ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 82

وَ اَمَّا الۡجِدَارُ فَکَانَ لِغُلٰمَیۡنِ یَتِیۡمَیۡنِ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ وَ کَانَ تَحۡتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَ کَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنۡ یَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّہُمَا وَ یَسۡتَخۡرِجَا کَنۡزَہُمَا ٭ۖ رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ۚ وَ مَا فَعَلۡتُہٗ عَنۡ اَمۡرِیۡ ؕ ذٰلِکَ تَاۡوِیۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَیۡہِ صَبۡرًا ﴿ؕ٪۸۲﴾
اور رہ گئی دیوار تو وہ شہر میں دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کے لیے ایک خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا تو تیرے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور اپنا خزانہ نکال لیں، تیرے رب کی طرف سے رحمت کے لیے اور میں نے یہ اپنی مرضی سے نہیں کیا۔ یہ ہے اصل حقیقت ان باتوں کی جن پر تو صبر نہیں کرسکا۔ En
اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی (جو) شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے
En
دیوار کا قصہ یہ ہے کہ اس شہر میں دو یتیم بچے ہیں جن کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن ہے، ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا تو تیرے رب کی چاہت تھی کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کی عمر میں آکر اپنا یہ خزانہ تیرے رب کی مہربانی اور رحمت سے نکال لیں، میں نے اپنی رائے سے کوئی کام نہیں کیا، یہ تھی اصل حقیقت ان واقعات کی جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 82) ➊ { وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا:} اللہ تعالیٰ اپنے صالح بندوں کی وفات کے بعد بھی ان کی مومن اولاد کی خاص نگہداشت فرماتا ہے اور قیامت کو بھی انھیں خاص رعایت دے گا۔ دیکھیے سورۂ طور (۲۱)۔
➋ ان تینوں واقعات کی اصل حقیقت بیان کرتے ہوئے خضر علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ادب کو خاص طور پر ملحوظ رکھا ہے۔ کشتی کو عیب دار کرنے کی نسبت اپنی طرف کی ہے، لڑکے کے قتل کے ارادہ کی نسبت اپنی طرف اور اس کے صالح باپ کو بہتر اولاد عطا کرنے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی ہے اور یتیم لڑکوں کے بالغ ہو کر اپنا خزانہ سنبھالنے کے ارادہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی ہے۔
➌ {وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِيْ:} یہ خضر علیہ السلام کے نبی ہونے کی واضح دلیل ہے، کیونکہ کسی ولی کو اللہ کی طرف سے الہام کی بنا پر کسی بد سے بد کو بھی قتل کرنے کی اجازت نہیں، کیونکہ اس کے الہام میں شیطان دخیل ہو سکتا ہے۔ { لَمْ تَسْطِعْ } اصل میں { لَمْ تَسْتَطِعْ} تھا، تخفیف کے لیے تاء کو حذف کر دیا۔ خضر علیہ السلام کے کلام کی ابتدا میں { لَمْ تَسْتَطِعْ} ہے، کیونکہ وہاں بات شروع ہو رہی ہے، اختصار کی ضرورت نہیں، بات ختم ہونے پر قصہ مختصر کیا جاتا ہے، اس لیے یہاں { لَمْ تَسْطِعْ } فرمایا۔ ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی بوجھ تھا تو ثقیل لفظ بولا اور وضاحت کے بعد بوجھ اتر جانے پر خفیف لفظ بولا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

82۔ 1 حضرت خضر کی نبوت کے قائلین کی یہ دوسری دلیل ہے جس سے وہ نبوت خضر کا اثبات کرتے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی غیر نبی کے پاس اس قسم کی وحی نہیں آتی کہ وہ اتنے اتنے اہم کام کسی اشارہ غیبی پر کر دے، نہ کسی غیر نبی کا ایسا اشارہ غیبی قابل عمل ہی ہے۔ نبوت خضر کی طرح حیات خضر بھی ایک حلقے میں مختلف ہے اور حیات خضر کے قائل بہت سے لوگوں کی ملاقاتیں حضرت خضر سے ثابت کرتے ہیں اور پھر ان سے ان کے اب تک زندہ ہونے پر دلیل پیش کرتے ہیں لیکن جس طرح حضرت خضر کی زندگی پر کوئی آیت شرعی نہیں ہے، اسی طریقے سے لوگوں کے مکاشفات یا حالت بیداری یا نیند میں حضرت خضر سے ملنے کے دعوے بھی قابل تسلیم نہیں۔ جب ان کا حلیہ ہی معقول ذرائع سے بیان نہیں کیا گیا ہے تو ان کی شناخت کس طرح ممکن ہے؟ اور کیوں کر یقین کیا جاسکتا ہے، کہ جن بزرگوں نے ملنے کے دعوے کئے ہیں، واقعی ان کی ملاقات خضر، موسیٰ ؑ سے ہی ہوئی ہے، خضر کے نام سے انھیں کسی نے دھوکہ اور فریب نے مبتلا نہیں کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

