تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 30

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ مَنۡ اَحۡسَنَ عَمَلًا ﴿ۚ۳۰﴾
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، بے شک ہم اس کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اچھا عمل کرے۔ En
(اور) جو ایمان لائے اور کام بھی نیک کرتے رہے تو ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے
En
یقیناً جو لوگ ایمان ﻻئیں اور نیک اعمال کریں تو ہم کسی نیک عمل کرنے والے کا ﺛواب ضائع نہیں کرتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فریق ثانی،یعنی اہل ایمان کا ذکر فرماتا ہے: ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی، بری تقدیر پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ نیک کام یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کیا ﴿ اِنَّا لَا نُ٘ضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا بے شک ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اچھے عمل کرتے ہیں۔ عمل میں احسان یہ ہے کہ اس عمل میں بندے کے پیش نظر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو اور یہ عمل شریعت کی اتباع میں ہو۔ یہی وہ عمل ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہرگز ضائع نہیں کرے گا بلکہ اسے عمل کرنے والوں کے لیے محفوظ رکھے گا اور اپنے فضل و کرم سے ان کے عمل کے مطابق انھیں پورا پورا اجر عطا کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر الفريق الثاني، فقال: {إنَّ الذين آمنوا وعملوا الصالحاتِ}؛ أي: جمعوا بين الإيمان بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقَدَر خيره وشرِّه وعمل الصالحات من الواجبات والمستحبات. {إنَّا لا نُضيعُ أجْرَ مَنْ أحسنَ عملاً}: وإحسانُ العمل أن يريدَ العبدُ العمل لوجه الله متبعاً في ذلك شرع الله؛ فهذا العمل لا يضيِّعه الله ولا شيئاً منه، بل يحفظُه للعاملين، ويوفِّيهم من الأجر بحسب عملهم وفضله وإحسانه.