ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 99

وَ تَرَکۡنَا بَعۡضَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ یَّمُوۡجُ فِیۡ بَعۡضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰہُمۡ جَمۡعًا ﴿ۙ۹۹﴾
اور اس دن ہم ان کے بعض کو چھوڑیں گے کہ بعض میں ریلا مارتے ہوں گے اور صور میں پھونکا جائے گا تو ہم ان کو جمع کریں گے، پوری طرح جمع کرنا۔ En
(اس روز) ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ (روئے زمین پر پھیل کر) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو جمع کرلیں گے
En
اس دن ہم انہیں آپس میں ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوتے ہوئے چھوڑ دیں گے اور صور پھونک دیا جائے گا پس سب کو اکٹھا کرکے ہم جمع کر لیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 99) ➊ {وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ يَّمُوْجُ فِيْ بَعْضٍ:} اس دن سے مراد یہ ہے کہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی دیوار کے مسمار ہونے کے وقت یاجوج ماجوج سمندر کی موجوں کی طرح بے حساب تعداد میں یلغار کرتے ہوئے نکلیں گے۔ اسی کیفیت کو «{ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ [الأنبیاء: ۹۶] میں بیان کیا گیا ہے۔
➋ {وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًا: الصُّوْرِ } سے مراد وہ سینگ ہے جس میں فرشتہ پھونک مارے گا تو حشر برپا ہو جائے گا۔ یہ تفسیر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلصُّوْرُ قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيْهِ] [أبوداوٗد، السنۃ، باب في ذکر البعث والصور: ۴۷۴۲۔ الصحیحۃ: ۱۰۸۰] صور وہ قرن ہے جس میں پھونکا جائے گا۔ اس آیت میں مذکور نفخہ سے مراد دوسرا نفخہ ہے جس سے سب لوگ قبروں سے نکل کر میدان حشر میں جمع ہو جائیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

99۔ اس دن ہم لوگوں کو کھلا چھوڑ دیں گے کہ وہ ایک دوسرے [82] سے گتھم گتھا ہو جائیں اور صور پھونکا جائے گا پھر ہم سب لوگوں کو اکٹھا کر دیں گے
[82] اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب دیوار ذو القرنین پیوند خاک ہو جائے گی تو یاجوج ماجوج سمندر کی موجوں کی طرح بے شمار تعداد میں ٹھاٹھیں مارتے ہوئے نکلیں گے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن نفخہ صور ثانی ہو گا تو لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کر موجوں کی طرح ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اس کے بعد سب اللہ کے سامنے میدان حشر میں اکٹھے کیے جائیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