یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِصَاصُ فِی الۡقَتۡلٰی ؕ اَلۡحُرُّ بِالۡحُرِّ وَ الۡعَبۡدُ بِالۡعَبۡدِ وَ الۡاُنۡثٰی بِالۡاُنۡثٰی ؕ فَمَنۡ عُفِیَ لَہٗ مِنۡ اَخِیۡہِ شَیۡءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیۡہِ بِاِحۡسَانٍ ؕ ذٰلِکَ تَخۡفِیۡفٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ رَحۡمَۃٌ ؕ فَمَنِ اعۡتَدٰی بَعۡدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۷۸﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر مقتولوں میں بدلہ لینا لکھ دیا گیا ہے، آزاد (قاتل) کے بدلے وہی آزاد (قاتل) اور غلام (قاتل) کے بدلے وہی غلام (قاتل) اور (قاتلہ) عورت کے بدلے وہی (قاتلہ) عورت (قتل) ہوگی، پھر جسے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ بھی معاف کر دیا جائے تو معروف طریقے سے پیچھا کرنا اور اچھے طریقے سے اس کے پاس پہنچا دینا (لازم) ہے۔ یہ تمھارے رب کی طرف سے ایک قسم کی آسانی اور ایک مہربانی ہے، پھر جو اس کے بعد زیادتی کرے تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
En
مومنو! تم کو مقتولوں کے بارےمیں قصاص (یعنی خون کے بدلے خون) کا حکم دیا جاتا ہے (اس طرح پر کہ) آزاد کے بدلے آزاد (مارا جائے) اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت اور قاتل کو اس کے (مقتول) بھائی (کے قصاص میں) سے کچھ معاف کردیا جائے تو (وارث مقتول) کو پسندیدہ طریق سے (قرار داد کی) پیروی (یعنی مطالبہٴ خون بہا) کرنا اور (قاتل کو) خوش خوئی کے ساتھ ادا کرنا چاہیئے یہ پروردگار کی طرف سے تمہارے لئے آسانی اور مہربانی ہے جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لئے دکھ کا عذاب ہے
En
اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے۔ ہاں جس کسی کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے اسے بھلائی کی اتباع کرنی چاہئے اور آسانی کے ساتھ دیت ادا کرنی چاہئے۔ تمہارے رب کی طرف سے یہ تخفیف اور رحمت ہے اس کے بعد بھی جو سرکشی کرے اسے درد ناک عذاب ہوگا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 178) ➊ {الْقَتْلٰى:} یہ { ”قَتِيْلٌ“ } کی جمع ہے، جو بمعنی مقتول ہے۔ اس آیت سے بظاہر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مرد، مرد ہی کو قتل کرنے کی صورت میں قتل کیا جائے گا، عورت کو قتل کر دے تو قتل نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح عورت، عورت ہی کو قتل کرنے کی صورت میں قتل کی جائے گی، مرد کو قتل کرنے کی صورت میں نہیں، مگر یہ معنی مراد نہیں، بلکہ یہاں اہل جاہلیت کے ایک ظلم کا خاتمہ مقصود ہے کہ اگر ان کے کمزور قبیلے کی کوئی عورت کسی طاقت ور قبیلے کے کسی مرد کو قتل کر دیتی تو وہ قتل کرنے والی عورت کے بجائے اس قبیلے کے کسی بے گناہ مرد یا متعدد مردوں کو قتل کر دیتے۔ اسی طرح کسی کمزور قبیلے کا کوئی غلام کسی زور آور قبیلے کے کسی آزاد آدمی کو قتل کر دیتا تو وہ اس قاتل غلام کی جگہ اس قبیلے کے کسی بے گناہ آزاد ہی کو قتل کرنے پر اصرار کرتے، تواللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قتل کرنے والے کے بدلے میں اسی قاتل ہی کو قتل کیا جائے، کسی دوسرے کو نہیں، قاتل خواہ آزاد ہے یا غلام، مرد ہے یا عورت۔ (خلاصہ از طبری)
➋ اگر کوئی مسلمان کسی کافر کو قتل کر دے تو قصاص میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا، بعض لوگوں نے کہا کہ کافر کو قتل کرنے کی صورت میں مسلمان کو قتل کر دیا جائے گا، مگر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صریح فرمان کے خلاف ہے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [وَ اَنْ لاَّ یُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ] ”اور یہ کہ کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔“ [بخاری، الدیات، باب لا یقتل المسلم بکافر: ۶۹۱۵] مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کو چوپاؤں کی مانند بلکہ ان سے بھی گمراہ تر قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف(۱۷۹)۔
