ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 76

وَ یَزِیۡدُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اہۡتَدَوۡا ہُدًی ؕ وَ الۡبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیۡرٌ عِنۡدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّ خَیۡرٌ مَّرَدًّا ﴿۷۶﴾
اور اللہ ان لوگوں کو جنھوں نے ہدایت پائی، ہدایت میں زیادہ کرتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں ثواب کے اعتبار سے بہتر اور انجام کے لحاظ سے کہیں اچھی ہیں۔ En
اور جو لوگ ہدایت یاب ہیں خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے۔ اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ تمہارے پروردگار کے صلے کے لحاظ سے خوب اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں
En
اور ہدایت یافتہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت میں بڑھاتا ہے، اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ﺛواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 76) ➊ {وَ يَزِيْدُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اهْتَدَوْا هُدًى:} یعنی جس طرح گمراہوں کو ڈھیل دیتا ہے اور وہ بدی کے راستے میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اسی طرح ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی مزید نیک کام کرنے کی توفیق دیتا جاتا ہے، جس سے وہ اس کی خوشنودی کے راستوں پر بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ پھر ایمان کے بعد اخلاص کی دولت سے نوازنا بھی {زَادَهُمْ هُدًي} (انھیں ہدایت کی مزید توفیق دینا) میں داخل ہے۔ (کبیر)
➋ {وَ الْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ کہف کی آیت (۴۶)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

76۔ 1 اس میں ایک دوسرے اصول کا ذکر ہے جس طرح قرآن سے، جن کے دلوں میں کفر اور شرک و ضلالت کا روگ ہے۔ ان کی بدبختی و ضلالت میں اور اضافہ ہوجاتا ہے، اسی طرح اہل ایمان کے دل ایمان و ہدایت میں اور پختہ ہوجاتے ہیں۔ 76۔ 2 اس میں فقرا مسلمین کو تسلی ہے کہ کفار و مشرکین جن مال و اسباب پر فخر کرتے ہیں، وہ سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے اور تم جو نیک اعمال کرتے ہو، یہ ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں۔ جن کا اجر وثواب تمہیں اپنے رب کے ہاں ملے گا۔ اور ان کا بہترین صلہ اور نفع تمہاری طرف لوٹے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

76۔ اور جو لوگ راہ راست پر چلتے ہیں اللہ انھیں مزید ہدایت [68] عطا کرتے ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں ہی آپ کے پروردگار کے نزدیک ثواب [69] اور انجام کے لحاظ سے بہتر ہیں۔
[68] ہر واقعہ مومن کی ہدایت میں اضافہ کرتا ہے:۔
کافروں کی تو خوشحالی سے آزمائش ہوتی ہے اور ہر نعمت اور خوشحالی کے موقعہ پر ان کی گمراہی میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس مومنوں کے لئے ہر آزمائش مزید ہدایت کا سبب بن جاتی ہے۔ کوئی بھلائی اور نعمت ملے تو اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں اور دکھ پہنچے تو صبر و استقلال کے دامن کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ غرض ہر حال میں وہ صابر و شاکر رہتے ہیں اور ہر نیا واقعہ وہ جیسا بھی ہو، ان کی مزید ہدایت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
[69] اس کی تشریح کے لئے سورۃ کہف کی آیت نمبر 46 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

