تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 97

وَ لَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّکَ یَضِیۡقُ صَدۡرُکَ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۹۷﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم جانتے ہیں کہ تیرا سینہ اس سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں۔ En
اور ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے
En
ہمیں خوب علم ہے کہ ان کی باتوں سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں یعنی وہ آپ کی تکذیب اور استہزاء کی بابت جو باتیں کہتے ہیں، وہ ہمیں معلوم ہیں اور ہم عذاب کے ذریعے سے ان کے استیصال پر پوری پوری قدرت رکھتے ہیں نیز ان کو فوری طور پر وہ سزا دے سکتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے رہا ہے، تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولقد نعلمُ أنك يضيقُ صدرُكَ بما يقولون}: لك من التكذيب والاستهزاء؛ فنحن قادرون على استئصالهم بالعذاب والتَّعجيل لهم بما يستحقُّونه، ولكنَّ الله يمهِلُهم، ولا يهملُهم.