تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {مِنْ ذُنُوْبِكُمْ:” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، یعنی تاکہ تمھارے بعض یا کچھ گناہ بخش دے۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام لانے سے پہلے کے گناہ اسلام لانے سے معاف ہو جائیں گے، آئندہ کے گناہ تمھارے عمل اور توبہ کے مطابق دیکھے جائیں گے۔ کفار کے گناہوں کی معافی کا ذکر ہر جگہ {” مِنْ “} (بعض) کے ساتھ آیا ہے، جیسا کہ یہاں اور سورۂ نوح اور احقاف میں ہے، البتہ اہل ایمان کی مغفرت کا ذکر {”مِنْ“} کے بغیر ہے، جیسا کہ سورۂ صف میں جہاد کا اجر بیان کرتے ہوئے فرمایا: «{ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ }» [الصف: ۱۲] ”وہ تمھیں تمھارے گناہ بخش دے گا۔“
➌ { وَ يُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى:} یعنی دنیا میں موت کے وقت تک تمھیں عذاب سے محفوظ رکھے۔ (قرطبی)
➍ { قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا:} یعنی تم ظاہری شکل و صورت میں، کھانے پینے میں اور دوسری انسانی ضروریات کے اعتبار سے ہمارے جیسے بشر ہو، ہم اپنے آپ پر تمھاری برتری کیسے تسلیم کر لیں۔ مقصد تمھارا ہمیں ہمارے آباء و اجداد کے معبودوں کی عبادت سے روکنا ہے۔ تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ یہی کفار جو دین اور آخرت کے معاملے میں اپنے آباء کی تقلید کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید سے انکار پر اصرار کر رہے ہیں، اتنا سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ دنیا کے کاموں میں بھی وہ آباء کی تقلید کرتے تو دنیا کے ہر دور میں انھوں نے جو ترقی کی، حتیٰ کہ اب ایٹم بم تک پہنچ گئے، یہ ترقی کبھی نہ ہو سکتی، مگر ان کی ڈھٹائی دیکھو کہ انبیاء کے واضح معجزات دیکھ کر اور {” اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} جیسی لاجواب دلیلیں سن کر بھی، جنھوں نے انھیں اندر سے ہلا دیا اور وہ اپنے بے چین رکھنے والے شک کا خود اقرار کر رہے ہیں، تقلید پر اڑے ہوئے ہیں اور مزید واضح دلیل کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر دنیوی معاملات میں وہ آباء کی تقلید پر اکتفا کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اچھا اگر دلیل کے بغیر اطمینان نہیں تو دیکھ لو کہ یہ آسمان و زمین کیسے پیدا ہو گئے؟ موجود کے لیے موجد کا ہونا ضروری ہے۔ انہیں بغیر نمونہ پیدا کرنے والا وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہے اس عالم کی تخلیق تو مطیع و مخلوق ہونا بالکل ظاہر ہے اس سے کیا اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیں آتی؟ کہ اس کا صانع اس کا خالق ہے اور وہی اللہ تعالیٰ ہے جو ہر چیز کا خالق مالک اور معبود بر حق ہے۔
یا کیا تمہیں اس کی الوہیت اور اس کی وحدانیت میں شک ہے؟ جب تمام موجودات کا خالق اور موجود وہی ہے تو پھر عبادت میں تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ چونکہ اکثر امتیں خالق کے وجود کے قائل تھیں پھر اوروں کی عبادت انہیں واسطہ اور وسیلہ جان کر اللہ سے نزدیک کرنے والے اور نفع دینے والے سمجھ کر کرتی تھیں اس لیے رسول اللہ علیہم السلام انہیں ان کی عبادتوں سے یہ سمجھا کر روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی طرف بلا رہا ہے کہ آخرت میں تمہارے گناہ معاف فرما دے اور جو وقت مقرر ہے اس تک تمہیں اچھائی سے پہنچا دے ہر ایک فضیلت والے کو وہ اس کی فضیلت عنایت فرمائے گا۔
اب امتوں نے پہلے مقام کو تسلیم کرنے کے بعد جواب دیا کہ تمہاری رسالت ہم کیسے مان لیں تم میں انسانیت تو ہم جیسی ہی ہے اچھا اگر سچے ہو تو زبردست معجزہ پیش کرو جو انسانی طاقت سے باہر ہو؟ اس کے جواب میں پیغمبران رب علیہم السلام نے فرمایا کہ یہ تو بالکل مسلم ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں۔ لیکن رسالت و نبوت اللہ کا عطیہ ہے وہ جسے چاہے دے۔ انسانیت رسالت کے منافی نہیں۔ اور جو چیز تم ہمارے ہاتھوں سے دیکھنا چاہتے ہو اس کی نسبت بھی سن لو کہ وہ ہمارے بس کی بات نہیں ہاں ہم اللہ سے طلب کریں گے اگر ہماری دعا مقبول ہوئی تو بیشک ہم دکھا دیں گے مومنوں کو تو ہر کام میں اللہ ہی پر توکل ہے۔ اور خصوصیت کے ساتھ ہمیں اس پر زیادہ توکل اور بھروسہ ہے اس لیے بھی کہ اس نے تمام راہوں میں سے بہترین راہ دکھائی۔ تم جتنا چاہو دکھ دو لیکن ان شاءاللہ دامن توکل ہمارے ہاتھ سے چھوٹنے کا نہیں۔ متوکلین کے گروہ کے لیے اللہ کا توکل کافی وافی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقد كذبوا في ذلك وظلموا، ولهذا {قالتْ} لهم {رسُلُهم أفي الله شكٌّ}؛ أي: فإنه أظهر الأشياء وأجلاها؛ فمن شَكَّ في الله {فاطرِ السمواتِ والأرضِ}: الذي وجود الأشياء مستندٌ إلى وجوده؛ لم يكن عنده ثقةٌ بشيء من المعلومات، حتى الأمور المحسوسة. ولهذا خاطبتهم الرسل خطابَ من لا يشكُّ فيه، ولا يصلح الريب فيه. {يدعوكم}: إلى منافعكم ومصالحكم، {ليغفرَ لكم من ذنوبكم ويؤخِّرَكم إلى أجل مسمًّى}؛ أي: ليثيبكم على الاستجابة لدعوته بالثواب العاجل والآجل، فلم يدعُكم لينتفع بعبادتكم، بل النفع عائد إليكم. فردُّوا على رسلهم ردَّ السفهاء الجاهلين، {وقالوا} لهم: {إنْ أنتم إلاَّ بشرٌ مثلُنا}؛ أي: فكيف تَفْضُلوننا بالنبوة والرسالة؟ {تريدون أن تصدُّونا عما كان يعبد آباؤنا}: فكيف نترُكُ رأي الآباء وسيرتهم لرأيكم؟! وكيف نطيعكم وأنتم بشرٌ مثلنا؟! {فأتونا بسلطانٍ مبينٍ}؛ أي: بحجَّة وبيِّنة ظاهرة، ومرادهم بيِّنة يقترحونها هم، وإلاَّ؛ فقد تقدَّم أنَّ رسلهم جاءتهم بالبينات.