تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ تفسیر ثنائی میں ہے: ”غرض ان کی دلیل سے یہ ہے کہ اللہ ہمارے افعال پر خوش ہے تو ہم کرتے ہیں، بھلا اگر وہ ناراض ہوتا تو کیا ہم کر سکتے تھے، پھر تو کیوں ہم کو ہمارے ان کاموں پر وعید سناتا ہے، مگر حقیقت میں ان کو سمجھ نہیں، وہ اللہ کی مشیت (چاہنے) میں اور رضا (خوش ہونے) میں فرق نہیں جانتے، بے شک جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مشیت سے ہو رہا ہے، مجال نہیں کہ اس کی مشیت کے سوا کوئی ہو سکے، کیونکہ مشیت اس کے قانون کا نام ہے، جب تک کسی کام کو حسب قانون فطرت نہ کرو گے کبھی کامیاب نہ ہو گے۔ جب تک گرمی حاصل کرنے کے لیے آگ نہ جلاؤ گے پانی سے وہ کام نہیں نکل سکے گا، جو کام فطرت نے پانی سے متعلق کیا ہے وہ آگ سے نہیں ہو گا۔ یہی تلوار جس کا کام سر اتار دینا ہے، جہاں اس کو چلاؤ گے اپنا اثر دکھا دے گی، خواہ کسی مظلوم پرہو یا ظالم پر، چنانچہ ہر روز دنیا میں ناحق خون بھی ہوتے ہیں، لیکن ان سب کاموں پر رضائے الٰہی لازمی نہیں ہے، بلکہ رضا اس صورت میں ہو گی کہ ان سب اشیاء کو شریعت کی ہدایت کے مطابق استعمال کرو گے۔ پس یہ بے سمجھی نہیں تو اور کیا ہے کہ مشیت اور رضا میں فرق نہیں کرتے۔“
➌ {كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ:} یعنی پہلے لوگوں نے بھی اللہ کی تقدیر اور مشیت کو اپنے کفر و شرک کا بہانا بنایا۔ اس سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ یہ لوگ جو قرآن کو {” اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ “ } (پہلوں کی کہانیاں) کہہ رہے ہیں تو اللہ کی مشیت اور تقدیر کو بہانا بنانا کون سی نئی بات ہے جو انھوں نے کی ہے، یہ بھی تو وہی گھسی پٹی پرانی بات ہے جو پہلے کفار کرتے آئے ہیں۔
➍ {فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ: ” الْبَلٰغُ “} اسم مصدر ہے، بمعنی {”إِبْلَاغٌ“} یعنی پہنچا دینا، یعنی رسولوں کے ذمے صاف واضح پیغام پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں، لہٰذا اگر کافر کج بحثی یا ہٹ دھرمی کرتے رہیں اور ایمان نہ لائیں تو پیغمبروں سے اس پر باز پرس نہ ہو گی۔ ہدایت و گمراہی کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:”یہ نادانوں کی باتیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو فلاں کام برا لگتا تو کیوں کرنے دیتا، آخر ہر فرقے کے نزدیک بعض کام برے ہیں، پھر وہ کیوں ہوتے ہیں۔ یہاں جواب مجمل فرمایا کہ رسول تو برے کاموں سے منع کرتے آئے ہیں مگر جس کی قسمت تھی اسی نے ہدایت پائی اور جس کو خراب ہونا تھا خراب ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا یوں ہی ہوا ہے۔“ (موضح)
➎ علامہ قاسمی رحمہ اللہ نے یہاں ”منہاج السنہ“ کی دوسری جلد کے شروع سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی ایک عبارت نقل کی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے: ”اپنے ذمے واجب حقوق ادا نہ کرنے اور حرام کاموں کے ارتکاب کے جواز کے لیے اکثر لوگ تقدیر کو دلیل بناتے ہیں، حالانکہ یہ دلیل بالکل غلط اور بے کار ہے، اس کے باطل ہونے پر دنیا کے تمام عقلاء کا اتفاق ہے، خواہ وہ کسی دین سے تعلق رکھتے ہوں۔ جو شخص یہ دلیل پیش کرتا ہے اگر کوئی دوسرا شخص اس کے مقابلے میں یہی دلیل پیش کرے جس نے اس کا کوئی حق ادا نہ کیا ہو یا اس کا کوئی عزیز قتل کیا ہو، یا اس کا مال چھین لیا ہو، اس کی بیوی کی عزت لوٹی ہو تو وہ اس کی یہ دلیل کبھی قبول نہیں کرے گا، بلکہ اپنا حق لینے کی اور زیادتی کا بدلہ لینے کی پوری کوشش کرے گا۔ صرف یہی نہیں بلکہ کوئی بھی شخص زیادتی کرنے والے کی یہ دلیل نہیں مانے گا۔ دراصل یہ ان سو فسطائیوں کی باتوں جیسی بات ہے، جو کہتے ہیں کہ معلوم نہیں ہم موجود بھی ہیں یا نہیں۔ اس کا نتیجہ جھوٹ، ظلم، زیادتی اور ہر غلط کام کا جواز ہو گا۔ کوئی شخص اپنے دل سے پوچھے تو وہ بھی اسے ایک باطل بات قرار دے گا۔ اس لیے تحقیق کے وقت کسی عدالت میں یہ دلیل قبول نہیں کی جاتی، کیونکہ یہ سراسر جہالت ہے، علم سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے جب مشرکوں نے کہا: «{ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ }» (اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے، نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کوئی چیز حرام کرتے) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ }» [الأنعام: ۱۴۸] (کیا تمھارے پاس کوئی علم ہے جو ہمارے سامنے پیش کر سکو، تم تو محض گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہو اور صرف اٹکل بازی کر رہے ہو) پھر فرمایا: «{ قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ }» [الأنعام: ۱۴۹] ”کہہ دے پھر کامل دلیل تو اللہ ہی کی ہے، سو اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ضرور ہدایت دے دیتا۔“
معلوم ہوا یہ علم نہیں محض اٹکل پچو ہے، اس کے ہوتے ہوئے عادل و ظالم، صادق و کاذب، عالم و جاہل، نیک وبد کا کوئی فرق ہی نہیں رہتا، یہ لوگ جو رسولوں کی مخالفت کرنے اور کفر و شرک پر ڈٹے رہنے کی دلیل تقدیر کو بنا رہے ہیں، آپس میں ایک دوسرے کے حقوق مار جانے اور اپنے خلاف چلنے پر کبھی یہ دلیل نہیں مانتے، بلکہ یہی مشرک ایک دوسرے کی مذمت کرتے، دشمنی رکھتے اور لڑائی کرتے ہیں۔ {” قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ “} (کہہ دے پس کامل دلیل تو اللہ ہی کی ہے) میں اللہ تعالیٰ نے شرعی حجت کا ذکر فرمایا اور {” فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ “} (اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا) میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تقدیر والی مشیت کا ذکر فرمایا اور یہ دونوں حق ہیں۔
➏ اس بات کا ایک اور مطلب بھی بیان کیا جاتا ہے۔ علامہ قاشانی نے فرمایا کہ ان مشرکین نے یہ بات انتہائی جہل کی وجہ سے اور موحدین کو چپ کروانے کے لیے صرف ضد اور عناد سے کہی ہے، کیونکہ اگر وہ علم و یقین سے یہ بات کہتے تو وہ موحد بن جاتے، مشرک رہ ہی نہیں سکتے تھے، کیونکہ جس کو یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کچھ ہو ہی نہیں سکتا، وہ یقینا یہ بھی جان لے گا کہ دنیا کے سب لوگ بھی کوئی کام کرنا چاہیں، جو اللہ تعالیٰ نہ چاہتا ہو، تو وہ کام ہونا کبھی ممکن ہی نہیں، تو جب اس نے اعتراف کر لیا کہ اللہ کے سوا نہ کسی کے ارادے کی کچھ حیثیت ہے اور نہ کسی کے پاس کوئی قدرت ہے، تو یہ بندہ تو مشرک رہا ہی نہیں، حالانکہ وہ لوگ تو اللہ کے ساتھ شریک بنا رہے تھے اور رسولوں کو جھٹلا رہے تھے۔ معلوم ہوا اپنی اس دلیل کو وہ خود بھی نہیں مانتے تھے۔ (تفسیر قاسمی)
➐ مفتی محمد عبدہ نے فرمایا: ”ترک عمل پر تقدیر کو بطور دلیل پیش کرنا ملحدین کا عقیدہ ہے، قرآن کریم نے ان کے اس عقیدے کی مذمت فرمائی اور اسے معیوب قرار دیا ہے اور ہمارے لیے ان مشرکوں کا یہ قول بطور مذمت نقل فرمایا، اس لیے ہم میں سے کسی شخص کو، جبکہ وہ قرآن پر ایمان رکھنے کا مدعی ہو، کسی صورت جائز نہیں کہ وہ یہ دلیل پیش کرے جو مشرکین پیش کیا کرتے تھے۔“ (قاسمی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
