وَ سَخَّرَ لَکُمُ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ دَآئِبَیۡنِ ۚ وَ سَخَّرَ لَکُمُ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ ﴿ۚ۳۳﴾
اور تمھاری خاطر سورج اور چاند کو مسخر کر دیا کہ پے درپے چلنے والے ہیں اور تمھاری خاطر رات اور دن کو مسخر کر دیا۔
En
اور سورج اور چاند کو تمہارے لیے کام میں لگا دیا کہ دونوں (دن رات) ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ اور رات اور دن کو بھی تمہاری خاطر کام میں لگا دیا
En
اسی نے تمہارے لیے سورج چاند کو مسخر کردیا ہے کہ برابر ہی چل رہے ہیں اور رات دن کو بھی تمہارے کام میں لگا رکھا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت33){دَآىِٕبَيْنِ:} یہ {”دَأَبَ يَدْأَبُ دَأْبًا“} سے اسم فاعل کا تثنیہ ہے، مسلسل چلنا، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے چلنے کے لیے جو نظام اور ضابطہ مقرر کر دیا ہے اس پر لگا تار چلے جا رہے ہیں، نہ کبھی تھمتے ہیں اور نہ بگڑتے ہیں اور نہ رفتار میں کمی بیشی ہوتی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
33۔ 1 یعنی مسلسل چلتے رہتے ہیں، کبھی ٹھرتے نہیں رات کو، نہ دن کو۔ علاوہ ازیں ایک دوسرے کے پیچھے چلتے ہیں لیکن کبھی ان کا باہمی تصادم اور ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ 33۔ 2 رات اور دن، ان کا باہمی تفاوت جاری رہتا ہے، کبھی رات، دن کا کچھ حصہ لے کر لمبی ہوجاتی ہے اور کبھی دن، رات کا کچھ حصہ لے کر لمبا ہوجاتا ہے۔ اور یہ سلسلہ ابتدائے کائنات سے چل رہا ہے، اس میں ایک رائی فرق نہیں آیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
33۔ اور تمہاری خاطر سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا جو لگاتار چل رہے ہیں اور رات اور دن کو بھی تمہاری خاطر کام پر لگا دیا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سب کچھ تمہارا مطیع ہے ٭٭
اللہ کی طرح طرح کی بےشمار نعمتوں کو دیکھو، آسمان کو اس نے ایک محفوظ چھت بنا رکھا ہے زمین کو بہترین فرش بنا رکھا ہے آسمان سے بارش برسا کر زمین سے مزے مزے کے پھل کھیتیاں باغات تیار کر دیتا ہے۔ اسی کے حکم سے کشتیاں پانی کے اوپر تیرتی پھرتی ہیں کہ تمہیں ایک کنارے سے دوسرے کنارے اور ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچائیں تم وہاں کا مال یہاں، یہاں کا وہاں لے جاؤ، لے آؤ، نفع حاصل کرو، تجربہ بڑھاؤ۔ نہریں بھی اسی نے تمہارے کام میں لگا رکھی ہیں، تم ان کا پانی پیو، پلاؤ، اس سے کھیتیاں کرو، نہاؤ دھوؤ اور طرح طرح کے فائدے حاصل کرو۔
«لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» ۱؎ [36-یس:40] ’ ہمیشہ چلتے پھرتے اور کبھی نہ تھکتے سورج چاند بھی تمہارے فائدے کے کاموں میں مشغول ہیں مقرر چال پر مقرر جگہ پر گردش میں لگے ہوئے ہیں۔ نہ ان میں تکرار ہو نہ آگا پیچھا ‘۔
«يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:54] ’ دن رات انہی کے آنے جانے سے پے در پے آتے جاتے رہتے ہیں ستارے اسی کے حکم کے ماتحت ہیں اور رب العالمین بابرکت ہے ‘۔
«يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى وَأَنَّ اللَّـهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:29] ’ کبھی دنوں کو بڑے کر دیتا ہے کبھی راتوں کو بڑھا دیتا ہے، ہر چیز اپنے کام میں سر جھکائے مشغول ہے، وہ اللہ عزیز و غفار ہے۔ تمہاری ضرورت کی تمام چیزیں اس نے تمہارے لیے مہیا کر دی ہیں تم اپنے حال و قال سے جن جن چیزوں کے محتاج تھے، اس نے سب کچھ تمہیں دے دی ہیں، مانگنے پر بھی وہ دیتا ہے اور بغیر مانگے بھی اس کا ہاتھ نہیں رکھتا۔ تم بھلا رب کی تمام نعمتوں کا شکریہ تو ادا کرو گے؟ تم سے تو ان کی پوری گنتی بھی محال ہے ‘۔
«لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» ۱؎ [36-یس:40] ’ ہمیشہ چلتے پھرتے اور کبھی نہ تھکتے سورج چاند بھی تمہارے فائدے کے کاموں میں مشغول ہیں مقرر چال پر مقرر جگہ پر گردش میں لگے ہوئے ہیں۔ نہ ان میں تکرار ہو نہ آگا پیچھا ‘۔
«يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:54] ’ دن رات انہی کے آنے جانے سے پے در پے آتے جاتے رہتے ہیں ستارے اسی کے حکم کے ماتحت ہیں اور رب العالمین بابرکت ہے ‘۔
«يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى وَأَنَّ اللَّـهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:29] ’ کبھی دنوں کو بڑے کر دیتا ہے کبھی راتوں کو بڑھا دیتا ہے، ہر چیز اپنے کام میں سر جھکائے مشغول ہے، وہ اللہ عزیز و غفار ہے۔ تمہاری ضرورت کی تمام چیزیں اس نے تمہارے لیے مہیا کر دی ہیں تم اپنے حال و قال سے جن جن چیزوں کے محتاج تھے، اس نے سب کچھ تمہیں دے دی ہیں، مانگنے پر بھی وہ دیتا ہے اور بغیر مانگے بھی اس کا ہاتھ نہیں رکھتا۔ تم بھلا رب کی تمام نعمتوں کا شکریہ تو ادا کرو گے؟ تم سے تو ان کی پوری گنتی بھی محال ہے ‘۔
طلق بن حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کا حق اس سے بہت بھاری ہے کہ بندے اسے ادا کرسکیں اور اللہ کی نعمتیں اس سے بہت زیادہ ہیں کہ بندے ان کی گنتی کرسکیں لوگو صبح شام توبہ استغفار کرتے رہو۔“
صحیح بخاری میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ { اے اللہ تیرے ہی لیے سب حمد و ثنا سزاوار ہے، ہماری ثنائیں ناکافی ہیں، پوری اور بے پرواہ کرنے والی نہیں اے اللہ تو معاف فرما } }۔ [صحیح بخاری:5459]
بزار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { قیامت کے دن انسان کے تین دیوان نکلیں گے ایک میں نیکیاں لکھی ہوئی ہوں گی اور دوسرے میں گناہ ہوں گے، تیسرے میں اللہ کی نعمتیں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں میں سے سب سے چھوٹی نعمت سے فرمائے گا کہ ’ اٹھ اور اپنا معاوضہ اس کے نیک اعمال سے لے لے ‘، اس سے اس کے سارے ہی عمل ختم ہو جائیں گے پھر بھی وہ یکسو ہو کر کہے گی کہ باری تعالیٰ میری پوری قیمت وصول نہیں ہوئی خیال کیجئے ابھی گناہوں کا دیوان یونہی الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ اگر بندے پر اللہ کا ارادہ رحم و کرم کا ہوا تو اب وہ اس کی نیکیاں بڑھا دے گا اور اس کے گناہوں سے تجاوز کر لے گا اور اس سے فرما دے گا کہ میں نے اپنی نعمتیں تجھے بغیر بدلے کے بخش دیں } }۔ [مسند بزار، 3444:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔
مروی ہے کہ داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ جل و علا سے دریافت کیا کہ میں تیرا شکر کیسے ادا کروں؟ شکر کرنا خود بھی تو تیری ایک نعمت ہے۔ جواب ملا کہ ’ داؤد! اب تو شکر ادا کر چکا جب کہ تونے یہ جان لیا اور اس کا اقرار کر لیا کہ تو میری نعمتوں کی شکر کی ادائیگی سے قاصر ہے ‘۔
حضرت امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ ہی کیلئے تو حمد ہے، جس کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت کا شکر بھی بغیر ایک نئی نعمت کے ہم ادا نہیں کرسکتے کہ اس نئی نعمت پر پھر ایک شکر واجب ہو جاتا ہے پھر اس نعمت کی شکر گزاری کی ادائیگی کی توفیق پر بھی پھر نعمت ملی، جس کا شکریہ واجب ہوا۔“