➌ {”مِنْ اَخِيْهِ“} یہاں مقتول کے وارث کو قاتل کا بھائی قرار دینے میں ایک طرح کی سفارش ہے کہ بے شک قاتل نے تمھارے آدمی کو قتل کیا ہے مگر مسلمان ہونے کے ناتے تم اس کے بھائی ہو، تمھیں اسے کچھ نہ کچھ معافی دینی چاہیے۔ معافی کی دو صورتیں ہیں، ایک تویہ کہ صدقہ کرتے ہوئے دیت لیے بغیر معاف کر دیں۔ دوسری یہ کہ دیت لے لیں، پھر خواہ پوری لے لیں یا اس میں سے کچھ معاف کر دیں۔ اگر وہ معاف کرتے ہوئے قصاص کی جگہ دیت قبول کر لیں تو ان پر لازم ہے کہ دیت کا تقاضا اچھے طریقے سے کریں اور قاتل کے قبیلے والوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اچھے طریقے سے دیت ادا کر دیں۔ استطاعت ہوتے ہوئے دیت ادا نہ کرنا ظلم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [مَطْلُ الْغَنِیِّ ظُلْمٌ] ”غنی کا (کسی کا حق دینے میں) دیر کرنا ظلم ہے۔“ [بخاری، الحوالات، باب الحوالۃ وہل یرجع فی الحوالۃ: ۲۲۸۷]
➍ {تَخْفِيْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ:} ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں صرف قصاص تھا دیت نہیں تھی، اب اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما کر دیت لینے کی بھی اجازت دے دی ہے۔ [بخاری، التفسیر، باب «یأیہا الذین آمنوا …» : ۴۴۹۸]
➎ {فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ:} دیت لے کر بھی کوئی آدمی اگر قاتل کو قتل کرے تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
➋ اگر کوئی مسلمان کسی کافر کو قتل کر دے تو قصاص میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا، بعض لوگوں نے کہا کہ کافر کو قتل کرنے کی صورت میں مسلمان کو قتل کر دیا جائے گا، مگر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صریح فرمان کے خلاف ہے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [وَ اَنْ لاَّ یُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ] ”اور یہ کہ کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔“ [بخاری، الدیات، باب لا یقتل المسلم بکافر: ۶۹۱۵] مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کو چوپاؤں کی مانند بلکہ ان سے بھی گمراہ تر قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف(۱۷۹)۔
➌ {”مِنْ اَخِيْهِ“} یہاں مقتول کے وارث کو قاتل کا بھائی قرار دینے میں ایک طرح کی سفارش ہے کہ بے شک قاتل نے تمھارے آدمی کو قتل کیا ہے مگر مسلمان ہونے کے ناتے تم اس کے بھائی ہو، تمھیں اسے کچھ نہ کچھ معافی دینی چاہیے۔ معافی کی دو صورتیں ہیں، ایک تویہ کہ صدقہ کرتے ہوئے دیت لیے بغیر معاف کر دیں۔ دوسری یہ کہ دیت لے لیں، پھر خواہ پوری لے لیں یا اس میں سے کچھ معاف کر دیں۔ اگر وہ معاف کرتے ہوئے قصاص کی جگہ دیت قبول کر لیں تو ان پر لازم ہے کہ دیت کا تقاضا اچھے طریقے سے کریں اور قاتل کے قبیلے والوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اچھے طریقے سے دیت ادا کر دیں۔ استطاعت ہوتے ہوئے دیت ادا نہ کرنا ظلم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [مَطْلُ الْغَنِیِّ ظُلْمٌ] ”غنی کا (کسی کا حق دینے میں) دیر کرنا ظلم ہے۔“ [بخاری، الحوالات، باب الحوالۃ وہل یرجع فی الحوالۃ: ۲۲۸۷]
➍ {تَخْفِيْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ:} ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں صرف قصاص تھا دیت نہیں تھی، اب اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما کر دیت لینے کی بھی اجازت دے دی ہے۔ [بخاری، التفسیر، باب «یأیہا الذین آمنوا …» : ۴۴۹۸]
➎ {فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ:} دیت لے کر بھی کوئی آدمی اگر قاتل کو قتل کرے تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
