ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 159

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡبَیِّنٰتِ وَ الۡہُدٰی مِنۡۢ بَعۡدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الۡکِتٰبِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰہُ وَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰعِنُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾ۙ
بے شک وہ لوگ جو اس کو چھپاتے ہیں جو ہم نے واضح دلیلوں اور ہدایت میں سے اتارا ہے، اس کے بعد کہ ہم نے اسے لوگوں کے لیے کتاب میں کھول کر بیان کر دیا ہے، ایسے لوگ ہیں کہ ان پر اللہ لعنت کرتا ہے اور سب لعنت کرنے والے ان پر لعنت کرتے ہیں۔ En
جو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہیں باوجود یہ کہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔ ایسوں پر خدا اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں
En
جو لوگ ہماری اتاری ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم اسے اپنی کتاب میں لوگوں کے لئے بیان کرچکے ہیں، ان لوگوں پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 159) ➊ { اَللَّعْنَةُ } کا اصل معنی { اَلطَّرْدُ } یعنی دور دفع کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت سے مراد ملعون شخص کو اپنے پاس سے اور اپنی رحمت سے دورکرنا ہے اور دوسرے تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت سے مراد اللہ تعالیٰ سے اسے دور کرنے کی دعا کرنا ہے۔ لعنت کرنے والوں سے مراد تمام مومن جن و انس اور فرشتے ہیں۔ (طبری)
➋ {الْكِتٰبِ} سے مراد یہاں تورات ہے اور { لِلنَّاسِ } سے مراد خاص لوگ یعنی یہود کے علماء ہیں، یعنی علمائے یہود کے لیے تورات و انجیل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی واضح خوش خبری اور صفات بیان ہونے کے بعد ان میں سے جو لوگ اسے چھپاتے اور اس کا انکار کرتے ہیں ان پر لعنت ہے۔ اگرچہ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی مگر آیت کے الفاظ عام ہیں، اس میں وہ مسلم علماء بھی شامل ہیں جو قرآن و حدیث کی بات جانتے ہوئے اسے چھپا جاتے ہیں اور اپنے فرقے کی بات کو دین ظاہر کرکے بیان کر دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [مَن سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ عَلِمَہٗ ثُمَّ کَتَمَہُ اُلْجِمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِلِجَامٍ مِّنْ نَّارٍ] جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی گئی، جسے وہ جانتا ہے، پھر اس نے اسے چھپایا تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔ [ترمذی، العلم، باب ما جاء فی کتمان العلم: ۲۶۴۹۔ أحمد: 263/2، ح: ۷۵۸۸۔أبو داوٗد: ۳۶۵۸، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ و صححہ الألبانی]
➌ اگر کسی مسئلہ سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہو اور عوام میں فتنہ و فساد کا خوف ہو تو اسے عوام کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہاں مقصود حق کا چھپانا نہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو { لاَ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ } پر جنت کی بشارت عام لوگوں کو بیان کرنے سے منع کر دیا تھا۔ [مسلم، الإیمان، باب الدلیل علی أن من …: ۳۱] اور علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں سے وہ بات بیان کرو جسے وہ سمجھ سکیں، کیا تم پسند کرتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کو جھوٹا کہا جائے؟ [بخاری، العلم، باب من خص بالعلم قومًا …، قبل ح: ۱۲۷] اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم کسی قوم کو ایسی بات بیان کرو گے جس تک ان کی عقلیں نہ پہنچتی ہوں تو ضرور ان میں سے کسی کے لیے وہ فتنہ بنے گی۔ [مسلم، المقدمۃ، باب النہی عن الحدیث بکل ما سمع: ۱۴؍۵]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

