ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 158

اِنَّ الصَّفَا وَ الۡمَرۡوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنۡ حَجَّ الۡبَیۡتَ اَوِ اعۡتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِ اَنۡ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا ؕ وَ مَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا ۙ فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۵۸﴾
بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، تو جو کوئی اس گھر کا حج کرے، یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں کا خوب طواف کرے اور جو کوئی خوشی سے کوئی نیکی کرے تو بے شک اللہ قدر دان ہے، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
بےشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تو جو شخص خانہٴ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے۔ (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے
En
صفااور مروه اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس لئے بیت اللہ کا حج وعمره کرنے والے پر ان کا طواف کرلینے میں بھی کوئی گناه نہیں اپنی خوشی سے بھلائی کرنے والوں کا اللہ قدردان ہے اور انہیں خوب جاننے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 158) ➊ { يَطَّوَّفَ } یہ باب تفعل سے ہے، { طَافَ يَطُوْفُ } کا معنی طواف کرنا، چکر لگانا ہے، جب باب تفعل میں حروف زیادہ ہوئے تو اس کا معنی خوب طواف کرے ہو گیا۔ { شَعَآىِٕرِ } یہ{ شَعِيْرَةٌ } کی جمع ہے جس کا معنی نشانی ہے۔ بعض لوگوں نے صفا اور مروہ کو جاہلیت کے بتوں کی نشانی سمجھ کر ان کے طواف کو گناہ سمجھا، تو اس پر فرمایا کہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔
➋ صفا اور مروہ کعبہ کے قریب دو چھوٹی پہاڑیوں کے نام ہیں۔ ان کے درمیان سعی کرنا (دوڑنا) ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے حج اور عمرہ کے مناسک (یعنی احکام) میں شامل تھا، مگر زمانۂ جاہلیت میں مشرکین نے حج اور عمرہ کے مناسک میں کئی شرکیہ رسوم شامل کر لی تھیں، حتیٰ کہ انھوں نے صفا اور مروہ پر دو بت نصب کر رکھے تھے۔ ایک کا نام اساف اور دوسرے کا نائلہ تھا۔ ان مشرکین میں سے بعض وہ تھے جو جاہلیت میں ان کے درمیان سعی کرتے اور ان بتوں کا استلام بھی کرتے، یعنی انھیں بوسہ بھی دیتے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم صفا و مروہ (کی سعی) کو جاہلیت کا کام سمجھتے تھے، جب اسلام آیا تو ہم ان کی سعی سے رک گئے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ [بخاری، التفسیر، باب قولہ تعالٰی: «‏‏‏‏إن الصفا والمروۃ …» : ۴۴۹۶] اور ان مشرکین میں سے بعض وہ تھے جو جاہلیت ہی میں صفا و مروہ کی سعی کے بجائے منات نامی بت کا طواف کرتے تھے اور مکہ پہنچ کر صفا و مروہ کے طواف کو گناہ سمجھتے تھے، ان کے رد میں بھی یہ آیت نازل ہوئی۔ سعی کے ضروری ہونے پر تو مسلمان متفق تھے، تاہم آیت کے ظاہری الفاظ سے بعض لوگوں کے دل میں یہ سوال پیدا ہوا کہ سعی نہ بھی کی جائے تو کوئی حرج نہیں، چنانچہ عروہ بن زبیر رحمة اللہ علیہ نے اپنی خالہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے سامنے اس شبہ کا اظہار کیا، تو عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ اگر آیت کا مفہوم یہی ہوتا توقرآن میں یوں ہوتا: {اَنْ لاَّ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} یعنی طواف نہ کرے تو کوئی گناہ نہیں۔ پھر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہانے مزید وضاحت کے لیے فرمایا کہ عرب کے بعض قبائل (ازد، غسان) { مناة الطاغية } بت کی پوجا کرتے تھے۔ یہ بت انھوں نے مُشلَّل پہاڑی پر نصب کر رکھا تھا۔ یہ لوگ حج کے لیے جاتے تو اس بت کا نام لے کر لبیک کہتے اور اس کا طواف کرتے۔ مکہ میں پہنچ کر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کو گناہ سمجھتے، مسلمان ہونے کے بعد اس بارے میں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاری، الحج، باب وجوب الصفا والمروۃ …: ۱۶۴۳۔ مسلم: ۱۲۷۷] یعنی ان لوگوں نے صفا اور مروہ کے درمیان طواف کو گناہ خیال کیا تھا، اس بنا پر قرآن نے «فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا» کے الفاظ استعمال کیے ہیں، ورنہ جہاں تک خود سعی کا تعلق ہے تو اس کے متعلق عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ یہ سعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مقرر فرما دی ہے، اب کسی کو اس کے ترک کرنے کا اختیار نہیں، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [اِسْعَوْا اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ عَلَیْکُمُ السَّعْیَ] [أحمد: 421/6، ۴۲۲، ح: ۲۷۴۳۵] سعی کرو، یقینًا اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی فرض کر دی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا: [لِتَاْخُذُوْا مَنَاسِکَکُمْ] [مسلم، الحج، باب استحباب رمی…: ۱۲۹۷] مجھ سے حج کے مناسک (یعنی احکام) سیکھ لو۔ ان میں سعی بھی داخل ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

158۔ 1 شَعْآئِرُ جس کے معنیٰ علامتیں ہیں یہاں حج کے وہ مناسک (مثلا سعی اور قربانی کو اشعار کرنا وغیرہ) مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں۔ 158۔ 2 صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا حج کا ایک رکن ہے۔ لیکن قرآن کے الفاظ (فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ) 2:158 سے بعض صحابہ کو یہ شبہ ہوا کہ شاید ضروری نہیں ہے۔ حضرت عائشہ ؓ کے علم میں جب یہ بات آئی تو انہوں نے فرمایا (فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا) 2:158۔ جب لوگ مسلمان ہوئے تو ان کے ذہین میں آیا کہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی تو شاید گناہ ہو، کیونکہ اسلام سے قبل دو بتوں کی وجہ سے سعی کرتے رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس وہم کو اور خلش کو دور فرما دیا۔ اب یہ سعی ضروری ہے جس کا آغاز صفا سے اور خاتمہ مروہ پر ہوتا ہے۔ (ایسرالتفاسیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

158۔ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ لہذا جو شخص کعبہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے [197] اور جو شخص برضا و رغبت نیکی کا کوئی کام کرے تو بیشک اللہ بڑا قدر دان ہے اور ہر بات کو جاننے والا ہے
[197] صفا اور مروہ خانہ کعبہ کے نزدیک دو پہاڑیاں ہیں۔ جن کے درمیان سات بار دوڑنا مناسک حج میں شامل تھا۔ جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو سکھلائے تھے۔ زمانہ مابعد میں جب مشرکانہ جاہلیت پھیل گئی تو مشرکوں نے صفا پر اساف اور مروہ پر نائلہ کے بت رکھ دیئے تھے اور ان کے گرد طواف ہونے لگا۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کے دلوں میں یہ سوال کھٹکنے لگا کہ آیا صفا اور مروہ کے درمیان سعی حج کے اصلی مناسک میں سے ہے یا یہ محض مشرکانہ دور کی ایجاد ہے؟ چنانچہ اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی اس غلط فہمی کو دور کر کے صحیح بات کی طرف رہنمائی فرما دی جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ صفا اور مروہ کے طواف میں کیا قباحت سمجھی جاتی تھی؟ عاصم بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالکؓ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ابتدائے اسلام میں ہم اسے جاہلیت کی رسم سمجھتے تھے۔ لہٰذا اسے چھوڑ دیا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاري، كتاب التفسير، باب قوله تعالىٰ ان الصفا و المروة]