178۔ 1 زمانہ جاہلیت میں کوئی نظم اور قانون تو تھا نہیں اس لیے زورآور قبیلے کمزور قبیلوں پر جس طرح چاہتے ظلم کا ارتکاب کرلیتے۔ ایک ظلم کی شکل یہ تھی کہ کسی طاقتور قبیلے کا کوئی مرد قتل ہوجاتا وہ صرف قاتل کو قتل کرنے کے بجائے قاتل کے قبیلے کے کئی مردوں کو بلکہ بسا اوقات پورے قبیلے ہی کو تہس نہس کرنے کی کوشش کرتے اور عورت کے بدلے مرد کو اور غلام کے بدلے آزاد کو قتل کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس فرق و امتیاز کو ختم کرتے ہوئے کہ جو قاتل ہوگا قصاص (بدلے) میں اسی کو قتل کیا جائے گا۔ جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ قصاص میں قاتل ہی کو قتل کیا جائے۔ (فتح القدیر) مزید دیکھیے سورة مائدہ آیت۔ 45۔ 178۔ 2 معافی کی دو سورتیں ہیں ایک بغیر معاوضہ یعنی دیت لئے بغیر محض رضائی الٰہی کے لئے معاف کردینا دوسری صورت میں قصاص کے بجائے دیت قبول کرلینا اگر یہ دوسری صورت اختیار کی جائے تو کہا جا رہا ہے کہ طالب دیت بھلائی کی پیروی کرے بغیر تنگ کئے اچھے طریقے سے دیت کی ادائیگی کرے۔ اولیائے مقتول نے اس کی جان بخشی کر کے اس پر جو احسان کیا ہے اس کا بدلہ احسان ہی کے ساتھ دے۔ 178۔ 3 یہ تخفیف اور رحمت (یعنی قصاص) معافی یا دیت تین صورتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص تم پر ہوئی ہیں ورنہ اس سے قبل اہل تورات کے لئے قصاص یا معافی تھی دیت نہیں تھی اور اہل انجیل (عیسائیوں) میں صرف معافی ہی تھی قصاص تھا نہ دیت (ابن کثیر) 178۔ 4 قبول دیت یا اخذ دیت کے بعد قتل بھی کر دے تو یہ سرکشی اور زیادتی ہے جس کی سزا اسے دنیا اور آخرت میں بھگتنی ہوگی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
178۔ اے ایمان والو! قتل کے مقدمات میں تم قصاص [222] فرض کیا گیا ہے اگر قاتل آزاد ہے تو اس کے بدلے آزاد ہی قتل ہو گا۔ غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت ہی قتل کی جائے گی۔ پھر اگر قاتل کو اس کے (مقتول) بھائی (کے قصاص میں) سے کچھ معاف [223] کر دیا جائے تو معروف طریقے سے (خون بہا) کا تصفیہ ہونا چاہیے اور قاتل یہ رقم بہتر طریقے سے (مقتول کے وارثوں کو) ادا کر دے۔ یہ (دیت کی ادائیگی) تمہارے رب کی طرف سے رخصت اور اس کی رحمت ہے اس کے بعد جو شخص زیادتی کرے [224] اسے درد ناک عذاب ہو گا۔
[222] قصاص کے احکام:۔
قصاص کا مطلب ہے جان کے بدلے جان لینا۔ پھر دور نبوی کی سوسائٹی کی اصناف کے مطابق حکم دیا گیا۔ آزاد کے بدلے قاتل قوم کا کوئی آزاد مرد ہی قتل ہو گا۔ عورت یا غلام قتل نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح غلام کے بدلے آزاد مرد یا عورت قتل نہیں ہوں گے۔ یہ تفصیل اللہ تعالیٰ نے اس لیے بیان فرمائی کہ اس دور کا دستور یہ تھا کہ اگر کسی قبیلہ کا کوئی معزز آدمی دوسرے قبیلے کے کسی عام آدمی کے ہاتھوں مارا جاتا تو وہ اصلی قاتل کے قتل کو کافی نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ ان کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ یا تو قاتل قبیلے کا ویسا ہی کوئی معزز آدمی قتل کیا جائے یا اس قبیلہ کے کئی آدمی اس کے عوض قتل کئے جائیں۔ اس کے برعکس مقتول اگر کوئی ادنیٰ آدمی اور قاتل معزز آدمی ہوتا تو وہ اس بات کو گوارا نہ کرتے تھے کہ مقتول کے بدلے قاتل کی جان لی جائے اور یہ بات صرف اس زمانے سے مختص نہیں بلکہ آج کی مہذب حاکم اقوام بھی یہی کچھ کرتی ہیں۔ قاتل اگر حاکم قوم سے تعلق رکھتا ہو تو عدالت کو اختیار نہیں کہ اس کے خلاف قصاص کا فیصلہ صادر کر سکے اور اگر بد قسمتی سے حاکم قوم کا کوئی شخص محکوم کے ہاتھوں قتل ہو جائے تو سمجھ لو کہ اس پوری قوم کی خیر نہیں اور اس پر طرح طرح کی مصیبتیں کھڑی کی جاتی ہیں انہی خرابیوں کے سد باب کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مقتول کے بدلے قاتل اور صرف قاتل ہی کی جان لی جائے گی یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ قاتل کون ہے اور مقتول کون؟
[223] قتل قابل راضی نامہ جرم ہے:۔
مقتول کے وارث کو قاتل کا بھائی کہہ کر نہایت لطیف طریقے سے اس سے نرمی اختیار کرنے کی سفارش بھی کر دی گئی ہے۔ یعنی وہ قصاص معاف کر دے اور دیت لے لے، اس آیت سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اسلام میں قتل تک کا مقدمہ بھی قابل راضی نامہ ہے۔ جبکہ انگریزی قانون کے مطابق یہ جرم قابل راضی نامہ نہیں۔
اگلی امتوں میں سے یہود پر اللہ تعالیٰ نے قصاص فرض کیا تھا، ان میں عفو کا قانون نہیں تھا اور نصاریٰ میں صرف عفو کا حکم تھا قصاص کا نہیں تھا۔ اس امت پر اللہ تعالیٰ نے آسانی اور مہربانی فرمائی اور دونوں باتوں کی اجازت دی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مقتول کے وارثوں کو دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے خواہ وہ فدیہ لے لیں یا قصاص۔ [بخاري كتاب فى اللقطة باب كيف تعرف اهل مكة اهل مكه نيز مسلم، كتاب الحج، باب تحريم مكة]
اگلی امتوں میں سے یہود پر اللہ تعالیٰ نے قصاص فرض کیا تھا، ان میں عفو کا قانون نہیں تھا اور نصاریٰ میں صرف عفو کا حکم تھا قصاص کا نہیں تھا۔ اس امت پر اللہ تعالیٰ نے آسانی اور مہربانی فرمائی اور دونوں باتوں کی اجازت دی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مقتول کے وارثوں کو دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے خواہ وہ فدیہ لے لیں یا قصاص۔ [بخاري كتاب فى اللقطة باب كيف تعرف اهل مكة اهل مكه نيز مسلم، كتاب الحج، باب تحريم مكة]
قصاص اور دیت:
تاہم آپ قصاص کے بجائے «عفو» کو زیادہ پسند فرماتے تھے، آپ خود بھی معاف کرتے اور دیت لے لینے کی سفارش کرتے اور صحابہؓ کو بھی اسی بات کی تلقین فرماتے تھے۔ ایک دفعہ ایک آدمی قتل ہو گیا۔ آپ نے قاتل کو مقتول کے حوالہ کر دیا۔ قاتل کہنے لگا ”یا رسول اللہ! اللہ کی قسم میرا قتل کرنے کا ارادہ نہ تھا۔“ آپ نے مقتول کے ولی سے کہا۔ ”اگر یہ سچا ہوا اور تم نے اسے قتل کر دیا تو تم دوزخ میں جاؤ گے۔“ یہ سن کر مقتول کے ولی نے قاتل کو چھوڑ دیا۔ [ترمذي۔ ابواب الديات باب ماجاء فى حكم ولي القتيل]
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت کی ابتدا میں ﴿كتب عليٰ﴾ کے الفاظ قصاص کی فرضیت اور وجوب کا تقاضا کرتے ہیں۔ پھر بھی دیت کی رعایت یا رخصت بھی بیان فرما دی۔ بلکہ اگر مقتول کے وارث معاف ہی کر دیں تو اسے بہت بہتر عمل قرار دیا گیا تو پھر قصاص کی فرضیت یا وجوب کیا رہ گیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا روئے سخن اسلامی معاشرہ یا اسلامی حکومت کی طرف ہے کہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خون ناحق کا ضرور قصاص لے۔ خواہ مقتول کا کوئی وارث موجود ہو یا نہ ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ مقتول کے وارث تو ہوں مگر انہیں قصاص لینے میں کوئی دلچسپی نہ ہو بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض دنیوی مفادات کی خاطر یہ قتل ہی ورثا کے ایماء سے ہوا ہو۔ جو بھی صورت ہو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مجرم کو گرفتار کر کے اسے کیفر کردار تک پہنچائے۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت کی ابتدا میں ﴿كتب عليٰ﴾ کے الفاظ قصاص کی فرضیت اور وجوب کا تقاضا کرتے ہیں۔ پھر بھی دیت کی رعایت یا رخصت بھی بیان فرما دی۔ بلکہ اگر مقتول کے وارث معاف ہی کر دیں تو اسے بہت بہتر عمل قرار دیا گیا تو پھر قصاص کی فرضیت یا وجوب کیا رہ گیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا روئے سخن اسلامی معاشرہ یا اسلامی حکومت کی طرف ہے کہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خون ناحق کا ضرور قصاص لے۔ خواہ مقتول کا کوئی وارث موجود ہو یا نہ ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ مقتول کے وارث تو ہوں مگر انہیں قصاص لینے میں کوئی دلچسپی نہ ہو بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض دنیوی مفادات کی خاطر یہ قتل ہی ورثا کے ایماء سے ہوا ہو۔ جو بھی صورت ہو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مجرم کو گرفتار کر کے اسے کیفر کردار تک پہنچائے۔
دیت کی حکمت:۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو دیت کی رعایت بیان فرمائی تو یہ اختیار صرف مقتول کے ورثا کو ہے اور اس میں کئی حکمتیں اور لوگوں کی مصلحتیں ہیں۔ جب مقتول کے ورثاء کو حکومت کی طرف سے قصاص یا دیت کا اختیار مل جائے تو اپنے قاتل کے خلاف ان کے منتقمانہ جذبات سرد پڑ جاتے ہیں اور بہت بڑے زخم کے اندمال کی ایک شکل پیدا ہو جاتی ہے۔ اور اگر وہ جان کا قصاص لینے کے بجائے نرم رویہ اختیار کریں تو اس سے ایک تو قاتل کی جان بخشی اور قاتل اور اس کے خاندان پر احسان ہوتا ہے۔ جس سے آئندہ کے لیے نہایت مفید نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے دوسرے اس صورت میں مقتول کے ورثاء کی مالی امداد بھی ہو جاتی ہے۔ اور اگر وہ غریب ہوں تو انہیں بڑا سہارا مل سکتا ہے اور یہ سب معاملات حکومت کی وساطت سے ہی طے ہوں گے مگر مقتول کے ورثاء کی مرضی کے مطابق کئے جائیں گے اور اگر یہ سارا اختیار حکومت کو ہی سونپ دیا جائے تو مقتول کے ورثاء ان تمام فوائد سے یکسر محروم رہ جاتے ہیں۔
