تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دنیا کی حالت کا یہ انقلاب بجائے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کا ایک شاہد و عدل ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت «لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِھٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» [3۔ آل عمران: 164] یعنی ایسے اولوالعزم پیغمبر کی بعثت مومنوں پر اللہ کا ایک زبردست احسان ہے اس نعمت کو قدر نہ کرنے والوں کو قرآن کہتا ہے آیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ» [14۔ ابراہیم: 28] کیا تو انہیں نہیں دیکھتا جنہوں نے اللہ کی اس نعمت کے بدلے کفر کیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈالا یہاں اللہ کی نعمت سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اسی لیے اس آیت میں بھی اپنی نعمت کا ذکر فرما کر لوگوں کو اپنی یاد اور اپنے شکر کا حکم دیا کہ جس طرح میں نے احسان تم پر کیا تم بھی میرے ذکر اور میرے شکر سے غفلت نہ کرو۔
موسیٰ علیہ السلام اللہ رب العزت سے عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ تیرا شکر کس طرح کروں ارشاد ہوتا ہے مجھے یاد رکھو بھولو نہیں یاد شکر ہے اور بھول کفر ہے حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ اللہ کی یاد کرنے والے کو اللہ بھی یاد کرتا ہے اس کا شکر کرنے والے کو وہ زیادہ دیتا ہے اور ناشکرے کو عذاب کرتا ہے بزرگان سلف سے مروی ہے کہ اللہ سے پورا ڈرنا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے غفلت نہ برتی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ کیا زانی، شرابی، چور اور قاتل نفس کو بھی یاد کرتا ہے؟ فرمایا ہاں برائی سے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یاد کرو یعنی میرے ضروری احکام بجا لاؤ میں تمہیں یاد کروں گا یعنی اپنی نعمتیں عطا فرماؤں گا، حضرت سعید بن جیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تمہیں بخش دوں گا اور اپنی رحمتیں تم پر نازل کروں گا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: إن إنعامنا عليكم باستقبال الكعبة وإتمامها بالشرائع والنعم المتممة ليس ذلك ببدع من إحساننا ولا بأوله بل أنعمنا عليكم بأصول النعم ومتمماتها فأبلغها إرسالنا إليكم هذا الرسول الكريم منكم تعرفون نسبه وصدقه وأمانته وكماله ونصحه {يتلو عليكم آياتنا}؛ وهذا يعم الآيات القرآنية وغيرها، فهو يتلو عليكم الآيات المبينة للحق من الباطل والهدى من الضلال التي دلتكم أولاً على توحيد الله وكماله ثم على صدق رسوله ووجوب الإيمان به ثم على جميع ما أخبر به من المعاد والغيوب، حتى حصل لكم الهداية التامة والعلم اليقيني {ويزكيكم}؛ أي: يطهر أخلاقكم ونفوسكم بتربيتها على الأخلاق الجميلة، وتنزيهها عن الأخلاق الرذيلة، وذلك كتزكيتهم من الشرك إلى التوحيد ومن الرياء إلى الإخلاص، ومن الكذب إلى الصدق، ومن الخيانة إلى الأمانة، ومن الكبر إلى التواضع، ومن سوء الخلق، إلى حسن الخلق ومن التباغض والتهاجر والتقاطع إلى التحاب والتواصل والتوادد وغير ذلك من أنواع التزكية {ويعلمكم الكتاب}؛ أي: القرآن ألفاظه ومعانيه {والحكمة}؛ قيل هي السنة، وقيل: الحكمة معرفة أسرار الشريعة والفقه فيها وتنزيل الأمور منازلها، فيكون على هذا تعليم السنة داخلاً في تعليم الكتاب؛ لأن السنة تبين القرآن وتفسره وتعبر عنه {ويعلمكم ما لم تكونوا تعلمون}؛ لأنهم كانوا قبل بعثته في ضلال مبين لا علم ولا عمل، فكل علم أو عمل نالته هذه الأمة فعلى يده - صلى الله عليه وسلم -، وبسببه كان.
فهذه النعم هي أصول النعم على الإطلاق، وهي أكبر نعم ينعم بها على عباده؛ فوظيفتهم شكر الله عليها والقيام بها، فلهذا قال تعالى: