ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 143

وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا ؕ وَ مَا جَعَلۡنَا الۡقِبۡلَۃَ الَّتِیۡ کُنۡتَ عَلَیۡہَاۤ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ یَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ مِمَّنۡ یَّنۡقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیۡہِ ؕ وَ اِنۡ کَانَتۡ لَکَبِیۡرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیۡنَ ہَدَی اللّٰہُ ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیۡعَ اِیۡمَانَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴۳﴾
اور اسی طرح ہم نے تمھیں سب سے بہتر امت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو اور رسول تم پر شہادت دینے والا بنے اور ہم نے وہ قبلہ جس پر تو تھا، مقرر نہیں کیا تھا مگر اس لیے کہ ہم جان لیں کون اس رسول کی پیروی کرتا ہے، اس سے (جدا کر کے) جو اپنی دونوں ایڑیوں پر پھر جاتا ہے اور بلاشبہ یہ بات یقینا بہت بڑی تھی مگر ان لوگوں پر جنھیں اللہ نے ہدایت دی اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ تمھارا ایمان ضائع کر دے۔ بے شک اللہ لوگوں پر یقینا بے حد شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔ اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے، اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی، مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے
En
ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواه ہوجاؤ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تم پر گواه ہوجائیں، جس قبلہ پر تم پہلے سے تھے اسے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم جان لیں کہ رسول کا سچا تابعدار کون ہے اور کون ہے جو اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جاتا ہے گو یہ کام مشکل ہے، مگر جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے (ان پر کوئی مشکل نہیں) اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان ضائع نہ کرے گا اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کرنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 143)➊ وسط کا معنی درميان ہے، افضل چیز کو بھی وسط کہہ لیتے ہیں، کیونکہ درمیانی چیز سب سے بہتر ہوتی ہے۔ یہاں مراد سب سے بہتر ہے، جیساکہ فرمایا: «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ» ‏‏‏‏ [آل عمران: ۱۱۰] تم سب سے بہتر امت چلے آئے ہو، جو لوگوں کے لیے نکالی گئی۔ کیونکہ دو نقطوں کے درمیان سب سے مختصر اور صحیح خط مستقیم ہی ہوتا ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کا معنی یہاں عدل روایت کیا ہے۔ [بخاری، التفسیر: ۴۴۸۷] عدل کا معنی ثقہ اور قابل اعتماد بھی ہے، اعتقاد و اخلاق اور اعمال میں معتدل اور پہلی امتوں کی افراط و تفریط سے پاک بھی۔ نہ یہاں یہود کی سختی ہے نہ نصاریٰ کی نرمی۔ (کبیر، قرطبی)
➋ {وَ كَذٰلِكَ …:} یعنی جس طرح یہ دو باتیں تمھارے پاس پوری ہیں اور تمھارے مخالفوں کے پاس ناقص، ایک یہ کہ تم تمام انبیاء کو مانتے ہو اور یہود و نصاریٰ کسی کو مانتے ہیں کسی کو نہیں، دوسری یہ کہ تمھارا قبلہ کعبہ ہے، جو ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے مقرر ہے اور ابراہیم علیہ السلام سب کے پیشوا ہیں، یہود و نصاریٰ اور ان کے قبلے بعد کی بات ہیں۔ اسی طرح ہم نے تمھیں ہر کام میں افضل امت بنا دیا ہے۔ اس لیے اب تمھارا کام ہے کہ تم دوسروں کی راہنمائی کرو، ان کا کام نہیں کہ تمھاری راہنمائی کریں۔ (موضح)
