ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 75

قُلۡ مَنۡ کَانَ فِی الضَّلٰلَۃِ فَلۡیَمۡدُدۡ لَہُ الرَّحۡمٰنُ مَدًّا ۬ۚ حَتّٰۤی اِذَا رَاَوۡا مَا یُوۡعَدُوۡنَ اِمَّا الۡعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَۃَ ؕ فَسَیَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ ہُوَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ اَضۡعَفُ جُنۡدًا ﴿۷۵﴾
کہہ دے جو شخص گمراہی میں پڑا ہو تو لازم ہے کہ رحما ن اسے ایک مدت تک مہلت دے، یہا ںتک کہ جب وہ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے، یا تو عذاب اور یا قیامت کو، تو ضرور جان لیں گے کہ کون ہے جو مقام میں زیادہ برا اور لشکر کے اعتبار سے زیادہ کمزور ہے۔ En
کہہ دو کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے خدا اس کو آہستہ آہستہ مہلت دیئے جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے خواہ عذاب اور خواہ قیامت۔ تو (اس وقت) جان لیں گے کہ مکان کس کا برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے
En
کہہ دیجئے! جو گمراہی میں ہوتا اللہ رحمنٰ اس کو خوب لمبی مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ وه ان چیزوں کو دیکھ لیں جنکا وعده کیے جاتے ہیں یعنی عذاب یا قیامت کو، اس وقت ان کو صحیح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ کون برے مرتبے واﻻ اور کس کا جتھا کمزور ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 75) ➊ {قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَةِ …:} اس سوال کے جواب میں کہ ہم کفار سے کیا کہیں؟ حکم ہوا کہ ان سے کہو، آؤ! مباہلہ کر لیں اور ہم تم دونوں مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہم دونوں میں سے جو فریق گمراہی پر ہے اسے اللہ تعالیٰ ایک مدت تک مہلت دے اور اسے اس کی اسی حالت میں رکھے، تاکہ کفار جب اس استدراج اور مہلت کی وجہ سے کفر کی حالت میں فوت ہوں تو انھیں پتا چل جائے کہ کس کے رہنے کی جگہ بد ترین اور کس کا لشکر اور جتھا کمزور ترین ہے۔ اس تفسیر میں {فَلْيَمْدُدْ } کو اصل معنی امر پر رکھا گیا ہے۔ ابن کثیر اور ابن جریر نے صرف یہی تفسیر فرمائی ہے۔ قرآن مجید میں اس کی مثال سورۂ آل عمران کی آیت (۶۱) اور سورۂ بقرہ کی آیت (۹۴) ہے۔ (شنقیطی)
➋ دوسری تفسیر اس آیت کی یہ ہے کہ اس سوال کے جواب میں کہ ہم کفار کی اس دلیل کا کیا جواب دیں؟ حکم ہوا کہ ان سے کہو کہ جو لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اللہ تعالیٰ نے طے کر رکھا ہے کہ انھیں کچھ نہ کچھ مہلت دے، تاکہ ان پر حجت تمام ہو جائے۔ یہ نہ کہیں کہ ہمیں سوچنے کا وقت نہیں ملا۔ پھر جب دنیا ہی میں مسلمانوں کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوں گے، یا موت کے وقت اس عذاب کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے، تو خود ہی اچھی طرح جائزہ لے لیں گے کہ کس کی رہنے کی جگہ زیادہ بری اور کس کا جتھا اور لشکر زیادہ کمزور ہے۔ آیت میں لفظ { الرَّحْمٰنُ } کی حکمت یہ ہے کہ گمراہوں کو مہلت دینا اللہ تعالیٰ کی بے انتہا رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر کفر سے توبہ کر لیں۔ قرآن مجید میں کئی آیات میں یہ بات مختلف طریقوں سے بیان ہوئی ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۷۸)، انعام (۴۴)، سبا (۱۷) اور قلم (۴۴، ۴۵) اس تفسیر کی صورت میں { فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ } میں امر بمعنی خبر ہے۔ یہ معنی زیادہ قوی ہے، کیونکہ اس کے بعد والی آیت: «{ وَ يَزِيْدُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اهْتَدَوْا هُدًى میں فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کافروں کو ان کی گمراہی میں مہلت دیتا ہے اسی طرح ہدایت والوں کی ہدایت میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

