اور تو جہاں سے نکلے سو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لے اور تم جہاں کہیں ہو سو اپنے چہرے اس کی طرف پھیر لو، تاکہ لوگوں کے پاس تمھارے خلاف کوئی حجت نہ رہے، سوائے ان کے جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا ہے، سو ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور تاکہ تم ہدایت پائو۔
En
اور تم جہاں سے نکلو، مسجدِ محترم کی طرف منہ (کرکے نماز پڑھا) کرو۔ اور مسلمانو، تم جہاں ہوا کرو، اسی (مسجد) کی طرف رخ کیا کرو۔ (یہ تاکید) اس لیے (کی گئی ہے) کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں۔ مگر ان میں سے جو ظالم ہیں، (وہ الزام دیں تو دیں) سو ان سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا۔ اور یہ بھی مقصود ہے کہ تم کو اپنی تمام نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہِ راست پر چلو
اور جس جگہ سے آپ نکلیں اپنا منھ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور جہاں کہیں تم ہو اپنے چہرے اسی طرف کیا کرو تاکہ لوگوں کی کوئی حجت تم پر باقی نہ ره جائے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ان میں سے ﻇلم کیا ہے تم ان سے نہ ڈرو مجھ ہی سے ڈرو اور تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور اس لئے بھی کہ تم راه راست پاؤ
En
(آیت 150) ➊ اس آیت میں پچھلا حکم دہرایا گیا ہے، پہلے جملے { ”فَوَلِّوَجْهَكَ“ } میں مخاطب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہیں اور دوسرے جملے {”فَوَلُّوْاوُجُوْهَكُمْشَطْرَهٗ“} میں تمام مسلمان مخاطب ہیں، تاکہ یہ حکم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ خاص نہ سمجھا جائے۔ دہرانے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہاں بیت اللہ کو قبلہ مقرر کرنے کی مزید حکمتیں بیان کرنا مقصود ہے۔ جن میں سے پہلی حکمت یہ ہے کہ لوگوں میں سے کسی کے پاس تمھارے خلاف کوئی دلیل باقی نہ رہے۔ اہل کتاب یہ نہ کہہ سکیں کہ پہلی کتابوں میں تو آخری نبی کا قبلہ مسجد حرام ہے، انھوں نے بیت المقدس کو قبلہ کیوں بنا رکھا ہے؟ اور کفار عرب یہ نہ کہہ سکیں کہ ملتِ ابراہیم کا قبلہ تو بیت اللہ ہے، یہ اسے کیوں اختیار نہیں کر رہے؟ دلیل تو ان میں سے کسی کے پاس نہیں رہے گی، البتہ ان میں سے بے انصاف لوگ خاموش نہیں ہوں گے، سو ان سے مت ڈرو، بس مجھی سے ڈرتے رہو۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ جس طرح اس آخری امت کے احکام قیامت تک مکمل اور غیر منسوخ کرکے تم پر اپنی نعمت تمام کی ہے قبلہ کے بارے میں بھی یہ نعمت تمام ہو اور تیسری حکمت دوسرے احکام کی طرح قبلہ میں بھی تمھیں راہِ حق کی ہدایت عطا کرنا ہے۔ ➋ شروع آیات سے یہاں تک نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم تین مرتبہ، مسلمانوں کو یہ حکم دو مرتبہ، اس کے حق ہونے کا ذکر تین مرتبہ اور ہر جگہ اس کی طرف رخ کرنے کا حکم تین مرتبہ آیا ہے، اس سے اس حکم کی تاکید اور اس کی شان واضح ہو رہی ہے۔ درمیان میں دوسرے جملے مثلاً اہل کتاب کا اس کے حق ہونے کو جاننا اور اللہ کا تمھارے عمل سے بے خبر نہ ہونا وغیرہ تاکید مزید کا کام دے رہے ہیں۔ (ابن عاشور)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
