ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحجر (15) — آیت 46

اُدۡخُلُوۡہَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیۡنَ ﴿۴۶﴾
اس میں سلامتی کے ساتھ بے خوف ہوکر داخل ہوجاؤ۔ En
(ان سے کہا جائے گا کہ) ان میں سلامتی (اور خاطر جمع سے) داخل ہوجاؤ
En
(ان سے کہا جائے گا) سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہو جاؤ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت46){اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ …: } یعنی انھیں یہ کہا جائے گا۔ { بِسَلٰمٍ } یعنی ہر قسم کے آفات و مصائب سے سلامتی کے ساتھ، ایک دوسرے کو سلام کہتے ہوئے، فرشتوں کے سلام سنتے ہوئے اور پروردگار عالم کے { سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ } کے ساتھ۔ (دیکھیے یٰسٓ: ۵۸) اسی لیے جنت کا ایک نام دار السلام بھی ہے، فرمایا: «{ لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [الأنعام: ۱۲۷] { اٰمِنِيْنَ } ہر خوف خطرے سے محفوظ۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

46۔ 1 سلامتی ہر قسم کی آفات سے اور امن ہر قسم کے خوف سے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو یا فرشتے اہل جنت کو سلامتی کی دعا دیں گے۔ یا اللہ کی طرف سے ان کی سلامتی اور امن کا اعلان ہوگا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

46۔ (اور ان سے کہا جائے گا کہ) ان میں بلا خوف و خطر داخل ہو جاؤ

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جنت میں کوئی بغض و کینہ نہ رہے گا ٭٭
دوزخیوں کا ذکر کر کے اب جنتیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ وہ باغات، نہروں اور چشموں میں ہوں گے ‘۔ ان کو بشارت سنائی جائے گی کہ اب تم ہر آفت سے بچ گئے ہر ڈر اور گھبراہٹ سے مطمئن ہو گئے نہ نعمتوں کے زوال کا ڈر، نہ یہاں سے نکالے جانے کا خطرہ نہ فنا نہ کمی۔
اہل جنت کے دلوں میں گو دنیوں رنجشیں باقی رہ گئی ہوں مگر جنت میں جاتے ہی ایک دوسرے سے مل کر تمام گلے شکوے ختم ہو جائیں گے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا ﴿اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰ٘مٍ اٰمِنِیْنَ داخل ہو جاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ یعنی موت، نیند، تھکن سے، وہاں حاصل نعمتوں میں سے کسی نعمت کے منقطع ہونے یا ان میں کمی واقع ہونے سے، بیماری، حزن و غم اور دیگر تمام کدورتوں سے مامون و محفوظ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ويقال لهم حال دخولها: {ادخُلوها بسلام آمنينَ}: من الموت والنوم والنَّصَب واللُّغوب وانقطاع شيء من النعيم الذي هم فيه أو نقصانه ومن المرض والحزن والهمِّ وسائر المكدرات.