82۔ اور دیوار کی بات یہ ہے کہ وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو اس شہر میں رہتے تھے۔ اس دیوار کے نیچے ان کے لئے خزانہ مدفون تھا اور ان کا باپ ایک صالح آدمی تھا۔ لہذا آپ کے پروردگار نے چاہا کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کو پہنچ کر اپنا [70] خزانہ نکال لیں۔ یہ جو کچھ میں نے کیا، سب آپ کے پروردگار کی رحمت تھی۔ میں نے اپنے اختیار [71] سے کچھ بھی نہیں کیا۔ یہ ہے ان باتوں کی حقیقت جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔
[70] یعنی اگر دیوار کسی وقت گر پڑتی تو خزانہ ظاہر ہو جاتا بدنیت لوگ اس پر قبضہ کر لیتے یا اٹھا لے جاتے اور ان یتیموں کے ہاتھ کچھ بھی نہ لگتا۔ اب یہ بڑے ہو کر خود اپنے باپ کی دفن شدہ دولت نکال کر اپنے استعمال میں لا سکیں گے۔
اللہ تعالیٰ کی مصلحتیں اللہ ہی جانتا ہے:۔
مندرجہ بالا تینوں واقعات سے در اصل مشیئت الٰہی کے کاموں میں پوشیدہ حکمتوں پر روشنی پڑتی ہے پہلا کام یہ تھا کہ کشتی والوں نے سیدنا موسیٰؑ و سیدنا خضر دونوں کو پردیسی سمجھ کر ان سے کرایہ نہیں لیا اور کشتی میں سوار کر لیا۔ جس کے صلہ میں سیدنا خضر نے ایسا کام کیا جو بظاہر غلط معلوم ہوتا تھا لیکن حقیقت میں سیدنا خضر نے ان سے بہت بڑی خیر خواہی کی اور ان کے احسان کا اس طرح بدلہ چکایا کہ انھیں بہت بڑے نقصان سے بچا لیا اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ کسی نقصان پر بے صبر نہ ہونا چاہیے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس نقصان میں بھی اللہ نے اس کے لیے کون سے اور کتنے بڑے فائدے کو پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔ دوسرا واقعہ صدمہ کے لحاظ سے پہلے واقعہ سے شدید تر ہے لیکن اس میں جو اللہ کی مصلحت پوشیدہ تھی وہ بھی منفعت کے لحاظ سے پہلے واقعہ کی نسبت بہت زیادہ تھی اور دونوں واقعات سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ مصائب پر ایک مسلمان کو صبر کرنا چاہیے اور اللہ کی مشیئت پر راضی رہنا چاہیے اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ جتنی مصیبت پر صبر کیا تھا اسی کے مطابق اللہ اس کا اجر اور نعم البدل عطا فرماتا ہے۔ تیسرے واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی نیک آدمی کی رفاقت کے بعد بھی اللہ تعالیٰ اس کا اچھا بدلہ اس کی اولاد کو دیا کرتا ہے۔ مرنے والا چونکہ نیک انسان تھا لہٰذا اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ اس کا مدفون خزانہ یا ورثہ دوسرے لوگ نہ اڑا لے جائیں، بلکہ اس کی اولاد کے ہی حصہ میں آئے۔
[71] خضر کون تھے؟
یہ سوال مختلف فیہ رہا ہے کہ سیدنا خضر کون اور کیا تھے؟ بعض علماء انھیں نبی تسلیم کرتے ہیں بعض ولی اور بعض ولی بھی نہیں سمجھتے بلکہ ایک فرشتہ سمجھتے ہیں جن کا شمار مدبرات امر میں ہوتا ہے اب ہمیں یہ جائزہ لینا ہے کہ ان میں کون سی بات درست ہو سکتی ہے۔ ہمارے خیال میں سیدنا خضر نبی نہیں تھے اور اس کی دو وجہیں ہیں۔ ایک یہ کہ بخاری کی طویل روایت کے مطابق سیدنا خضر، سیدنا موسیٰؑ سے خود فرما رہے ہیں کہ ”موسیٰ! دیکھو! اللہ تعالیٰ نے اپنے علوم میں سے ایک علم مجھے سکھایا ہے جسے آپ نہیں جانتے اور ایک علم آپ کو سکھایا ہے جسے میں نہیں جانتا لہٰذا تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے اور یہ تو ظاہر ہے کہ سیدنا موسیٰؑ کو نبوت اور شریعت کا علم سکھایا گیا تھا جسے سیدنا خضر نہیں جانتے تھے لہٰذا وہ نبی نہ ہوئے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآنی آیات کی رو سے یہ ثابت شدہ امرہے کہ انبیاء کا علم ابتدا سے ایک ہی رہا ہے اور چونکہ سیدنا خضر کا علم اس علم سے متصادم تھا لہٰذا وہ نبی نہیں تھے۔ اب اگر انھیں ولی تسلیم کر لیا جائے تو یہ باور کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں (بقول صوفیاء) کشف و الہام سے غیب کے حالات سے مطلع کر دیا ہو لیکن ولی کو یہ کب اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے علم غیب سے اطلاع کی بنا پر کسی دوسرے کی مملوکہ چیز کو تباہ کر دے یا کسی انسان کو قتل بھی کر ڈالے۔ ولی بھی آخر انسان ہے جو احکام شریعت کا مکلف ہے اور اصول شریعت میں یہ گنجائش کہیں نہیں پائی جاتی کہ کسی انسان کے لیے محض اس بنا پر احکام شرعیہ میں سے کسی حکم کی خلاف ورزی جائز ہو کہ اسے بذریعہ الہام اس کی خلاف ورزی کا حکم ملا ہے یا بذریعہ علم غیب اس خلاف ورزی کی مصلحت بتائی گئی ہے۔ صوفیاء کے نزدیک بھی کسی ایسے الہام پر عمل کرنا خود صاحب الہام تک کے لیے بھی جائز نہیں ہے جو نص شرعی کے خلاف ہو۔ لہٰذا سیدنا خضر نہ نبی تھے نہ ولی بلکہ وہ انسان کی جنس سے بھی نہ تھے ایک ظالم اور فاسق انسان ہی ایسے کام کر سکتا ہے مگر وہ تو اللہ کی ایک برگزیدہ شخصیت تھے۔ اب لامحالہ ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ ان فرشتوں میں سے تھے جو تدبیر امور کائنات پر مامور ہیں اور اس پر کئی دلائل ہیں پہلی دلیل تو ان کا اپنا یہ قول کہ: «ما فعلته عن امري» کہ یہ کام میں نے اپنی مرضی یا اختیار سے نہیں کیے بلکہ اللہ کے حکم سے کیے ہیں۔ گویا وہ خود اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ خود مختار نہیں اور یہ وہی بات ہے جسے اللہ نے فرشتوں کی صفات کے سلسلہ میں فرمایا کہ ”وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ وہ کچھ کرتے ہیں جو انھیں حکم دیا جاتا ہے“ [66: 6] اور وہ نافرمانی کر بھی نہیں سکتے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ ایسے فرشتے جب انسانی شکل میں آکر انسانوں سے ہمکلام ہوتے ہیں تو بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفات کو اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔ سیدنا جبرئیل انسانی شکل میں سیدہ مریم کے سامنے آئے تو کہا: ﴿لاهِبِ لَكِ غُلاَمًا زِكِيًّا [9: 19] (تاکہ میں تجھے ایک پاکیزہ سیرت لڑکا عطا کروں) اور یہ تو ظاہر ہے کہ لڑکا عطا کرنا تو صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کسی مخلوق کا کام نہیں اور فرشتے اللہ کی مخلوق ہیں اور یہ جملہ جو سیدنا جبرئیل نے کہا اسی لحاظ سے کہا کہ آپ اللہ کی طرف سے تدبیر امور کائنات میں سے ایک امر پر مامور تھے۔ بالکل اسی طرح سیدنا خضر بھی جب ان واقعات کی تاویل بتاتے ہیں تو کبھی کسی کام کو براہ راست اپنی طرف منسوب کرتے ہیں کسی کو اللہ کی طرف اور کسی کو دونوں کی طرف۔ پہلے واقعہ کے متعلق فرمایا: ﴿فَاَرْدَتُّ اَنْ اَعِيْبهَا یعنی میں نے ارادہ کیا کہ اس کشتی کو عیب دار بنا دوں حالانکہ آخر میں کہا کہ میں نے اپنے ارادہ و اختیار اور مرضی سے کچھ نہیں کیا اور دوسرے واقعہ کے متعلق فرمایا: ﴿فَاَرْدْنَا اَنْ يُبْدِلَهُمَا رَبّهُمَا یعنی ہم نے ارادہ کیا کہ ان والدین کا پروردگار انھیں اس لڑکے کا نعم البدل عطا فرمائے۔ یہاں ارادہ کی نسبت میں سیدنا خضر اور اللہ تعالیٰ دونوں مشترک ہیں اور تیسرے واقعہ کی نسبت صرف اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہوئے فرمایا کہ: ﴿فَاَرَادَ رَبُّكَ یعنی آپ کے پروردگار نے چاہا۔ یہ بحث الگ ہے کہ پہلے واقعہ کی نسبت سیدنا خضر نے صرف اپنی طرف، دوسرے میں دونوں کی طرف اور تیسرے میں صرف اللہ کی طرف کیوں کی؟ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ خدائی صفات کو اپنی طرف منسوب کرنا صرف ان فرشتوں کا کام ہو سکتا ہے جو تدابیر امور کائنات پر مامور ہیں کسی نبی یا ولی کے لیے ایسی نسبت کرنا قطعاً جائز نہیں ہے۔ مندرجہ بالا توجیہ میں چند اشکالات بھی پیش آتے ہیں جن کا ازالہ ضروری ہے مثلاً اللہ تعالیٰ نے سیدنا خضر کے لیے ﴿عَبْدًا مِنْ عِبَادِنَا کے الفاظ استعمال کیے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ عبد کا لفظ فرشتوں کے متعلق بھی ایسے ہی استعمال ہوتا ہے جیسے انسانوں کے متعلق، جیسے فرمایا: ﴿وَجَعَلُوا الْمَلٰئِكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبَاد الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا [43: 19] دوسرا اشکال یہ ہے کہ حدیث بالا میں سیدنا خضر کے لیے رجل کا لفظ آیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ فرشتے جب بھی انسانی شکل میں آئے تو ہمیشہ مردوں ہی کی شکل میں آتے ہیں۔ اور تیسرا اشکال یہ ہے کہ کشتی والوں نے سیدنا خضر کو پہچان کر بغیر کرایہ ہی کشتی پر سوار کر لیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کشتی کے مالکوں نے پہلے سیدنا خضر کو کہیں دیکھا تھا اور وہ ان کی نظروں میں قابل احترام بھی تھے اس بات کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ جس میں مذکور ہے کہ سیدنا خضر کا نام خضر اس لیے پڑ گیا تھا کہ وہ جہاں بیٹھتے وہاں سبزہ اگ آتا تھا۔ شاید ان کشتی والوں نے کوئی ایسا منظر دیکھ لیا ہو۔ بہرحال یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ سیدنا خضر اس علاقے کے باشندے نہ تھے ورنہ صرف اس کشتی کے مالک تو درکنار سب لوگ ہی ایسی عجوبہ روزگار شخصیت کو پہچاننے کی بجائے ٹھیک طرح جانتے ہوتے۔ ﴿والله اعلم بالصواب﴾
سیدنا خضر اور متصوفین:۔
اس واقعہ سے صدیوں بعد سیدنا خضر کے متعلق عجیب عجیب قسم کے عقائد رائج ہو گئے۔ ہمارے صوفیاء نے ان کو ولی قرار دے کر سیدنا موسیٰ کا استاد اور ان سے افضل ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ کوششیں اس وقت شروع ہوئیں جب ان میں یہ عقیدہ رائج ہوا کہ ”ولایت نبوت سے افضل ہے“ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ لوگ سیدنا خضر کو ایک زندہ جاوید ہستی تسلیم کر کے ان سے ہر وقت رہبری کے خواہاں رہتے ہیں جب تک انھیں سیدنا خضر سے ملاقات اور رہبری حاصل نہ ہو ان کی ولایت مکمل ہی نہیں ہوتی پھر سیدنا خضر کی فرضی شخصیت کے متعلق طرح طرح کے افسانے تراشے گئے جو اتنے عام ہوئے کہ ہمارے شعر و ادب میں بھی داخل ہو گئے مثلاً ایک شاعر کہتا ہے۔
تہیدستان قسمت راچہ سود از رہبر کامل
کہ خضر از آب حیوان تشنہ می آرد سکندر را
یہ شعر تو سیدنا خضر کے فیض سے متعلق تھا اب دوسرا شعر ان کی رہبری، رہنمائی اور ہدایت سے متعلق ملاحظہ فرمائیے۔ اقبال کہتا ہے:
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کشی
رستہ بھی ڈھونڈ خضر کا سودا بھی چھوڑ دے
سیدنا خضر کے متعلق عجیب و غریب عقائد:۔
البتہ علمائے حق نے اس قسم کی اوہام پرستی کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کی ہے چنانچہ دائرہ المعارف الاسلامیہ مطبوعہ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں زیر عنوان طریقت جلد 12 صفحہ 460 پر درج ہے۔ کہ ”راسخ القیدہ فقہا نے اہل تصوف کے استاد الہامی (سیدنا خضر) کے خلاف بھی آواز بلند کی ہے جس کی بنا پر سلسلہ تصوف کو ایک ایسی مقدس ہستی (سیدنا خضر) کے مظاہر سے فیضان حاصل ہوتا ہے جو پراسرار اور غیر فانی ہے یعنی الخضر جن کی ہادی طریقت کی حیثیت سے سب فرقے توقیر و تعظیم کرتے ہیں کیونکہ وہ سیدنا موسیٰؑ کے رہنما اور صوفی کی روح کو حقیقت علیا سے آشنا کرانے کے اہل ہیں یہ عقیدہ غالباً تصوف کی کسی مستند کتاب میں نہیں پایا جاتا“ پھر اسی دائرۃ المعارف میں خواجہ خضر کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ ”ہندوستان میں انھیں (سیدنا خضر کو) کنوؤں اور چشموں کی روح کا روپ سمجھا جاتا ہے۔ دریائے سندھ کے آر پار انھیں دریا کا اوتار سمجھا جاتا ہے سیدنا خضر کی خانقاہ سندھ کے ایک جزیرے میں بھکر کے پاس ہے جہاں ہر مذہب کے عقیدت مند زیارت کو جاتے ہیں۔“ [ايضاً جلد 5ص 22]
اس طرح سیدنا خضر کے نام سے شرک کا ایک دروازہ کھل گیا اور اب تو سیدنا خضر کی نماز بھی پڑھی جانے لگی ہے جس کی برکت سے سیدنا خضر سے ملاقات بھی ہو جاتی ہے۔ [تفصيل كے ليے ديكهئے تلقين مرشد كامل از صادق فرغاني ص 240]
اور بعض لوگ خواجہ خضر خواج کی نیاز دریا میں پھینکتے ہیں تاکہ کشتی یا جہاز بخیر و عافیت کنارے پر لگ جائے گویا ایسے مشرکوں کے لیے خواجہ خضر ایک مستقل اوتار یا معبود بن گیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ کی حفاظت کا ایک انداز ٭٭
اس آیت سے ثابت ہوا کہ بڑے شہر پر بھی قریہ کا اطلاق ہو سکتا ہے کیونکہ پہلے «فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ» [الکھف: 77]‏‏‏‏ فرمایا تھا اور یہاں «‏‏‏‏فِي الْمَدِينَةِ» ‏‏‏‏فرمایا۔ اسی طرح مکہ شریف کو بھی قریہ کہا گیا ہے۔ فرمان ہے «وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ» [47-محمد: 13]‏‏‏‏ الخ۔ اور آیت میں مکہ اور طائف دونوں شہروں کو قریہ فرمایا گیا ہے چنانچہ ارشاد ہے «‏‏‏‏وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ» [43- الزخرف: 31]‏‏‏‏۔ آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ اس دیوار کو درست کر دینے میں مصلحت الٰہی یہ تھی کہ یہ اس شہر کے دو یتیموں کی تھی اس کے نیچے انکا مال دفن تھا۔ ٹھیک تفسیر تو یہی ہے گو یہ بھی مروی ہے کہ وہ علمی خزانہ تھا۔ بلکہ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ جس خزانے کا ذکر کتاب اللہ میں ہے، یہ خالص سونے کی تختیاں تھیں جن پر لکھا ہوا تھا کہ تعجب ہے اس شخص پر جو تقدیر کا قائل ہوتے ہوئے اپنی جان کو محنت و مشقت میں ڈال رہا ہے اور رنج و غم برداشت کر رہا ہے۔ تعجب ہے کہ جو جہنم کے عذابوں کا ماننے والا ہے، پھر بھی ہنسی کھیل میں مشغول ہے۔ تعجب ہے کہ موت کا یقین رکھتے ہوئے غفلت میں پڑا ہوا ہے۔ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» ‏‏‏‏۔ یہ عبارت ان تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔[مسند بزار:2229:ضعیف]‏‏‏‏ لیکن اس میں ایک راوی بشر بن منذر ہیں۔ کہا گیا ہے کہ یہ مصیصہ کے قاضی تھے ان کی حدیث میں وہم ہے۔
