تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَلَا يَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِيْلًا:} پس وہ نہ تم سے تکلیف دور کرنے کے مالک ہیں اور نہ تم سے ہٹا کر کسی اور کی طرف منتقل کر دینے کے مالک ہیں، پھر کیوں انھیں سجدہ کرتے اور مدد کے لیے پکارتے ہو؟ یہ مضمون اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر بیان فرمایا ہے، دیکھیے سورۂ انعام (۱۷، ۴۰،۴۱)، یونس (۱۰۷) اور سورۂ نمل(۶۲)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ مشرک کہا کرتے تھے کہ ہم فرشتوں، مسیح اور عزیر کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کے معبود تو خود اللہ کی نزدیکی کی جستجو میں ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ { جن جنات کی یہ مشرکین پرستش کرتے تھے وہ خود مسلمان ہو گئے تھے لیکن یہ اب تک اپنے کفر پر جمے ہوئے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4714]
اس لیے انہیں خبردار کیا گیا کہ تمہارے معبود خود اللہ کی طرف جھک گئے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ جن فرشتوں کی ایک قسم سے تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام، مریم علیہا السلام، عزیر علیہ السلام، سورج چاند، فرشتے سب قرب الٰہی کی تلاش میں ہیں۔
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک مطلب یہ ہے کہ جن جنوں کو یہ پوجتے تھے آیت میں وہی مراد ہیں کیونکہ مسیح علیہ السلام وغیرہ کا زمانہ تو گزر چکا تھا اور فرشتے پہلے ہی سے عابد الٰہی تھے تو مراد یہاں بھی جنات ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {قل} للمشركين بالله الذين اتَّخذوا من دونه أنداداً يعبُدونهم كما يعبدون الله، ويدعونهم كما يدعونَه ملزِماً لهم بتصحيح ما زعموه، واعتقدوه إن كانوا صادقين: {ادعوا الذين زعمتُم}: آلهة من دون اللَّه، فانظروا هل يَنْفَعونكم أو يدفَعون عنكم الضُّرَّ؟ فإنهم لا {يملِكونَ كشفَ الضُّرِّ عنكم}: من مرضٍ أو فقرٍ أو شدَّةٍ ونحو ذلك؛ فلا يدفعونَه بالكُلِّيَّة. ولا يملكون أيضاً تَحْويله من شخص إلى آخر، ومن شدَّة إلى ما دونها؛ فإذا كانوا بهذه الصفة؛ فلأيِّ شيءٍ تدعونَهم من دون الله؛ فإنَّهم لا كمالَ لهم ولا فعال نافعة؛ فاتِّخاذُهم نقصٌ في الدين والعقل وسَفَهٌ في الرأي.
ومن العجب أنَّ السَّفه عند الاعتياد والممارسة وتلقِّيه عن الآباء الضالِّين بالقبول يراه صاحبه هو الرأي السديد والعقل المفيد، ويرى إخلاصَ الدِّين لله الواحد الأحد الكامل المنعم بجميع النعم الظاهرة والباطنة هو السَّفه والأمر المتعجَّب منه؛ كما قال المشركون: {أجعلَ الآلهةَ إلهاً واحداً إنَّ هذا لشيءٌ عُجابٌ}.