نیز اہل مدینہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کو اس لیے برا سمجھتے تھے کہ وہ منات کے معتقد تھے اور اساف اور نائلہ کو نہیں مانتے تھے۔ چنانچہ ہشام بن عروہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا جبکہ میں ابھی کمسن تھا کہ اللہ تعالیٰ کے قول آیت ان الصفا و المروۃ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص صفا اور مروہ کا طواف نہ کرے تب بھی کوئی قباحت نہیں۔ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں۔ اگر یہ مطلب ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتے۔ ”اگر ان کا طواف نہ کرے تو کوئی گناہ نہیں۔“ یہ آیت انصار کے حق میں اتری ہے۔ وہ حالت احرام میں منات کا نام پکارتے تھے اور یہ بت قدید کے مقام پر نصب تھا۔ انصار (اسی وجہ سے) صفاء مروہ کا طواف برا سمجھتے تھے۔ جب وہ اسلام لے آئے تو اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاري، كتاب التفسير زير آيت مذكور]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

صفا اور مروہ کا طواف ٭٭
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عروہ رحمہ اللہ دریافت کرتے ہیں کہ اس آیت سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طواف نہ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بھتیجے تم صحیح نہیں سمجھے اگر یہ بیان مد نظر ہوتا تو «ان لا یطوف بھما» ہوتا۔ سنو آیت شریف کا شان نزول یہ ہے کہ مشلل [ایک جگہ کا نام ہے]‏‏‏‏ کے پاس مناۃ بت تھا اسلام سے پہلے انصار اسے پوجتے تھے اور جو اس کے نام لبیک پکار لیتا وہ صفا مروہ کے طواف کرنے میں حرج سمجھتا تھا، اب بعد از اسلام ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صفا مروہ کے طواف کے حرج کے بارے میں سوال کیا تو یہ آیت اتری کہ اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اسی کے بعد حضور علیہ السلام نے صفا مروہ کا طواف کیا اس لیے مسنون ہو گیا اور کسی کو اس کے ترک کرنے کا جواز نہ رہا [صحیح بخاری:1643]‏‏‏‏ ابوبکر بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ نے جب یہ روایت سنی تو وہ کہنے لگے کہ بیشک یہ علمی بات ہے میں نے تو اس سے پہلے سنی ہی نہ تھی بعض اہل علم فرمایا کرتے تھے کہ انصار نے کہا تھا کہ ہمیں بیت اللہ کے طواف کا حکم ہے صفا مروہ کے طواف کا نہیں اس پر یہ آیت اتری ممکن ہے کہ شان نزول دونوں ہی ہوں، [صحیح بخاری:1643]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان بہت سے بت تھے اور شیاطین رات بھر اس کے درمیان گھومتے رہتے تھے اسلام کے بعد لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہاں کے طواف کی بابت مسئلہ دریافت کیا جس پر یہ آیت اتری، «اساف» بت صفا پر تھا اور «نائلہ» مروہ پر، مشرک لوگ انہیں چھوتے اور چومتے تھے اسلام کے بعد لوگ اس سے الگ ہو گئے لیکن یہ آیت اتری جس سے یہاں کا طواف ثابت ہوا، سیرت محمد بن اسحاق رحمہ اللہ میں ہے کہ «اساف» اور «نائلہ» دو مرد و عورت تھے ان بدکاروں نے کعبہ میں زنا کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں پتھر بنا دیا، قریش نے انہیں کعبہ کے باہر رکھ دیا تاکہ لوگوں کو عبرت ہو لیکن کچھ زمانہ کے بعد ان کی عبادت شروع ہو گئی اور صفا مروہ پر لا کر نصب کر دئے گئے اور ان کا طواف شروع ہو گیا،
صحیح مسلم کی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف کا طواف کر چکے تو رکن کو چھو کر باب الصفا سے نکلے اور آیت تلاوت فرما رہے تھے پھر فرمایا میں بھی شروع کروں گا اس سے جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا، ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم شروع کرو اس سے جس سے اللہ نے شروع کیا یعنی صفا سے چل کر مروہ جاؤ۔ [صحیح مسلم:1218]‏‏‏‏ سیدہ حبیبہ بنت تجزاۃ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا مروہ کا طواف کرتے تھے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم قدرے دوڑ لگا رہے تھے اور اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تہمبند آپ کے ٹخنوں کے درمیان ادھر اھر ہو رہا تھا اور زبان سے فرماتے جاتے تھے لوگوں دوڑ کر چلو اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی لکھ دی ہے [مسند احمد:421/6:صحیح]‏‏‏‏ اسی کی ہم معنی ایک روایت اور بھی ہے۔