ایک شاعر نے یہی مضمون اپنے شعروں میں باندھا ہے «لَوْ كُلُّ جَارِحَةٍ مِنِّي لَهَا لُغَةٌ تُثْنِي» «عَلَيكَ بِمَا أَوْلَيتَ مِنْ حَسَنِ» «لَكَانَ مَا زَادَ شُكْرِي إِذْ شَكَرْتُ بِهِ» «إِلَيْكَ أَبْلُغَ فِي الْإِحْسَانِ وَالْمِنَنِ» کہ رونگٹے رونگٹے پر زبان ہو تو بھی تیری ایک نعمت کا شکر بھی پورا ادا نہیں ہو سکتا تیرے احسانات اور انعامات بےشمار ہیں۔
صحیح بخاری میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ { اے اللہ تیرے ہی لیے سب حمد و ثنا سزاوار ہے، ہماری ثنائیں ناکافی ہیں، پوری اور بے پرواہ کرنے والی نہیں اے اللہ تو معاف فرما } }۔ [صحیح بخاری:5459]
بزار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { قیامت کے دن انسان کے تین دیوان نکلیں گے ایک میں نیکیاں لکھی ہوئی ہوں گی اور دوسرے میں گناہ ہوں گے، تیسرے میں اللہ کی نعمتیں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں میں سے سب سے چھوٹی نعمت سے فرمائے گا کہ ’ اٹھ اور اپنا معاوضہ اس کے نیک اعمال سے لے لے ‘، اس سے اس کے سارے ہی عمل ختم ہو جائیں گے پھر بھی وہ یکسو ہو کر کہے گی کہ باری تعالیٰ میری پوری قیمت وصول نہیں ہوئی خیال کیجئے ابھی گناہوں کا دیوان یونہی الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ اگر بندے پر اللہ کا ارادہ رحم و کرم کا ہوا تو اب وہ اس کی نیکیاں بڑھا دے گا اور اس کے گناہوں سے تجاوز کر لے گا اور اس سے فرما دے گا کہ میں نے اپنی نعمتیں تجھے بغیر بدلے کے بخش دیں } }۔ [مسند بزار، 3444:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔
مروی ہے کہ داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ جل و علا سے دریافت کیا کہ میں تیرا شکر کیسے ادا کروں؟ شکر کرنا خود بھی تو تیری ایک نعمت ہے۔ جواب ملا کہ ’ داؤد! اب تو شکر ادا کر چکا جب کہ تونے یہ جان لیا اور اس کا اقرار کر لیا کہ تو میری نعمتوں کی شکر کی ادائیگی سے قاصر ہے ‘۔
حضرت امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ ہی کیلئے تو حمد ہے، جس کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت کا شکر بھی بغیر ایک نئی نعمت کے ہم ادا نہیں کرسکتے کہ اس نئی نعمت پر پھر ایک شکر واجب ہو جاتا ہے پھر اس نعمت کی شکر گزاری کی ادائیگی کی توفیق پر بھی پھر نعمت ملی، جس کا شکریہ واجب ہوا۔“
ایک شاعر نے یہی مضمون اپنے شعروں میں باندھا ہے «لَوْ كُلُّ جَارِحَةٍ مِنِّي لَهَا لُغَةٌ تُثْنِي» «عَلَيكَ بِمَا أَوْلَيتَ مِنْ حَسَنِ» «لَكَانَ مَا زَادَ شُكْرِي إِذْ شَكَرْتُ بِهِ» «إِلَيْكَ أَبْلُغَ فِي الْإِحْسَانِ وَالْمِنَنِ» کہ رونگٹے رونگٹے پر زبان ہو تو بھی تیری ایک نعمت کا شکر بھی پورا ادا نہیں ہو سکتا تیرے احسانات اور انعامات بےشمار ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّ٘مْسَ وَالْ٘قَ٘مَرَ دَآىِٕبَیْنِ﴾ ”اور کام میں لگا دیا تمھارے لیے سورج اور چاند کو، ایک دستور پر برابر۔“ ان کی رفتار میں نرمی آتی ہے نہ وہ سست پڑتے ہیں بلکہ تمھارے مصالح یعنی زمان و اوقات کے حساب، تمھارے ابدان، تمھارے مویشی و حیوانات، کھیتوں اور باغات کے فائدے کے لیے رواں دواں رہتے ہیں۔ ﴿ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ ﴾ ”اور کام میں لگایا دیا تمھارے لیے رات کو“ تاکہ تم آرام کر سکو۔ ﴿ وَالنَّهَارَ ﴾ ”اور دن کو“ تمھارے دیکھنے کے لیے تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وسخَّر لكم الشمسَ والقمر دائِبَيْنِ}: لا يفتران ولا يَنيان، يسعَيان لمصالحكم من حساب أزمنتكم ومصالح أبدانكم وحيواناتكم وزروعكم وثماركم. {وسخَّر لكم الليل}: لتسكُنوا فيه، {والنهار} مبصراً لتبتغوا من فضله.