150۔ 1 قبلہ کی طرف منہ پھیرنے کا حکم تین مرتبہ دوہرایا گیا یا تو اس کی تاکید اور اہمیت واضح کرنے کے لئے یا چونکہ نسخ کا حکم پہلا تجربہ تھا اس لئے ذہنی خلجان دور کرنے کے لئے ضروری تھا کہ اسے بار بار دھرا کر دلوں میں راسخ کردیا جائے۔ ایک علت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی اور خواہش تھی وہاں اسے بیان کیا گیا ہے۔ دوسری علت، ہر اہل ملت اور صاحب دعوت کے لئے ایک مستقل مرکز کا وجود ہے وہاں اسے دہرایا۔ تیسری، علت مخالفین کے اعتراضات کا ازالہ ہے وہاں اسے بیان کیا گیا ہے (فتح القدیر) 150۔ 2 یعنی اہل کتاب یہ نہ کہہ سکیں کہ ہماری کتابوں میں تو ان کا قبلہ خانہ کعبہ ہے اور نماز یہ بیت المقدس کی طرف پڑھتے ہیں۔ 150۔ 3 یہاں ظَلَمُوْا سے مراد عناد رکھنے والے ہیں یعنی اہل کتب میں سے جو عناد رکھنے والے ہیں، وہ جاننے کے باوجود کہ پیغمبر آخری الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ خانہ کعبہ ہی ہوگا، وہ بطور عناد کہیں گے کہ بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو اپنا قبلہ بنا کر یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بلآخر اپنے آبائی دین ہی کی طرف مائل ہوگیا ہے اور بعض کے نزدیک اس سے مراد مشرکین مکہ ہیں۔ 150۔ 4 ظالموں سے نہ ڈرو۔ یعنی مشرکوں کی باتوں کی پروا مت کرو۔ انہوں نے کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا قبلہ تو اختیار کرلیا، عنقریب ہمارا دین بھی اپنا لیں گے مجھ سے ڈرتے رہو، جو حکم میں دیتا ہوں اس کا بلا خوف عمل کرتے رہو۔ تحویل قبلہ کو اتمام نعمت اور ہدایت یافتگی سے تعبیر فرمایا کہ حکم الہی پر عمل کرنا یقینا انسان کو انعام و اکرام کا مستحق بھی بناتا ہے اور ہدایت کی کی توفیق بھی اسے نصیب ہوتی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
150۔ اور آپ جہاں سے بھی نکلیں تو (نماز کے وقت) اپنا رخ کعبہ کی طرف پھیر لیا کریں۔ اور جہاں کہیں بھی تم (اے مسلمانو)! ہوا کرو تو اپنا رخ اسی طرف [186] پھیر لیا کرو۔ تاکہ لوگوں کے لیے تمہارے خلاف کوئی حجت نہ رہے۔ مگر جو ان میں سے [187] بے انصاف ہیں (وہ اعتراض کرتے ہی رہیں گے)۔ سو تم ان سے نہ ڈرو بلکہ صرف مجھ سے ڈرو۔ اور اس لیے بھی (مجھ سے ڈرو) تاکہ میں تم پر اپنی نعمت [188] پوری کر دوں اور اس لیے بھی کہ تم ہدایت پا سکو
[187] بے انصاف یا ہٹ دھرم لوگ تحویل قبلہ کے بعد بھی اعتراض چھوڑیں گے نہیں۔ مثلاً یہود نے یہ اعتراض کر دیا کہ ہمارے قبلہ کی حقانیت ظاہر ہونے اور اسے تسلیم کر لینے کے بعد اب محض ضد اور حسد کی بنا پر اسے چھوڑ دیا اور مشرک یہ کہنے لگے کہ ہمارے قبلہ کا حق ہونا انہیں اب معلوم ہوا تو اسے اختیار کر لیا۔ اسی طرح ہماری اور بھی کئی باتیں منظور کر لیں گے۔ لہٰذا اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! تم ان لوگوں کی باتوں کی طرف توجہ نہ دو نہ ان سے ڈرنے کی ضرورت ہے، بلکہ صرف مجھ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔
[188] تحویل قبلہ ایک نعمت تھی:۔
نعمت سے مراد وہی امامت اور پیشوائی کی نعمت ہے جو بنی اسرائیل سے سلب کر کے اس امت کو دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ تحویل قبلہ کا یہ حکم در اصل اس منصب پر تمہاری سرفرازی کی علامت ہے۔ جب تک میری اطاعت کرتے رہو گے، یہ منصب تمہارے پاس رہے گا۔ اور نافرمانی کی صورت میں یہ چھن بھی سکتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تین بار نزول حکم ٭٭
