تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا …: ” فَوَيْلٌ “} پر تنوین (تہویل) یعنی اس کی ہولناکی کے اظہار کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی ہلاکت“ کیا ہے۔ {” مَشْهَدِ “} یہاں راجح قول میں مصدر میمی ہے، یعنی اس عظیم دن میں حاضری کی وجہ سے ان لوگوں کے لیے بہت بڑی ہلاکت ہے جنھوں نے کفر کیا، اگر اس دن کی حاضری نہ ہوتی تو یہ لوگ اس ہلاکت سے بچ جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف ”ان لوگوں کے لیے “ کہنے کے بجائے صراحت سے فرمایا: ”ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا بہت بڑی ہلاکت ہے۔“ معلوم ہوا کہ اس ویل کا باعث کفر ہے۔ یوم عظیم پچاس ہزار سال کا دن (معارج: ۴) اور اللہ کے سامنے حساب کے لیے پیش ہونے کا دن ہے۔ [اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا یَّسِیْرًا]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما بيَّن تعالى حال عيسى ابن مريم الذي لا يُشَكُّ فيها ولا يُمترى؛ أخبر أنَّ الأحزاب؛ أي: فرق الضلال من اليهود والنصارى وغيرهم على اختلاف طبقاتهم اختلفوا في عيسى عليه السلام؛ فمن غالٍ فيه وجافٍ؛ فمنهم من قالَ: إنه الله! ومنهم من قال: إنه ابن الله! ومنهم من قال: إنه ثالثُ ثلاثة! ومنهم من لم يجعلْه رسولاً، بل رماه بأنَّه ولد بغيٍّ كاليهود! وكل هؤلاء أقوالهم باطلةٌ، وآراؤهم فاسدةٌ مبنيَّة على الشكِّ والعناد والأدلَّة الفاسدة والشُّبه الكاسدة، وكلُّ هؤلاء مستحقُّون للوعيد الشديد، ولهذا قال: {فويلٌ للذين كفروا}: بالله ورسله وكتبه، ويدخُلُ فيهم اليهودُ والنصارى، القائلون بعيسى قول الكفر، {من مَشْهَدِ يوم عظيم}؛ أي: مشهد يوم القيامة، الذي يشهدُهُ الأوَّلون والآخرون، أهل السماوات وأهل الأرض، الخالق والمخلوق، الممتلئ بالزلازل والأهوال، المشتمل على الجزاء بالأعمال؛ فحينئذٍ يتبيَّن ما كانوا يُخفون، ويبُدون، وما كانوا يكتمون.