تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ: ” الرُّءْيَا “ ”رَأَي يَرَي“} (ف) کا مصدر ہے، آیت میں مذکور {” الرُّءْيَا “} سے مراد زمین اور آسمانوں کی وہ عجیب و غریب چیزیں ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسراء و معراج کی رات اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ نے اسراء و معراج کی رات جو کچھ دیکھا ہم نے اسے لوگوں کے لیے فتنہ اور آزمائش ہی بنایا، تاکہ آزمائش ہو جائے کہ کون قوی ایمان والا اور سلیم القلب ہے اور کون ضعیف ایمان والا اور مریض القلب۔ سو مضبوط ایمان والوں کو اسے ماننے میں کوئی تردد نہیں ہوا، چنانچہ وہ امتحان میں کامیاب ہو گئے اور کمزور ایمان والے اور ایمان سے محروم لوگ کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی رات میں مکہ سے بیت المقدس اور ساتوں آسمانوں کے عجائبات دیکھ کر واپس بھی آ جائیں؟ یہ ناممکن ہے۔ سو وہ امتحان میں ناکام ہو گئے۔
➌ {” الرُّءْيَا “} کا لفظ اکثر خواب میں دیکھنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی آنکھوں سے دیکھنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ یہاں بیداری میں آنکھوں سے دیکھنا مراد ہے اور اس کی دلیل خود یہ آیت ہے۔ کیونکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے کہ میں نے یہ سب کچھ خواب میں دیکھا ہے تو نہ کسی کو تعجب ہوتا اور نہ کوئی فتنہ و امتحان ہوتا، کیونکہ خواب میں ہر شخص کو ناممکن و محال چیزیں دکھائی دے سکتی ہیں۔ امتحان یہی تھا کہ صرف مضبوط اہل ایمان تسلیم کر سکتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو یہ سب کچھ رات کے ایک تھوڑے سے حصے میں دکھانے پر قادر ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تصریح فرمائی: [هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلٰی بَيْتِ الْمَقْدِسِ] [بخاری، المناقب، باب المعراج…: ۳۸۸۸] ”یہ آنکھوں سے دیکھا ہوا منظر تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس رات دکھایا گیا جب آپ کو راتوں رات بیت المقدس لے جایا گیا۔“
➍ { وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ:} ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت جو اس سے پہلے فائدے میں بیان ہوئی اس میں انھوں نے اس کی تفسیر زقوم کے درخت سے کی ہے۔ قرآن مجید میں {”شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ“} کا ذکر دو مقامات پر آیا ہے، سورۂ صافات (۶۲ تا ۶۶) اور سورۂ دخان (۴۳ تا ۴۶) میں۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر لوگوں کے لیے آزمائش کے طور پر کیا گیا، کیونکہ ایمان سے محروم لوگ مان ہی نہیں سکتے کہ بھڑکتی ہوئی آگ کی تہ میں کوئی درخت اگ سکتا ہے، اس کے برعکس اہل ایمان کو اسے ماننے میں کوئی تردد نہیں ہوتا، کیونکہ ان کا ایمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، جبریل امین اور رب العالمین کبھی غلط بیانی نہیں کرتے اور آگ میں درخت پیدا کرنا، یا ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ کو ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔ یہاں زقوم کو شجرۂ ملعونہ کہا گیا ہے، اس کا معنی شجرۂ مذمومہ ہے، یعنی قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے۔
➎ { وَ نُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيْدُهُمْ …:} یعنی ہم کفار کو مختلف طریقوں سے ڈراتے ہیں، مگر اس سے انھیں بہت بڑی سرکشی میں اضافے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اس بات پر بھی کافروں نے بہت لے دے کی کہ آگ میں بھلا یہ درخت کیسے اگ سکتا ہے؟ یہ بھی در اصل اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا انکار ہے کہ اپنی عقل کے پیمانے سے اسے ناپنے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ آگ میں درخت یا پودے تو درکنار جاندار بھی پیدا ہوتے اور زندہ رہتے ہیں۔ آگ کا کیڑا سمندری آگ ہی سے پیدا ہوتا اور اسی میں زندہ رہتا ہے۔ پھر کئی پودے ایسے بھی ہیں جن سے آگ نکلتی ہے۔ یہ تو اس دنیا کا حال ہے اور اخروی عالم اور دوزخ کی کیفیت جب ہم پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکتے اور نہ کوئی چیز تجربہ میں آ سکتی ہے تو انکار کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ انکار تو اس صورت میں معقول ہو سکتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کی باقی سب قدرتوں کو پوری طرح سمجھ چکا ہو اور بس یہی ایک بات باقی رہ گئی ہو۔ انسان کا علم تو اتنا ناقص ہے کہ وہ اپنے جسم کے اندر کی چیزوں کی کیفیت بھی نہیں سمجھ سکتا تو پھر دوسرے عجائبات سے انکار کرنے یا ان کا مذاق اڑانے کا کیا حق ہے یہ دوسری بات تھی جو ان کفار کی سرکشی بڑھانے کا سبب بن گئی تھی۔ اور یہ درخت ملعون اس لحاظ سے ہے کہ اس میں غذائیت تو نام کو نہیں ہوتی۔ کانٹے بڑے سخت اور تیز ہوتے ہیں جو اہل دوزخ کی اذیت میں مزید اضافہ ہی کریں گے۔ واقعہ معراج کی طرح، تھوہر کے درخت کی آگ میں پیدائش بھی کافروں کے لیے فتنہ بن گئی تھی۔ اور واقعہ معراج کے فتنہ بننے سے بھی یہ بات از خود ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ سفر جسمانی تھا، روحانی یا کشفی نہیں تھا کیونکہ خواب میں تو ہر انسان ایسے یا اس سے عجیب تر واقعات دیکھ سکتا ہے لیکن کبھی کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بہت سے تابعین اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ دکھانا آنکھ کا دکھانا، مشاہدہ تھا جو شب معراج میں کرایا گیا تھا۔ معراج کی حدیثیں پوری تفصیل کے ساتھ اس سورت کے شروع میں بیان ہو چکی ہیں۔ یہ بھی گزر چکا ہے کہ معراج کے واقعہ کو سن کے بہت سے مسلمان مرتد ہو گئے اور حق سے پھر گئے کیونکہ ان کی عقل میں یہ نہ آیا تو اپنی جہالت سے اسے جھوٹا جانا اور دین کو چھوڑ بیٹھے۔
ان کے برخلاف کامل ایمان والے اپنے یقین میں اور بڑھ گئے اور ان کے ایمان اور مضبوط ہو گئے۔ ثابت قدمی اور استقلال میں زیادہ ہو گئے۔ پس اس واقعہ کو لوگوں کی آزمائش اور ان کے امتحان کا ذریعہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کر دیا۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد بنو امیہ ہیں لیکن یہ قول بالکل ضعیف اور غریب ہے۔ پہلے قول کے قائل وہ تمام مفسر ہیں جو اس آیت کو معراج کے بارے میں مانتے ہیں۔ جیسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مسروق، ابو مالک، حسن بصری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ۔ { سیدنا سہل بن سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں قبیلے والوں کو اپنے منبر پر بندروں کی طرح ناچتے ہوئے دیکھا اور آپ کو اس سے بہت رنج ہوا پھر انتقال تک آپ پوری ہنسی سے ہنستے ہوئے نہیں دکھائی دئے اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22433] لیکن یہ سند بالکل ضعیف ہے۔
محمد بن حسن بن زبالہ متروک ہے اور ان کے استاد بھی بالکل ضعیف ہیں۔ خود امام ابن جریر رحمہ اللہ کا پسندیدہ قول بھی یہی ہے کہ مراد اس سے شب معراج ہے اور شجرۃ الزقوم ہے کیونکہ مفسرین کا اس پر اتفاق ہے۔ ہم کافروں کو اپنے عذابوں وغیرہ سے ڈرا رہے ہیں لیکن وہ اپنی ضد، تکبر، ہٹ دھرمی اور بے ایمانی میں اور بڑھ رہے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإذ قلنا لك إنَّ ربَّك أحاط بالناس}: علماً وقدرةً؛ فليس لهم ملجأ يلجؤون إليه ولا ملاذٌ يلوذون به عنه، وهذا كافٍ لمن له عقلٌ في الانكفاف عما يكرهه الله الذي أحاط بالناس، {وما جَعَلْنا الرؤيا التي أرَيْناك}: أكثر المفسرين على أنَّها ليلة الإسراء، {والشجرةَ الملعونةَ}: التي ذكرت {في القرآن}: وهي شجرة الزقُّوم التي تَنْبُتُ في أصل الجحيم.
والمعنى: إذا كان هذان الأمران قد صارا فتنةً للناس، حتى استلجَّ الكفَّار بكفرهم وازداد شرُّهم، وبعض مَن كان إيمانُهُ ضعيفاً رجع عنه، بسبب أنَّ ما أخبرهم به من الأمور التي كانت ليلة الإسراء، ومن الإسراء من المسجد الحرام إلى المسجد الأقصى كان خارقاً للعادة، والإخبار بوجود شجرةٍ تَنْبُتُ في أصل الجحيم أيضاً من الخوارق؛ فهذا الذي أوجب لهم التكذيب؛ فكيفَ لو شاهدوا الآيات العظيمة والخوارق الجسيمة؟! أليس ذلك أولى أن يزداد بسببه شرُّهم؛ فلذلك رحمهم الله وصرفها عنهم. ومن هنا تعلمُ أنَّ عدم التصريح في الكتاب والسنة بذكر الأمورِ العظيمة التي حَدَثَتْ في الأزمنة المتأخِّرة أولى وأحسن؛ لأنَّ الأمور التي لم يشاهِدِ الناس لها نظيراً ربَّما لا تقبلها عقولُهم، [لو أُخْبِرُوا بها قبل وُقُوعِها] فيكون ذلك ريباً في قلوب بعض المؤمنين ومانعاً يمنعُ من لم يدخُل الإسلام ومنفراً عنه، بل ذكر الله ألفاظاً عامَّة تتناول جميع ما يكون. والله أعلم. {ونخوِّفُهم}: بالآيات، {فما يزيدهم}: التخويف {إلاَّ طغياناً كبيراً}: وهذا أبلغ ما يكون في التحلِّي بالشرِّ ومحبَّته وبغض الخير وعدم الانقياد له.