سلف سے بھی اس بارے میں بعض آثار مروی ہیں۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، یہ سونے کی تختی تھی جس میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کے بعد قریب قریب مندرجہ بالا نصحیتں اور آخر میں کلمہ طیبہ تھا۔ عمر مولیٰ غفرہ سے بھی تقریباً یہی مروی ہے۔ امام جعفر بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں ڈھائی سطریں تھیں پوری تین نہ تھیں، الخ۔ مذکور ہے کہ یہ دونوں یتیم بوجہ اپنے ساتویں دادا کی نیکیوں کے محفوظ رکھے گئے تھے۔ جن بزرگوں نے یہ تفسیر کی ہے، وہ بھی پہلی تفسیر کے خلاف نہیں کیونکہ اس میں بھی ہے کہ یہ علمی باتیں سونے کی تختی پر لکھی ہوئی تھیں اور ظاہر ہے کہ سونے کی تختی خود مال ہے اور بہت بڑی رقم کی چیز ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
والدین کے سبب اولاد پر رحم ٭٭
اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی نیکیوں کی وجہ سے اس کے بال بچے بھی دنیا اور آخرت میں اللہ کی مہربانی حاصل کر لیتے ہیں۔ جیسے قرآن و حدیث میں صراحتا مذکور ہے دیکھئیے آیت میں ان کی کوئی صلاحیت بیان نہیں ہوئی ہاں ان کے والد کی نیک بختی اور نیک عملی بیان ہوئی ہے۔ اور پہلے گزر چکا ہے یہ باپ جس کی نیکی کی وجہ سے ان کی حفاظت ہوئی یہ ان بچوں کا ساتواں دادا تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ آیت میں ہے تیرے رب نے چاہا، یہ اسناد اللہ کی طرف اس لیے کی گئی ہے کہ جوانی تک پہنچانے پر بجز اس کے اور کوئی قادر نہیں۔ دیکھئیے بچے کی بارے میں اور کشتی کے بارے میں ارادے کی نسبت اپنی طرف کی گئی ہے «فَأَرَدْنَا» اور «فَأَرَدتُّ» کے لفظ ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتے ہیں کہ دراصل یہ تینوں باتیں جنہیں تم نے خطرناک سمجھا سراسر رحمت تھیں۔ کشتی والوں کو گو قدرے نقصان ہوا لیکن اس سے پوری کشتی بچ گئی۔ بچے کے مرنے کی وجہ سے گو ماں باپ کو رنج ہوا لیکن ہمیشہ کے رنج اور عذاب الٰہی سے بچ گئے اور پھر نیک بدلہ ہاتھوں ہاتھ مل گیا۔ اور یہاں اس نیک شخص کی اولاد کا بھلا ہوا۔ یہ کام میں نے اپنی خوشی سے نہیں کئے بلکہ احکام الٰہی بجا لایا۔ اس سے بعض لوگوں نے خضر علیہ السلام کی نبوت پر استدلال کیا ہے اور پوری بحث پہلے گزر چکی ہے اور کچھ لوگ کہتے ہیں یہ رسول تھے۔ ایک قول ہے کہ یہ فرشتے تھے لیکن اکثر بزرگوں کا فرمان ہے کہ یہ ایک ولی اللہ تھے۔
امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ نے معارف میں لکھا ہے کہ ان کا نام بلیابن ملکان بن خالغ بن عاجر بن شانح بن ارفحشد بن سام بن نوح علیہ السلام تھا۔ ان کی کنیت ابو العباس ہے، لقب خضر ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے تہذیب الاسماء میں لکھا ہے کہ یہ شہزادے تھے۔ یہ اور ابن صلاح تو قائل ہیں کہ وہ اب تک زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گے۔ گو بعض احادیث میں بھی یہ ذکر آیا ہے لیکن ان میں سے ایک بھی صحیح نہیں۔ سب سے زیادہ مشہور حدیث اس بارے میں وہ ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعزیت کے لیے آپ تشریف لائے تھے [تفسیر قرطبی،4189:ضعیف و باطل]‏‏‏‏۔ لیکن اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ اکثر محدثین وغیرہ اس کے برخلاف ہیں اور وہ حیات خضر کے قائل نہیں۔ ان کی ایک دلیل آیت قرآنی «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ اَفَا۟ىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ» [21- الأنبياء: 34]‏‏‏‏ ہے یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی کو ہمیشہ کی زندگی نہیں دی۔ اور دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غزوہ بدر میں یہ فرمانا ہے کہ الٰہی اگر میری یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو زمین میں تیری عبادت پھر نہ کی جائے گی۔ [صحیح مسلم:1763]‏‏‏‏
ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر خضر رحمۃ اللہ علیہ زندہ ہوتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتے اور اسلام قبول کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں ملتے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام جن و انس کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام زندہ [زمین پر]‏‏‏‏ ہوتے تو انہیں بھی بجز میری تابعداری کے چارہ نہ تھا۔[حاشیة العقیدہ الطحاویة، ارواء الغلیل:1589،منکر]‏‏‏‏ آپ اپنی وفات سے کچھ دن پہلے فرماتے ہیں کہ آج جو زمین پر ہیں، ان میں سے ایک بھی آج سے لے کر سو سال تک باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح بخاری:116]‏‏‏‏ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے دلائل ہیں۔
صحیح البخاری میں ہے کہ خضر کو خضر اس لیے کہا گیا کہ وہ سفید رنگ سوکھی گھاس پر بیٹھ گئے تھے یہاں تک کہ اس کے نیچے سے سبزہ اگ آیا۔ [صحیح بخاری:3402]‏‏‏‏ اور ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ آپ خشک زمین پر بیٹھ گئے تھے اور پھر وہ لہلہانے لگی۔
الغرض خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کے سامنے جب یہ گتھی سلجھا دی اور ان کاموں کی اصل حکمت بیان کر دی تو فرمایا کہ یہ تھے وہ راز جن کے آشکارا کرنے کے لیے آپ جلدی کر رہے تھے۔ چونکہ پہلے شوق و مشقت زیادہ تھی، اس لیے لفظ «لَمْ تَسْطِع» کہا اور اب بیان کر دینے کے بعد وہ بات نہ رہی اس لیے لفظ «لَمْ تَسْطِع» کہا۔ یہی صفت آیت «فَمَا اسْطَاعُوْٓا اَنْ يَّظْهَرُوْهُ وَمَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا» [18- الكهف: 97]‏‏‏‏ میں ہے یعنی یاجوج ماجوج نہ اس دیوار پر چڑھ سکے اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکے۔ پس چڑھنے میں تکلیف بہ نسبت سوراخ کرنے کے کم ہے اس لیے ثقیل کا مقابلہ ثقیل سے اور خفیف کا مقابلہ خفیف سے کیا گیا اور لفظی اور معنوی مناسبت قائم کر دی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کا ذکر ابتداء قصہ میں تو تھا لیکن پھر نہیں، اس لیے کہ مقصود صرف موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کا واقعہ بیان کرنا تھا۔ حدیثوں میں ہے کہ آپ کے یہ ساتھی یو‎ شع بن نون علیہ السلام تھے۔ یہی موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے والی بنائے گئے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے آب حیات پی لیا تھا اس لیے انہیں کشتی میں بٹھا کر بیچ سمندر کے چھوڑ دیا، وہ کشتی یونہی ہمیشہ تک موجوں کے تلاطم میں رہے گی۔ یہ بالکل ضعیف ہے کیونکہ اس واقعہ کے راویوں میں ایک میں تو حسن ہے جو متروک ہے، دوسرا اس کا باپ ہے جو غیر معروف ہے۔ یہ واقعہ سندا ٹھیک نہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَمَّا الْجِدَارُ وہ دیوار جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰ٘مَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَؔكَانَ تَحْتَهٗؔ كَنْ٘زٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَیَسْتَخْرِجَا كَنْ٘زَهُمَا پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔
﴿ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَ٘سْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔
اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔
(۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔
(۳) سفر و حضر میں، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کیا تھا۔
(۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا: ﴿ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُ٘غَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔ اور جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔
(۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّ٘یْطٰ٘نُ اَنْ اَذْكُرَهٗ شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔
(۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔
(۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔
(۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔
(۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ہمارے لیے کھانا لاؤ۔ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)
(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ (القصص:28؍ 7) ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔ اسی طرح ارشاد ہے: ﴿ وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّؔخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا (النحل:16؍68) آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔
(۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں:
(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔
(ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔
(۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُ٘عَ٘لِّ٘مَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا (الکہف: 66/18) کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔
(۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بلاشبہ حضرت خضر علیہ السلام سے افضل تھے۔
(۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔
(۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ تُ٘عَ٘لِّ٘مَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ(الکہف: 66/18) آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔
(۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا: ﴿ اَنْ تُ٘عَ٘لِّ٘مَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا (الکہف: 68/18)
(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔
(۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَؔكَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا (الکہف: 68/18)جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں۔ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔
(۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔
(۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ اگر اللہ نے چاہا ضرور کہے۔
(۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا: ﴿ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا (الکہف: 69/18)اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔
(۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔
(۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔
(۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰ علیہ السلام کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔
(۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔
(۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے خضر علیہ السلام کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰ علیہ السلام خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔
(۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضر علیہ السلام نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں۔
(۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔ جیسے جناب خضر علیہ السلام نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔
(۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں۔ ارشاد فرمایا: ﴿ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔
(۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ مسکین کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔
(۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ لَقَدْ جِئْتَ شَیْـًٔؔا نُّكْرًا آپ نے ایک بہت برا کام کیا
(۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَیْرِ نَ٘فْ٘سٍ
(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔
(۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔
(۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضر علیہ السلام نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی: ﴿ فَاَ رَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَیَسْتَخْرِجَا كَنْ٘زَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ اور جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ (الشعراء:26؍80) جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا (الجن:72؍10) اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔
(۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیا تھا۔
(۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأمَّا الجدارُ}: الذي أقمته؛ {فكان لِغُلامين يتيمينِ في المدينةِ وكان تحتهَ كنزٌ لهما وكان أبوهما صالحاً}؛ أي: حالهما تقتضي الرأفة بهما ورحمتهما؛ لكونِهِما صغيرين، عدما أباهما، وحفظهما الله أيضاً بصلاح والدهما. {فأراد ربُّك أن يَبْلُغا أشدَّهما ويستخْرِجا كَنْزَهُما}؛ أي: فلهذا هدمتُ الجدار واستخرجتُ ما تحتَهُ من كنزِهِما ورددتُهُ وأعدتُه مجاناً؛ {رحمةً من ربِّك}؛ أي: هذا الذي فعلتُه رحمةٌ من الله آتاها الله عبدَه الخضر. {وما فعلتُهُ عن أمري}؛ أي: ما أتيت شيئاً من قِبَلِ نفسي ومجرَّد إرادتي، وإنَّما ذلك من رحمةِ الله وأمره. {ذلك}: الذي فسَّرتُه لك {تأويلُ ما لم تَسْطِعْ عليه صبراً}.