75۔ 1 علاوہ ازیں یہ چیزیں گمراہوں اور کافروں کو مہلت کے طور پر بھی ملتی ہیں، اس لئے یہ کوئی معیار نہیں۔ اصل اچھے برے کا پتہ تو اس وقت چلے گا، جب مہلت عمل ختم ہوجائے گی اور اللہ کا عذاب انھیں آ گھیرے گا یا قیامت برپا ہوجائے گی۔ لیکن اس وقت کا علم، کوئی فائدہ نہیں دے گا، کیونکہ وہاں ازالے اور تدارک کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

75۔ آپ ان سے کہئے کہ: جو شخص گمراہی میں پڑا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے ایک مدت تک ڈھیل دیتے جاتے ہیں تا آنکہ یہ لوگ وہ کچھ دیکھ لیتے ہیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے، خواہ یہ عذاب الٰہی ہو یا قیامت ہو، اس وقت انھیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کا حال [67] برا ہے اور کس کا جتھا کمزور ہے۔
[67] انعامات کی فراوانی سے آزمائش:۔
اس کے بجائے اصل صورت حال یہ ہوتی ہے کہ جو لوگ دنیا کے ساز و سامان میں دل لگا کر اس کی دلفریبیوں پر ریجھ گئے ہوں اللہ تعالیٰ ان پر مزید انعامات کی بارش کئے جاتے ہیں اور اس انداز سے ان کی آزمائش کرتے ہیں۔ پھر اس کی بھی ایک حد مقرر ہوتی ہے۔ اگر اس عرصہ میں وہ اللہ کی طرف رجوع کر لیں اور دین حق کی طرف لوٹ آئیں تو فبہا ورنہ انھیں عذاب سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور ایسا عذاب دنیا میں بھی آسکتا ہے جیسا کہ سابقہ اقوام پر آچکا ہے اور اگر دنیا میں بچ جائیں تو قیامت کو تو ضرور انھیں اس سے سابقہ پڑنے والا ہے۔ اس وقت انھیں قدر عافیت معلوم ہو جائے گی اور یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ حقیقتاً خوشحالی کس فریق کا مقدر ہے اور سوسائٹی کے لحاظ سے کون بہتر ہے۔؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مشرکوں سے مباہلہ ٭٭
’ ان کافروں کو جو تمہیں ناحق پر اور اپنے آپ کو حق پر سمجھ رہے ہیں اور اپنی خوش حالی اور فارغ البالی پر اطمینان کئے بیٹھے ہوئے ہیں، ان سے کہہ دیجئیے کہ گمراہوں کی رسی دراز ہوتی ہے، انہیں اللہ کی طرف سے ڈھیل دی جاتی ہے جب تک کہ قیامت نہ آ جائے یا ان کی موت نہ آ جائے۔ اس وقت انہیں پورا پتہ چل جائے گا کہ فی الواقع برا شخص کون تھا اور کس کے ساتھی کمزور تھے۔ دنیا تو ڈھلتی چڑھتی چھاؤں ہے نہ خود اس کا اعتبار نہ اس کے سامان اسباب کا۔ یہ تو اپنی سرکشی میں بڑھتے ہی رہیں گے ‘۔
گویا اس آیت میں مشرکوں سے مباہلہ ہے۔ جیسے یہودیوں سے سورۃ الجمعہ میں مباہلہ کی آیت ہے کہ «قُلْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِن زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ لِلَّـهِ مِن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [62-الجمعة:6]‏‏‏‏ ’ آؤ ہمارے مقابلہ میں موت کی تمنا کرو ‘۔