مشرکین مکہ نے بھی کئی حلال چیزوں کو حرام اور حرام چیزوں کو حلال بنا لیا تھا جن کا ذکر سائبہ، بحیرہ، وصیلہ اور حام [5: 103] کے حواشی میں گزر چکا ہے۔ مشرکوں کا یہ جواب در اصل ”عذر گناہ بد تر از گناہ“ کے مصداق ہوتا ہے۔ تاکہ اس طرح پیغمبروں کو لاجواب کر دیں اور کج بحث قسم کے مجرم اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے اکثر مشیئت الٰہی کا ہی بہانہ پیش کیا کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کی مشیئت اور اللہ کی رضا میں بڑا فرق ہوتا ہے اور اس فرق کو پہلے سورۃ انعام آیت نمبر 144 کے حاشیہ میں تفصیل سے ذکر کیا جا چکا ہے وہاں ملاحظہ کر لیا جائے۔
[34] جب مشرکوں کو پیغمبر اسلام اور قرآن کی تعلیم کے متعلق پوچھا جاتا تو وہ یہی جواب دیتے تھے کہ اس تعلیم میں رکھا کیا ہے۔ بس پہلے لوگوں کی داستانیں ہیں کوئی نئی بات تو ہے نہیں۔ گویا انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض یہ تھا کہ یہ پرانے لوگوں کی ہی باتیں پیش کرتا ہے ان کے جواب میں انھیں بتایا جا رہا ہے کہ تم جو اپنے مشرکانہ کاموں کے جواز میں دلیل پیش کر رہے ہو، یہ بھی کوئی دلیل نہیں۔ وہی پرانی بات ہے جو گمراہ لوگ ہمیشہ سے کہتے چلے آرہے ہیں کہ اگر اللہ کو منظور نہ ہوتا تو ہم ایسے کام کیوں کرتے؟ حالانکہ مشرکوں کی اس دلیل میں بھی اس کا رد موجود ہے۔ جو یہ ہے کہ اگر اللہ کو مشرکوں کا یہ شرک گوارا یا منظور ہوتا تو چاہئے تھا کہ اللہ مشرکوں کے اس کام پر سکوت اختیار فرماتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیج کر ان افعال کی پر زور تردید اور مذمت کی ہے۔ پھر وہ یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے یہ کام اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہیں۔
[35] مشرکوں کا یہ جواب اس لحاظ سے بھی غلط ہے کہ ہمارے رسولوں نے انھیں بروقت مطلع کر دیا تھا کہ جو مشرکانہ کام تم کر رہے ہو اللہ ان سے ہرگز راضی نہیں بلکہ وہ اس قدر ناراض ہے کہ تمہارے ان کاموں کی پاداش میں تم پر اپنا عذاب بھیج سکتا ہے۔ اور انہوں نے اپنی اس ذمہ داری میں کبھی کوتاہی نہیں کی تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ’ یہ ہمارا دستور نہیں، ہمیں تمہارے یہ کام سخت ناپسند ہیں اور ان کی ناپسندیدگی کا اظہار ہم اپنے سچے پیغمبروں علیہم السلام کی زبانی کر چکے۔ سخت تاکیدی طور پر تمہیں ان سے روک چکے، ہر بستی، ہر جماعت، ہر شہر میں اپنے پیغام بھیجے، سب نے اپنا فرض ادا کیا۔ بندگان رب میں اس کے احکام کی تبلیغ صاف کر دی۔ سب سے کہہ دیا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا دوسرے کو نہ پوجو، سب سے پہلے جب شرک کا ظہور زمین پر ہوا اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو خلعت نبوت دے کر بھیجا اور سب سے آخر ختم المرسلین کا لقب دے کر رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی بنایا، جن کی دعوت تمام جن و انس کے لیے زمین کے اس کونے سے اس کونے تک تھی ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» ۱؎ [21-الانبیآء:25] یعنی ’ تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے، سب کی طرف وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں پس تم صرف ہی عبادت کرو ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ» [43-الزخرف:45] ’ تو اپنے سے پہلے کے رسولوں سے پوچھ لے کہ کیا ہم نے ان کے لیے سوائے اپنے اور معبود مقرر کئے تھے، جن کی وہ عبادت کرتے ہوں؟ ‘
