالک کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور اسی طرح اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ کے نقصان پر بھی بدلے کا حکم نہیں۔ آیا مسلمان کافر کے بدلے قتل کیا جائے گا یا نہیں؟ اس بارے میں جمہور علماء امت کا مذہب تو یہ ہے کہ قتل نہ کیا جائے گا اور دلیل صحیح بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ حدیث «لا یقتل مسلم بکافر» مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ [صحیح بخاری:111]
اس حدیث کے خلاف نہ تو کوئی صحیح حدیث ہے کہ کوئی ایسی تاویل ہو سکتی ہے جو اس کے خلاف ہو، لیکن تاہم صرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ مسلمان کافر کے بدلے قتل کر دیا جائے۔
لیکن امام احمد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں ایک کے بدلے ایک ہی قتل کیا جائے زیادہ قتل نہ کیے جائیں۔ سیدنا معاذ ابن زبیر رضی اللہ عنہ عبدالملک بن مروان زہری ابن سیرین حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ سے بھی یہ قول مروی ہے، ابن المندر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی زیادہ صحیح ہے اور ایک جماعت کو ایک مقتول کے بدلے قتل کرنے کی کوئی دلیل نہیں اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے یہ ثابت ہے کہ وہ اس مسئلہ کو نہیں مانتے تھے پس جب صحابہ رضی اللہ عنہم میں اختلاف ہوا تو اب مسئلہ غور طلب ہو گیا۔
پھر فرماتا ہے کہ یہ اور بات ہے کہ کسی قاتل کو مقتول کا کوئی وارث کچھ حصہ معاف کر دے یعنی قتل کے بدلے وہ دیت قبول کر لے یا دیت بھی اپنے حصہ کی چھوڑ دے اور صاف معاف کر دے، اگر وہ دیت پر راضی ہو گیا ہے تو قاتل کو مشکل نہ ڈالے بلکہ اچھائی سے دیت وصول کرے اور قاتل کو بھی چاہیئے کہ بھلائی کے ساتھ اسے دیت ادا کر دے، حیل وحجت نہ کرے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس شخص کا کوئی مقتول یا مجروح ہو تو اسے تین باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے یا قصاص یعنی بدلہ لے لے یا درگزر کرے۔ معاف کر دے یا دیت یعنی جرمانہ لے لے اور اگر کچھ اور کرنا چاہے تو اسے روک دو ان میں سے ایک کر چکنے کے بعد بھی جو زیادتی کرے وہ ہمیشہ کے لیے جہنمی ہو جائے گا [سنن ابوداود:4496، قال الشيخ الألباني:ضعیف] دوسری حدیث میں ہے کہ جس نے دیت وصول کر لی پھر قاتل کو قتل کیا تو اب میں اس سے دیت بھی نہ لوں گا بلکہ اسے قتل کروں گا۔ [سنن ابوداود:4507، قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے عقلمندو قصاص میں نسل انسان کی بقاء ہے اس میں حکمت عظیمہ ہے گو بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک کے بدلے ایک قتل ہوا تو دو مرے لیکن دراصل اگر سوچو تو پتہ چلے گا کہ یہ سبب زندگی ہے، قاتل کو خود خیال ہو گا کہ میں اسے قتل نہ کروں ورنہ خود بھی قتل کر دیا جاؤں گا تو وہ اس فعل بد سے رک جائے گا تو دو آدمی قتل و خون سے بچ گئے۔
اگلی کتابوں میں بھی یہ بات تو بیان فرمائی تھی کہ آیت «القتل انفی للقتل» قتل قتل کو روک دیتا ہے لیکن قرآن پاک میں بہت ہی فصاحت و بلاغت کے ساتھ اس مضمون کو بیان کیا گیا۔ پھر فرمایا یہ تمہارے بچاؤ کا سبب ہے کہ ایک تو اللہ کی نافرمانی سے محفوظ رہو گے دوسرے نہ کوئی کسی کو قتل کرے گا نہ کہ وہ قتل کیا جائے گا زمین پر امن و امان سکون و سلام رہے گا، تقویٰ نیکیوں کے کرنے اور کل برائیوں کے چھوڑنے کا نام ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يَمْتَنُّ تعالى على عباده المؤمنين بأنه فرض عليهم {القصاص في القتلى}؛ أي: المساواة فيه، وأن يقتل القاتل على الصفة التي قتل عليها المقتول، إقامة للعدل والقسط بين العباد، وتوجيه الخطاب لعموم المؤمنين فيه دليل على أنه يجب عليهم كلهم حتى أولياء القاتل حتى القاتل بنفسه إعانة ولي المقتول إذا طلب القصاص، ويمكنه من القاتل، وأنه لا يجوز لهم أن يحولوا بين هذا الحد، ويمنعوا الولي من الاقتصاص كما عليه عادة الجاهلية ومن أشبههم من إيواء المحدِثين.