➌{ لِتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ } …: اس سے تین طرح کی شہادت مراد ہے، پہلی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم شہادت دیں گے کہ انھوں نے صحابہ تک پیغام حق پہنچا دیا، صحابہ تابعین پر اور اسی طرح امت کا ہر طبقہ آنے والوں پر یہ شہادت دے گا۔ اس امت کے افضل ہونے کا سبب بھی یہی ہے کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں، جیسا کہ سورۂ آل عمران (۱۱۰) میں فرمایا: «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ» ‏‏‏‏، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خطبہ دیا: اے لوگو! تم اللہ کے سامنے ننگے پاؤں، ننگے جسم اور بغیر ختنہ کے اکٹھے کیے جانے والے ہو۔ پھر فرمایا: اور میری امت کے کچھ لوگوں کو بائیں طرف لے جایا جائے گا تو میں کہوں گا، پروردگارا! یہ تو میرے ساتھی ہیں، تو کہا جائے گا، آپ نہیں جانتے انھوں نے آپ کے بعد کیا نیا کام کیا تھا۔ تو میں کہوں گا جیسے صالح بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا تھا: «وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ» [المائدۃ: ۱۱۷] اور میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا، پھر جب تونے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔ [بخاری، التفسیر، باب: «و کنت علیہم شہیدًا …» :۴۶۲۵] یہی بات جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھی: کیا میں نے (اللہ تعالیٰ کا) پیغام(آپ لوگوں تک) پہنچا دیا؟ تو سب نے کہا: بے شک آپ نے پہنچا دیا۔ [بخاری، الحج، باب الخطبۃ أیام منٰی: ۱۷۴۱]
اب ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ یہ پیغام آنے والوں تک پہنچائے، تبھی وہ ان پر شہادت دے سکے گا اور تبھی وہ امتِ وسط کہلانے کا حق دار ہو گا اور جو امتِ مسلمہ کی تمام گمراہی دیکھ کر بھی خاموش رہے گا وہ نہ گواہی دے سکے گا اور نہ امتِ وسط کا مصداق ہو گا۔ دوسری وہ شہادت ہے جو امت مسلمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے خبر دینے کی بنا پر پہلی تمام امتوں پر دے گی کہ ان کے انبیاء نے اللہ کے احکام ان تک پہنچا دیے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: نوح علیہ السلام اور ان کی امت آئے گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا، تم نے پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ عرض کریں گے، ہاں اے میرے رب! پھر ان کی امت کو فرمائے گا، کیا انھوں نے تمھیں پیغام پہنچا دیا تھا؟ تو وہ کہیں گے، نہیں! ہمارے پاس تو کوئی نبی آیا ہی نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نوح(علیہ السلام) سے فرمائے گا، تمھاری شہادت کون دے گا؟ وہ عرض کریں گے، محمد(صلی اللہ علیہ و سلم) اور ان کی امت، پھر ہم شہادت دیں گے کہ یقینًا انھوں نے پیغام پہنچا دیا تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: «وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ» ‏‏‏‏ [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ عزوجل: «ولقد أرسلنا …» ‏‏‏‏: ۳۳۳۹، ۴۴۸۷، عن أبی سعید الخدری رضی اللہ عنہ]
تیسری شہادت دنیا ہی میں مسلمانوں کی کسی کے حق میں نیک یا بد ہونے کی شہادت ہے، جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک جنازے کے لیے جنت اور دوسرے کے لیے جہنم واجب ہونے کا اعلان فرمایا اور فرمایا: [أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللّٰهِ فِي الْاَرْضِ] تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔ [بخاری، الجنائز، باب ثناء الناس علی المیت: ۱۳۶۷]
