ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 30

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ مَنۡ اَحۡسَنَ عَمَلًا ﴿ۚ۳۰﴾
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، بے شک ہم اس کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اچھا عمل کرے۔ En
(اور) جو ایمان لائے اور کام بھی نیک کرتے رہے تو ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے
En
یقیناً جو لوگ ایمان ﻻئیں اور نیک اعمال کریں تو ہم کسی نیک عمل کرنے والے کا ﺛواب ضائع نہیں کرتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 31،30){ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} ظالمین یعنی کفار کے بعد اہل ایمان اور ان کے اجر کا ذکر فرمایا۔ اس مفہوم کی آیات کہ جو اچھا عمل کرے ہم اس کا اجر ضائع نہیں کرتے، کے لیے دیکھیے آل عمران (۱۷۱، ۱۹۵)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

30۔ 1 قرآن کے انداز بیان کے مطابق جہنمیوں کے ذکر کے بعد اہل جنت کا تذکرہ ہے تاکہ لوگوں کے اندر جنت حاصل کرنے کا شوق ورغبت پیدا ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

30۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو یقیناً ہم اس کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اچھے کام کرتا ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سونے کے کنگن اور ریشمی لباس ٭٭
اوپر برے لوگوں کا حال اور انجام بیان فرمایا، اب نیکوں کا آغاز و انجام بیان ہو رہا ہے۔ یہ اللہ، رسول اور کتاب کے ماننے والے نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ ان کے لیے ہمیشگی والی دائمی جنتیں ہیں، ان کے بالاخانوں کے اور باغات کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں۔ انہیں زیورات خصوصا سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ ان کا لباس وہاں خالص ریشم کا ہو گا، نرم باریک اور نرم موٹے ریشم کا لباس ہو گا۔ یہ باآرام شاہانہ شان سے مسندوں پر جو تختوں پر ہوں گے، تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ کہا گیا ہے کہ لیٹنے اور چار زانوں بیٹھنے کا نام بھی اتکا ہے، ممکن ہے یہی مراد یہاں بھی ہو، چنانچہ حدیث میں ہے میں اتکا کر کے کھانا نہیں کھاتا۔ [صحیح بخاری:5398]‏‏‏‏
اس میں بھی یہی دو قول ہیں، «أَرَائِكِ» جمع ہے «اَرِیْکَة» کی، تخت چھپر کھٹ وغیرہ کو کہتے ہیں۔ کیا ہی اچھا بدلہ ہے اور کتنی ہی اچھی اور آرام دہ جگہ ہے برخلاف دوزخیوں کے کہ ان کے لیے بری سزا اور بری جگہ ہے۔ سورۃ الفرقان میں بھی انہیں دونوں گروہ کا اسی طرح مقابلہ کا بیان ہے «أُولَـٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا خَالِدِينَ فِيهَا حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا» [25-الفرقان: 75، 76]‏‏‏‏۔ یہی وه لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلے جنت کے بلند و باﻻخانے دیئے جائیں گے جہاں انہیں دعا سلام پہنچایا جائے گا، اس میں یہ ہمیشہ رہیں گے، وه بہت ہی اچھی جگہ اور عمده مقام ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فریق ثانی،یعنی اہل ایمان کا ذکر فرماتا ہے: ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی، بری تقدیر پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ نیک کام یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کیا ﴿ اِنَّا لَا نُ٘ضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا بے شک ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اچھے عمل کرتے ہیں۔ عمل میں احسان یہ ہے کہ اس عمل میں بندے کے پیش نظر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو اور یہ عمل شریعت کی اتباع میں ہو۔ یہی وہ عمل ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہرگز ضائع نہیں کرے گا بلکہ اسے عمل کرنے والوں کے لیے محفوظ رکھے گا اور اپنے فضل و کرم سے ان کے عمل کے مطابق انھیں پورا پورا اجر عطا کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر الفريق الثاني، فقال: {إنَّ الذين آمنوا وعملوا الصالحاتِ}؛ أي: جمعوا بين الإيمان بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقَدَر خيره وشرِّه وعمل الصالحات من الواجبات والمستحبات. {إنَّا لا نُضيعُ أجْرَ مَنْ أحسنَ عملاً}: وإحسانُ العمل أن يريدَ العبدُ العمل لوجه الله متبعاً في ذلك شرع الله؛ فهذا العمل لا يضيِّعه الله ولا شيئاً منه، بل يحفظُه للعاملين، ويوفِّيهم من الأجر بحسب عملهم وفضله وإحسانه.