تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَمَنْ شَآءَ فَلْيُؤْمِنْ …:} یعنی مجھے تمھاری کوئی پروا نہیں، مانو گے تو اپنا بھلا کرو گے اور نہ مانو گے تو اپنی شامت لاؤ گے، میں مومنوں کو اپنی مجلس سے نہیں اٹھا سکتا۔
➌ { اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِيْنَ نَارًا: ” اَعْتَدْنَا “ } میں تاء اصلی ہے۔ {” لِلظّٰلِمِيْنَ “} سے مراد کفار و مشرکین ہیں۔
➍ {اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا …: ” سُرَادِقٌ “} وہ پردہ جو خیمے کے اردگرد لگایا جاتا ہے، یعنی قنات، جمع {”سُرَادِقَاتٌ“} (قاموس) {”اَلْمُهْلُ“ } پگھلی ہوئی دھات، وہ تانبہ ہو یا سیسہ وغیرہ اور نہایت گرم تیل کی تلچھٹ۔ {” مُرْتَفَقًا “} ظرف مکان ہے، ارتفاق کی جگہ، اصل اس کا یہ ہے کہ آدمی اپنی مرفق (کہنی) پر ٹیک لگا کر آرام کرتا ہے۔ جہنم کو آرام کی جگہ بطور طنز کہا ہے، ورنہ وہاں کہنی پر سر رکھ کر کیسے سو سکتا ہے۔ یعنی چاروں طرف آگ کی دیوار ہو گی، کہیں بھاگنے کا راستہ نہیں ملے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[31] سرادق کے معنی کسی خیمہ کی دیواریں ہیں یہاں مراد دوزخ کی چاردیواری ہے اور جہنم کے گرد یہ چار دیواری یا احاطہ اس لیے کیا جائے گا کہ دوزخیوں کے لیے آگ کی حرارت میں مزید اضافہ ہو اور اس آگ کی حرارت باہر نہ جانے پائے نیز باہر والے اس حرارت سے محفوظ رہیں۔
[32] ﴿مهل﴾ کا معنی تانبا یا کوئی بھی دھات جو پگھلی ہوئی حالت میں ہو یا تیل کی تلچھٹ یا لاوا جو زمین کے اندر شدت حرارت سے پگھلی ہوئی دھاتوں کے ملغوبہ کی شکل میں ہو کیونکہ اس میں بنیادی طور پر دو باتیں پائی جاتی ہیں۔ ایک سرخی مائل ہونا دوسرے شدت حرارت اور دوزخیوں کو جو پانی پلایا جائے گا اس میں یہ دونوں خواص موجود ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {قل} للناس يا محمدُ: هو {الحقُّ من ربِّكم}؛ أي: قد تبيَّن الهدى من الضلال، والرُّشد من الغيِّ، وصفات أهل السعادة وصفات أهل الشقاوة، وذلك بما بيَّنه الله على لسان رسوله؛ فإذا بان واتَّضح ولم يبقَ فيه شبهةٌ؛ {فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر}؛ أي: لم يبق إلاَّ سلوكُ أحد الطريقين بحسب توفيق العبد وعدم توفيقه، وقد أعطاه الله مشيئةً بها يقدِرُ على الإيمان والكفر والخير والشرِّ؛ فمن آمن؛ فقد وُفِّق للصواب، ومن كَفَرَ؛ فقد قامت عليه الحجَّة، وليس بمكرهٍ على الإيمان؛ كما قال تعالى: {لا إكْراهَ في الدِّينِ قد تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الغَيِّ}، [وليس في قوله: {فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر} الإذن في كلا الأمرين وإنما ذلك تهديد ووعيد لمن اختار الكفر بعد البيان التام كما ليس فيها تركه قتال الكافرين]. ثم ذكر تعالى مآل الفريقين، فقال: {إنَّا أعْتَدْنا للظالمين}: بالكفر والفسوق والعصيان، {ناراً أحاطَ بهم سُرادِقُها}؛ أي: سورها المحيط بها؛ فليس لهم منفذٌ ولا طريقٌ ولا مخلصٌ منها، تصلاهم النار الحامية. {وإن يَسْتغيثوا}؛ أي: يطلبوا الشراب ليطفئ ما نزل بهم من العطش الشديد؛ {يُغاثوا بماءٍ كالمهل}؛ أي: كالرصاص المذاب أو كعكر الزيت من شدَّة حرارته. {يَشْوي الوجوهَ}؛ أي: فكيف بالأمعاء والبطون؟! كما قال تعالى: {يُصْهَرُ به ما في بطونِهِم والجلودُ. ولهم مَقامِعُ من حديدٍ}. {بئس الشرابُ}: الذي يُراد ليطفئ العطش ويدفع بعض العذابِ فيكون زيادةً في عذابهم وشدَّة عقابهم، {وساءت}: النار {مرتفقاً}: وهذا ذمٌّ لحالة النار؛ أنَّها ساءت المحلَّ الذي يرتفق به؛ فإنَّها ليس فيها ارتفاقٌ؛ وإنَّما فيها العذاب العظيم الشاقُّ الذي لا يُفَتَّر عنهم ساعةً، وهم فيه مُبْلِسونَ، قد أيسوا من كلِّ خيرٍ، ونسيهم الرحيم في العذاب كما نسوه.