یہ تیسری مرتبہ حکم ہو رہا ہے کہ روئے زمین کے مسلمانوں کو نماز کے وقت مسجد الحرام کی طرف منہ کرنا چاہیئے۔ تین مرتبہ تاکید اس لیے کی گئی کہ یہ تبدیلی کا حکم پہلی بار واقع ہوا تھا۔ فخرالدین رازی نے اس کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ پہلا حکم تو ان کے لیے ہے جو کعبہ کو دیکھ رہے ہیں۔ دوسرا حکم ان کے لیے ہے جو مکہ میں ہیں لیکن کعبہ ان کے سامنے نہیں۔ تیسری بار انہیں حکم دیا جو مکہ کے باہر روئے زمین پر ہیں۔ قرطبی رحمہ اللہ نے ایک توجیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ پہلا حکم مکہ والوں کو ہے دوسرا اور شہر والوں کو تیسرا مسافروں کو بعض کہتے ہیں تینوں حکموں کا تعلق اگلی پچھلی عبارت سے ہے۔ پہلے حکم میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طلب کا اور پھر اس کی قبولیت کا ذکر ہے اور دوسرے حکم میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چاہت بھی ہماری چاہت کے مطابق تھی اور حق امر یہی تھا اور تیسرے حکم میں یہودیوں کی حجت کا جواب ہے کہ ان کی کتابوں میں پہلے سے موجود تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ کعبہ ہو گا تو اس حکم سے وہ پیشینگوئی بھی پوری ہوئی۔ ساتھ ہی مشرکین کی حجت بھی ختم ہوئی کہ وہ کعبہ کو متبرک اور مشرف مانتے تھے اور اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ بھی اسی کی طرف ہو گئی رازی وغیرہ نے اس حکم کو باربار لانے کی حکمتوں کو بخوبی تفصیل سے بیان کیا ہے «وَاللهُاَعْلَمُ» ۔
پھر فرمایا تاکہ اہل کتاب کوئی حجت تم پر باقی نہ رہے وہ جانتے تھے کہ امت کی طرح پہچان کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا ہے جب وہ یہ صفت نہ پائیں گے تو انہیں شک کی گنجائش ہو سکتی ہے لیکن جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قبلہ کی طرف پھرتے ہوئے دیکھ لیا تو اب انہیں کسی طرح کا شک نہ رہنا چاہیئے اور یہ بات بھی ہے کہ جب وہ تمہیں اپنے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کے ہاتھ ایک بہانہ لگ جائے گا لیکن جب تم ابراہیمی قبلہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ گے تو وہ خالی ہاتھ رہ جائیں گے، حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہود کی یہ حجت تھی کہ آج یہ ہمارے قبلہ کی طرف ہیں یعنی ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں کل ہمارا مذہب بھی مان لیں گے لیکن جب اپنے اللہ کے حکم سے اصلی قبلہ اختیار کر لیا تو ان کی اس ہوس پر پانی پڑ گیا-
پھر فرمایا مگر جو ان میں سے ظالم اور ضدی مشرکین بطور اعتراض کہتے تھے کہ یہ شخص ملت ابراہیمی علیہ السلام پر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر ابراہیمی قبلہ کی طرف نماز نہیں پڑھتا انہیں جواب بھی مل گیا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے احکام کا متبع ہے پہلے ہم نے اپنی کمال حکمت سے انہیں بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا جسے وہ بجا لائے پھر ابراہیمی قبلہ کی طرف پھر جانے کو کہا جسے جان و دل سے بجا لائے پس آپ ہر حال میں ہمارے احکام کے ما تحت ہیں [صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم] پھر فرمایا ان ظالموں کے شبہ ڈالنے سے تم شک میں نہ پڑو ان باغیوں کی سرکشی سے تم خوف نہ کرو ان کے بے جان اعتراضوں کی مطلق پرواہ نہ کر وہاں میری ذات سے خوف کیا کرو صرف مجھ ہی سے ڈرتے رہا کرو قبلہ بدلنے میں جہاں یہ مصلحت تھی کہ لوگوں کی زبانیں بند ہو جائیں وہاں یہ بھی بات تھی کہ میں چاہتا تھا کہ اپنی