159۔ 1 اللہ تعالیٰ نے جو باتیں اپنی کتاب میں نازل فرمائی ہیں انہیں چھپانا اتنا بڑا جرم ہے کہ اللہ کے علاوہ دیگر لعنت کرنے والے بھی اس پر لعنت کرتے ہیں۔ حدیث میں ہے جس سے کوئی ایسی بات پوچھی گئی جس کا اس کو علم تھا اور اس نے اسے چھپایا تو قیامت والے دن آگ کی لگام اس کے منہ میں دی جائے گی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

159۔ جو لوگ ہمارے نازل کردہ واضح دلائل اور ہدایت کی باتیں چھپاتے ہیں [198] جبکہ ہم انہیں اپنی کتاب میں سب لوگوں کے لئے کھول کر بیان کر چکے ہیں تو ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں۔
[198] کتمان حق کبیرہ گناہ ہے:۔
اس کے مخاطب وہ لوگ ہیں جن کا دینی لحاظ سے معاشرہ میں کچھ مقام ہوتا ہے اور ان کی اتباع کی جاتی ہے۔ مثلاً علماء، پیرو مشائخ، واعظ اور مصنفین وغیرہ ایسے حضرات اگر اللہ تعالیٰ کے واضح احکام اور ہدایات کو چھپائیں تو اس کا نتیجہ چونکہ عام گمراہی اور فساد کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے لہٰذا یہ لوگ بد ترین قسم کے مجرم ہوتے ہیں جو اپنے گناہ کے بار کے علاوہ اپنے بے شمار متبعین کے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے سر پر اٹھاتے ہیں۔ لہٰذا ان پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے۔ فرشتے بھی، انسان بھی اور بری اور بحری مخلوق بھی۔ حتیٰ کہ پانی کی مچھلیاں بھی۔ اس لیے کہ فساد فی الارض یا عذاب الٰہی کی صورت میں انسانوں کے علاوہ دوسری مخلوق بھی متاثر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر علمائے یہود جنہوں نے تورات کے علم کو بس اپنے ہی حلقہ میں محدود کر رکھا تھا اور مثلاً رجم کی آیت کو چھپاتے تھے اور عوام میں زنا کی سزا ہی دوسری تجویز کر لی تھی۔ یا دیدہ دانستہ عوام میں مشہور کر دیا تھا کہ ابراہیمؑ یا اسحاقؑ وغیرہ یہودی تھے یا قبلہ کے متعلق صحیح معلومات عوام سے چھپا رکھی تھیں وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہؓ بہت حدیثیں بیان کرتا ہے (حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ اگر کتاب اللہ میں یہ دو آیتیں نہ ہوتیں [يهي آيت نمبر 159۔ 160] تو میں کوئی حدیث بیان نہ کرتا۔ (بخاری، کتاب العلم، باب حفظ العلم) اور حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذؓ کو تین بار پکارا، پھر فرمایا: معاذ! جو شخص سچے دل سے یہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ اسے آگ پر حرام کر دے گا۔ معاذؓ کہنے لگے! میں لوگوں کو یہ بات بتلا دوں کہ وہ خوش ہو جائیں؟ فرمایا ”پھر وہ توکل کر بیٹھیں گے (لہٰذا ایسی بشارت نہ دو) “ پھر معاذؓ نے موت کے وقت گنہگار ہونے کے ڈر سے لوگوں سے یہ بیان کر دی۔ [بخاري، كتاب العلم، باب من خص بالعلم قومادون قوم]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حق بات کا چھپانا جرم عظیم ہے ٭٭
اس میں زبردست دھمکی ہے ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کی باتیں یعنی شرعی مسائل چھپا لیا کرتے ہیں، اہل کتاب نے نعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھپا لیا تھا جس پر ارشاد ہوتا ہے کہ حق کے چھپانے والے ملعون لوگ ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:170/1]‏‏‏‏ جس طرح اس عالم کے لیے جو لوگوں میں اللہ کی باتیں پھیلائے ہر چیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ پانی مچھلیاں اور ہوا کے پرند بھی۔ [سنن ابوداود:3641، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ اسی طرح ان لوگوں پر جو حق کی بات کو جانتے ہوئے گونگے بہرے بن جاتے ہیں ہر چیز لعنت بھیجتی ہے، صحیح حدیث میں ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا جس شخص نے کسی شرعی امر کی نسبت سوال کیا جائے اور وہ اسے چھپا لے اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائی جائے گی، [سنن ابوداود:3658، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر یہ آیت نہ ہوتی تو میں ایک حدیث بھی بیان نہ کرتا۔ [صحیح بخاری:118]‏‏‏‏
