تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا:} اللہ تعالیٰ پہلے اور پچھلے سب لوگوں کو اکٹھا کرے گا، کسی کو باقی نہیں چھوڑے گا۔ دیکھیے سورۂ واقعہ (۴۹، ۵۰) دوسرے مقام پر وضاحت فرمائی کہ اس حشر میں جن و انس کے علاوہ دوسری تمام مخلوقات بھی شامل ہوں گی، چنانچہ فرمایا: «وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ» [الأنعام: ۳۸] ”اور زمین میں کوئی چلنے والا جان دار نہیں اور نہ کوئی پرندہ ہے جو اپنے دو پروں سے اڑتا ہے مگر تمھاری طرح امتیں ہیں، ہم نے کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی، پھر وہ اپنے رب کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَتُؤَدَّنَّ الْحُقُوْقُ إِلٰی أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتّٰي يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ] [مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم: ۲۵۸۲] ”قیامت کے دن حق والوں کو ان کے حقوق ہر صورت ادا کیے جائیں گے، حتیٰ کہ بغیر سینگ والی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [56-الواقعة: 50، 49] تمام اول و آخر کے لوگ جمع ہوں گے، کوئی چھوٹا بڑا غیر حاضر نہ ہو گا۔ تمام اگلے پچھلے اس مقرر دن جمع کئے جائیں گے، «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» [11-ھود: 103] اس دن سب لوگ حاضر شدہ ہوں گے اور سب موجود ہوں گے۔ «يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» [78-النبإ: 38] تمام لوگ اللہ کے سامنے صف بستہ پیش ہوں گے، روح اور فرشتے صفیں باندھے ہوئے کھڑے ہوں گے، کسی کو بات کرنے کی بھی تاب نہ ہو گی بجز ان کے جنہیں اللہ رحمان اجازت دے اور وہ بات بھی معقول کہیں۔ پس یا تو سب کی ایک ہی صف ہو گی یا کئی صفوں میں ہوں گے۔ جیسے ارشاد قرآن ہے «وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا» [89-الفجر: 22] تیرا رب آئے گا اور فرشتے صف بہ صف۔ وہاں منکرین قیامت کو سب کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ ہو گی کہ دیکھو جس طرح ہم نے تمہیں اول بار پیدا کیا تھا، اسی طرح دوسری بار پیدا کر کے اپنے سامنے کھڑا کر لیا، اس سے پہلے تو تم اس کے قائل نہ تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ہر بدعہد کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا اس کی بدعہدی کے مطابق جس سے اس کی پہچان ہو جائے۔ [صحیح بخاری:3187] اور حدیث میں ہے کہ یہ جھنڈا اس کی رانوں کے پاس ہو گا اور اعلان ہو گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی ہے۔ [صحیح بخاری:3186] تیرا رب ایسا نہیں کہ مخلوق میں سے کسی پر بھی ظلم کرے، ہاں البتہ درگزر کرنا، معاف فرما دینا، عفو کرنا، یہ اس کی صفت ہے۔ ہاں بدکاروں کو اپنی قدرت و حکمت اور عدل و انصاف سے وہ سزا بھی دیتا ہے۔ جہنم گنہگاروں اور نافرمانوں سے بھر جائے پھر کافروں اور مشرکوں کے سوا اور مومن گنہگار چھوٹ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ناانصافی نہیں کرتا، نیکیوں کو بڑھاتا ہے، گناہوں کو برابر ہی رکھتا ہے۔ عدل کا ترازو اس دن سامنے ہو گا کسی کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہ ہو گی، الخ۔
اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ دار بکری نے مارا ہے تو اس سے بھی اس کو بدلہ دلوایا جائے گا۔ [صحیح مسلم:2582[21-الأنبياء:47]] اس کے اور بھی بہت سے شواہد ہیں جنہیں ہم نے بالتفصیل آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» [21- الأنبياء: 47] الخ کی تفسیر میں اور آیت «اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ» [6- الانعام: 38] الخ کی تفسیر میں بیان کئے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن حال يوم القيامة وما فيه من الأهوال المقلقة والشَّدائد المزعجة، فقال: {ويومَ نُسَيِّرُ الجبالَ}؛ أي: يزيلها عن أماكنها؛ يجعلها كثيباً، ثم يجعلها كالعهن المنفوش، ثم تضمحلُّ وتتلاشى وتكون هباءً منبثًّا، وتبرز الأرض فتصير قاعاً صفصفاً لا عوج فيه ولا أمتاً، ويحشُرُ الله جميع الخَلْق على تلك الأرض؛ فلا يغادِرُ منهم أحداً، بل يجمع الأولين والآخرين من بطون الفلوات وقعور البحار، ويجمعهم بعدما تفرَّقوا، ويعيدهم بعدما تمزَّقوا خلقاً جديداً، فَيُعْرَضونَ عليه صفًّا ليستعرِضَهم وينظرَ في أعمالهم ويحكم فيهم بحكمه العدل الذي لا جَوْر فيه ولا ظُلْم، ويقول لهم: {لقد جِئْتُمونا كما خَلَقْناكم أولَ مرةٍ}؛ أي: بلا مال ولا أهل ولا عشيرة، ما معهم إلا الأعمال التي عملوها والمكاسب في الخير والشرِّ التي كسبوها؛ كما قال تعالى: {ولقد جِئْتمونا فُرادى كما خَلَقْناكم أولَ مرَّة وتركتُم ما خوَّلْناكم وراءَ ظهورِكُم وما نَرى معكم شفعاءَكم الذين زعمتُم أنَّهم فيكم شركاءُ}، وقال هنا مخاطباً للمنكرين للبعث وقد شاهدوه عياناً: {بل زعمتُم أن لن نجعلَ لكم موعداً}؛ أي: أنكرتُم الجزاء على الأعمال ووعدَ الله ووعيده؛ فها قد رأيتُموه وذقتموه.