[224] اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں قصاص تھا دیت کا دستور نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت پر قصاص فرض کرنے کے بعد فرمایا ﴿فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ﴾ جس سے مراد دیت کا مطالبہ ہے اور ﴿وَاَدَاءٌ اِلَيْهِ بِاِحْسَانٍ﴾ سے مراد یہ ہے کہ قاتل کو بلا چون و چرا ادائیگی کر دینا چاہیے۔ یہ اگلے لوگوں کے مقابلہ میں تخفیف ہے۔
﴿فَمَنِ اعْتَدَيٰ بَعْدَ ذٰلِكَ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ دیت قبول کرنے کے بعد بھی اسے قتل کر دے۔ [بخاري، كتاب التفسير، زير آيت مذكوره]
اگر انسان کی نیت میں بگاڑ ہو تو زیادتی کی کئی شکلیں بن سکتی ہیں۔ ایک شکل تو وہی ہے جس کا مندرجہ بالا آیت میں ذکر کیا گیا ہے کہ مقتول کا وارث وقتی طور پر دیت لے کر مالی فوائد حاصل کر لے۔ پھر جب کبھی موقع ملے تو قاتل کو مار بھی ڈالے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ قاتل اور اس کے ورثاء حکومت کے دباؤ کے تحت دیت ادا کر دیں۔ مگر بعد میں ان پر کسی نئے ظلم چوری یا ڈاکہ وغیرہ کی سکیم تیار کرنا شروع کر دیں۔ ایسی تمام صورتوں میں وہ اللہ کے غضب کے مستحق ٹھہریں گے۔
[224] اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں قصاص تھا دیت کا دستور نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت پر قصاص فرض کرنے کے بعد فرمایا ﴿فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ﴾ جس سے مراد دیت کا مطالبہ ہے اور ﴿وَاَدَاءٌ اِلَيْهِ بِاِحْسَانٍ﴾ سے مراد یہ ہے کہ قاتل کو بلا چون و چرا ادائیگی کر دینا چاہیے۔ یہ اگلے لوگوں کے مقابلہ میں تخفیف ہے۔
﴿فَمَنِ اعْتَدَيٰ بَعْدَ ذٰلِكَ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ دیت قبول کرنے کے بعد بھی اسے قتل کر دے۔ [بخاري، كتاب التفسير، زير آيت مذكوره]
اگر انسان کی نیت میں بگاڑ ہو تو زیادتی کی کئی شکلیں بن سکتی ہیں۔ ایک شکل تو وہی ہے جس کا مندرجہ بالا آیت میں ذکر کیا گیا ہے کہ مقتول کا وارث وقتی طور پر دیت لے کر مالی فوائد حاصل کر لے۔ پھر جب کبھی موقع ملے تو قاتل کو مار بھی ڈالے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ قاتل اور اس کے ورثاء حکومت کے دباؤ کے تحت دیت ادا کر دیں۔ مگر بعد میں ان پر کسی نئے ظلم چوری یا ڈاکہ وغیرہ کی سکیم تیار کرنا شروع کر دیں۔ ایسی تمام صورتوں میں وہ اللہ کے غضب کے مستحق ٹھہریں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قصاص کی وضاحت ٭٭
یعنی اے مسلمانوں قصاص کے وقت عدل سے کام لیا کرو آزاد کے بدلے آزاد غلام کے بدلے غلام عورت کے بدلے عورت اس بارے میں حد سے نہ بڑھو جیسے کہ اگلے لوگ حد سے بڑھ گئے اور اللہ کا حکم بدل دیا، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں بنو قریظہ اور بنونضیر کی جنگ ہوئی تھی جس میں بنونضیر غالب آئے تھے اب یہ دستور ہو گیا تھا کہ جب نضیری کسی قرظی کو قتل کرے تو اس کے بدلے اسے قتل نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک سو وسق کھجور دیت میں لی جاتی تھی اور جب کوئی قرظی نضیری کو مار ڈالے تو قصاص میں اسے قتل کر دیا جاتا تھا اور اگر دیت لی جائے تو دوگنی دیت یعنی دو سو وسق کھجور لی جاتی تھی۔
پس اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کی اس رسم کو مٹایا اور عدل ومساوات کا حکم دیا، ابوحاتم کی روایت میں شان نزول یوں بیان ہوا ہے کہ عرب کے دو قبیلوں میں جدال و قتال ہوا تھا اسلام کے بعد اس کا بدلہ لینے کی ٹھانی اور کہا کہ ہمارے غلام کے بدلے ان کا آزاد قتل ہو اور عورت کے بدلے مرد قتل ہو تو ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی اور یہ حکم بھی منسوخ ہے قرآن فرماتا ہے آیت «أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ» الخ، [5-المائدة:45] پس ہر قاتل مقتول کے بدلے مار ڈالا جائے گا خواہ آزاد نے کسی غلام کو قتل کیا ہو خواہ اس کے برعکس ہو خواہ مرد نے عورت کو قتل کیا ہو خواہ اس کے برعکس ہو،
