تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صحیح حدیث میں بھی ہے «الدُّنْيَا خَضِرَة حُلْوَة» دنیا سبز رنگ میٹھی ہے، الخ۔ [صحیح مسلم:2742] پھر فرماتا ہے کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں۔ جیسے فرمایا ہے «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللَّـهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ» [6-الانعام: 14] انسان کے لیے خواہشوں کی محبت مثلا عورتیں، بیٹے، خزانے وغیرہ مزین کر دی گئی ہے۔ اور آیت میں ہے «اِنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللّٰهُ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ» [64- التغابن: 15] الخ، تمہارے مال، تمہاری اولادیں فتنہ ہیں اور اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔ یعنی اس کی طرف جھکنا اس کی عبادت میں مشغول رہنا دنیا طلبی سے بہتر ہے۔ اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ باقیات صالحات ہر لحاظ سے عمدہ چیز ہے۔ مثلا پانچوں وقت کی نمازیں اور [دعا] «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» ، اور [دعا] «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَسُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَاَللَّه أَكْبَر وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ۔
حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کے مولی عبداللہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے سالم رحمہ اللہ نے محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کے پاس کسی کام کے لیے بھیجا تو انہوں نے کہا سالم رحمہ اللہ سے کہہ دینا کہ فلاں قبر کے پاس کے کونے میں مجھ سے ملاقات کریں، مجھے ان سے کچھ کام ہے۔ چنانچہ دونوں کی وہاں ملاقات ہوئی سلام علیک ہوا تو سالم رحمہ اللہ نے پوچھا، کچھ کے نزدیک باقیات صالحات کیا ہیں؟ انہوں نے فرمایا دعا «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» اور «سبحان اللہ» اور «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ سالم نے کہا یہ آخری کلمہ آپ رحمہ اللہ نے اس میں کب سے بڑھایا؟
قرظی نے کہا میں تو ہمیشہ سے اس کلمے کو شمار کرتا ہوں، دو تین بار یہی سوال جواب ہوا تو محمد بن کعب نے فرمایا، کیا تمہیں اس کلمے سے انکار ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں انکار ہے۔ کہا، سنو میں نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے، جب مجھے معراج کرائی گئی میں نے آسمان پر ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، آپ علیہ السلام نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ انہوں نے مجھے مرحبا اور خوش آمدید کہا اور فرمایا آپ اپنی امت سے فرما دیجئیے کہ وہ جنت میں اپنے لیے بہت کچھ باغات لگا لیں، اس کی مٹی پاک ہے، اس کی زمین کشادہ ہے۔ میں نے پوچھا، وہاں باغات لگانے کی کیا صورت ہے؟ فرمایا «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» بکثرت پڑھیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23099:ضعیف]
مسند میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ واہ پانچ کلمات ہیں اور نیکی کی ترازو میں بے حد وزنی ہیں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ» اور وہ بچہ جس کے انتقال پر اس کا باپ طلب اجر کے لیے صبر کرے۔ واہ واہ پانچ چیزیں ہیں، جو ان کا یقین رکھتا ہو اللہ سے ملاقات کرے، وہ قطعا جنتی ہے۔ اللہ پر، قیامت کے دن پر، جنت دوزخ پر، مرنے کے بعد کے جی اٹھنے پر اور حساب پر ایمان رکھے۔ [مسند احمد:443/3:حسن]
سیدنا سعید بن جنادہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہل طائف میں سے سب سے پہلے میں نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اپنے گھر سے صبح ہی صبح چل کھڑا ہوا اور عصر کے وقت منی میں پہنچ گیا، پہاڑ پر چڑھا، پھر اترا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، اسلام قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّه أَحَد» اور سورۃ «إِذَا زُلْزِلَتْ» سکھائی اور یہ کلمات تعلیم فرمائے۔ [دعا] «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» ۔ فرمایا یہ ہیں باقی رہنے والی نیکیاں۔ [طبرانی کبیر:5482:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لنبيِّه - صلى الله عليه وسلم - أصلاً ولمن قام بوراثته بعده تبعاً: اضرب للناس {مَثَلَ الحياة الدنيا}؛ ليتصوَّروها حقَّ التصوُّر ويعرِفوا ظاهرها وباطنها، فيقيسوا بينها وبين الدار الباقية، ويؤثروا أيَّهما أولى بالإيثار. وإنَّ مَثَلَ هذه الحياة الدُّنيا كمثل المطر؛ ينزِلُ على الأرض، فيختلط نباتها، تُنْبِتُ من كلِّ زوج بهيج، فبينا زهرتُها وزُخرفها تسرُّ الناظرين، وتفرِحُ المتفرِّجين، وتأخذُ بعيون الغافلين؛ إذ أصبحتْ {هشيماً تذروه الرياح}: فذهب ذلك النبات الناضر والزهر الزاهر والمنظر البهيُّ، فأصبحت الأرض غبراء تراباً قد انحرف عنها النظرُ، وصرف عنها البصرُ، وأوحشت القلبَ؛ كذلك هذه الدُّنيا؛ بينما صاحبها قد أعْجِبَ بشبابِهِ، وفاق فيها على أقرانِهِ وأترابِهِ، وحصَّل درهمَها ودينارَها، واقتطف من لذَّتِهِ أزهارها، وخاض في الشهوات في جميع أوقاته، وظنَّ أنَّه لا يزال فيها سائر أيامه؛ إذْ أصابه الموتُ أو التلفُ لماله، فذهب عنه سرورُهُ، وزالت لذَّتُه وحبوره، واستوحش قلبُه من الآلام، وفارق شبابَه وقوتَه ومالَه، وانفرد بصالح أو سيئ أعماله، هنالك يعضُّ الظالم على يديه حين يعلم حقيقةَ ما هو عليه ويتمنَّى العَوْدَ إلى الدُّنيا، لا ليستكمل الشهوات، بل ليستدركَ ما فرط منه من الغفلات؛ بالتوبة والأعمال الصالحات، فالعاقل الحازمُ الموفَّق يعرِضُ على نفسِهِ هذه الحالة، ويقول لنفسه: قدِّري أنَّك قد متِّ، ولا بدَّ أن تموتي؛ فأيُّ الحالتين تختارين: الاغترار بزخرِف هذه الدار، والتمتُّع بها كتمتُّع الأنعام السارحة، أم العمل لدارٍ أكُلُها دائمٌ وظلُّها، وفيها ما تشتهيه الأنفسُ وتلذُّ الأعين؛ فبهذا يُعْرَفُ توفيقُ العبد من خذلانِهِ، وربحُهُ من خسرانِهِ.