تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّيْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ …:} ذوالقرنین کی اس بات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ساری دنیا کی بادشاہت ملنے کے باوجود آخرت کی فکر ہر وقت رہنی چاہیے، کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اس وعدے سے مراد قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کے نکلنے کا وقت ہے، جیسا کہ سورۂ انبیاء (۹۶، ۹۷) میں ہے۔ زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [اِسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّوْمِ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ وَهُوَ يَقُوْلُ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ مِثْلُ هٰذِهِ وَعَقَدَ سُفْيَانُ تِسْعِيْنَ أَوْ مِائَةً قِيْلَ أَنَهْلِكُ وَفِيْنَا الصَّالِحُوْنَ؟ قَالَ نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ] [بخاری، الفتن، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ویل للعرب…: ۷۰۵۹]”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے لا الٰہ الا اللہ کہتے ہوئے بیدار ہوئے، جب کہ آپ کا چہرہ سرخ تھا، فرمایا: ”عرب کے لیے بہت بڑی تباہی ہے اس شر سے جو بہت قریب آ گیا ہے، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا حصہ کھول دیا گیا۔“ اور سفیان نے نوے (۹۰) یا سو (۱۰۰) کی گرہ بنائی، یعنی انگوٹھے اور شہادت کی انگلی ملا کر گول دائرہ بنا کر دکھایا۔ پوچھا گیا: ”کیا ہم اپنے آپ میں صالحین کے موجود ہوتے ہوئے ہلاک ہو جائیں گے؟“ فرمایا: ”ہاں، جب برائی زیادہ ہو جائے گی۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ بھی اسے لائے ہیں اور فرمایا ہے یہ روایت غریب ہے سوائے اس سند کے مشہور نہیں۔ اس کی سند بہت قوی ہے لیکن اس کا متن نکارت سے خالی نہیں۔ اس لیے کہ آیت کے ظاہری الفاظ صاف ہیں کہ نہ وہ چڑھ سکتے ہیں نہ سوراخ کر سکتے ہیں کیونکہ دیوار نہایت مضبوط، بہت پختہ اور سخت ہے۔
اس دیوار کو بنا کر ذوالقرنین اطمینان کا سانس لیتے ہیں اور اللہ کا شکر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ لوگو یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے ان شریروں کی شرارت سے مخلوق کو اب امن دے دیا، ہاں جب اللہ کا وعدہ آ جائے گا تو اس کا ڈھیر ہو جائے گا۔ یہ زمین دوز ہو جائے گی۔ مضبوطی کچھ کام نہ آئے گی۔ اونٹنی کا کوہان جب اس کی پیٹھ سے ملا ہوا ہو تو عرب میں اسے «ناقتہ دکاء» کہتے ہیں۔ قرآن میں اور جگہ ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام کے سامنے پہاڑ پر رب نے تجلی کی تو وہ پہاڑ زمین دوز ہو گیا وہاں بھی لفظ «جعلہ دکاء» ہے۔ پس قریب بہ قیامت یہ دیوار پاش پاش ہو جائے گی اور ان کے نکلنے کا راستہ بن جائے گا۔ اللہ کے وعدے اٹل ہیں، قیامت کا آنا یقینی ہے۔ اس دیوار کے ٹوٹتے ہی یہ لوگ نکل پڑیں گے اور لوگوں میں گھس جائیں گے، اپنوں بیگانوں کی تمیز اٹھ جائے گی۔ یہ واقعہ دجال کے آجانے کے بعد قیامت کے قیام سے پہلے ہو گا۔ اس کا پورا بیان آیت «اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ» [21- الأنبياء: 96] کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ۔
طبرانی میں ہے کہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، یاجوج ماجوج آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں، اگر وہ چھوڑ دئے جائیں تو دنیا کی معاش میں فساد ڈال دیں، ایک ایک اپنے پیچھے ہزار ہزار بلکہ زیادہ چھوڑ کر مرتا ہے، پھر ان کے سوا تین امتیں اور ہیں تاویل، مارس اور منسک۔ [طبرانی اوسط:8598:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے بلکہ منکر اور ضعیف ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما فَعَلَ هذا الفعل الجميل والأثر الجليل؛ أضاف النعمةَ إلى موليها، وقال: {هذا رحمةٌ من ربِّي}؛ أي: من فضله وإحسانه عليَّ، وهذه حال الخلفاء والصالحين إذا منَّ الله عليهم بالنِّعم الجليلة؛ ازدادَ شكرُهُم وإقرارُهُم واعترافُهم بنعمة الله؛ كما قال سليمانُ عليه السلام لما حَضَرَ عنده عرشُ ملكة سبأ مع البعد العظيم؛ قال: {هذا من فضل ربِّي لِيَبْلُوَني أأشكُرُ أم أكْفُرُ}؛ بخلاف أهل التجبُّر والتكبُّر والعلوِّ في الأرض؛ فإنَّ النعم الكبار تزيدُهم أشراً وبطراً؛ كما قال قارونُ لما آتاه الله من الكنوز ما إنَّ مفاتِحَهُ لتنوءُ بالعُصْبَةِ أولي القوَّة؛ قال: {إنَّما أوتيتُهُ على علم عندي}. وقوله: {فإذا جاء وعدُ ربِّي}؛ أي: لخروج يأجوج ومأجوج. {جَعَلَه}؛ أي: ذلك السدَّ المحكم المتقن {دَكَّاءَ}؛ أي: دكَّه فانهدم، واستوى هو والأرض، {وكان وعدُ ربِّي حقًّا}.