وفي هذه القصة العجيبة الجليلة من الفوائد والأحكام والقواعد شيءٌ كثيرٌ ننبِّه على بعضه بعون الله:

فمنها: فضيلة العلم والرِّحلة في طلبه، وأنَّه أهمُّ الأمورِ؛ فإنَّ موسى عليه السلام رحل مسافةً طويلةً، ولقي النَّصب في طلبه، وترك القعود عند بني إسرائيل لتعليمهم وإرشادهم، واختار السفر لزيادة العلم على ذلك.

ومنها: البداءةُ بالأهمِّ فالأهمِّ؛ فإنَّ زيادة العلم وعلم الإنسان أهمُّ من تَرْكِ ذلك والاشتغال بالتعليم من دون تزوُّد من العلم، والجمعُ بين الأمرين أكمل.

ومنها: جواز أخذِ الخادم في الحضَرِ والسفر؛ لكفاية المؤن وطلب الراحة؛ كما فعل موسى.

ومنها: أنَّ المسافر لطلب علم أو جهادٍ أو نحوه، إذا اقتضتِ المصلحةُ الإخبار بمطلبه وأين يريدُه؛ فإنَّه أكمل من كتمه؛ فإنَّ في إظهاره فوائدَ من الاستعداد له عدَّته وإتيان الأمر على بصيرةٍ وإظهار الشوق لهذه العبادة الجليلة؛ كما قال موسى: {لا أبرحُ حتى أبلغَ مجمع البحرين أو أمضيَ حُقُباً}، وكما أخبر النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - أصحابه حين غزا تبوك بوجهه مع أنَّ عادته التَّورية، وذلك تَبَعٌ للمصلحة.

ومنها: إضافةُ الشرِّ وأسبابه إلى الشيطان على وجه التسويل والتزيين، وإنْ كان الكلُّ بقضاء الله وقدره؛ لقول فتى موسى: {وما أنسانيهُ إلاَّ الشيطانُ أنْ أذْكُرَهُ}.

ومنها: جواز إخبار الإنسان عمَّا هو من مقتضى طبيعة النفس من نَصَبٍ أو جوع أو عطش إذا لم يكنْ على وجه التسخُّط وكان صدقاً؛ لقول موسى: {لقد لقينا من سَفَرِنا هذا نَصَباً}.

ومنها: استحبابُ كون خادم الإنسان ذكيًّا فطناً كيِّساً؛ ليتمَّ له أمره الذي يريده.

ومنها: استحباب إطعام الإنسان خادمه من مأكله وأكلهما جميعاً؛ لأنَّ ظاهر قوله: {آتنا غداءنا}: إضافة إلى الجميع: أنَّه أكل هو وهو جميعاً.

ومنها: أنَّ المعونة تنزل على العبد على حسب قيامه بالمأمور به، وأنَّ الموافق لأمر الله يُعان ما لا يُعان غيره؛ لقوله: {لقد لَقينا من سَفَرِنا هذا نَصَباً}، والإشارة إلى السفر المجاوز لمجمع البحرين، وأما الأول؛ فلم يَشْتكِ منه التعب مع طولِهِ؛ لأنَّه هو السفر على الحقيقة، وأما الأخير؛ فالظاهر أنه بعض يوم؛ لأنَّهم فقدوا الحوتَ حين أووا إلى الصخرة؛ فالظاهر أنَّهم باتوا عندها، ثم ساروا من الغد، حتى إذا جاء وقتُ الغداء؛ قال موسى لفتاه: آتنا غداءنا؛ فحينئذٍ تذكَّرَ أنَّه نَسِيَهُ في الموضع الذي إليه منتهى قصده.

