تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {”الْكِتٰبِ“} سے مراد یہاں تورات ہے اور {” لِلنَّاسِ “} سے مراد خاص لوگ یعنی یہود کے علماء ہیں، یعنی علمائے یہود کے لیے تورات و انجیل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی واضح خوش خبری اور صفات بیان ہونے کے بعد ان میں سے جو لوگ اسے چھپاتے اور اس کا انکار کرتے ہیں ان پر لعنت ہے۔ اگرچہ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی مگر آیت کے الفاظ عام ہیں، اس میں وہ مسلم علماء بھی شامل ہیں جو قرآن و حدیث کی بات جانتے ہوئے اسے چھپا جاتے ہیں اور اپنے فرقے کی بات کو دین ظاہر کرکے بیان کر دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [مَن سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ عَلِمَہٗ ثُمَّ کَتَمَہُ اُلْجِمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِلِجَامٍ مِّنْ نَّارٍ] ”جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی گئی، جسے وہ جانتا ہے، پھر اس نے اسے چھپایا تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔“ [ترمذی، العلم، باب ما جاء فی کتمان العلم: ۲۶۴۹۔ أحمد: 263/2، ح: ۷۵۸۸۔أبو داوٗد: ۳۶۵۸، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ و صححہ الألبانی]
➌ اگر کسی مسئلہ سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہو اور عوام میں فتنہ و فساد کا خوف ہو تو اسے عوام کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہاں مقصود حق کا چھپانا نہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو {” لاَ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ “} پر جنت کی بشارت عام لوگوں کو بیان کرنے سے منع کر دیا تھا۔ [مسلم، الإیمان، باب الدلیل علی أن من …: ۳۱] اور علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لوگوں سے وہ بات بیان کرو جسے وہ سمجھ سکیں، کیا تم پسند کرتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کو جھوٹا کہا جائے؟“ [بخاری، العلم، باب من خص بالعلم قومًا …، قبل ح: ۱۲۷] اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم کسی قوم کو ایسی بات بیان کرو گے جس تک ان کی عقلیں نہ پہنچتی ہوں تو ضرور ان میں سے کسی کے لیے وہ فتنہ بنے گی۔“ [مسلم، المقدمۃ، باب النہی عن الحدیث بکل ما سمع: ۱۴؍۵]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قبر میں کافر کی پیشانی پر اس زور سے ہتھوڑا مارا جاتا ہے کہ جاندار اس کا دھماکہ سنتے ہیں سوائے جن و انس کے۔ پھر وہ سب اس پر لعنت بھیجتے ہیں یہی معنی ہیں کہ ان پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے یعنی تمام جانداروں کی۔
پھر ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا گیا جو اپنے اس فعل سے باز آ جائیں اور اپنے اعمال کی پوری اصلاح کر لیں اور جو چھپایا تھا اسے ظاہر کریں ان لوگوں کی توبہ وہ اللہ تواب الرحیم قبول فرما لیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص کفر و بدعت کی طرف لوگوں کو بلانے والا ہو وہ بھی جب سچے دل سے رجوع کر لے تو اس کی توبہ بھی قبول ہوتی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه الآية وإن كانت نازلة في أهل الكتاب وما كتموا من شأن الرسول - صلى الله عليه وسلم -، وصفاته فإن حكمها عامٌّ لكل من اتصف بكتمان ما أنزل الله {من البينات}؛ الدالات على الحق المظهرات له {والهدى}؛ وهو العلم الذي تحصل به الهداية إلى الصراط المستقيم، ويتبين به طريق أهل النعيم من طريق أهل الجحيم، فإن الله أخذ الميثاق على أهل العلم بأن يبينوا للناس ما منَّ الله به عليهم من علم الكتاب ولا يكتموه، فمن نبذ ذلك وجمع بين المفسدتين: كتم ما أنزل الله والغش لعباد الله فأولئك {يلعنهم الله}؛ أي: يبعدهم ويطردهم عن قربه ورحمته {ويلعنهم اللاعنون}؛ وهم جميع الخليقة، فتقع عليهم اللعنة من جميع الخليقة لسعيهم في غش الخلق وفساد أديانهم وإبعادهم من رحمة الله، فجوزوا من جنس عملهم، كما أن معلم الناس الخير يصلي الله عليه وملائكته حتى الحوت في جوف الماء لسعيه في مصلحة الخلق وإصلاح أديانهم، وقربهم من رحمة الله، فجوزي من جنس عمله.
فالكاتم لما أنزله الله مضاد لأمر الله مشاق لله، يبين الله الآيات للناس ويوضحها، وهذا يسعى في طمسها وإخفائها ، فهذا عليه هذا الوعيد الشديد.