ثم بين تفصيل ذلك فقال: {الحر بالحر}؛ يدخل بمنطوقها الذكر بالذكر، والأنثى بالأنثى؛ والأنثى بالذكر والذكر بالأنثى، فيكون منطوقها مقدماً على مفهوم قوله الأنثى بالأنثى مع دلالة السنة على أن الذكر يقتل بالأنثى، وخرج من عموم هذا الأبوان وإن علوا فلا يقتلان بالولد لورود السنة بذلك مع أن في قوله: {القصاص}؛ ما يدل على أنه ليس من العدل أن يقتل الوالد بولده ولأن ما في قلب الوالد من الشفقة والرحمة ما يمنعه من القتل لولده إلا بسبب اختلال في عقله أو أذية شديدة جدًّا من الولد له، وخرج من العموم أيضاً الكافر بالسنة مع أن الآية في خطاب المؤمنين خاصة، وأيضاً فليس من العدل أن يقتل ولي الله بعدوه، {والعبد بالعبد}؛ ذكراً كان أو أنثى تساوت قيمهما أو اختلفت، ودل بمفهومها على أن الحر لا يقتل بالعبد لكونه غير مساوٍ له، {والأنثى بالأنثى}؛ أخذ بمفهومها بعض أهل العلم فلم يجز قتل الرجل بالمرأة، وتقدم وجه ذلك.
وفي هذه الآية دليل على أن الأصل وجوب القود في القتل وأن الدية بدل عنه، فلهذا قال: {فمن عفي له من أخيه شيء}؛ أي: عفا ولي المقتول عن القاتل إلى الدية أو عفا بعض الأولياء فإنه يسقط القصاص وتجب الدية وتكون الخيرة في القود واختيار الدية إلى الولي، فإذا عفا عنه، وجب على الولي؛ أي ولي المقتول أن يتبع القاتل، {بالمعروف}؛ من غير أن يشق عليه ولا يحمله ما لا يطيق، بل يحسن الاقتضاء والطلب ولا يحرجه. وعلى القاتل {أداء إليه بإحسان}؛ من غير مطلٍ ولا نقص ولا إساءة فعلية أو قولية، فهل جزاء الإحسان إليه بالعفو إلا الإحسان بحسن القضاء، وهذا مأمور به في كل ما ثبت في ذمم الناس للإنسان مأمور من له الحق بالاتباع بالمعروف ومن عليه الحق بالأداء بالإحسان ، وفي قوله: {فمن عفي له من أخيه}؛ ترقيق وحث على العفو إلى الدية وأحسن من ذلك العفو مجاناً.
وفي قوله: {أخيه}؛ دليل على أن القاتل لا يكفر لأن المراد بالأخوة هنا أخوة الإيمان فلم يخرج بالقتل منها ومن باب أولى أن سائر المعاصي التي هي دون الكفر لا يكفر بها فاعلها وإنما ينقص بذلك إيمانه، وإذا عفا أولياء المقتول أو عفا بعضهم احتقن دم القاتل وصار معصوماً منهم ومن غيرهم، ولهذا قال: {فمن اعتدى بعد ذلك}؛ أي: بعد العفو، {فله عذاب أليم}؛ أي في الآخرة، وأما قتله وعدمه فيؤخذ مما تقدم لأنه قتل مكافئاً له فيجب قتله بذلك، وأما من فسر العذاب الأليم بالقتل، وأن الآية تدل على أنه يتعين قتله ولا يجوز العفو عنه، وبذلك قال بعض العلماء، والصحيح الأول لأن جنايته لا تزيد على جناية غيره.