(آیت97){وَلَقَدْنَعْلَمُاَنَّكَيَضِيْقُ …: } اللہ تعالیٰ نے کفار کے استہزا اورکفر و شرک پر اصرار سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت تاکید والے الفاظ میں تسلی دی۔چنانچہ لام تاکید اور {”قَدْ“} برائے تحقیق کے ساتھ اس بات کا اظہار فرمایا کہ ہم آپ کے حالات سے بے خبر نہیں، بلکہ ہر وقت ہماری توجہ آپ کی طرف ہے، اب بھی اور آئندہ بھی اور ہم جانتے ہیں کہ یقینا آپ کاسینہ ان کی باتوں سے تنگ پڑجاتاہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
97۔ ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اس سے آپ کا دل گھٹتا ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَقَدْنَعْلَمُاَنَّكَیَضِیْقُصَدْرُكَبِمَایَقُوْلُوْنَ﴾”اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں “ یعنی وہ آپ کی تکذیب اور استہزاء کی بابت جو باتیں کہتے ہیں، وہ ہمیں معلوم ہیں اور ہم عذاب کے ذریعے سے ان کے استیصال پر پوری پوری قدرت رکھتے ہیں نیز ان کو فوری طور پر وہ سزا دے سکتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے رہا ہے، تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولقد نعلمُ أنك يضيقُ صدرُكَ بما يقولون}: لك من التكذيب والاستهزاء؛ فنحن قادرون على استئصالهم بالعذاب والتَّعجيل لهم بما يستحقُّونه، ولكنَّ الله يمهِلُهم، ولا يهملُهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