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ لوگ مرد کو عورت کے بدلے قتل نہیں کرتے تھے جس پر «اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ» [5۔ المائدہ: 45] نازل ہوئی پس آزاد لوگ سب برابر ہیں جسن کے بدلے جان لی جائے گی خواہ قاتل مرد ہو خواہ عورت ہو اسی طرح مقتول خواہ مرد ہو خواہ عورت ہو جب کہ ایک آزاد انسان نے ایک آزاد انسان کو مار ڈالا ہے تو اسے بھی مار ڈالا جائے گا اسی طرح یہی حکم غلاموں اور لونڈیوں میں بھی جاری ہو گا اور جو کوئی جان لینے کے قصد سے دوسرے کو قتل کرے گا وہ قصاص میں قتل کیا جائے گا اور یہی حکم قتل کے علاوہ اور زخموں کا اور دوسرے اعضاء کی بربادی کا بھی ہے، امام مالک رحمتہ اللہ علیہ بھی اس آیت کو آیت [النفس بالنفس] سے منسوخ بتلاتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ لوگ مرد کو عورت کے بدلے قتل نہیں کرتے تھے جس پر «اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ» [5۔ المائدہ: 45] نازل ہوئی پس آزاد لوگ سب برابر ہیں جسن کے بدلے جان لی جائے گی خواہ قاتل مرد ہو خواہ عورت ہو اسی طرح مقتول خواہ مرد ہو خواہ عورت ہو جب کہ ایک آزاد انسان نے ایک آزاد انسان کو مار ڈالا ہے تو اسے بھی مار ڈالا جائے گا اسی طرح یہی حکم غلاموں اور لونڈیوں میں بھی جاری ہو گا اور جو کوئی جان لینے کے قصد سے دوسرے کو قتل کرے گا وہ قصاص میں قتل کیا جائے گا اور یہی حکم قتل کے علاوہ اور زخموں کا اور دوسرے اعضاء کی بربادی کا بھی ہے، امام مالک رحمتہ اللہ علیہ بھی اس آیت کو آیت [النفس بالنفس] سے منسوخ بتلاتے ہیں۔
مسئلہ ٭٭
امام ابوحنیفہ امام ثوری امام ابن ابی لیلیٰ اور داؤد رحمہ اللہ علیہم کا مذہب ہے کہ آزاد نے اگر غلام کو قتل کیا ہے تو اس کے بدلے وہ بھی قتل کیا جائے گا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ قتادہ رحمہ اللہ اور حکم رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے، امام بخاری، علی بن مدینی، ابراہیم نخعی رحمہ اللہ علیہم اور ایک اور روایت کی رو سے ثوری رحمہ اللہ کا بھی مذہب یہی ہے کہ اگر کوئی آقا اپنے غلام کو مار ڈالے تو اس کے بدلے اس کی جان لی جائے گی دلیل میں یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے ہم اسے قتل کریں گے اور جو شخص اپنے غلام کو ناک کاٹ کرے ہم بھی اس کی ناک کاٹ دیں گے اور جو اسے خصی کرے اس سے بھی یہی بدلہ لیا جائے۔ [سنن ابوداود:4515، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
لیکن جمہور کا مذہب ان بزرگوں کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ غلام مال ہے اگر وہ خطا سے قتل ہو جائے تو دیت یعنی جرمانہ نہیں دینا پڑتا صرف اس کے مالک کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور اسی طرح اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ کے نقصان پر بھی بدلے کا حکم نہیں۔ آیا مسلمان کافر کے بدلے قتل کیا جائے گا یا نہیں؟ اس بارے میں جمہور علماء امت کا مذہب تو یہ ہے کہ قتل نہ کیا جائے گا اور دلیل صحیح بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ حدیث «لا یقتل مسلم بکافر» مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ [صحیح بخاری:111]
اس حدیث کے خلاف نہ تو کوئی صحیح حدیث ہے کہ کوئی ایسی تاویل ہو سکتی ہے جو اس کے خلاف ہو، لیکن تاہم صرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ مسلمان کافر کے بدلے قتل کر دیا جائے۔
لیکن جمہور کا مذہب ان بزرگوں کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ غلام مال ہے اگر وہ خطا سے قتل ہو جائے تو دیت یعنی جرمانہ نہیں دینا پڑتا صرف اس کے مالک کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور اسی طرح اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ کے نقصان پر بھی بدلے کا حکم نہیں۔ آیا مسلمان کافر کے بدلے قتل کیا جائے گا یا نہیں؟ اس بارے میں جمہور علماء امت کا مذہب تو یہ ہے کہ قتل نہ کیا جائے گا اور دلیل صحیح بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ حدیث «لا یقتل مسلم بکافر» مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ [صحیح بخاری:111]
اس حدیث کے خلاف نہ تو کوئی صحیح حدیث ہے کہ کوئی ایسی تاویل ہو سکتی ہے جو اس کے خلاف ہو، لیکن تاہم صرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ مسلمان کافر کے بدلے قتل کر دیا جائے۔
