(آیت96){ الَّذِيْنَيَجْعَلُوْنَمَعَاللّٰهِ …:} نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استہزا کے ساتھ ساتھ ان کا سب سے بڑا جرم شرک ذکر کر کے فرمایا، یہ لوگ عنقریب انجام دیکھ لیں گے۔ دنیا میں ان کے انجام کا ذکر اوپر گزرا، آخرت کا معاملہ تو بیان ہی میں نہیں آ سکتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
96۔ جو اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہ بھی قرار دیتے ہیں۔ عنقریب انھیں (سب کچھ) معلوم ہو جائے گا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا وصف بیان کیا اور فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح آپ کو ایذا پہنچاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ایذا دیتے ہیں۔ ﴿الَّذِیْنَیَجْعَلُوْنَمَعَاللّٰهِاِلٰهًااٰخَرَ﴾”جو کہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرے معبود“ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کا رب اور ان کا خالق ہے اور ان پر تمام احسان اسی کی طرف سے ہیں۔ ﴿ فَسَوْفَیَعْلَمُوْنَ ﴾”عنقریب وہ جان لیں گے“ یعنی جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو انھیں اپنے کرتوتوں کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر وصفهم، وأنهم كما يؤذونك يا رسول الله؛ فإنَّهم أيضاً يؤذون الله، {الذين يجعلون مع الله إلهاً آخر}: وهو ربُّهم وخالقهم ومدبرهم. {فسوف يعلمون}: غِبَّ أفعالهم إذا وردوا القيامة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