تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ الْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ کہف کی آیت (۴۶)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[69] اس کی تشریح کے لئے سورۃ کہف کی آیت نمبر 46 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باقیات صالحات کی پوری تفسیر ان ہی لفظوں کی تشریح میں سورۃ الکہف میں گزر چکی ہے۔ یہاں فرماتا ہے کہ ’ یہی پائیدار نیکیاں جزا اور ثواب کے لحاظ سے اور انجام اور بدلے کے لحاظ سے نیکوں کے لیے بہتر ہیں ‘۔
عبدالرزاق میں ہے کہ { ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک خشک درخت تلے بیٹھے ہوئے تھے اس کی شاخ پکڑ کر ہلائی تو سوکھے پتے جھڑنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دیکھو اسی طرح انسان کے گناہ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرُ سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُِ ﷲِ» کہنے سے جھڑتے ہیں۔ اے ابودرداء ان کا ورد رکھ اس سے پہلے کہ وہ وقت آئے کہ تو انہیں نہ کہہ سکے، یہی باقیات صالحات ہیں، یہی جنت کے خزانے ہیں }۔ اس کو سن کر ابودرداء کا یہ حال تھا کہ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ واللہ میں تو ان کلمات کو پڑھتا ہی رہوں گا، کبھی ان سے زبان نہ روکوں گا گو لوگ مجھے مجنون کہنے لگیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3813،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث دوسری سند سے ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر أنه يُمِدُّ للظالمين في ضلالهم؛ ذَكَرَ أنَّه يزيد المهتدين هدايةً من فضلِهِ عليهم ورحمتِهِ، والهدى يشمَلُ العلم النافع والعمل الصالح؛ فكلُّ مَنْ سَلَكَ طريقاً في العلم والإيمان والعمل الصالح؛ زاده الله منه، وسهَّله عليه، ويسَّره له، ووهب له أموراً أخر لا تدخُلُ تحت كسبِهِ، وفي هذا دليلٌ على زيادة الإيمان ونقصه؛ كما قاله السلف الصالح.
ويدلُّ عليه قوله تعالى: {ليزدادَ الذين آمنوا إيماناً}، {وإذا تُلِيَتْ عليهم آياتُهُ زادتْهم إيماناً}. ويدلُّ عليه أيضاً الواقع؛ فإنَّ الإيمان قولُ القلب واللسان وعملُ القلب واللسان والجوارح، والمؤمنون متفاوتون في هذه الأمور أعظم تفاوتٍ.
ثم قال: {والباقياتُ الصالحاتُ}؛ أي: الأعمال الباقية التي لا تنقطع إذا انقطع غيرها، ولا تضمحلُّ هي الصالحاتُ منها؛ من صلاة وزكاة وصوم وحجٍّ وعمرة وقراءة وتسبيح وتكبير وتحميد وتهليل وإحسانٍ إلى المخلوقين وأعمال قلبيَّة وبدنيَّة؛ فهذه الأعمال {خيرٌ عند ربِّك ثواباً وخيرٌ مَرَدًّا}؛ أي: خيرٌ عند الله ثوابها وأجرها، وكثيرٌ للعاملين نفعها وردُّها، وهذا من باب استعمال أفعل التفضيل في غير بابه؛ فإنَّه ما ثَمَّ غيرُ الباقيات الصالحات عملٌ ينفع ولا يبقى لصاحبِهِ ثوابُهُ ولا ينجَعُ، ومناسبتُهُ ذكر الباقيات الصالحات. والله أعلم: أنَّه لما ذَكَرَ أنَّ الظالمين جعلوا أحوال الدُّنيا من المال والولد وحسن المقام ونحو ذلك علامةً لحسن حال صاحبها؛ أخبر هنا أنَّ الأمر ليس كما زعموا، بل العمل الذي هو عنوانُ السعادةِ ومنشورُ الفلاح، هو العملُ بما يحبُّه الله ويرضاه.