نعمت تم پر پوری کر دوں اور قبلہ کی طرح تمہاری تمام شریعت کامل کر دوں اور تمہارے دین کو ہر طرح مکمل کر دوں اور اس میں یہ ایک راز بھی تھا کہ جس قبلہ سے اگلی امتیں بہک گئیں تم اس سے نہ ہٹو ہم نے اس قبلہ کو خصوصیت کے ساتھ تمہیں عطا فرما کر تمہارا شرف اور تمہاری فضیلت و بزرگی تمام امتوں پر ثابت کر دی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَحَیْثُمَاكُنْتُمْفَوَلُّوْاوُجُوْهَكُمْشَطْرَهٗ﴾”اور تم جہاں بھی ہو، تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لو۔“ فرمایا: ﴿وَاِنَّهٗلَلْ٘حَقُّمِنْرَّبِّكَ﴾”اور یہ یقیناً آپ کے رب کی طرف سے حق ہے“ اللہ تعالیٰ نے (اِنَّ) اور (لام) استعمال کر کے اس کو موکد کر دیا ہے تاکہ اس میں کسی کے لیے ادنیٰ سے شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے اور کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ یہ محض خواہش ہے اس میں اطاعت مطلوب نہیں۔ ﴿وَمَااللّٰهُبِغَافِلٍعَمَّؔاتَعْمَلُوْنَ﴾”اور اللہ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے“ بلکہ وہ تمھیں تمھارے تمام احوال میں دیکھ رہا ہے، اس لیے اس کا ادب کرو اور اس سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر پر عمل کرو اور اس کی نواہی سے اجتناب کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں بلکہ تمھارے اعمال کی کامل جزا دی جائے گی۔ اگر اچھے اعمال ہیں تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برے اعمال ہیں تو ان کی جزا بری ہو گی۔
﴿لِئَلَّایَكُ٘وْنَلِلنَّاسِعَلَیْكُمْحُجَّةٌ﴾”اس لیے کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں۔“ یعنی ہم نے تمھارے لیے کعبہ شریف کو اس لیے قبلہ قرار دیا ہے تاکہ اہل کتاب اور مشرکین عرب کے لیے تم پر کوئی حجت نہ رہے۔ کیونکہ اگر بیت المقدس کو قبلہ کے طور پر باقی رکھا ہوتا تو یہ استقبال کعبہ کے خلاف حجت ہوتی، کیونکہ اہل کتاب اپنی کتاب میں پڑھتے ہیں کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کا مستقل قبلہ، کعبہ یعنی بیت الحرام ہو گا اور مشرکین مکہ سمجھتے تھے کہ یہ عظیم گھر ان کے مفاخر میں شمار ہوتا ہے اور یہ ملت ابراہیم کامرکز ہے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ شریف کو قبلہ نہیں بنائیں گے تو مشرکین کے پاس آپ کے خلاف حجت ہو گی۔ وہ کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ملت ابراہیم پر ہونے کا کیسے دعویٰ کرتا ہے جبکہ اس نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہوتے ہوئے بھی بیت اللہ کو قبلہ نہیں بنایا۔ پس بیت اللہ کو قبلہ بنانے سے اہل کتاب اور مشرکین دونوں پر حجت قائم ہو گئی اور آپ پر وہ جو حجت قائم کر سکتے تھے، وہ منقطع ہو گئی۔
﴿اِلَّاالَّذِیْنَظَلَمُوْامِنْهُمْ﴾”مگر ان میں سے جو ظالم ہیں۔“ یعنی ان میں جو کوئی دلیل دیتا ہے وہ اس بارے میں ظلم کا ارتکاب کرتا ہے اس کے پاس کوئی سند اور کوئی دلیل نہیں سوائے ظلم اور خواہشات نفس کی پیروی کے، لہٰذا آپ کے خلاف حجت قائم کرنے کی کوئی راہ نہیں۔ اسی طرح اس شبہ کی پروا کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں جسے یہ لوگ حجت کے طور پر وارد کرتے ہیں۔ اس کی طرف دھیان ہی نہ دیا جائے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَاتَخْشَوْهُمْ﴾”تم ان سے مت ڈرو“ کیونکہ ان کی حجت باطل ہے اور باطل اپنے نام کی مانند بے کار اور فاسد ہے۔ باطل اور باطل پرست مدد اور تائید سے محروم ہیں۔ صاحب حق کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ حق کا رعب اور عزت ہے۔ حق جس کے ساتھ ہے وہ اس کی خشیت کا موجب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی خشیت کا حکم دیا ہے جو ہر بھلائی کی بنیاد ہے پس جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا وہ اس کی نافرمانی سے نہیں بچ سکتا اور نہ اس کی اطاعت کر سکتا ہے۔