➍ {وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ…:} یہ تحویلِ قبلہ کی ایک حکمت بیان فرمائی ہے۔ قریش کو بطور قبلہ بیت اللہ عزیز تھا اور اہلِ کتاب کو بیت المقدس۔ پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرکے قریش اور ان کے ساتھیوں کی آزمائش ہوئی، پھر بیت اللہ کو مقرر کرکے اہل کتاب کی۔ اپنے محبوب قبلہ کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی فرماں برداری میں ترک کرنا ہدایت یافتہ لوگوں کے سوا دوسروں کے لیے نہایت مشکل تھا، اس لیے جنھیں یہ ہدایت نصیب نہ تھی وہ ڈگمگا گئے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلے جس قبلے کی طرف آپ رخ کرتے تھے وہ بھی اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا تھا، اگرچہ قرآنِ مجید میں اس حکم کا ذکر نہیں ہے۔ یہ دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن مجید کے علاوہ بھی احکام نازل ہوتے تھے، جنھیں وحی خفی یا حدیث کہا جاتا ہے اور انھیں ماننا بھی قرآن کی طرح فرض ہے۔
➎ {وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ:} براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تحویل قبلہ سے قبل کئی آدمی پہلے قبلے کے زمانے میں قتل ہو کر فوت ہو چکے تھے، ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ ہم ان کے متعلق کیا کہیں تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: «وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ» ‏‏‏‏ اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ تمھارا ایمان ضائع کر دے۔ یعنی تمھاری پہلی نمازیں اللہ کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ [بخاری، الإیمان، باب الصلاۃ من الإیمان: ۴۰] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نماز کو ایمان قرار دیا۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ صرف دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کو ایمان قرار دیتے ہیں ان کی بات درست نہیں، بلکہ اعمال بھی ایمان کا جز ہیں اور نماز اور زکوٰۃ تو ایسا جز ہیں جن کے بغیر بندہ اسلامی برادری «اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَة» کا حصہ ہی نہیں بنتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ» [التوبۃ: ۱۱] پس اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو دین میں تمھارے بھائی ہیں۔ اور جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [إِنَّ بَیْنَ الرَّجُلِ وَ بَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکَ الصَّلاَۃِ] [مسلم، الإیمان، باب بیان إطلاق اسم …: ۸۲] آدمی کے درمیان اور شرک و کفر کے درمیان (فرق) نماز کا چھوڑنا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

143۔ 1 وسط کے لغوی معنی تو درمیان کے ہیں لیکن یہ بہتر اور افضل کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے یہاں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی جس طرح تمہیں بہتر قبلہ عطا کیا گیا اسی طرح تمہیں سب سے افضل امت بھی بنایا گیا اور مقصد اس کا یہ ہے کہ تم لوگوں پر گواہی دو۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے (لِیَکُون الرَّسُولُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَ تَکُوْنُوْ اشُھَدَآ ءَ عَلَی النَّاسِ) 22:28 رسول تم پر اور تم لوگوں پر گواہ ہو اس کی وضاحت بعض احادیث میں اس طرح آتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ پیغمبروں سے قیامت والے دن پوچھے گا کہ تم نے میرا پیغام لوگوں تک پہنچایا تھا وہ ہاں میں جواب دیں گے ٫ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہارا کوئی گواہ ہے؟ کہیں گے ہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت، چناچہ یہ امت گواہی دے گی۔ 143۔ 