ومنها: أنَّ ذلك العبد الذي لقياه ليس نبيًّا، بل عبداً صالحاً؛ لأنَّه وصفه بالعبوديَّة، وذكر منَّة الله عليه بالرحمة والعلم، ولم يَذْكُر رسالته ولا نبوَّته، ولو كان نبيًّا؛ لذكر ذلك كما ذكر غيره. وأما قوله في آخر القصة: {وما فعلتُهُ عن أمري}؛ فإنَّه لا يدلُّ على أنَّه نبيٌّ، وإنَّما يدلُّ على الإلهام والتحديث؛ كما يكون لغير الأنبياء؛ كما قال تعالى: {وأوْحَيْنا إلى أمِّ موسى أنْ أرْضِعيه}، {وأوْحى ربُّك إلى النَّحْل أنِ اتَّخِذي من الجبال بيوتاً}.

ومنها: أنَّ العلم الذي يعلِّمه الله لعبادِهِ نوعان: علمٌ مكتسبٌ يدرِكُه العبد بجدِّه واجتهاده، ونوعٌ: علمٌ لَدُنِّيٌّ يهبُه الله لمن يمنُّ عليه من عباده؛ لقوله: {وعلَّمْناه من لَدُنَّا علماً}.

ومنها: التأدب مع المعلِّم وخطاب المتعلِّم إيَّاه ألطف خطاب؛ لقول موسى عليه السلام: {هل أتَّبِعُك على أن تُعَلِّمني مما عُلِّمْتَ رُشْداً}: فأخرج الكلام بصورة الملاطفة والمشاورة، وأنَّك هل تأذنُ لي في ذلك أم لا؟ وإقرارُهُ بأنَّه يتعلَّم منه؛ بخلاف ما عليه أهل الجفاء أو الكِبْر، الذي لا يُظْهِر للمعلِّم افتقاره إلى علمه، بل يدَّعي أنَّه يتعاون هو وإيَّاه، بل ربَّما ظنَّ أنه يعلِّم معلِّمه وهو جاهلٌ جدًّا؛ فالذُّلُّ للمعلم وإظهارُ الحاجة إلى تعليمه من أنفع شيء للمتعلم.

ومنها: تواضع الفاضل للتعلُّم ممَّن دونه؛ فإنَّ موسى بلا شكٍّ أفضل من الخضر.

ومنها: تعلُّم العالم الفاضل للعلم الذي لم يتمهَّر فيه ممَّن مَهَرَ فيه، وإنْ كان دونَه في العلم بدرجاتٍ كثيرةٍ؛ فإنَّ موسى عليه السلام من أولي العزم من المرسلين، الذين منحهم الله وأعطاهم من العلم ما لم يعطِ سواهم، ولكن في هذا العلم الخاصِّ كان عند الخضر ما ليس عنده؛ فلهذا حرص على التعلُّم منه؛ فعلى هذا لا ينبغي للفقيه المحدِّث إذا كان قاصراً في علم النحو أو الصرف أو نحوه من العلوم أن لا يتعلَّمه ممَّن مَهَرَ فيه، وإنْ لم يكنْ محدِّثاً ولا فقيهاً.

ومنها: إضافة العلم وغيره من الفضائل لله تعالى، والإقرار بذلك، وشكر الله عليها؛ لقوله: {تُعَلِّمَني مما عُلِّمْتَ}؛ أي: مما علمك الله تعالى.

ومنها: أن العلم النافع هو العلم المرشد إلى الخير، فكلُّ علم يكون فيه رشد وهداية لطريق الخير وتحذيرٌ عن طريق الشرِّ أو وسيلة لذلك؛ فإنَّه من العلم النافع، وما سوى ذلك؛ فإمَّا أن يكون ضارًّا أو ليس فيه فائدةٌ؛ لقوله: {أن تُعَلِّمَني مما عُلِّمْتَ رُشْداً}.

ومنها: أن من ليس له قوَّة الصبر على صحبة العالم والعلم وحسن الثَّبات على ذلك؛ أنَّه [يفوته بحسب عدم صبره كثير من] العلم؛ فمن لا صبر له؛ لا يدرِكُ العلم، ومن استعمل الصبر ولازمه؛ أدرك به كل أمرٍ سعى فيه؛ لقول الخضر يتعذر من موسى بذكر المانع لموسى من الأخذ عنه: إنَّه لا يصبر معه.

ومنها: أن السبب الكبير لحصول الصبر إحاطةُ الإنسان علماً وخبرةً بذلك الأمر الذي أمِرَ بالصبر عليه، وإلاَّ؛ فالذي لا يدريه أو لا يدري غايته ولا نتيجته ولا فائدته وثمرته ليس عنده سببُ الصبر؛ لقوله: {وكيف تصبِرُ على ما لم تُحِطْ به خُبْراً}؛ فجعل الموجب لعدم صبرِهِ عدم إحاطته خُبراً بالأمر.

ومنها: الأمر بالتأنِّي والتثبُّت وعدم المبادرة إلى الحكم على الشيء حتى يعرفَ ما يُراد منه وما هو المقصود.

ومنها: تعليقُ الأمور المستقبلة التي من أفعال العباد بالمشيئة، وأن لا يقولَ الإنسان للشيء: إني فاعل ذلك في المستقبل إلاَّ أن يقول إن شاء الله.

ومنها: أن العزم على فعل الشيء ليس بمنزلة فعله؛ فإنَّ موسى قال: {سَتَجِدُني إن شاء الله صابراً}: فوطَّن نفسه على الصبر ولم يفعل.

ومنها: أنَّ المعلِّم إذا رأى المصلحة في إيزاعه للمتعلِّم أن يترك الابتداء في السؤال عن بعض الأشياء حتى يكون المعلِّم هو الذي يوقفه عليها؛ فإنَّ المصلحة تتَّبع؛ كما إذا كان فهمه قاصراً، أو نهاه عن الدقيق في سؤال الأشياء التي غيرها أهمُّ منها أو لا يدرِكُها ذهنُه، أو يسأل سؤالاً لا يتعلَّق في موضع البحث.

