تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ دوسری تفسیر اس آیت کی یہ ہے کہ اس سوال کے جواب میں کہ ہم کفار کی اس دلیل کا کیا جواب دیں؟ حکم ہوا کہ ان سے کہو کہ جو لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اللہ تعالیٰ نے طے کر رکھا ہے کہ انھیں کچھ نہ کچھ مہلت دے، تاکہ ان پر حجت تمام ہو جائے۔ یہ نہ کہیں کہ ہمیں سوچنے کا وقت نہیں ملا۔ پھر جب دنیا ہی میں مسلمانوں کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوں گے، یا موت کے وقت اس عذاب کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے، تو خود ہی اچھی طرح جائزہ لے لیں گے کہ کس کی رہنے کی جگہ زیادہ بری اور کس کا جتھا اور لشکر زیادہ کمزور ہے۔ آیت میں لفظ {” الرَّحْمٰنُ “} کی حکمت یہ ہے کہ گمراہوں کو مہلت دینا اللہ تعالیٰ کی بے انتہا رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر کفر سے توبہ کر لیں۔ قرآن مجید میں کئی آیات میں یہ بات مختلف طریقوں سے بیان ہوئی ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۷۸)، انعام (۴۴)، سبا (۱۷) اور قلم (۴۴، ۴۵) اس تفسیر کی صورت میں {” فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ “} میں امر بمعنی خبر ہے۔ یہ معنی زیادہ قوی ہے، کیونکہ اس کے بعد والی آیت: «{ وَ يَزِيْدُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اهْتَدَوْا هُدًى }» میں فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کافروں کو ان کی گمراہی میں مہلت دیتا ہے اسی طرح ہدایت والوں کی ہدایت میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
گویا اس آیت میں مشرکوں سے مباہلہ ہے۔ جیسے یہودیوں سے سورۃ الجمعہ میں مباہلہ کی آیت ہے کہ «قُلْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِن زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ لِلَّـهِ مِن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [62-الجمعة:6] ’ آؤ ہمارے مقابلہ میں موت کی تمنا کرو ‘۔
اسی طرح سورۃ آل عمران میں مباہلے کا ذکر ہے کہ «فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّـهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:61] ’ جب تم اپنے خلاف دلیلیں سن کر بھی عیسیٰ علیہ السلام کے ابن اللہ ہونے کے مدعی ہو تو آؤ بال بچوں سمیت میدان میں جا کر جھوٹے پر اللہ کی لعنت پڑنے کی دعا کریں ‘۔
پس نہ تو مشرکین مقابلے پر آئے، نہ یہود کی ہمت پڑی، نہ نصرانی مرد میدان بنے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر دليلهم الباطل الدالَّ على شدَّة عنادهم وقوَّة ضلالهم؛ أخبر هنا أنَّ مَن كان في الضلالة؛ بأن رَضِيَها لنفسه، وسعى فيها؛ فإنَّ الله يمدُّه منها ويزيدُه فيها حبًّا؛ عقوبةً له على اختيارها على الهدى؛ قال تعالى: {فلمَّا زاغوا أزاغَ الله قلوبَهم}، {ونقلِّبُ أفئِدَتَهم وأبصارَهم كما لم يُؤْمِنوا به أوَّلَ مرَّةٍ ونذَرُهم في طغيانِهِم يعمهونَ}. {حتَّى إذا رأوا}؛ أي: القائلون: {أيُّ الفريقين خيرٌ مقاماً وأحسنُ نَدِيًّا}، {ما يوعدون إمَّا العذابَ}: بقتل أو غيره، {وإمَّا الساعة}: التي هي بابُ الجزاء على الأعمال. {فسيعلمونَ من هو شَرٌّ مكاناً وأضعفُ جُنداً}؛ أي: فحينئذٍ يتبيَّن لهم بطلانُ دعواهم، وأنَّها دعوى مضمحلَّة، ويتيقَّنون أنَّهم أهل الشرِّ وأضعفُ جنداً، ولكنْ لا يُفيدُهم هذا العلم شيئاً؛ لأنَّه لا يمكنهم الرجوع إلى الدُّنيا فيعملون غير عملهم الأول.