گمراہوں کی گمراہی میں ترقی ٭٭
جس طرح گمراہوں کی گمراہی بڑھتی رہتی ہے، اسی طرح ہدایت والوں کی ہدایت بڑھتی رہتی ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ» الخ ۱؎ [9-التوبة:124]‏‏‏‏ ’ جہاں کوئی سورت اترتی ہے تو بعض لوگ کہنے لگتے ہیں، تم میں سے کس کو اس نے ایمان میں زیادہ کر دیا؟ ‘ الخ۔
باقیات صالحات کی پوری تفسیر ان ہی لفظوں کی تشریح میں سورۃ الکہف میں گزر چکی ہے۔ یہاں فرماتا ہے کہ ’ یہی پائیدار نیکیاں جزا اور ثواب کے لحاظ سے اور انجام اور بدلے کے لحاظ سے نیکوں کے لیے بہتر ہیں ‘۔
عبدالرزاق میں ہے کہ { ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک خشک درخت تلے بیٹھے ہوئے تھے اس کی شاخ پکڑ کر ہلائی تو سوکھے پتے جھڑنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دیکھو اسی طرح انسان کے گناہ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ وَاُ اَکْبَرُ سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُِِ» کہنے سے جھڑتے ہیں۔ اے ابودرداء ان کا ورد رکھ اس سے پہلے کہ وہ وقت آئے کہ تو انہیں نہ کہہ سکے، یہی باقیات صالحات ہیں، یہی جنت کے خزانے ہیں }۔ اس کو سن کر ابودرداء کا یہ حال تھا کہ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ واللہ میں تو ان کلمات کو پڑھتا ہی رہوں گا، کبھی ان سے زبان نہ روکوں گا گو لوگ مجھے مجنون کہنے لگیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3813،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث دوسری سند سے ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد، کہ وہ ظالموں کی گمراہی کو اور زیادہ کر دیتا ہے یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں، اپنے فضل و کرم اور رحمت سے مزید اضافہ کر دیتا ہے… اور ہدایت، علم نافع اور عمل صالح دونوں کو شامل ہے۔ پس ہر وہ شخص جو علم و ایمان اور عمل صالح کے راستے پرگامزن ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اور زیادہ علم و ایمان عطا کرتا ہے اور اس راستے میں اس کے لیے آسانی کر دیتا ہے اور اسے بعض ایسے امور عطا کرتا ہے جو اس کے اپنے کسب کے تحت نہیں آتے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے جیسا کہ سلف صالح کا قول ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے۔ ﴿ وَیَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا (المدثر:74؍31) تاکہ جو لوگ ایمان لائے ان کے ایمان میں اضافہ ہو۔ نیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ ﴿ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا (الانفال:8؍2) جب ان کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔ نیز واقعات بھی اس پر دلالت کرتے ہیں کیونکہ ایمان دل اور زبان کے قول اور دل، زبان اور اعضاء کے عمل کا نام ہے اور ان امور میں تمام اہل ایمان ایک دوسرے سے بہت زیادہ متفاوت ہیں۔
پھر فرمایا: ﴿ وَالْبٰؔقِیٰؔتُ الصّٰؔلِحٰؔتُ یعنی باقی رہنے والے وہ اعمال جو کبھی منقطع نہیں ہوتے جبکہ دیگر اعمال منقطع ہو جاتے ہیں اور جو مضمحل نہیں ہوتے، یہ نیک اعمال ہیں، مثلاً: نماز، زکٰوۃ، روزہ، حج، عمرہ، قراء ت قرآن، تسبیح و تکبیر، تحمید و تہلیل مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور دیگر تمام اعمال قلب اور اعمال بدن وغیرہ۔ پس یہ تمام اعمال ﴿ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابً٘ا وَّخَیْرٌ مَّرَدًّا یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں ان اعمال کا بہتر اجروثواب ہے، اہل اعمال کے لیے ان اعمال کا فائدہ اور اجر بہت زیادہ ہے۔ یہ اسم تفضیل کو کسی اور جگہ استعمال کرنے کے باب میں ہے کیونکہ وہاں باقیات صالحات کے سوا کوئی عمل صاحب عمل کو کوئی فائدہ دے گا نہ اس کا ثواب صاحب عمل کے لیے باقی رہے گا۔ یہاں باقیات صالحات کو ذکر کرنے کی مناسبت یہ ہے (واللّٰہ اعلم) چونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ ظالم کفار اپنے مال و اولاد اور حسن مقام وغیرہ کے دنیاوی احوال کو اپنے حسن حال کی علامت قرار دیتے ہیں، اس لیے یہاں آگاہ فرمایا کہ معاملہ اس طرح نہیں جس طرح وہ سمجھتے ہیں بلکہ عمل، جو سعادت کا عنوان اور فلاح کا منشور ہے، ان امور کی تعمیل ہے جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور ان پر راضی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر أنه يُمِدُّ للظالمين في ضلالهم؛ ذَكَرَ أنَّه يزيد المهتدين هدايةً من فضلِهِ عليهم ورحمتِهِ، والهدى يشمَلُ العلم النافع والعمل الصالح؛ فكلُّ مَنْ سَلَكَ طريقاً في العلم والإيمان والعمل الصالح؛ زاده الله منه، وسهَّله عليه، ويسَّره له، ووهب له أموراً أخر لا تدخُلُ تحت كسبِهِ، وفي هذا دليلٌ على زيادة الإيمان ونقصه؛ كما قاله السلف الصالح.

ويدلُّ عليه قوله تعالى: {ليزدادَ الذين آمنوا إيماناً}، {وإذا تُلِيَتْ عليهم آياتُهُ زادتْهم إيماناً}. ويدلُّ عليه أيضاً الواقع؛ فإنَّ الإيمان قولُ القلب واللسان وعملُ القلب واللسان والجوارح، والمؤمنون متفاوتون في هذه الأمور أعظم تفاوتٍ.

ثم قال: {والباقياتُ الصالحاتُ}؛ أي: الأعمال الباقية التي لا تنقطع إذا انقطع غيرها، ولا تضمحلُّ هي الصالحاتُ منها؛ من صلاة وزكاة وصوم وحجٍّ وعمرة وقراءة وتسبيح وتكبير وتحميد وتهليل وإحسانٍ إلى المخلوقين وأعمال قلبيَّة وبدنيَّة؛ فهذه الأعمال {خيرٌ عند ربِّك ثواباً وخيرٌ مَرَدًّا}؛ أي: خيرٌ عند الله ثوابها وأجرها، وكثيرٌ للعاملين نفعها وردُّها، وهذا من باب استعمال أفعل التفضيل في غير بابه؛ فإنَّه ما ثَمَّ غيرُ الباقيات الصالحات عملٌ ينفع ولا يبقى لصاحبِهِ ثوابُهُ ولا ينجَعُ، ومناسبتُهُ ذكر الباقيات الصالحات. والله أعلم: أنَّه لما ذَكَرَ أنَّ الظالمين جعلوا أحوال الدُّنيا من المال والولد وحسن المقام ونحو ذلك علامةً لحسن حال صاحبها؛ أخبر هنا أنَّ الأمر ليس كما زعموا، بل العمل الذي هو عنوانُ السعادةِ ومنشورُ الفلاح، هو العملُ بما يحبُّه الله ويرضاه.