مسئلہ ٭٭
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اور عطا رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مرد عورت کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور دلیل میں مندرجہ بالا آیت کو پیش کرتے ہیں لیکن جمہور علماء اسلام اس کے خلاف ہیں کیونکہ سورۃ المائدہ کی آیت عام ہے جس میں آیت «اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ» [5-المائدة: 45] موجود ہے علاوہ ازیں حدیث شریف میں بھی ہے حدیث «المسلون تتکافا دماء ھم» [سنن ابوداود:2751، قال الشيخ الألباني:صحیح] یعنی مسلمانوں کے خون آپس میں یکساں ہیں، لیث رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ خاوند اگر اپنی بیوی کو مار ڈالے تو خاصتہ اس کے بدلے اس کی جان نہیں لی جائے۔
مسئلہ ٭٭
چاروں اماموں اور جمہور امت کا مذہب ہے کہ کئی ایک نے مل کر ایک مسلمان کو قتل کیا ہے تو وہ سارے اس ایک کے بدلے قتل کر دئیے جائیں گے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک شخص کو سات شخص مل کر مار ڈالتے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ ان ساتوں کو قتل کراتے ہیں اور فرماتے ہیں اگر صفا کے تمام لوگ بھی اس قتل میں شریک ہوتے تو میں قصاص میں سب کو قتل کرا دیتا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کے خلاف آپ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے اعتراض نہیں کیا پس اس بات پر گویا اجماع ہو گیا۔
لیکن امام احمد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں ایک کے بدلے ایک ہی قتل کیا جائے زیادہ قتل نہ کیے جائیں۔ سیدنا معاذ ابن زبیر رضی اللہ عنہ عبدالملک بن مروان زہری ابن سیرین حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ سے بھی یہ قول مروی ہے، ابن المندر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی زیادہ صحیح ہے اور ایک جماعت کو ایک مقتول کے بدلے قتل کرنے کی کوئی دلیل نہیں اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے یہ ثابت ہے کہ وہ اس مسئلہ کو نہیں مانتے تھے پس جب صحابہ رضی اللہ عنہم میں اختلاف ہوا تو اب مسئلہ غور طلب ہو گیا۔
پھر فرماتا ہے کہ یہ اور بات ہے کہ کسی قاتل کو مقتول کا کوئی وارث کچھ حصہ معاف کر دے یعنی قتل کے بدلے وہ دیت قبول کر لے یا دیت بھی اپنے حصہ کی چھوڑ دے اور صاف معاف کر دے، اگر وہ دیت پر راضی ہو گیا ہے تو قاتل کو مشکل نہ ڈالے بلکہ اچھائی سے دیت وصول کرے اور قاتل کو بھی چاہیئے کہ بھلائی کے ساتھ اسے دیت ادا کر دے، حیل وحجت نہ کرے۔
لیکن امام احمد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں ایک کے بدلے ایک ہی قتل کیا جائے زیادہ قتل نہ کیے جائیں۔ سیدنا معاذ ابن زبیر رضی اللہ عنہ عبدالملک بن مروان زہری ابن سیرین حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ سے بھی یہ قول مروی ہے، ابن المندر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی زیادہ صحیح ہے اور ایک جماعت کو ایک مقتول کے بدلے قتل کرنے کی کوئی دلیل نہیں اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے یہ ثابت ہے کہ وہ اس مسئلہ کو نہیں مانتے تھے پس جب صحابہ رضی اللہ عنہم میں اختلاف ہوا تو اب مسئلہ غور طلب ہو گیا۔
پھر فرماتا ہے کہ یہ اور بات ہے کہ کسی قاتل کو مقتول کا کوئی وارث کچھ حصہ معاف کر دے یعنی قتل کے بدلے وہ دیت قبول کر لے یا دیت بھی اپنے حصہ کی چھوڑ دے اور صاف معاف کر دے، اگر وہ دیت پر راضی ہو گیا ہے تو قاتل کو مشکل نہ ڈالے بلکہ اچھائی سے دیت وصول کرے اور قاتل کو بھی چاہیئے کہ بھلائی کے ساتھ اسے دیت ادا کر دے، حیل وحجت نہ کرے۔
مسئلہ ٭٭
امام مالک رحمہ اللہ کا مشہور مذہب اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور آپ کے شاگردوں کا اور امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کا ایک روایت کی رو سے یہ مذہب ہے کہ مقتول کے اولیاء کا قصاص چھوڑ کر دیت پر راضی ہونا اس وقت جائز ہے جب خود قاتل بھی اس پر آمادہ ہوا لیکن اور بزرگان دین فرماتے ہیں کہ اس میں قاتل کی رضا مندی شرط نہیں
مسئلہ ٭٭
