ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 56

قُلِ ادۡعُوا الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ فَلَا یَمۡلِکُوۡنَ کَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡکُمۡ وَ لَا تَحۡوِیۡلًا ﴿۵۶﴾
کہہ پکارو ان کو جنھیں تم نے اس کے سوا گمان کر رکھا ہے، پس وہ نہ تم سے تکلیف دور کرنے کے مالک ہیں اور نہ بدلنے کے۔ En
کہو کہ (مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے ان کو بلا کر دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کے بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے
En
کہہ دیجیئے کہ اللہ کے سوا جنہیں تم معبود سمجھ رہے ہو انہیں پکارو لیکن نہ تو وه تم سے کسی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں اور نہ بدل سکتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 56) ➊ {قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ …:} آلوسی نے فرمایا، زعم ظن (یعنی گمان) کے قریب ہے، کبھی جس بات میں شک ہو اس پر بھی زعم بولا جاتا ہے۔ بعض اوقات کذب (غلط بیانی) کے معنی میں بھی ہوتا ہے اور کبھی ثابت شدہ سچی بات پر بھی بول لیا جاتا ہے جس میں کوئی شک نہ ہو، جیسا کہ کئی احادیث میں ہے، ایسے تمام مقامات میں زعم کا معنی {قَالَ} ہو گا۔ زعم ان افعال میں سے ہے جو دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتے ہیں۔ یہاں دونوں مفعول محذوف ہیں، یعنی { زَعَمْتُمُوْهُمْ آلِهَةً } کہ ان لوگوں کو بلاؤ جنھیں تم نے معبود گمان کر رکھا ہے، یعنی فرشتے، جن، بزرگ، بت، غرض تمام وہ لوگ جن کی تم عبادت کرتے ہو اور مشکلات میں انھیں پکارتے ہو اور انھیں اپنے معبود گمان کرتے اور حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہو، انھیں پکارو۔
➋ {فَلَا يَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِيْلًا:} پس وہ نہ تم سے تکلیف دور کرنے کے مالک ہیں اور نہ تم سے ہٹا کر کسی اور کی طرف منتقل کر دینے کے مالک ہیں، پھر کیوں انھیں سجدہ کرتے اور مدد کے لیے پکارتے ہو؟ یہ مضمون اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر بیان فرمایا ہے، دیکھیے سورۂ انعام (۱۷، ۴۰،۴۱)، یونس (۱۰۷) اور سورۂ نمل(۶۲)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

56۔ آپ ان سے کہئے: ان کو پکارو جنہیں تم اللہ کے سوا معبود سمجھتے ہو، وہ تم سے تکلیف کو نہ ہٹا سکتے ہیں [69] اور نہ بدل سکتے ہیں۔
[69] اس آیت میں عموم ہے یعنی خواہ وہ پتھر کے بت ہوں یا فرشتے یا جن ہوں یا فوت شدہ نبی اور اولیاء ہوں سب اس میں شامل ہیں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ شرک صرف بتوں کو سجدہ کرنے کا نام نہیں بلکہ انھیں مشکل کے وقت پکارنا بھی ویسا ہی شرک ہے اور اس بات کی کئی دوسری آیات اور احادیث صحیحہ سے بھی تائید ہو جاتی ہے اور تیسری یہ بات کہ معبود خواہ کسی بھی قسم سے تعلق رکھتے ہوں نہ وہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ کسی کی بگڑی سنوار سکتے ہیں اور یہ سب مشرکانہ عقائد ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

وسیلہ یا قرب الہٰی ٭٭
اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے کہیئے کہ تم انہیں خوب پکار کر دیکھ لو کہ آیا وہ تمہارے کچھ کام آ سکتے ہیں؟ نہ ان کے بس کی یہ بات ہے کہ مشکل کشائی کریں نہ یہ بات کہ اسے کسی اور پر ٹال دیں، وہ محض بے بس ہیں، قادر اور طاقت والا صرف اللہ واحد ہی ہے۔ مخلوق کا خالق اور سب کا حکمران وہی ہے۔
یہ مشرک کہا کرتے تھے کہ ہم فرشتوں، مسیح اور عزیر کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کے معبود تو خود اللہ کی نزدیکی کی جستجو میں ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ { جن جنات کی یہ مشرکین پرستش کرتے تھے وہ خود مسلمان ہو گئے تھے لیکن یہ اب تک اپنے کفر پر جمے ہوئے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4714]‏‏‏‏
اس لیے انہیں خبردار کیا گیا کہ تمہارے معبود خود اللہ کی طرف جھک گئے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ جن فرشتوں کی ایک قسم سے تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام، مریم علیہا السلام، عزیر علیہ السلام، سورج چاند، فرشتے سب قرب الٰہی کی تلاش میں ہیں۔

ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک مطلب یہ ہے کہ جن جنوں کو یہ پوجتے تھے آیت میں وہی مراد ہیں کیونکہ مسیح علیہ السلام وغیرہ کا زمانہ تو گزر چکا تھا اور فرشتے پہلے ہی سے عابد الٰہی تھے تو مراد یہاں بھی جنات ہیں۔
وسیلہ کے معنی قربت و نزدیکی کے ہیں جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔ یہ سب بزرگ اسی دھن میں ہیں کہ کون اللہ سے زیادہ نزدیکی حاصل کر لے؟ وہ اللہ کی رحمت کے خواہاں اور اس کے عذاب سے ترساں ہیں۔ حقیقت میں بغیر ان دونوں باتوں کے عبادت نا مکمل ہے۔ خوف گناہوں سے روکتا ہے اور امید اطاعت پر آمادہ کرتی ہے۔ درحقیقت اس کے عذاب ڈرنے کے لائق ہیں۔ اللہ ہمیں بچائے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قُ٘لِ کہہ دیجیے۔ یعنی مشرکین سے ان کے اعتقاد کی صحت پر دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنا رکھے ہیں، جن کی یہ اسی طرح عبادت کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے، جن کو یہ اسی طرح پکارتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں … کہ اگر وہ سچے ہیں تو ﴿ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ پکارو تم ان کو جن کو تم گمان کرتے ہو یعنی جن کے بارے میں تم اس زعم میں مبتلا ہو کہ وہ معبود ہیں ﴿ مِّنْ دُوْنِهٖ اللہ کو چھوڑ کر پس غور کرو کہ آیا وہ تمھیں کوئی نفع دے سکتے ہیں یا تمھیں کسی نقصان سے بچا سکتے ہیں۔ ﴿ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّ٘رِّ عَنْكُمْ سو وہ نہیں اختیار رکھتے تم سے تکلیف دور کرنے کا یعنی یہ خود ساختہ معبود، فقر اور سختی وغیرہ کو بالکل دور نہیں کر سکتے۔ ﴿ وَلَا تَحْوِیْلًا اور نہ بدلنے کا اور نہ یہ باطل معبود کسی سختی کو کسی ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف منتقل ہی کر سکتے ہیں۔ پس جب ان باطل معبودوں کے یہ اوصاف ہیں تو تم اللہ کے سوا انھیں کس لیے پکارتے ہو؟ یہ کسی کمال کے مالک ہیں نہ افعال نافعہ کے۔ تب ان بے بس اور بے اختیار ہستیوں کو معبود بنانا عقل و دین کی کمی اور رائے کی سفاہت ہے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ جب انسان سفاہت میں تجربے کی وجہ سے اس کا عادی ہو جاتا ہے اور اس کو اپنے گمراہ آباء و اجداد سے اخذ کرتا ہے تو اسی سفاہت کو انتہائی درست رائے اور عقل مندی سمجھنے لگتا ہے اور اس کے برعکس اللہ واحد کے لیے… جو تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے… اخلاص کو سفاہت خیال کرتا ہے۔ یہ کتنا تعجب خیز معاملہ ہے، جیسا کہ مشرکین کا قول ہے: ﴿ اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ١ۖ ۚ اِنَّ هٰؔذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ (صٓ: 38؍5) کیا اس نے بہت سے معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ہے یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {قل} للمشركين بالله الذين اتَّخذوا من دونه أنداداً يعبُدونهم كما يعبدون الله، ويدعونهم كما يدعونَه ملزِماً لهم بتصحيح ما زعموه، واعتقدوه إن كانوا صادقين: {ادعوا الذين زعمتُم}: آلهة من دون اللَّه، فانظروا هل يَنْفَعونكم أو يدفَعون عنكم الضُّرَّ؟ فإنهم لا {يملِكونَ كشفَ الضُّرِّ عنكم}: من مرضٍ أو فقرٍ أو شدَّةٍ ونحو ذلك؛ فلا يدفعونَه بالكُلِّيَّة. ولا يملكون أيضاً تَحْويله من شخص إلى آخر، ومن شدَّة إلى ما دونها؛ فإذا كانوا بهذه الصفة؛ فلأيِّ شيءٍ تدعونَهم من دون الله؛ فإنَّهم لا كمالَ لهم ولا فعال نافعة؛ فاتِّخاذُهم نقصٌ في الدين والعقل وسَفَهٌ في الرأي.

ومن العجب أنَّ السَّفه عند الاعتياد والممارسة وتلقِّيه عن الآباء الضالِّين بالقبول يراه صاحبه هو الرأي السديد والعقل المفيد، ويرى إخلاصَ الدِّين لله الواحد الأحد الكامل المنعم بجميع النعم الظاهرة والباطنة هو السَّفه والأمر المتعجَّب منه؛ كما قال المشركون: {أجعلَ الآلهةَ إلهاً واحداً إنَّ هذا لشيءٌ عُجابٌ}.