(آیت 36){ وَاِنَّاللّٰهَرَبِّيْوَرَبُّكُمْ …:} یہ گود میں عیسیٰ علیہ السلام کے کلام کا آخری حصہ اور خلاصہ ہے۔ اس کا عطف {”قَالَاِنِّيْعَبْدُاللّٰهِ“} پر ہے، یعنی انھوں نے کہا کہ بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس کے بعد اللہ کی عطا کردہ نعمتیں بیان کیں، درمیان میں {”ذٰلِكَعِيْسَىابْنُمَرْيَمَ“} سے {”كُنْفَيَكُوْنُ“} تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے جملہ معترضہ ہے، پھر عیسیٰ علیہ السلام کی اس بات {”وَاِنَّاللّٰهَرَبِّيْوَرَبُّكُمْ …“} پر ان کا کلام مکمل ہوتا ہے۔ یعنی عبادت اسی کا حق ہے جو ہمارا رب ہے، میری اور تمھاری پرورش کرنے والا ہے، سو اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
36۔ اور (آپ انھیں بتائیں کہ) اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے لہذا اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بارے میں آگاہ فرمایا کہ وہ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں جس طرح دوسری مخلوق ہے۔ فرمایا: ﴿ وَاِنَّاللّٰهَرَبِّیْوَرَبُّكُمْ ﴾”بے شک اللہ رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا“ جس نے ہمیں پیدا کیا، ہماری صورت گری کی، ہم میں اس کی تدبیر نافذ ہوئی اور ہم میں اس کی تقدیر نے تصرف کیا۔ ﴿فَاعْبُدُوْهُ ﴾”پس تم اسی کی عبادت کرو“ یعنی عبادت کو صرف اسی کے لیے خالص کرو اور اس کی طرف انابت اور رجوع میں جدوجہد کرو۔ اس میں توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا اقرار اور توحید ربوبیت کے ذریعے سے توحید الوہیت پر استدلال ہے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿هٰؔذَاصِرَاطٌمُّسْتَقِیْمٌ ﴾”یہ ہے راستہ سیدھا“ یعنی یہی اعتدال کا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے کیونکہ یہ انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کا راستہ ہے اس کے سوا ہر راستہ گمراہی کا راستہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا أخبر عيسى أنَّه عبدٌ مربوب كغيره، فقال: {وإنَّ الله ربِّي وربُّكم}: الذي خلقنا وصوَّرنا ونَفَذَ فينا تدبيرُه وصَرَفَنا تقديرُه. {فاعبدوه}؛ أي: أخلصوا له العبادة واجتهدوا في الإنابة. وفي هذا الإقرار بتوحيد الربوبيَّة وتوحيد الإلهيَّة والاستدلال بالأول على الثاني، ولهذا قال: {هذا صراطٌ مستقيمٌ}؛ أي: طريق معتدلٌ موصلٌ إلى الله؛ لكونِهِ طريق الرسل وأتباعهم، وما عدا هذا؛ فإنَّه من طرق الغيِّ والضَّلال.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