یہ حدیث دلیل ہے ان لوگوں کی جو صفا مروہ کی سعی کو حج کا رکن جانتے ہیں جیسے حضرت امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے موافقین کا مذہب ہے، حضرت امام احمد رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت اسی طرح کی ہے حضرت امام مالک رحمہ اللہ کا مشہور مذہب بھی یہی ہے، بعض اسے واجب تو کہتے ہیں لیکن حج کا رکن نہیں کہتے اگر عمداً یا سہواً یا کوئی شخص اسے چھوڑ دے تو ایک جانور ذبح کرنا پڑے گا۔ حضرت امام احمد سے ایک روایت اسی طرح مروی ہے اور ایک اور جماعت بھی یہی کہتی ہے اور ایک قول میں یہ مستحب ہے۔
حضرت امام ابوحنیفہ، ثوری، شعبی، ابن سیرین رحمہ اللہ علیہم یہی کہتے ہیں۔ سیدنا انس ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے یہی مروی ہے حضرت امام مالک رحمہ اللہ سے عتیبہ کی بھی روایت ہے، ان کی دلیل آیت «فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» [البقرہ: 184]‏‏‏‏ ہے، لیکن پہلا قول ہی زیادہ راجح ہے اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا مروہ کا طواف کیا اور فرمایا احکام حج مجھ سے لو، [صحیح مسلم:1297]‏‏‏‏ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس حج میں جو کچھ کیا وہ واجب ہو گیا اس کا کرنا ضروری ہے، اگر کوئی کام کسی خاص دلیل سے وجواب سے ہٹ جائے تو اور بات ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
علاوہ ازیں حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پرسعی لکھ دی یعنی فرض کر دی۔ [مسند احمد:421/6:صحیح بالشواھد]‏‏‏‏ غرض یہاں بیان ہو رہا ہے کہ صفا مروہ کا طواف بھی اللہ تعالیٰ کے ان شرعی احکام میں سے ہے جنہیں ابراہیم علیہ السلام کو بجا آوری حج کے لیے سکھائے تھے یہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس کی اصل ہاجرہ کا یہاں سات پھیرے کرنا ہے جبکہ ابراہیم علیہ السلام نے انہیں ان کے چھوٹے بچے سمیت یہاں چھوڑ کر چلے گئے تھے اور ان کے پاس کھانا پینا ختم ہو چکا تھا اور بچے کی جان پر آ بنی تھی تب ام اسمٰعیل علیہ السلام نہایت بے قراری، بے بسی، ڈر، خوف اور اضطراب کے ساتھ ان پہاڑوں کے درمیان اپنا دامن پھیلائے اللہ سے بھیک مانگتی پھر رہی تھیں۔ یہاں تک کہ آپ کا غم و ہم، رنج و کرب، تکلیف اور دکھ دور ہوا۔
یہاں سے پھیرے کرنے والے حاجی کو بھی چاہیئے کہ نہایت ذلت و مسکنت خضوع و خشوع سے یہاں پھیرے کرے اور اپنی فقیری حاجت اور ذلت اللہ کے سامنے پیش کرے اور اپنی فقیری حاجت اور ذلت اللہ کے سامنے پیش کرے اور اپنے دل کی صلاحیت اور اپنے مال کی ہدایت اور اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرے اور نقائص اور عیبوں سے پاکیزگی اور نافرمانیوں سے نفرت چاہے اور ثابت قدمی نیکی فلاح اور بہبودی کی دعا مانگے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کرے کہ گناہوں اور برائیوں کی تنگی کی راہ سے ہٹا کر کمال و غفران اور نیکی کی توفیق بخشے جیسے کہ ہاجرہ کے حال کو اس مالک نے ادھر سے ادھر کر دیا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص اپنی خوشی نیکی میں زیادتی کرے یعنی بجائے سات پھیروں کے آٹھ نو کرے نفلی حج و عمرے میں بھی صفا و مروہ کا طواف کرے اور بعض نے اسے عام رکھا ہے یعنی ہر نیکی میں زیادتی کرے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا اللہ تعالیٰ قدر دان اور علم والا ہے، یعنی تھوڑے سے کام پر بڑا ثواب دیتا ہے اور جزا کی صحیح مقدار کو جانتا ہے نہ تو وہ کسی کے ثواب کو کم کرے نہ کسی پر ذرہ برابر ظلم کرے، ہاں نیکیوں کا ثواب بڑھا کر عطا فرماتا ہے اور اپنے پاس عظیم عنایت فرماتا ہے۔ [4-النساء:40]‏‏‏‏ «فالحمد والشکر للہ»