2 یہ تحویل قبلہ کی ایک غرض بیان کی گئی ہے، کہ مومنین صادقین تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارات کے منتظر رہا کرتے تھے اس لئے ان کے لئے ادھر سے ادھر پھرجانا کوئی مشکل معاملہ نہ تھا بلکہ ایک مقام پر تو عین نماز کی حالت میں جب کہ وہ رکوع میں تھے یہ حکم پہنچا تو انہوں نے رکوع میں ہی اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف پھیرلیا یہ مسجد قبلٰتین (یعنی وہ مسجد جس میں ایک نماز دو قبلوں کی طرف رخ کرکے پڑھی گئی) کہلاتی ہے اور ایسا ہی واقعہ مسجد قبا میں بھی ہوا (لِنَعْلَمْ) (تاکہ ہم جان لیں) اللہ کو تو پہلے بھی علم تھا اس کا مطلب ہے تاکہ ہم اہل یقین کو اہل شک سے علیحدہ کردیں تاکہ لوگوں کے سامنے بھی دونوں قسم کے لوگ واضح ہوجائیں (فتح القدیر) 143۔ 3 بعض صحابہ ؓ اجمعین کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوا کہ جو صحابہ ؓ اجمعین بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کے زمانے میں فوت ہوچکے تھے یا ہم جتنا عرصہ اس طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے ہیں یہ ضائع ہوگئیں یا شاید ان کا ثواب نہیں ملے گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ نمازیں ضائع نہیں ہونگی اور ان کا پورا پورا ثواب ملے گا۔ یہاں نماز کو ایمان سے تعبیر کرکے یہ واضح کردیا کہ نماز کے بغیر ایمان کی کوئی حیثیت نہیں۔ ایمان تب ہی معتبر ہے جب نماز اور دیگر احکام الٰہی کی پابندی ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

143۔ اور اسی طرح (اے مسلمانو!) ہم نے تمہیں امت وسط [176] بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول (محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم پر گواہ ہو [177] اور ہم نے آپ کے لیے پہلا قبلہ (بیت المقدس) صرف اس لیے بنایا تھا کہ ہمیں معلوم ہو کہ کون ہے جو رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ یہ قبلہ کی تبدیلی ایک مشکل [177۔ 1] سی بات تھی مگر ان لوگوں کے لیے (چنداں مشکل نہیں) جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کو ہرگز ضائع نہ کرے [178] گا۔ وہ تو لوگوں کے حق میں بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
[176] امت وسط کا مفہوم اور مثالیں:۔
یعنی جس طرح ہم نے قبلہ اول کو تمہارے لیے مستقل قبلہ بنا دیا ہے۔ اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بھی بنا دیا ہے۔ امت وسط سے مراد ایسا اشرف اور اعلیٰ گروہ ہے جو عدل و انصاف کی روش پر قائم ہو اور افراط و تفریط، غلو اور تخفیف سے پاک ہو اور دنیا کی قوموں کے درمیان صدر کی حیثیت رکھتا ہو۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ نصاریٰ نے عیسیٰؑ کو اتنا بڑھایا کہ انہیں خدا ہی بنا دیا اور یہود نے اتنا گھٹایا کہ ان کی پیغمبری سے انکار بھی کیا اور ان کی جان کے بھی لاگو ہو گئے اور اس امت وسط کی روش یا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اللہ کے پیارے پیغمبر اور روح اللہ تھے۔ بے شمار عقائد و احکام میں آپ کو امت وسط کا یہی طریقہ نظر آئے گا۔ مثلاً یہود کے لیے قتل کے بدلے قتل یعنی قصاص ہی فرض کیا گیا تھا۔ جب کہ نصاریٰ کو عفو و درگزر سے کام لینے کا حکم دیا گیا اور امت مسلمہ کے لیے قصاص کو جواز کی حد تک رکھا گیا اور قصاص کے بجائے دیت کو پسند کیا گیا اور عفو و درگزر کی ترغیب دی گئی اور اسے ایک مستحسن عمل قرار دیا گیا۔ یا مثلاً یہود میں اگر عورت حائضہ ہو جاتی تو نہ اس کے ہاتھ کا پکایا ہوا کھانا کھاتے، نہ اس کے ساتھ کھاتے، بلکہ اسے اپنے گھر میں بھی نہ رہنے دیتے تھے اور ایسی عورتوں کا کسی الگ مقام پر رہائش کا بندوبست کیا کرتے تھے [مسلم، كتاب الحيض، باب جواز غسل الحائض راس زدجها] نصاریٰ ایسی عورتوں سے کسی طرح کا بھی پرہیز نہیں کرتے تھے۔ جبکہ مسلمانوں کو دوران حیض صرف جماع سے اجتناب کا حکم دیا گیا۔ باقی کاموں میں کوئی پابندی نہیں رکھی گئی۔ اس کے ہاتھوں کا پکایا ہوا کھانا جائز اس کے ساتھ رہنا حتیٰ کہ اس کا بوسہ لینا اور اسے گلے لگانا بلکہ اس کے ساتھ لیٹ جانے تک کو جائز قرار دیا گیا اور صرف مجامعت پر پابندی لگائی گئی۔