مسلمانوں نے بیت اللہ کو قبلہ بنایا تو اس سے انھیں بہت بڑے فتنے کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کی اہل کتاب، منافقین اور مشرکین نے خوب خوب اشاعت کی اور اس بارے میں انھوں نے اعتراضات اور شبہات کی بھرمار کر دی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت بسط و شرح اور کامل طریقے سے اس مسئلہ کوبیان کیا ہے اور مختلف قسم کی تاکیدات سے اس کو موکد کیا جو ان آیات کریمہ میں بیان ہوئی ہیں، مثلاً:
(۱) استقبال کعبہ کا تین مرتبہ حکم دیا گیا ہے جبکہ صرف ایک ہی مرتبہ کافی تھا۔
(۲) اس میں خصوصی بات یہ ہے کہ حکم یا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے اور امت اس میں داخل ہے یا یہ حکم امت کے لیے عام ہے۔ اس آیت کریمہ میں خصوصی طور پر صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو استقبال کعبہ کا حکم دیا گیا ﴿فَوَلِّوَجْهَكَ﴾ اور امت کو اس آیت میں استقبال کعبہ کا حکم دیا گیا ﴿فَوَلُّوْاوُجُوْهَكُمْ﴾
(۳) اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ان تمام باطل دلائل کا رد کیا ہے جو کہ معاندین نے پیش کیے تھے اور ایک ایک شبہہ کا ابطال کیا۔ جیسا کہ اس کی توضیح گزشتہ سطور میں گزر چکی ہے۔
(۴) اللہ تعالیٰ نے اس کی بابت امیدوں کو ختم کر دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کے قبلے کی پیروی کریں گے۔
(۵) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ﴿وَاِنَّهٗلَلْ٘حَقُّمِنْرَّبِّكَ﴾ ایک عظیم سچے شخص کا خبر دینا ہی کافی ہوتا ہے مگر بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِنَّهٗلَلْ٘حَقُّمِنْرَّبِّكَ﴾”یہ یقیناً آپ کے رب کی طرف سے حق ہے۔“
(۶) اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا، اور وہ عالم الغیب ہے، کہ اہل کتاب کے ہاں استقبال کعبہ کے معاملہ کی صحت متحقق ہے مگر یہ لوگ علم رکھنے کے باوجود اس گواہی کو چھپاتے ہیں۔
جب بیت اللہ شریف کی طرف تحویل قبلہ ایک عظیم نعمت ہے اور اس امت پر اللہ تعالیٰ کا بے پایاں لطف و کرم ہے جو بڑھتا ہی رہتا ہے۔ علاوہ ازیں جب بھی اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے لیے کوئی کام مشروع کرتا ہے تو یہ ایک عظیم نعمت ہوتی ہے، اس لیے فرمایا: ﴿وَلِاُتِمَّؔنِعْمَتِیْعَلَیْكُمْ﴾ یہ تحویل کا حکم اس لیے دیا گیا ہے ”تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کر دوں۔“ اصل نعمت تو دین کی ہدایت ہے جو وہ اپنا رسول بھیج کر اور اپنی کتاب نازل کر کے عطا کرتا ہے اس کے بعد دیگر تمام نعمتیں اس نعمت کی تکمیل کرتی ہیں۔ یہ نعمتیں اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کا حصر و شمار ممکن نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے لے کر اس دنیائے فانی سے آپ کی رحلت تک اللہ تعالیٰ ان نعمتوں سے نوازتا رہا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو احوال اور نعمتیں عطا کیں اور اس نے آپ کی امت کو وہ کچھ دیا جس سے آپ پر اور آپ کی امت پر اتمام نعمت ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ آپ پر نازل فرمائی ﴿اَلْیَوْمَاَكْمَلْتُلَكُمْدِیْنَؔكُمْوَاَتْمَمْتُعَلَیْكُمْنِعْمَتِیْوَرَضِیْتُلَكُمُالْاِسْلَامَدِیْنًا﴾ (المائدہ: 5؍3) ”آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا۔“