سلف کی ایک جماعت کہتی ہے کہ عورتیں قصاص سے درگزر کر کے دیت پر اگر رضامند ہوں تو ان کا اعتبار نہیں۔ حسن، قتادہ، زہرہ، ابن شبرمہ، لیث اور اوزاعی رحمہ اللہ علیہم کا یہی مذہب ہے لیکن باقی علماء دین ان کے مخالف ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی عورت نے بھی دیت پر رضا مندی ظاہر کی تو قصاص جاتا رہے گا پھر فرماتے ہیں کہ قتل عمد میں دیت لینا یہ اللہ کی طرف سے تخفیف اور مہربانی ہے اگلی امتوں کو یہ اختیار نہ تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بنی اسرائیل پر قصاص فرض تھا انہیں قصاص سے درگزر کرنے اور دیت لینے کی اجازت نہ تھی لیکن اس مات پر یہ مہربانی ہوئی کہ دیت لینی بھی جائز کی گئی تو یہاں تین چیزیں ہوئیں قصاص دیت اور معانی اگلی امتوں میں صرف قصاص اور معافی ہی تھی دیت نہ تھی، بعض لوگ کہتے ہیں اہل تورات کے ہاں صرف قصاص اور معافی تھی اور اہل انجیل کے ہاں صرف معافی ہی تھی۔ پھر فرمایا جو شخص دیت یعنی جرمانہ لینے کے بعد یا دیت قبول کر لینے کے بعد بھی زیادتی پر تل جائے اس کے لیے سخت درد ناک عذاب ہے۔ مثلاً دیت لینے کے بعد پر قتل کے درپے ہو وغیرہ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس شخص کا کوئی مقتول یا مجروح ہو تو اسے تین باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے یا قصاص یعنی بدلہ لے لے یا درگزر کرے۔ معاف کر دے یا دیت یعنی جرمانہ لے لے اور اگر کچھ اور کرنا چاہے تو اسے روک دو ان میں سے ایک کر چکنے کے بعد بھی جو زیادتی کرے وہ ہمیشہ کے لیے جہنمی ہو جائے گا [سنن ابوداود:4496، قال الشيخ الألباني:ضعیف] دوسری حدیث میں ہے کہ جس نے دیت وصول کر لی پھر قاتل کو قتل کیا تو اب میں اس سے دیت بھی نہ لوں گا بلکہ اسے قتل کروں گا۔ [سنن ابوداود:4507، قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے عقلمندو قصاص میں نسل انسان کی بقاء ہے اس میں حکمت عظیمہ ہے گو بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک کے بدلے ایک قتل ہوا تو دو مرے لیکن دراصل اگر سوچو تو پتہ چلے گا کہ یہ سبب زندگی ہے، قاتل کو خود خیال ہو گا کہ میں اسے قتل نہ کروں ورنہ خود بھی قتل کر دیا جاؤں گا تو وہ اس فعل بد سے رک جائے گا تو دو آدمی قتل و خون سے بچ گئے۔
اگلی کتابوں میں بھی یہ بات تو بیان فرمائی تھی کہ آیت «القتل انفی للقتل» قتل قتل کو روک دیتا ہے لیکن قرآن پاک میں بہت ہی فصاحت و بلاغت کے ساتھ اس مضمون کو بیان کیا گیا۔ پھر فرمایا یہ تمہارے بچاؤ کا سبب ہے کہ ایک تو اللہ کی نافرمانی سے محفوظ رہو گے دوسرے نہ کوئی کسی کو قتل کرے گا نہ کہ وہ قتل کیا جائے گا زمین پر امن و امان سکون و سلام رہے گا، تقویٰ نیکیوں کے کرنے اور کل برائیوں کے چھوڑنے کا نام ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس شخص کا کوئی مقتول یا مجروح ہو تو اسے تین باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے یا قصاص یعنی بدلہ لے لے یا درگزر کرے۔ معاف کر دے یا دیت یعنی جرمانہ لے لے اور اگر کچھ اور کرنا چاہے تو اسے روک دو ان میں سے ایک کر چکنے کے بعد بھی جو زیادتی کرے وہ ہمیشہ کے لیے جہنمی ہو جائے گا [سنن ابوداود:4496، قال الشيخ الألباني:ضعیف] دوسری حدیث میں ہے کہ جس نے دیت وصول کر لی پھر قاتل کو قتل کیا تو اب میں اس سے دیت بھی نہ لوں گا بلکہ اسے قتل کروں گا۔ [سنن ابوداود:4507، قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے عقلمندو قصاص میں نسل انسان کی بقاء ہے اس میں حکمت عظیمہ ہے گو بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک کے بدلے ایک قتل ہوا تو دو مرے لیکن دراصل اگر سوچو تو پتہ چلے گا کہ یہ سبب زندگی ہے، قاتل کو خود خیال ہو گا کہ میں اسے قتل نہ کروں ورنہ خود بھی قتل کر دیا جاؤں گا تو وہ اس فعل بد سے رک جائے گا تو دو آدمی قتل و خون سے بچ گئے۔
اگلی کتابوں میں بھی یہ بات تو بیان فرمائی تھی کہ آیت «القتل انفی للقتل» قتل قتل کو روک دیتا ہے لیکن قرآن پاک میں بہت ہی فصاحت و بلاغت کے ساتھ اس مضمون کو بیان کیا گیا۔ پھر فرمایا یہ تمہارے بچاؤ کا سبب ہے کہ ایک تو اللہ کی نافرمانی سے محفوظ رہو گے دوسرے نہ کوئی کسی کو قتل کرے گا نہ کہ وہ قتل کیا جائے گا زمین پر امن و امان سکون و سلام رہے گا، تقویٰ نیکیوں کے کرنے اور کل برائیوں کے چھوڑنے کا نام ہے۔