[177] امت مسلمہ کی دوسری امتوں پر شہادت:۔
ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن نوحؑ کو بلایا جائے گا وہ کہیں گے لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھیں گے، کیا تم نے میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے ”جی ہاں“! پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا۔ ”کیا نوحؑ نے تمہیں میرا پیغام پہنچا دیا؟“ وہ کہیں گے کہ ”ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا آیا ہی نہ تھا۔“ پھر اللہ تعالیٰ حضرت نوحؑ سے کہیں گے: ”تمہارا کوئی گواہ ہے؟“ وہ کہیں گے! ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت۔“ پھر اس امت کے لوگ گواہی دیں گے کہ ”یقیناً نوحؑ نے پیغام پہنچا دیا تھا اور پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم پر گواہ بنیں گے۔“ [بخاري، كتاب التفسير۔ زير آيت مذكور] اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس وقت نوحؑ کی امت کہے گی تمہاری گواہی کیسے مقبول ہو سکتی ہے۔ جب کہ تم نے نہ ہمارا زمانہ پایا اور نہ ہمیں دیکھا۔ اس وقت امت وسط یہ جواب دے گی کہ ہم کو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کے بتلانے سے یہ یقینی علم حاصل ہوا۔ اسی لیے ہم یہ گواہی دیتے ہیں۔
آپﷺ کی اپنی امت کے خلاف شہادت جنہوں نے قرآن سے نا انصافیاں کیں:۔
یہ تو تھی امت مسلمہ کی دوسری امتوں پر گواہی کی کیفیت۔ اس کے بعد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے ان لوگوں کے خلاف گواہی دیں گے جنہوں نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا تھا اور کہتے تھے کہ قرآن بے شک اس زمانہ میں تو ایک کارآمد کتاب تھی مگر آج زمانہ بہت آگے نکل چکا ہے۔ لہٰذا اس کی تعلیمات فرسودہ ہو چکی ہیں۔ یا ان لوگوں کے خلاف جو اپنے جلسے جلوسوں کا افتتاح تو تلاوت قرآن سے کرتے ہیں۔ پھر اس کے بعد انہیں قرآن سے کچھ غرض نہیں ہوتی یا ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے قرآن کو محض عملیات کی ایک کتاب قرار دے رکھا ہے اور اس سے اپنی صرف دنیوی اغراض کے لیے اس کی آیات سے تعویذ وغیرہ تیار کرتے اور تجربے کرتے رہتے ہیں۔ یا ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے قرآن کو ایک مشکل ترین کتاب سمجھ کر اس کو عقیدتاً ریشمی غلافوں میں لپیٹ کر کسی اونچے طاقچے میں تبرکاً رکھ دیا ہوتا ہے۔ یا ان لوگوں کے خلاف جو قرآنی آیات و احکام کو سمجھنے کے بعد محض دنیوی اغراض یا فرقہ وارانہ تعصب کے طور پر ان کی غلط تاویل کرتے ہیں یا ان کے خلاف جو دیدہ و دانستہ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ ان سب لوگوں کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حضور یہ گواہی دیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن کو چھوڑ رکھا تھا جیسا کہ سورۃ فرقان کی آیت نمبر 30 سے صاف واضح ہے۔
[177۔ 1]
تحویل قبلہ پر یہود اور منافقین کا شور و غوغا:۔
جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو منافقوں اور یہودیوں دونوں نے مسلمانوں کے خلاف انتہائی زہریلا پروپیگنڈا شروع کر دیا اور اس قدر پروپیگنڈا کیا کہ آسمان سر پر اٹھا لیا، اور وہ پروپیگنڈا یہ تھا کہ مسلمان کبھی کسی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ کبھی کسی طرف، ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔ ان لوگوں کے پروپیگنڈا سے کچھ کمزور ایمان والے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے البتہ جو اپنے ایمان میں راسخ اور مضبوط تھے۔ انہوں نے اس پروپیگنڈا کی مطلقاً پروا نہ کی اور یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ اپنے احکام کی حکمت خود ہی بہتر جانتا ہے، فوراً سر تسلیم خم کر دیا۔ چنانچہ انہیں دیکھ کر متاثر ہونے والے مسلمان بھی اپنے پاؤں پر پوری طرح جم گئے، اور حقیقتاً ایسا پروپیگنڈا مسلمانوں کے لیے ایک آزمائش بن گیا تھا اور اللہ کی مہربانی سے مسلمان اس میں ثابت قدم نکلے۔