پس اللہ تعالیٰ ہی اپنے اس فضل و کرم پر حمد و ثنا کا مستحق ہے۔ اس فضل و کرم پر اس کا شکر ادا کرنا تو کجا ہم تو اس کو شمار تک نہیں کر سکتے۔ ﴿وَلَعَلَّكُمْتَهْتَدُوْنَ﴾”اور تاکہ تم راہ راست پر چلو۔“ یعنی شاید کہ تم حق کو جانو اور پھر اس پر عمل کرو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے ہدایت کے اسباب بے حد آسان فرما دیے اور ہدایت کے راستوں پر چلنے کے بارے میں آگاہ فرما دیا اور ان کے لیے اس ہدایت کو پوری طرح واضح کر دیا۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل عناد کو حق کی مخالفت پر مقرر کر دیتا ہے، چنانچہ وہ حق کے بارے میں جھگڑتے ہیں، جس سے حق واضح، حق کی نشانیاں اور علامتیں ظاہر ہو جاتی ہیں اور باطل کا بطلان ثابت ہو جاتا ہے اور یہ چیز واضح ہو جاتی ہے کہ باطل کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر باطل حق کے مقابلے میں کھڑا نہ ہو تو بسا اوقات اکثر مخلوق پر باطل کا حال واضح نہ ہو۔ اشیاء اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ اگر رات نہ ہوتی تو دن کی فضیلت کا اعتراف نہ ہوتا۔ اگر قبیح اور بدصورت نہ ہو تو خوبصورت کی فضیلت معلوم نہیں ہو سکتی، اگر اندھیرا نہ ہو تو روشنی کے فوائد کو نہیں پہچانا جا سکتا، اگر باطل نہ ہو تو حق واضح طور پر ظاہر نہیں ہو سکتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ ہی ہر قسم کی تعریف کا مستحق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره}؛ وقال: {وإنه للحق من ربك}؛ أكده بأن، واللام لئلا يقع لأحد فيه أدنى شبهة، ولئلا يظن أنه على سبيل التشهي لا الامتثال، {وما الله بغافل عما تعملون}؛ بل هو مطلع عليكم في جميع أحوالكم فتأدبوا معه وراقبوه بامتثال أوامره واجتناب نواهيه، فإن أعمالكم غير مغفول عنها بل مجازون عليها أتم الجزاء إن خيراً فخير وإن شرًّا فشر، وقال هنا: {لئلا يكون للناس عليكم حجة}؛ أي: شرعنا لكم استقبال الكعبة المشرفة لينقطع عنكم احتجاج الناس من أهل الكتاب والمشركين، فإنه لو بقي مستقبلاً لبيت المقدس لتوجهت عليه الحجة، فإن أهل الكتاب يجدون في كتابهم أن قبلته المستقرة هي الكعبة البيت الحرام، والمشركين يرون أن من مفاخرهم هذا البيت العظيم، وأنه من ملة إبراهيم، وأنه إذا لم يستقبله محمد - صلى الله عليه وسلم -، توجهت نحوه حججهم، وقالوا كيف يدَّعي أنه على ملة إبراهيم وهو من ذريته وقد ترك استقبال قبلته، فباستقبال القبلة قامت الحجة على أهل الكتاب والمشركين وانقطعت حججهم عليه، إلا من ظلم منهم؛ أي: من احتج منهم بحجة هو ظالم فيها وليس لها مستند إلا اتباع الهوى والظلم؛ فهذا لا سبيل إلى إقناعه والاحتجاج عليه، وكذلك لا معنى لجعل الشبهة التي يوردونها على سبيل الاحتجاج محلا يؤبه لها ولا يلقى لها بال، فلهذا قال تعالى: {فلا تخشوهم}؛ لأن حجتهم باطلة، والباطل كاسمه مخذول، مخذول صاحبه، وهذا بخلاف صاحب الحقِّ فإن للحق صولة وعزًّا يوجب خشية من هو معه، وأمر تعالى بخشيته التي هي رأس كل خير، فمن لم يخشَ الله؛ لم ينكف عن معصيته، ولم يمتثل أمره.
