تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَرَدُّوْۤا اَيْدِيَهُمْ فِيْۤ اَفْوَاهِهِمْ:} یعنی غصے کے مارے اپنے ہاتھ کاٹنے لگے، جیسا کہ دوسری آیت میں منافقین کے متعلق فرمایا: «{ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ }» [آل عمران: ۱۱۹] ”اور (یہ منافقین) جب اکیلے ہوتے ہیں تو تم پر غصے سے انگلیوں کی پوریں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔“ یا ہنسی اور تعجب کے مارے منہ پر ہاتھ رکھ لیے، یا ہاتھ منہ کی طرف لے جا کر اشارہ کیا کہ بس چپ رہو۔ پہلے معنی کو اکثر مفسرین نے ترجیح دی ہے، ایک معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ہاتھ رسولوں کے منہ پر رکھ دیے کہ وہ خاموش رہیں۔
➌ {وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ …: ” بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ “} کے الفاظ سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کی نشانیاں دیکھ کر وہ یہ ضرور جان چکے تھے کہ ان رسولوں کو یہ معجزے دے کر بھیجا گیا ہے، یہ رسول خود یہ معجزے نہیں لے آئے۔ اس لیے اگرچہ انھوں نے توحید کی دعوت ماننے سے انکار کر دیا، مگر اپنے کفر پر بھی ان کا یقین متزلزل ہو گیا اور انھوں نے کہا کہ ہم تمھاری دعوت کے بارے میں ایک بے چین رکھنے والے شک میں مبتلا ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[12] یہ محاورہ ہے۔ اور اس سے مراد ایسا انکار ہوتا ہے جس میں تعجب بھی شامل ہو جیسے ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں کہ اس نے اپنی انگلی منہ میں دبا لی یا اپنا ہاتھ کانوں پر رکھ لیا اور مجاہد کہتے ہیں کہ ”یہ محاورہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا جو حکم ہوا تھا، اس سے وہ باز رہ“ [بخاری، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ ابراہیم]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بظاہر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وعظ تو ختم ہو چکا اب یہ نیا بیان قرآن ہے، کہا گیا ہے کہ ”عادیوں اور ثمودیوں کے واقعات تورات شریف میں تھے اور یہ دونوں واقعات بھی تورات میں تھے“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
فی الجملہ ان لوگوں کے اور ان جیسے اور بھی بہت سے لوگوں کے واقعات قرآن کریم میں ہمارے سامنے بیان ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے پیغمبر اللہ کی آیتیں اور اللہ کے دیئے ہوئے معجزے لے کر پہنچے ان کی گنتی کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”نسب کے بیان کرنے والے غلط گو ہیں بہت سے لوگوں کے واقعات قرآن کریم میں ہمارے سامنے بیان ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے پیغمبر اللہ کی آیتیں اور اللہ کے دیئے ہوئے معجزے لے کر پہنچے ان کی گنتی کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔“ سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں ”نسب کے بیان کرنے والے غلط گو ہیں بہت سی امتیں ایسی بھی گزری ہیں جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔“ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”معد بن عدنان کے بعد کا نسب نامہ صحیح طور پر کوئی نہیں جانتا۔“
وہ اپنے ہاتھ ان کے منہ تک لوٹا لیے گئے کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ رسولوں کے منہ بند کرنے لگے۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھنے لگے کہ محض جھوٹ ہے جو رسول کہتے ہیں۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جواب سے لاچار ہو کر انگلیاں منہ پر رکھ لیں۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اپنے منہ سے انہیں جھٹلانے لگے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں پر «فِي» معنی میں ”بے“ کے ہو جیسے بعض عرب کہتے ہیں «أَدْخَلَكَ اللَّهُ بِالْجَنَّةِ» یعنی «فِي الْجَنَّةِ» شعر میں بھی یہ محاورہ مستعمل ہے، اور بقول مجاہد رحمہ اللہ اس کے بعد کا جملہ اسی کی تفسیر ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے مارے غصے کے اپنی انگلیاں اپنے منہ میں ڈال لیں۔ چنانچہ اور آیت میں منافقین کے بارے میں ہے کہ «وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ قُلْ مُوْتُوْا بِغَيْظِكُمْ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ» ۱؎ [3-آل عمران:119] ’ یہ لوگ خلوت میں تمہاری جلن سے اپنی انگلیاں چباتے رہتے ہیں ‘۔ یہ بھی ہے کہ ’ کلام اللہ سن کر تعجب سے اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھ دیتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ ہم تو تمہاری رسالت کے منکر ہیں ہم تمہیں سچا نہیں جانتے بلکہ سخت شبہ میں ہیں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مخوِّفاً عباده ما أحلَّه بالأمم المكذِّبة حين جاءتهم الرسل فكذَّبوهم، فعاقبهم بالعقاب العاجل الذي رآه الناس وسمعوه، فقال: {ألم يأتِكُم نبأ الذين من قبلكم قومُ نوح وعادٍ وثمودَ}: وقد ذكر الله قصصهم في كتابه وبسطها. {والذين من بعدِهم لا يعلمُهم إلاَّ الله}: من كثرتهم وكون أخبارهم اندرست؛ فهؤلاء كلُّهم {جاءتهم رسلُهم بالبيناتِ}؛ أي: بالأدلة الدالَّة على صدق ما جاؤوا به، فلم يرسل الله رسولاً إلا آتاه من الآيات ما يؤمِنُ على مثلِهِ البشرُ؛ فحين أتتهم رسلُهم بالبينات؛ لم ينقادوا لها، بل استكبروا عنها، {فردُّوا أيدِيَهم في أفواههم}؛ أي: لم يؤمنوا بما جاؤوا به، ولم يتفوَّهوا بشيء مما يدلُّ على الإيمان؛ كقوله: {جعلوا أصابِعَهم في آذانهم من الصواعِقِ حَذَرَ الموت}. {وقالوا} صريحاً لرسلهم: {إنَّا كَفَرْنا بما أرسِلْتم به وإنا لفي شكٍّ مما تدعوننا إليه مريبٍ}؛ أي: موقع في الريبة.