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قبر میں کافر کی پیشانی پر اس زور سے ہتھوڑا مارا جاتا ہے کہ جاندار اس کا دھماکہ سنتے ہیں سوائے جن و انس کے۔ پھر وہ سب اس پر لعنت بھیجتے ہیں یہی معنی ہیں کہ ان پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے یعنی تمام جانداروں کی۔
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ» [البقرہ: 159]‏‏‏‏ سے مراد تمام جانور اور کل جن و انس ہے۔ مجاھد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب خشک سالی ہوتی ہے بارش نہیں برستی تو چوپائے جانور کہتے ہیں یہ بنی آدم کے گنہگاروں کے گناہ کی شومی قسمت سے ہے اللہ تعالیٰ نبی آدم کے گنہگاروں پر لعنت نازل کرے، [تفسیر ابن ابی حاتم:175/1]‏‏‏‏ بعض مفسرین کہتے اس سے مراد فرشتے اور مومن لوگ ہیں، حدیث میں ہے عالم کے لیے ہر چیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں بھی اس آیت میں ہے کہ علم کے چھپانے والوں کو اللہ لعنت کرتا ہے اور فرشتے اور تمام لوگ اور کل لعنت کرنے والے یعنی ہر با زبان اور ہر بے زبان چاہے زبان سے کہے چاہے قرائن سے اور قیامت کے دن بھی سب چیزیں ان پر لعنت کریں گی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا گیا جو اپنے اس فعل سے باز آ جائیں اور اپنے اعمال کی پوری اصلاح کر لیں اور جو چھپایا تھا اسے ظاہر کریں ان لوگوں کی توبہ وہ اللہ تواب الرحیم قبول فرما لیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص کفر و بدعت کی طرف لوگوں کو بلانے والا ہو وہ بھی جب سچے دل سے رجوع کر لے تو اس کی توبہ بھی قبول ہوتی ہے۔
بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اگلی امتوں میں ایسے زبردست بدکاروں کی توبہ قبول نہیں ہوتی تھی لیکن نبی التوبہ اور نبی الرحمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ساتھ یہ مہربانی مخصوص ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کا بیان ہو رہا ہے جو کفر کریں توبہ نصیب نہ ہو اور کفر کی حالت میں ہی مر جائیں ان پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، یہ لعنت ان پر چپک جاتی ہے اور قیامت تک ساتھ ہی رہے گی اور دوزخ کی آگ میں لے جائے گی اور عذاب بھی ہمیشہ ہی رہے گا نہ تو عذاب میں کبھی کمی ہو گی نہ کبھی موقوف ہو گی بلکہ ہمیشہ دوام کے ساتھ سخت عذاب میں رہیں گے «نعوذباللہ من عذاب اللہ» ۔
حضرت ابوالعالیہ اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہما فرماتے ہیں، قیامت کے دن کافر کو ٹھہرایا جائے گا پھر اس پر اللہ تعالیٰ لعنت کرے گا پھر فرشتے پھر سب لوگ کافروں پر لعنت بھیجنے کے مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے بعد کے ائمہ کرام سب کے سب قنوت وغیرہ میں کفار پر لعنت بھیجتے تھے، لیکن کسی معین کافر پر لعنت بھجنے کے بارے میں علماء کرام کا ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ جائز نہیں اس لیے کہ اس کے خاتمہ کا کسی کو علم نہیں اور اس آیت کی یہ قید کہ مرتے دم تک وہ کافر رہے معین کافر دلیل ہے کسی پر لعنت نہ بھیجنے کی، ایک دوسری جماعت اس کی بھی قائل ہے جیسے فقیہ ابوبکر بن عربی مالکی رحمہ اللہ، لیکن ان کی دلیل ایک ضعیف حدیث ہے۔
بعض نے اس حدیث سے یہ بھی دلیل لی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص باربار نشہ کی حالت میں لایا گیا اور اس پر باربار حد لگائی گئی تو ایک شخص نے کہا اس پر اللہ کی لعنت ہو بار بار شراب پیتا ہے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر لعنت نہ بھیجو یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دوست رکھتا ہے، [صحیح بخاری:6780]‏‏‏‏ اس سے ثابت ہوا کہ جو شخص اللہ رسول سے دوستی نہ رکھے اس پر لعنت بھیجنی جائز ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ آیت کریمہ اگرچہ اہل