وكان صرف المسلمين إلى الكعبة مما حصلت فيها فتنة كبيرة أشاعها أهل الكتاب والمنافقون والمشركون وأكثروا فيها من الكلام والشبه، فلهذا بسطها الله تعالى، وبينها أكمل بيان، وأكدها بأنواع من التأكيدات التي تضمنتها هذه الآيات.
منها: الأمر بها ثلاث مرات مع كفاية المرة الواحدة.
ومنها: أن المعهود أن الأمر إما أن يكون للرسول فتدخل فيه الأمة [تبعاً] أو للأمة عموماً، وفي هذه الآية أمر فيها الرسول بالخصوص في قوله: {فول وجهك}؛ والأمة عموماً في قوله: {فولوا وجوهكم}.
ومنها: أنه ردَّ فيه جميع الاحتجاجات الباطلة التي أوردها أهل العناد وأبطلها شبهة شبهة كما تقدم توضيحها.
ومنها: أنه قطع الأطماع من اتباع الرسول قبلة أهل الكتاب.
ومنها: قوله: {وإنه للحق من ربك}؛ فمجرد إخبار الصادق العظيم كافٍ شافٍ، ولكن مع هذا قال: {وإنه للحق من ربك}.
ومنها: أنه أخبر وهو العالم بالخفيات أن أهل الكتاب متقرر عندهم صحة هذا الأمر، ولكنهم يكتمون هذه الشهادة مع العلم.
ولما كان توليته لنا إلى استقبال القبلة نعمة عظيمة وكان لطفه بهذه الأمة ورحمته لم يزل يتزايد وكلما شرع لهم شريعة فهي نعمة عظيمة قال: {ولأتم نعمتي عليكم}؛ فأصل النعمة الهداية لدينه بإرسال رسوله وإنزال كتابه، ثم بعد ذلك النعم المتممات لهذا الأصل لا تعد كثرة ولا تحصر منذ بعث الله رسوله إلى أن قرب رحيله من الدنيا وقد أعطاه الله من الأحوال والنعم وأعطى أمته ما أتم به نعمته عليه وعليهم وأنزل الله عليه {اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام ديناً}؛ فلله الحمد على فضله الذي لا نبلغ له عدًّا فضلاً عن القيام بشكره، {ولعلكم تهتدون}؛ أي: تعلمون الحق وتعملون به، فالله تبارك وتعالى من رحمته بالعباد قد يسَّر لهم أسباب الهداية غاية التيسير ونبههم على سلوك طرقها وبينها لهم أتم تبيين حتى أن من جملة ذلك أنه يقيض للحق المعاندين له فيجادلون فيه فيتضح بذلك الحق وتظهر آياته وأعلامه، ويتضح بطلان الباطل وأنه لا حقيقة له، ولولا قيامه في مقابلة الحق لربما لم يتبين حاله لأكثر الخلق وبضدها تتبين الأشياء، فلولا الليل ما عرف فضل النهار، ولولا القبيح ما عرف فضل الحسن، ولولا الظلمة ما عرف منفعة النور، ولولا الباطل ما اتضح الحق اتضاحاً ظاهراً. فلله الحمد على ذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