کہہ دے جو شخص گمراہی میں پڑا ہو تو لازم ہے کہ رحما ن اسے ایک مدت تک مہلت دے، یہا ںتک کہ جب وہ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے، یا تو عذاب اور یا قیامت کو، تو ضرور جان لیں گے کہ کون ہے جو مقام میں زیادہ برا اور لشکر کے اعتبار سے زیادہ کمزور ہے۔
En
کہہ دو کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے خدا اس کو آہستہ آہستہ مہلت دیئے جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے خواہ عذاب اور خواہ قیامت۔ تو (اس وقت) جان لیں گے کہ مکان کس کا برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے
کہہ دیجئے! جو گمراہی میں ہوتا اللہ رحمنٰ اس کو خوب لمبی مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ وه ان چیزوں کو دیکھ لیں جنکا وعده کیے جاتے ہیں یعنی عذاب یا قیامت کو، اس وقت ان کو صحیح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ کون برے مرتبے واﻻ اور کس کا جتھا کمزور ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی باطل دلیل کا ذکر کیا جو ان کے عناد کی شدت اور گمراہی کی قوت پر دلالت کرتی ہے، وہاں اس نے یہ بھی آگاہ فرما دیا کہ جو کوئی گمراہی میں مستغرق اور اس پر راضی ہے اور گمراہی کے لیے کوشاں رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی گمراہی کو اور زیادہ کر دیتا ہے اور گمراہی کے لیے اس کی چاہت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ یہ اس کے لیے اس جرم کی سزا ہے کہ اس نے ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی کو اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَنُقَلِّبُاَفْــِٕدَتَهُمْوَاَبْصَارَهُمْكَمَالَمْیُؤْمِنُوْابِهٖۤاَوَّلَمَرَّةٍوَّنَذَرُهُمْفِیْطُغْیَانِهِمْیَعْمَهُوْنَ﴾ (الانعام:6؍110) ”اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے تو جیسے یہ پہلی مرتبہ ایمان نہ لائے تھے (ویسے پھر ایمان نہ لائیں گے) اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیں گے۔“
﴿حَتّٰۤىاِذَارَاَوْا ﴾”یہاں تک کہ جب وہ لوگ دیکھیں گے“ جو کہتے تھے: ”دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بہتر ہے مقام کے لحاظ سے اور کس کی مجلس اچھی ہے؟“﴿ مَایُوْعَدُوْنَاِمَّاالْعَذَابَ ﴾”جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا یا تو عذاب“ یعنی قتل وغیرہ کے ذریعے ان کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ ﴿وَاِمَّاالسَّاعَةَ﴾”اور یا قیامت“ جو اعمال کی جزا کا دروازہ ہے۔ ﴿ فَسَیَعْلَمُوْنَ۠مَنْهُوَشَرٌّمَّكَانًاوَّاَضْعَفُجُنْدً ﴾”پس عنقریب وہ جان لیں گے کہ کون بدتر ہے مقام کے لحاظ سے اور زیادہ کمزور ہے جتھے کے اعتبار سے۔“ یعنی اس وقت ان کے دعوے کا بطلان ظاہر ہو گا تب یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ ان کا دعویٰ کس قدر کمزور تھا اور انھیں یقین ہو جائے گا کہ واقعی وہ بدکار لوگ تھے۔ مگر یہ علم انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا کیونکہ اب ان کا دنیا میں واپس جانا ممکن نہیں کہ وہاں وہ پہلے اعمال کے برعکس اعمال بجا لائیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر دليلهم الباطل الدالَّ على شدَّة عنادهم وقوَّة ضلالهم؛ أخبر هنا أنَّ مَن كان في الضلالة؛ بأن رَضِيَها لنفسه، وسعى فيها؛ فإنَّ الله يمدُّه منها ويزيدُه فيها حبًّا؛ عقوبةً له على اختيارها على الهدى؛ قال تعالى: {فلمَّا زاغوا أزاغَ الله قلوبَهم}، {ونقلِّبُ أفئِدَتَهم وأبصارَهم كما لم يُؤْمِنوا به أوَّلَ مرَّةٍ ونذَرُهم في طغيانِهِم يعمهونَ}. {حتَّى إذا رأوا}؛ أي: القائلون: {أيُّ الفريقين خيرٌ مقاماً وأحسنُ نَدِيًّا}، {ما يوعدون إمَّا العذابَ}: بقتل أو غيره، {وإمَّا الساعة}: التي هي بابُ الجزاء على الأعمال. {فسيعلمونَ من هو شَرٌّ مكاناً وأضعفُ جُنداً}؛ أي: فحينئذٍ يتبيَّن لهم بطلانُ دعواهم، وأنَّها دعوى مضمحلَّة، ويتيقَّنون أنَّهم أهل الشرِّ وأضعفُ جنداً، ولكنْ لا يُفيدُهم هذا العلم شيئاً؛ لأنَّه لا يمكنهم الرجوع إلى الدُّنيا فيعملون غير عملهم الأول.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