ومنها: جواز ركوب البحر في غير الحالة التي يخاف منها.

ومنها: أنَّ الناسي غير مؤاخذٍ بنسيانه؛ لا في حقِّ الله، ولا في حقوق العبادِ؛ لقوله: {لا تؤاخِذْني بما نسيتُ}.

ومنها: أنَّه ينبغي للإنسان أن يأخُذَ من أخلاق الناس ومعاملاتهم العفوَ منها وما سمحتْ به أنفسُهم، ولا ينبغي له أن يكلِّفَهم ما لا يطيقون أو يشقَّ عليهم ويرهِقَهم؛ فإنَّ هذا مدعاةٌ إلى النفور منه والسآمة، بل يأخذ المتيسِّر ليتيسر له الأمر.

ومنها: أنَّ الأمور تجري أحكامها على ظاهرها، وتُعَلَّقُ بها الأحكام الدنيويَّة في الأموال والدماء وغيرها؛ فإنَّ موسى عليه السلام أنكر على الخضِرِ خرقَه السفينة وقتلَ الغلام، وأنَّ هذه الأمور ظاهرها أنَّها من المنكر، وموسى عليه السلام لا يَسَعُهُ السكوتُ عنها في غير هذه الحال التي صَحِبَ عليها الخضر، فاستعجل عليه السلام، وبادَرَ إلى الحكم في حالتها العامَّة، ولم يلتفتْ إلى هذا العارض الذي يوجب عليه الصبر وعدم المبادرةِ إلى الإنكار.

ومنها: القاعدة الكبيرة الجليلة، وهو أنَّه يُدْفَعُ الشرُّ الكبير بارتكاب الشرِّ الصغير، ويُراعى أكبر المصلحتين بتفويت أدناهما؛ فإنَّ قتل الغلام شرٌّ، ولكنَّ بقاءه حتى يفتن أبويه عن دينهما أعظمُ شرًّا منه، وبقاء الغلام من دون قتل وعصمته وإن كان يظنُّ أنه خيرٌ؛ فالخير ببقاء دين أبويه وإيمانهما خيرٌ من ذلك؛ فلذلك قَتَلَهُ الخضر. وتحت هذه القاعدة من الفروع والفوائد ما لا يدخُلُ تحت الحصر، فتزاحُمُ المصالح والمفاسدِ كلِّها داخلٌ في هذا.

ومنها: القاعدة الكبيرة أيضاً، وهي أنَّ عمل الإنسان في مال غيره إذا كان على وجه المصلحة وإزالةِ المفسدةِ أنَّه يجوزُ، ولو بلا إذنٍ، حتى ولو ترتَّب على عمله إتلافُ بعض مال الغير؛ كما خَرَقَ الخضر السفينةَ لتعيبَ فتسلمَ من غَصْب الملك الظالم؛ فعلى هذا: لو وقع حرقٌ أو غرق أو نحوهما في دار إنسانٍ أو ماله، وكان إتلافُ بعض المال أو هدمُ بعض الدار فيه سلامةٌ للباقي؛ جاز للإنسان، بل شُرِعَ له ذلك؛ حفظاً لمال الغير. وكذلك لو أراد ظالمٌ أخذَ مال الغير، ودفع إليه إنسانٌ بعض المال افتداءً للباقي؛ جاز، ولو من غير إذن.

ومنها: أن العمل يجوز في البحر كما يجوز في البرِّ؛ لقوله: {يعملون في البحر}، ولم ينكر عليهم عملهم.

ومنها: أنَّ المسكين قد يكون له مالٌ لا يبلُغ كفايته ولا يخرجُ بذلك عن اسم المسكنة؛ لأنَّ الله أخبر أنَّ هؤلاء المساكين لهم سفينة.

ومنها: أنَّ القتل من أكبر الذنوب؛ لقوله في قتل الغلام: {لقد جئتَ شيئا نُكْراً}.

ومنها: أنَّ القتل قصاصاً غير مُنْكَرٍ؛ لقوله: {بغيرِ نفسٍ}.

ومنها: أنَّ العبد الصالح يحفظُهُ الله في نفسه وفي ذُرِّيَّتِهِ.

ومنها: أن خدمة الصالحين أو مَنْ يتعلَّق بهم أفضل من غيرها؛ لأنَّه علَّل استخراج كنزهما وإقامة جدارهما بأنَّ أباهما صالح.

ومنها: استعمال الأدب مع الله تعالى في الألفاظ؛ فإنَّ الخضر أضاف عَيْبَ السفينة إلى نفسه؛ بقوله: {فأردتُ أن أعيبها}، وأما الخيرُ؛ فأضافه إلى الله تعالى؛ لقوله: {فأراد ربُّك أن يَبْلُغا أشدَّهما ويستخرِجا كَنزَهما رحمةً من ربِّك}؛ كما قال إبراهيم عليه السلام: {وإذا مرضْتُ فهو يشفينِ}، وقالت الجنُّ: {وأنَّا لا ندري أشرٌّ أريدَ بِمَن في الأرض أم أرادَ بهم ربُّهم رَشَداً}؛ مع أنَّ الكلَّ بقضاء الله وقدره.

ومنها: أنَّه ينبغي للصاحب أن لا يفارِقَ صاحبه في حالةٍ من الأحوال ويترك صحبتَهُ حتى يُعْتِبَه ويُعْذِرَ منه؛ كما فعل الخضر مع موسى.

ومنها: أن موافقة الصاحب لصاحبه في غير الأمور المحذورة مدعاةٌ وسببٌ لبقاء الصحبة وتأكُّدها؛ كما أنَّ عدم الموافقة سببٌ لقطع المرافقة.

[ومنها: أن هذه القضايا التي أجراها الخضر هي قدر محض، أجراها اللَّه وجعلها على يد هذا العبد الصالح ليستدل العباد بذلك على ألطافه في أقضيته، وأنه يقدر على العبد أموراً يكرهها جداً وهي صلاح دينه، كما في قضية الغلام، أو وهي صلاح دنياه كما في قضية السفينة، فأراهم نموذجاً من لطفه وكرمه ليعرفوه، ويرضوا غاية الرضا بأقداره الكريهة].