کتاب کے بارے میں اور اس کی بابت نازل ہوئی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کو چھپایا مگر اس کا حکم ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو ان حقائق کو چھپاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں ﴿ مِنَ الْبَیِّنٰتِ دلائل یعنی حق پر دلالت کرنے والی اور اس کو ظاہر کرنے والی باتیں ﴿ وَالْهُدٰؔى ھُدٰی وہ علم ہے جس کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور جس سے اہل جنت اور اہل جہنم کے راستوں میں فرق واضح ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے وعدہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب اللہ کا جو علم عطا کیا ہے اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور اسے ہرگز نہیں چھپائیں گے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو دور پھینک دیا اس نے دو مفاسد کو جمع کر دیا۔
(اول) اس حق کو چھپانا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ (ثانی) اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ دھوکہ کرنا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ ایسے ہی لوگوں پر اللہ لعنت کرتا ہے۔ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ دھتکار دے گا اور انھیں اپنی قربت اور رحمت سے دور کر دے گا ﴿ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَ اور تمام لعنت کرنے والے ان پر لعنت کرتے ہیں۔ یعنی ان پر تمام مخلوق کی بھی لعنت پڑے گی۔ کیونکہ انھوں نے مخلوق الٰہی کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے دین کو برباد کیا، انھیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کیا اس لیے انھیں ان کے اعمال کی جنس سے بدلہ دیا جائے گا۔
جیسے لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دینے والے پر اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے، فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں، یہاں تک کہ پانی کے اندر مچھلیاں بھی اس کے لیے رحمت کی دعا کرتی ہیں کیونکہ اس کی تمام بھاگ دوڑ اور کوشش مخلوق کی بھلائی اور ان کے دین کی اصلاح اور ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ لہٰذا اسے اس کے عمل کی جنس سے بدلہ دیا گیا۔ پس اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حق کو چھپانے والا درحقیقت اللہ کے حکم کا مخالف اور اللہ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو لوگوں کے سامنے اپنی آیات کو واضح کر کے بیان کرتا ہے اور یہ شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کو چھپانے اور مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ پس مذکورہ سخت وعید کا مورد یہی شخص ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذه الآية وإن كانت نازلة في أهل الكتاب وما كتموا من شأن الرسول - صلى الله عليه وسلم -، وصفاته فإن حكمها عامٌّ لكل من اتصف بكتمان ما أنزل الله {من البينات}؛ الدالات على الحق المظهرات له {والهدى}؛ وهو العلم الذي تحصل به الهداية إلى الصراط المستقيم، ويتبين به طريق أهل النعيم من طريق أهل الجحيم، فإن الله أخذ الميثاق على أهل العلم بأن يبينوا للناس ما منَّ الله به عليهم من علم الكتاب ولا يكتموه، فمن نبذ ذلك وجمع بين المفسدتين: كتم ما أنزل الله والغش لعباد الله فأولئك {يلعنهم الله}؛ أي: يبعدهم ويطردهم عن قربه ورحمته {ويلعنهم اللاعنون}؛ وهم جميع الخليقة، فتقع عليهم اللعنة من جميع الخليقة لسعيهم في غش الخلق وفساد أديانهم وإبعادهم من رحمة الله، فجوزوا من جنس عملهم، كما أن معلم الناس الخير يصلي الله عليه وملائكته حتى الحوت في جوف الماء لسعيه في مصلحة الخلق وإصلاح أديانهم، وقربهم من رحمة الله، فجوزي من جنس عمله.

فالكاتم لما أنزله الله مضاد لأمر الله مشاق لله، يبين الله الآيات للناس ويوضحها، وهذا يسعى في طمسها وإخفائها ، فهذا عليه هذا الوعيد الشديد.