یہاں بھی فرمایا ’ ہر امت کے رسولوں کی دعوت توحید کی تعلیم اور شرک سے بیزاری ہی رہی ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ رسولوں کے آگاہ کر دینے کے بعد دنیاوی سزائیں بھی کافروں اور مشرکوں پر آئیں۔ بعض کو ہدایت بھی ہوئی، بعض اپنی گمراہی میں ہی بہکتے رہے۔ تم رسولوں کے مخالفین کا، اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کا انجام زمین میں چل پھر کر خود دیکھ لو گزشتہ واقعات کا جنہیں علم ہے ان سے دریافت کر لو کہ کس طرح عذاب الٰہی نے مشرکوں کو غارت کیا۔ اس وقت کے کافروں کے لیے ان کافروں میں مثالیں اور عبرت موجود ہے۔ دیکھ لو اللہ کے انکار کا نتیجہ کتنا مہلک ہوا؟ ‘
پھر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ’ گو آپ ان کی ہدایت کے کیسے ہی حریص ہوں لیکن بے فائدہ ہے۔ رب ان کی گمراہیوں کی وجہ سے انہیں در رحمت سے دور ڈال چکا ہے ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا» [5-المائدہ:41] ’ جسے اللہ ہی فتنے میں ڈالنا چاہے تو اسے کچھ بھی تو نفع نہیں پہنچا سکتا ‘۔
جیسے کہ اور آیت میں ہے «مَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [7-الأعراف:186] ’ جس کو اللہ رہنمائی سے محروم کر دے اُس کے لیے پھر کوئی رہنما نہیں ہے، اور اللہ اِنہیں اِن کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے دیتا ہے۔ وہ دن بدن اپنی سرکشی اور بہکاوے میں بڑھتے رہتے ہیں ‘۔
فرمان ہے آیت «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-يونس:96-97] ’ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تمام نشانیاں ان کے پاس آ جائیں یہاں تک کہ عذاب الیم کا منہ دیکھ لیں ‘۔
پس اللہ یعنی اس کی شان، کا امر، اس لیے کہ جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ پس فرماتا ہے کہ ’ وہ اپنے گمراہ کئے ہوئے کو راہ نہیں دکھاتا۔ نہ کوئی اور اس کی رہبری کر سکتا ہے نہ کوئی اس کی مدد کے لیے اٹھ سکتا ہے کہ عذاب الٰہی سے بچا سکے ‘۔ «أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:54] ’ خلق و امر اللہ ہی کا ہے وہ رب العالمین ہے، اس کی ذات با برکت ہے، وہی سچا معبود ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: احتجَّ المشركون على شركهم بمشيئة الله، وأنَّ الله لو شاء ما أشركوا ولا حرَّموا شيئاً من الأنعام التي أحلَّها؛ كالبحيرة والوصيلة والحام ونحوها من دونه، وهذه حجَّةٌ باطلةٌ؛ فإنَّها لو كانت حقًّا؛ ما عاقب الله الذين من قبلهم حيث أشركوا به، فعاقبهم أشدَّ العقاب؛ فلو كان يحبُّ ذلك منهم؛ لما عذَّبهم. وليس قصدهم بذلك إلاَّ ردَّ الحقِّ الذي جاءت به الرسل، وإلاَّ؛ فعندهم علمٌ أنه لا حجَّة لهم على الله؛ فإنَّ الله أمرهم ونهاهم، ومكَّنهم من القيام بما كلَّفهم، وجعل لهم قوَّة ومشيئة تصدُر عنها أفعالهم؛ فاحتجاجُهم بالقضاء والقَدَر من أبطل الباطل، هذا وكل أحدٍ يعلم بالحسِّ قدرة الإنسان على كُلِّ فعلٍ يريده من غير أن ينازِعَه منازِعٌ؛ فجمعوا بين تكذيب الله وتكذيب رسُلِهِ وتكذيب الأمور العقليَّة والحسيَّة. {فهل على الرُّسل إلاَّ البلاغُ المبين}؛ أي: البيِّن الظاهر الذي يَصِلُ إلى القلوب ولا يبقى لأحدٍ على الله حجَّة؛ فإذا بَلَّغَتْهُمُ الرسل أمرَ ربِّهم ونهيَه ـ واحتجُّوا عليهم بالقَدَر ـ؛ فليس للرسل من الأمر شيء، وإنما حسابُهم على الله عزَّ وجلَّ.