اس آیت کی تفسیر آیت 49 میں تا آیت 51 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
50۔ اور یہ بھی کہ میرا عذاب ہی دردناک [27] عذاب ہے
[27] اللہ تعالیٰ سے امید بھی اور خوف بھی:۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفات کا اکٹھا ذکر کر دیا۔ تاکہ لوگ نہ تو اللہ تعالیٰ کی بخشش پر ہی تکیہ کر کے بے خوف ہو جائیں اور گناہ کے کاموں پر دلیر ہو جائیں اور نہ ہی اللہ سے اتنا زیادہ ڈرنے لگیں کہ اس کی رحمت سے مایوس ہو جائیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے کے بعد بھی اپنے نیک اعمال پر تکیہ کر کے بے خوف نہ ہو جانا چاہیے بلکہ اپنی بعض تقصیرات کی وجہ سے اس سے ڈرتے بھی رہنا چاہیے انہی دو صفات کا اکٹھا ذکر اللہ تعالیٰ نے اور بھی بہت سے مقامات پر فرمایا ہے مثلاً مومنوں کی ایک صفت یہ بیان فرمائی۔ ﴿يَدْعُوْنَرَبَّهُمْخَوْفًاوَّطَمَعًا﴾ اور فرمایا: ﴿وَادْعُوْهُخَوْفًاوَّطَمَعًا﴾[56: 7] تاہم اللہ کی رحمت کا پہلو ہی راجح ہونا چاہیے کیونکہ اس کے ساتھ ہی فرما دیا کہ: ﴿اِنَّرَحْمَتَاللّٰهِقَرِيْبٌمِّنَالْمُحْسِنِيْنَ﴾[56: 7]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اور وہ امید کے اس حال تک نہ پہنچ جائیں کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے مامون سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے بارے میں جرأت کا رویہ رکھیں۔ نیز انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیجیے! ﴿ وَاَنَّعَذَابِیْهُوَالْعَذَابُالْاَلِیْمُ ﴾”میرا عذاب، وہ دردناک عذاب ہے“ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سوا دوسرا عذاب کوئی عذاب ہی نہیں، اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوئی اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کی کنہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں کیونکہ جب انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو گی کہ ﴿ فَیَوْمَىِٕذٍلَّایُعَذِّبُعَذَابَهٗۤاَحَدٌۙ۰۰وَّلَایُوْثِقُوَثَاقَهٗۤاَحَدٌ ﴾ (الفجر:89؍25۔26) ”اس روز نہ کوئی اللہ کے عذاب کی مانند کوئی عذاب دے گا اور نہ اللہ کی گرفت کی مانند کوئی گرفت کر سکے گا۔“ تب وہ ڈریں گے اور ہر اس سبب سے دور رہیں گے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا موجب بنتا ہے۔ بندۂ مومن کے لائق یہی ہے کہ اس کا قلب دائمی طور پر خوف اور امید، رغبت اور رہبت کے درمیان رہے۔ جب بندہ اپنے رب کی بے پایاں رحمت، اس کی مغفرت اور اس کے جود و احسان کی طرف نظر کرے تو اس کا قلب امید اور رغبت سے لبریز ہو جائے اور جب وہ اپنے گناہوں اور اپنے رب کے حقوق کے بارے میں اپنی تقصیر پر نظر ڈالے تو اس کے دل میں خوف اور رہبت پیدا ہو اور وہ گناہوں کو چھوڑ دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومع هذا؛ فلا ينبغي أن يتمادى بهم الرجاءُ إلى حال الأمن والإدلال؛ فنبئهم {أنَّ عذابي هو العذابُ الأليمُ}؛ أي: لا عذاب في الحقيقة إلاَّ عذابُ الله الذي لا يقادَرُ قَدْره ولا يُبْلَغ كُنْهه، نعوذ به من عذابه؛ فإنهم إذا عرفوا أن لا يعذِّبَ عذابَه أحدٌ ولا يوثِقُ وَثاقَهُ أحدٌ؛ حذروا وأبعدوا عن كلِّ سبب يوجب لهم العقاب.
فالعبد ينبغي أن يكون قلبه دائماً بين الخوف والرجاء والرغبة والرهبة؛ فإذا نظر إلى رحمة ربِّه ومغفرته وجوده وإحسانه؛ أحدث له ذلك الرجاءَ والرغبةَ، وإذا نظر إلى ذنوبه وتقصيره في حقوق ربِّه؛ أحدث له الخوفَ والرهبة والإقلاع عنها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