تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ الْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ:} ان الفاظ میں وہ تمام نیک اعمال آجاتے ہیں جو اللہ کو راضی کرنے والے ہیں اور ان کا اجر قیامت کے دن کے لیے باقی ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ {”الْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ “} کیا ہیں؟ تو انھوں نے فرمایا: [لاَ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ] [مسند أحمد: 71/1، ح: ۵۱۵] {” الْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ “} کا ایک خاص مفہوم بھی ہے، یعنی وہ اعمال جن کا ثواب آدمی کو فوت ہونے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُوْ لَهُ] [مسلم، الوصیۃ، باب ما یلحق الإنسان من الثواب بعد وفاتہ:۱۶۳۱] ”جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کا عمل اس سے منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے، ایک وہ صدقہ جو جاری رہنے والا ہو (مثلاً مسجد، شفا خانہ، کنواں وغیرہ)، ایک وہ علم جس سے نفع اٹھایا جائے (مثلاً تدریس، تصنیف، تبلیغ وغیرہ) اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے (یا شاگرد وغیرہ جو دعا کرتے رہیں)۔“ سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، وَإِنْ مَاتَ، جَرَی عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِيْ كَانَ يَعْمَلُهُ، وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ، وَأَمِنَ الْفَتَّانَ] [مسلم، الإمارۃ، باب فضل الرباط في سبیل اللہ عز وجل: ۱۹۱۳۔ ترمذي: ۱۶۶۵۔ نسائي: ۳۱۶۹، ۳۱۷۰] ”اللہ کے راستے میں ایک دن اور ایک رات کا رباط (سرحد پر دشمن کے مقابلے کے لیے رہنا) ایک ماہ کے روزے اور اس کے قیام سے بہتر ہے، پھر اگر وہ فوت ہو جائے تو اس کا وہ عمل اس کے لیے جاری رکھا جاتا ہے جو وہ کرتا تھا اور اس کے لیے اس کا رزق جاری رکھا جاتا ہے اور آزمائش کرنے والوں (منکر و نکیر) سے امن میں رہتا ہے۔“ مسلم میں ایک دن اور ایک رات کے لفظ ہیں اور اس میں {” فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ “} کے الفاظ نہیں ہیں۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ صدقہ جاریہ، تعلیم دین، دعا کرنے والی اولاد صالح اور جہاد فی سبیل اللہ خاص باقیات صالحات ہیں، جن کا ثواب مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔
➌ { خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ …:} یعنی ان اعمال کا بدلہ تیرے رب کے ہاں تمام بدلوں سے بہتر ہے اور ان کے اجر کی امید بھی سب امیدوں سے بہتر ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
یہی چیزیں اس لائق ہیں جن میں انسان کو اپنی کوششیں صرف کرنا چاہییں۔ دنیا کی فانی چیزوں میں مستغرق نہ ہونا چاہیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صحیح حدیث میں بھی ہے «الدُّنْيَا خَضِرَة حُلْوَة» دنیا سبز رنگ میٹھی ہے، الخ۔ [صحیح مسلم:2742] پھر فرماتا ہے کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں۔ جیسے فرمایا ہے «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللَّـهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ» [6-الانعام: 14] انسان کے لیے خواہشوں کی محبت مثلا عورتیں، بیٹے، خزانے وغیرہ مزین کر دی گئی ہے۔ اور آیت میں ہے «اِنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللّٰهُ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ» [64- التغابن: 15] الخ، تمہارے مال، تمہاری اولادیں فتنہ ہیں اور اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔ یعنی اس کی طرف جھکنا اس کی عبادت میں مشغول رہنا دنیا طلبی سے بہتر ہے۔ اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ باقیات صالحات ہر لحاظ سے عمدہ چیز ہے۔ مثلا پانچوں وقت کی نمازیں اور [دعا] «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» ، اور [دعا] «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَسُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَاَللَّه أَكْبَر وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ۔
حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کے مولی عبداللہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے سالم رحمہ اللہ نے محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کے پاس کسی کام کے لیے بھیجا تو انہوں نے کہا سالم رحمہ اللہ سے کہہ دینا کہ فلاں قبر کے پاس کے کونے میں مجھ سے ملاقات کریں، مجھے ان سے کچھ کام ہے۔ چنانچہ دونوں کی وہاں ملاقات ہوئی سلام علیک ہوا تو سالم رحمہ اللہ نے پوچھا، کچھ کے نزدیک باقیات صالحات کیا ہیں؟ انہوں نے فرمایا دعا «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» اور «سبحان اللہ» اور «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ سالم نے کہا یہ آخری کلمہ آپ رحمہ اللہ نے اس میں کب سے بڑھایا؟
قرظی نے کہا میں تو ہمیشہ سے اس کلمے کو شمار کرتا ہوں، دو تین بار یہی سوال جواب ہوا تو محمد بن کعب نے فرمایا، کیا تمہیں اس کلمے سے انکار ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں انکار ہے۔ کہا، سنو میں نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے، جب مجھے معراج کرائی گئی میں نے آسمان پر ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، آپ علیہ السلام نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ انہوں نے مجھے مرحبا اور خوش آمدید کہا اور فرمایا آپ اپنی امت سے فرما دیجئیے کہ وہ جنت میں اپنے لیے بہت کچھ باغات لگا لیں، اس کی مٹی پاک ہے، اس کی زمین کشادہ ہے۔ میں نے پوچھا، وہاں باغات لگانے کی کیا صورت ہے؟ فرمایا «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» بکثرت پڑھیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23099:ضعیف]
مسند میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ واہ پانچ کلمات ہیں اور نیکی کی ترازو میں بے حد وزنی ہیں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ» اور وہ بچہ جس کے انتقال پر اس کا باپ طلب اجر کے لیے صبر کرے۔ واہ واہ پانچ چیزیں ہیں، جو ان کا یقین رکھتا ہو اللہ سے ملاقات کرے، وہ قطعا جنتی ہے۔ اللہ پر، قیامت کے دن پر، جنت دوزخ پر، مرنے کے بعد کے جی اٹھنے پر اور حساب پر ایمان رکھے۔ [مسند احمد:443/3:حسن]
سیدنا سعید بن جنادہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہل طائف میں سے سب سے پہلے میں نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اپنے گھر سے صبح ہی صبح چل کھڑا ہوا اور عصر کے وقت منی میں پہنچ گیا، پہاڑ پر چڑھا، پھر اترا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، اسلام قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّه أَحَد» اور سورۃ «إِذَا زُلْزِلَتْ» سکھائی اور یہ کلمات تعلیم فرمائے۔ [دعا] «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» ۔ فرمایا یہ ہیں باقی رہنے والی نیکیاں۔ [طبرانی کبیر:5482:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا أخبر تعالى أنَّ المال والبنين {زينةُ الحياة الدُّنيا}؛ أي: ليس وراء ذلك شيءٌ، وأنَّ الذي يبقى للإنسان وينفعُهُ ويسرُّه الباقيات الصالحات، وهذا يَشْمَلُ جميع الطاعات الواجبات والمستحبَّة من حقوق الله وحقوق عبادِهِ من صلاةٍ وزكاةٍ وصدقةٍ وحجٍّ وعمرةٍ وتسبيح وتحميدٍ وتهليل [وتكبير] وقراءةٍ وطلب علم نافع وأمرٍ بمعروفٍ ونهي عن منكرٍ وصلة رحم وبرِّ والدين وقيام بحقِّ الزوجات والمماليك والبهائم وجميع وجوه الإحسان إلى الخلق، كلُّ هذا من الباقيات الصالحات؛ فهذه خيرٌ عند الله ثواباً وخيرٌ أملاً؛ فثوابُها يبقى ويتضاعفُ على الآباد، ويؤمَّل أجرُها وبرُّها ونفعها عند الحاجة؛ فهذه التي ينبغي أن يَتَنافَس بها المتنافسون، ويستبقَ إليها العاملون، ويجدَّ في تحصيلها المجتهدون. وتأمَّل كيف لما ضَرَبَ الله مثل الدُّنيا وحالها واضمحلالها؛ ذَكَرَ أنَّ الذي فيها نوعان: نوعٌ من زينتها يُتمتَّع به قليلاً ثم يزول بلا فائدةٍ تعود لصاحبه، بل ربَّما لحقته مضرَّته، وهو المال والبنون. ونوعٌ يبقى لصاحبِهِ على الدَّوام، وهي الباقياتُ الصالحاتُ.