تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[29] یعنی جو شخص آخرت میں اللہ کے سامنے جوابدہی پر ایمان ہی نہیں رکھتا وہ تو جدھر اور جس طرح اپنا ذاتی مفاد دیکھے گا فوراً ادھر جھک جائے گا اور جو کچھ اس کا جی چاہے گا وہی کچھ وہ کرے گا اس کا کوئی کام اصول کے تحت یا حد اعتدال تک محدود نہ رہے گا لہٰذا ایسے لوگوں کی بات ہرگز نہ مانیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسند احمد میں ہے کہ ایک واعظ قصہ گوئی کر رہا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، وہ خاموش ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بیان کئے چلے جاؤ۔ میں تو صبح کی نماز سے لے کر آفتاب کے نکلنے تک اسی مجلس میں بیٹھا رہوں، تو اپنے لئے چار غلام آزاد کرنے سے بہتر سمجھتا ہوں۔ [مسند احمد:261/5:ضعیف] اور حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں ایسی مجلس میں بیٹھ جاؤں، یہ مجھے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ [مسند احمد:474/3:ضعیف]۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ ذکر اللہ کرنے والوں کے ساتھ صبح کی نماز سے سورج نکلنے تک بیٹھ جانا مجھے تو تمام دنیا سے زیادہ پیارا ہے، اور نماز عصر کے بعد سے سورج کے غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کرنا مجھے آٹھ غلاموں کے آزاد کرنے سے زیادہ پیارا ہے، گو وہ غلام اولاد اسماعیل سے گراں قدر اور قیمتی کیوں نہ ہوں، گو ان میں سے ایک ایک کی دیت بارہ بارہ ہزار کی ہو تو مجموعی قیمت چھیانوے ہزار کی ہوئی۔ بعض لوگ چار غلام بتاتے ہیں لیکن انس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، واللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ غلام فرمائے ہیں۔ [مسند طیالسی،2104:ضعیف]
مسند احمد میں ہے فرماتے ہیں ذکر اللہ کے لیے جو مجلس جمع ہو، نیت بھی ان کی بخیر ہو تو آسمان سے منادی ندا کرتا ہے کہ اٹھو اللہ نے تمہیں بخش دیا، تمہاری برائیاں بھلائیوں سے بدل گئیں۔ [مسند احمد:142/3:صحیح لغیرہ] طبرانی میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو آپ اپنے کسی گھر میں تھے، اسی وقت ایسے لوگوں کی تلاش میں نکلے۔ کچھ لوگوں کو ذکر اللہ میں پایا، جن کے بال بکھرے ہوئے تھے، کھالیں خشک تھیں، بمشکل ایک ایک کپڑا انہیں حاصل تھا، فوراً ان کی مجلس میں بیٹھ گئے اور کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسے لوگ رکھے ہیں، جن کے ساتھ بیٹھنے کا مجھے حکم ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23017:ضعیف] پھر فرماتا ہے ان سے تیری آنکھیں تجاوز نہ کریں، ان یاد اللہ کرنے والوں کو چھوڑ کر مالداروں کی تلاش میں نہ لگ جانا جو دین سے برگشتہ ہیں، جو عبادت سے دور ہیں، جن کی برائیاں بڑھ گئی ہیں، جن کے اعمال حماقت کے ہیں، تو ان کی پیروی نہ کرنا، ان کے طریقے کو پسند نہ کرنا، ان پر رشک بھری نگاہیں نہ ڈالنا، ان کی نعمتیں للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھنا۔ جیسے فرمان ہے «وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [20- طه: 131]، ہم نے انہیں جو دنیوی عیش و عشرت دے رکھی ہے یہ صرف ان کی آزمائش کے لیے ہے۔ تو للچائی ہوئی نگاہوں سے انہیں نہ دیکھنا، دراصل تیرے رب کے پاس کی روزی بہتر اور بہت باقی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى نبيَّه محمداً - صلى الله عليه وسلم -، وغيره أسوته في الأوامر والنواهي أن يصبر نفسه مع المؤمنين العُبَّاد المنيبين. {الذين يَدْعونَ ربَّهم بالغداة والعشيِّ}؛ أي: أول النهار وآخره؛ يريدون بذلك وجه الله، فوصفهم بالعبادة والإخلاص فيها؛ ففيها الأمر بصحبة الأخيار ومجاهدة النفس على صحبتهم ومخالطتهم، وإنْ كانوا فقراء؛ فإنَّ في صحبتهم من الفوائد ما لا يُحصى. {ولا تَعْدُ عيناك عنهم}؛ أي: لا تجاوزهم بصرك وترفع عنهم نظرك؛ {تريد زينةَ الحياةِ الدُّنيا}؛ فإنَّ هذا ضارٌّ غير نافع، قاطعٌ عن المصالح الدينيَّة؛ فإنَّ ذلك يوجب تعلُّق القلب بالدُّنيا، فتصير الأفكار والهواجس فيها، وتزول من القلب الرغبةُ في الآخرة؛ فإنَّ زينة الدُّنيا تروق للناظر وتَسْحَر القلب ، فيغفل القلب عن ذكر الله، ويُقْبِلُ على اللَّذَّات والشهوات، فيضيع وقته، وينفرط أمره، فيخسر الخسارة الأبديَّة والندامة السرمديَّة، ولهذا قال: {ولا تُطِعْ من أغْفَلْنا قلبه عن ذكرنا}: غَفَلَ عن الله فعاقبه بأن أغْفَلَه عن ذكره، {واتَّبَع هواه}؛ أي: صار تبعاً لهواه؛ حيث ما اشتهتْ نفسُه فعله، وسعى في إدراكه، ولو كان فيه هلاكه وخُسرانه؛ فهو قد اتَّخذ إلهه هواه؛ كما قال تعالى: {أفرأيتَ مَنِ اتَّخذ إلهه هواه وأضلَّه الله على علم ... } الآية. {وكان أمرُهُ}؛ أي: مصالح دينه ودنياه {فُرُطاً}؛ أي: ضائعة معطَّلة؛ فهذا قد نهى الله عن طاعته؛ لأن طاعته تدعو إلى الاقتداء به، ولأنَّه لا يدعو إلاَّ لما هو متَّصف به.
ودلَّت الآية على أنَّ الذي ينبغي أن يُطاع، ويكون إماماً للناس مَن امتلأ قلبُه بمحبَّة الله، وفاض ذلك على لسانه، فلهج بذكر الله، واتَّبع مراضي ربِّه، فقدَّمها على هواه، فحفظ بذلك ما حَفِظَ من وقته، وصلحت أحوالُه، واستقامت أفعاله، ودعا الناس إلى ما منَّ الله به عليه؛ فحقيقٌ بذلك أن يُتَّبع، ويُجعل إماماً.
والصبر المذكور في هذه الآية هو الصبر على طاعة الله، الذي هو أعلى أنواع الصبر، وبتمامه يتمُّ باقي الأقسام.
وفي الآية استحبابُ الذِّكر والدُّعاء والعبادة طرفي النهار؛ لأنَّ الله مدحهم بفعله، وكلُّ فعل مَدَحَ الله فاعله؛ دلَّ ذلك على أن الله يحبُّه؛ وإذا كان يحبه فإنَّه يأمر به ويرغِّب فيه.