[178] براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ بہت سے مسلمان تحویل قبلہ سے پہلے شہید ہو چکے تھے، ہمیں ان کے متعلق شبہ ہوا کہ ان کی ادا کردہ نمازوں کا کیا بنے گا، تب یہ آیت نازل ہوئی ﴿وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ [بخاري، كتاب التفسير، ترمذي، ابواب التفسير]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
پھر فرماتا ہے کہ اس پسندیدہ قبلہ کی طرف تمہیں متوجہ کرنا اس لیے ہے کہ تم خود بھی پسندیدہ امت ہو تم اور امتوں پر قیامت کے دن گواہ بنے رہو گے کیونکہ وہ سب تمہاری فضیلت مانتے ہیں وسط کے معنی یہاں پر بہتر اور عمدہ کے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ قریش نسب کے اعتبار سے وسط عرب ہیں اور کہا گیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم میں وسط تھے یعنی اشرف نسب والے اور صلوۃ وسطی یعنی افضل تر نماز جو عصر ہے جیسے صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ [صحیح بخاری:6396]‏‏‏‏
اور چونکہ تمام امتوں میں یہ امت بھی بہتر افضل اور اعلیٰ تھی اس لیے انہیں شریعت بھی کامل راستہ بھی بالکل درست ملا اور دین بھی بہت واضح دیا گیا جیسے فرمایا «هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ» [22۔ الحج: 78]‏‏‏‏ اس اللہ نے تمہیں چن لیا اور تمہارے دین میں کوئی تنگی نہیں کی تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کے دین پر تم ہو۔ اسی نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے اس سے پہلے بھی اور اس میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نوح علیہ السلام کو قیامت کے دن بلایا جائے گا اور ان سے دریافت کیا جائے گا کہ کیا تم نے میرا پیغام میرے بندوں کو پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے کہ ہاں اللہ پہنچا دیا تھا۔ ان کی امت کو بلایا جائے گا اور ان سے پرسش ہو گی کیا نوح علیہ السلام نے میری باتیں تمہیں پہنچائی تھیں وہ صاف انکار کریں گے اور کہیں گے ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا تمہاری امت انکار کرتی ہے تم گواہ پیش کرو یہ کہیں گے کہ ہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میری گواہ ہے یہی مطلب اس آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [2۔ البقرہ: 143]‏‏‏‏ کا ہے «وسط» کے معنی عدل کے ہیں اب تمہیں بلایا جائے گا اور تم گواہی دو گے اور میں تم پر گواہی دوں گا۔ [صحیح بخاری:3339]‏‏‏‏
مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے قیامت کے دن نبی آئیں گے اور ان کے ساتھ ان کی امت کے صرف دو ہی شخص ہوں گے اور اس سے زیادہ بھی اس کی امت کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا اس نبی علیہ السلام نے تمہیں تبلیغ کی تھی؟ وہ انکار کریں گے نبی سے کہا جائے گا تم نے تبلیغ کی وہ کہیں گے ہاں، کہا جائے گا تمہارا گواہ کون ہے؟ وہ کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت۔ پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت بلائی جائے گی ان سے یہی سوال ہو گا کہ کیا اس پیغمبر نے تبلیغ کی؟ یہ کہیں گے ہاں، ان سے کہا جائے گا کہ تمہیں کیسے علم ہوا؟ یہ جواب دیں گے کہ ہمارے پاس ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ انبیاء علیہم السلام نے تیرا پیغام اپنی اپنی امتوں کو پہنچایا۔ یہی مطلب ہے اللہ عزوجل کے اس فرمان «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [2۔ البقرہ: 143]‏‏‏‏ کا۔ [مسند احمد:58/3:صحیح]‏‏‏‏ مسند احمد کی ایک اور حدیث میں وسطاً بمعنی عدلاً آیا ہے۔ [سنن ترمذي:2961، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ابن مردویہ اور ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور میری امت قیامت کے دن ایک اونچے ٹیلے پر ہوں گے تمام مخلوق میں نمایاں ہو گے اور سب کو دیکھ رہے ہوں گے اس روز تمام دنیا تمنا کرے گی کہ کاش وہ بھی ہم میں سے ہوتے جس جس نبی کی قوم نے اسے جھٹلایا ہے ہم دربار رب العالمین میں شہادت دیں گے کہ ان تمام انبیاء نے حق رسالت ادا کیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:147/3:ضعیف]‏‏‏‏
مستدرک حاکم کی ایک حدیث میں ہے کہ بنی مسلمہ کے قبیلے کے ایک شخص کے جنازے میں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے لوگ کہنے لگے حضور یہ بڑا نیک آدمی تھا۔ بڑا متقی پارسا اور سچا مسلمان تھا اور بھی بہت سی تعریفیں کیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ کس طرح کہ رہے ہو؟ اس شخص نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدگی کا علم تو اللہ ہی کو ہے لیکن ظاہرداری تو اس کی ایسی ہی حالت تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی پھر بنو حارثہ کے ایک شخص کے جنازے میں تھے لوگ کہنے لگے یہ برا آدمی تھا بڑا بدزبان اور کج خلق تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی برائیاں سن کر پوچھا تم کیسے کہہ رہے ہو اس شخص نے بھی یہی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لیے واجب ہو گئی۔ حضرت محمد بن کعب رحمہ اللہ اس حدیث کو سن کر فرمانے لگے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں دیکھو قرآن بھی کہہ رہا ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [2۔ البقرہ: 143]‏‏‏‏ مستدرک حاکم268/2]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے۔ ابوالاسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں مدینہ میں آیا یہاں بیماری تھی لوگ بکثرت مر رہے تھے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا جو ایک جنازہ نکلا اور لوگوں نے مرحوم کی نیکیاں بیان کرنی شروع کیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے لیے واجب ہو گئی اتنے میں دوسرا جنازہ نکلا لوگوں نے اس کی برائیاں بیان کیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے لیے واجب ہو گئی میں نے کہا امیر المؤمنین کیا واجب ہو گئی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے وہی کہا جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس مسلمان کی بھلائی کی شہادت چار شخص دیں اسے جنت میں داخل کرتا ہے ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر تین دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین بھی ہم نے کہا اگر دو ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو بھی۔ پھر ہم نے ایک کی بابت کا سوال نہ کیا۔ [صحیح بخاری:1368]‏‏‏‏
ابن مردویہ کی ایک حدیث میں ہے قریب ہے کہ تم اپنے بھلوں اور بروں کو پہچان لیا کرو۔ لوگوں نے کہا حضور کس طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم [سنن ابن ماجه:4221، قال الشيخ الألباني:]‏‏‏‏ نے فرمایا اچھی تعریف اور بری شہادت سے تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔
پھر فرماتا ہے کہ اگلا قبلہ صرف امتحاناً تھا یعنی پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کر کے پھر کعبۃ اللہ کی طرف پھیرنا صرف اس لیے تھا کہ معلوم ہو جائے کہ سچا تابعدار کون ہے؟ اور جہاں آپ توجہ کریں وہیں اپنی توجہ کرنے والا کون ہے؟ اور کون ہے جو ایک دم کروٹ لے لیتا ہے اور مرتد ہو جاتا ہے، یہ کام فی الحقیقت اہم کام تھا لیکن جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے پیروکار ہیں جو جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو فرمائیں سچ ہے جن کا عقیدہ ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے حکم کرتا ہے۔ اپنے بندوں کو جس طرح چاہے حکم دے جو چاہے مٹائے جو چاہے باقی رکھے اس کا ہر کام، ہر حکم حکمت سے پر ہے ان پر اس حکم کی بجا آوری کچھ بھی مشکل نہیں۔ ہاں بیمار دل والے تو جہاں نیا حکم آیا انہیں فوراً نیا درد اٹھا قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَىٰ رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا وَهُمْ كَافِرُونَ» [9۔ التوبہ: 124، 125]‏‏‏‏ یعنی جب کبھی کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض پوچھتے ہیں اس سے کس کا ایمان بڑھا؟ حقیقت یہ ہے کہ ایمانداروں کے ایمان بڑھتے ہیں اور ان کی دلی خوشی بھی اور بیمار دل والے اپنی پلیدی میں اور بڑھ جاتے ہیں اور جگہ فرمان ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاءٌ وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ فِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» [41۔ فصلت: 44]‏‏‏‏ یعنی ایمان والوں کے لیے یہ ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان لوگوں کے کانوں میں بوجھ اور آنکھوں پر اندھا پن ہے۔
اور جگہ فرمان ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» [17۔ الاسرآء: 82]‏‏‏‏ یعنی ہمارا اتارا ہوا قرآن مومنوں کے لیے سراسر شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کا نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے اس واقعہ میں بھی تمام بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم ثابت قدم رہے اول سبقت کرنے والے مہاجر اور انصار دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھنے والے ہیں۔ چنانچہ اوپر حدیث بیان ہو چکی کہ کس طرح وہ نماز پڑھتے ہوئے یہ خبر سن کر گھوم گئے۔ مسلم شریف میں روایت ہے کہ رکوع کی حالت میں تھے اور اسی میں کعبہ کی طرف پھر گئے۔ [صحیح مسلم:525]‏‏‏‏ جس سے ان کی کمال اطاعت اور اعلیٰ درجہ کی فرمان برداری ثابت ہوئی۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تمھارے ایما کو ضائع نہیں کرے گا۔ یعنی تمھاری بیت المقدس کی طرف پڑھی ہوئی نمازیں رد نہیں ہوں گی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بلکہ ان کی اعلیٰ ایمانداری ثابت ہوئی انہیں دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھنے کا ثواب عطا ہو گا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان کے ساتھ تمھارے گھوم جانے کو ضائع نہ کرے گا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ رؤف و رحیم ہے۔
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی قیدی عورت کو دیکھا جس سے اس کا بچہ چھوٹ گیا تھا وہ اپپنے بچے کو پاگلوں کی طرح تلاش کر رہی تھی اور جب وہ نہیں ملا تو قیدیوں میں سے جس کسی بچے کو دیکھتی اسی کو گلے لگا لیتی یہاں تک کہ اس کا اپنا بچہ مل گیا خوشی خوشی لپک کر اسے گود میں اٹھا لیا سینے سے لگایا پیار کیا اور اس کے منہ میں دودھ دیا یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا بتاؤ یہ اپنا بس چلتے ہوئے اس بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ لوگوں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر گز نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم جس قدر یہ ماں اپنے بچہ پہ مہربان ہے اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ اپنے بندؤں پر رؤف و رحیم ہے۔[صحیح بخاری:5999]‏‏‏‏