تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 36

وَ اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۳۶﴾
اور بے شک اللہ ہی میرا رب اور تمھارا رب ہے، سو اس کی عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔ En
اور بےشک خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے
En
میرا اور تم سب کا پروردگار صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم سب اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راه ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بارے میں آگاہ فرمایا کہ وہ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں جس طرح دوسری مخلوق ہے۔ فرمایا: ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَرَبُّكُمْ بے شک اللہ رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا جس نے ہمیں پیدا کیا، ہماری صورت گری کی، ہم میں اس کی تدبیر نافذ ہوئی اور ہم میں اس کی تقدیر نے تصرف کیا۔ ﴿فَاعْبُدُوْهُ پس تم اسی کی عبادت کرو یعنی عبادت کو صرف اسی کے لیے خالص کرو اور اس کی طرف انابت اور رجوع میں جدوجہد کرو۔ اس میں توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا اقرار اور توحید ربوبیت کے ذریعے سے توحید الوہیت پر استدلال ہے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ یہ ہے راستہ سیدھا یعنی یہی اعتدال کا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے کیونکہ یہ انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کا راستہ ہے اس کے سوا ہر راستہ گمراہی کا راستہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا أخبر عيسى أنَّه عبدٌ مربوب كغيره، فقال: {وإنَّ الله ربِّي وربُّكم}: الذي خلقنا وصوَّرنا ونَفَذَ فينا تدبيرُه وصَرَفَنا تقديرُه. {فاعبدوه}؛ أي: أخلصوا له العبادة واجتهدوا في الإنابة. وفي هذا الإقرار بتوحيد الربوبيَّة وتوحيد الإلهيَّة والاستدلال بالأول على الثاني، ولهذا قال: {هذا صراطٌ مستقيمٌ}؛ أي: طريق معتدلٌ موصلٌ إلى الله؛ لكونِهِ طريق الرسل وأتباعهم، وما عدا هذا؛ فإنَّه من طرق الغيِّ والضَّلال.