اسی طرح سورۃ آل عمران میں مباہلے کا ذکر ہے کہ «فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّـهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:61]‏‏‏‏ ’ جب تم اپنے خلاف دلیلیں سن کر بھی عیسیٰ علیہ السلام کے ابن اللہ ہونے کے مدعی ہو تو آؤ بال بچوں سمیت میدان میں جا کر جھوٹے پر اللہ کی لعنت پڑنے کی دعا کریں ‘۔
پس نہ تو مشرکین مقابلے پر آئے، نہ یہود کی ہمت پڑی، نہ نصرانی مرد میدان بنے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی باطل دلیل کا ذکر کیا جو ان کے عناد کی شدت اور گمراہی کی قوت پر دلالت کرتی ہے، وہاں اس نے یہ بھی آگاہ فرما دیا کہ جو کوئی گمراہی میں مستغرق اور اس پر راضی ہے اور گمراہی کے لیے کوشاں رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی گمراہی کو اور زیادہ کر دیتا ہے اور گمراہی کے لیے اس کی چاہت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ یہ اس کے لیے اس جرم کی سزا ہے کہ اس نے ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی کو اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفْــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ (الانعام:6؍110) اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے تو جیسے یہ پہلی مرتبہ ایمان نہ لائے تھے (ویسے پھر ایمان نہ لائیں گے) اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیں گے۔
﴿حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا یہاں تک کہ جب وہ لوگ دیکھیں گے جو کہتے تھے: دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بہتر ہے مقام کے لحاظ سے اور کس کی مجلس اچھی ہے؟ ﴿ مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا یا تو عذاب یعنی قتل وغیرہ کے ذریعے ان کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ ﴿وَاِمَّا السَّاعَةَ اور یا قیامت جو اعمال کی جزا کا دروازہ ہے۔ ﴿ فَسَیَعْلَمُوْنَ۠ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضْعَفُ جُنْدً پس عنقریب وہ جان لیں گے کہ کون بدتر ہے مقام کے لحاظ سے اور زیادہ کمزور ہے جتھے کے اعتبار سے۔ یعنی اس وقت ان کے دعوے کا بطلان ظاہر ہو گا تب یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ ان کا دعویٰ کس قدر کمزور تھا اور انھیں یقین ہو جائے گا کہ واقعی وہ بدکار لوگ تھے۔ مگر یہ علم انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا کیونکہ اب ان کا دنیا میں واپس جانا ممکن نہیں کہ وہاں وہ پہلے اعمال کے برعکس اعمال بجا لائیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر دليلهم الباطل الدالَّ على شدَّة عنادهم وقوَّة ضلالهم؛ أخبر هنا أنَّ مَن كان في الضلالة؛ بأن رَضِيَها لنفسه، وسعى فيها؛ فإنَّ الله يمدُّه منها ويزيدُه فيها حبًّا؛ عقوبةً له على اختيارها على الهدى؛ قال تعالى: {فلمَّا زاغوا أزاغَ الله قلوبَهم}، {ونقلِّبُ أفئِدَتَهم وأبصارَهم كما لم يُؤْمِنوا به أوَّلَ مرَّةٍ ونذَرُهم في طغيانِهِم يعمهونَ}. {حتَّى إذا رأوا}؛ أي: القائلون: {أيُّ الفريقين خيرٌ مقاماً وأحسنُ نَدِيًّا}، {ما يوعدون إمَّا العذابَ}: بقتل أو غيره، {وإمَّا الساعة}: التي هي بابُ الجزاء على الأعمال. {فسيعلمونَ من هو شَرٌّ مكاناً وأضعفُ جُنداً}؛ أي: فحينئذٍ يتبيَّن لهم بطلانُ دعواهم، وأنَّها دعوى مضمحلَّة، ويتيقَّنون أنَّهم أهل الشرِّ وأضعفُ جنداً، ولكنْ لا يُفيدُهم هذا العلم شيئاً؛ لأنَّه لا يمكنهم الرجوع إلى الدُّنيا فيعملون غير عملهم الأول.