ترجمہ و تفسیر — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 11

قَالَتۡ لَہُمۡ رُسُلُہُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ مَا کَانَ لَنَاۤ اَنۡ نَّاۡتِیَکُمۡ بِسُلۡطٰنٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۱﴾
ان کے رسولوں نے ان سے کہا ہم نہیں ہیں مگر تمھارے جیسے بشر اور لیکن اللہ احسان کرتا ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اور ہمارے لیے کبھی ممکن نہیں کہ تمھارے پاس کوئی دلیل اللہ کے اذن کے سوا لے آئیں اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔ En
پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ہاں ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں۔ لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے (نبوت کا) احسان کرتا ہے اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم خدا کے حکم کے بغیر تم کو (تمہاری فرمائش کے مطابق) معجزہ دکھائیں اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیئے
En
ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا کہ یہ تو سچ ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا فضل کرتا ہے۔ اللہ کے حکم کے بغیر ہماری مجال نہیں کہ ہم کوئی معجزه تمہیں ﻻ دکھائیں اور ایمان والوں کو صرف اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت11) ➊ { وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ …:} معلوم ہوا دلیل دیکھنے سے ایمان نہیں آتا، اللہ تعالیٰ کے عطا کرنے سے آتا ہے۔ (موضح)
➋ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبوت سراسر وہبی، یعنی اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔ اس کے لائق افراد کا انتخاب وہ خود کرتا ہے، فرمایا: «{ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَجْتَبِيْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ يَّشَآءُ [آل عمران: ۱۷۹] اور لیکن اللہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے۔ نبوت کسی کو محنت اور ریاضت سے حاصل نہیں ہوتی، جیسا کہ بعض گمراہ لوگوں کا خیال ہے، جن میں قادیانی دجال بھی شامل ہے۔
➌ { وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ …:} یعنی معجزات ہمارے اختیار میں نہیں، وہ اللہ کے حکم کے بغیر ظاہر نہیں ہوتے، اس لیے ہمارا بھروسا اللہ ہی پر ہے اور تمام اہل ایمان کو اسی پر بھروسا لازم ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 رسولوں نے پہلے اشکال کا جواب دیا کہ یقینا ہم تمہارے جیسے بشر ہیں۔ لیکن تمہارا یہ سمجھنا غلط ہے کہ بشر رسول نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کی ہدایت کے لئے انسانوں میں سے ہی بعض انسانوں کو وحی و رسالت کے لئے چن لیتا ہے اور تم سب میں سے یہ احسان اللہ نے ہم پر فرمایا ہے۔ 11۔ 2 ان کے حسب منشاء معجزے کے سلسلے میں رسولوں نے جواب دیا کہ معجزے کا صدور ہمارے اختیار میں نہیں، یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ 11۔ 3 یہاں مومنیں سے مراد اولا خود انبیاء ہیں یعنی ہمیں سارا بھروسہ اللہ پر ہی رکھنا چاہیے جیسا کہ آگے فرمایا آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ رکھیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ رسولوں نے انھیں کہا: ”ٹھیک ہے، ہم تمہارے ہی جیسے انسان ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرما دیتا ہے اور یہ ہماری طاقت نہیں کہ اللہ کے حکم کے بغیر [16] کوئی معجزہ لا سکیں اور ایمان لانے والوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے
[16] مشرکوں کے ان اعتراضات و مطالبات کا جواب بھی تمام انبیاء علیہم السلام یہی دیتے رہے کہ ہم کب کہتے ہیں کہ ہم بشر نہیں۔ ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم پر مزید احسان کیا ہے کہ ہمیں علم حق اور بصیرت کاملہ عطا فرمائی ہے۔ اور یہ اللہ کی مرضی ہے کہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے یہ احسان کرے اور اسی علم حق کی دعوت ہم تمہیں دے رہے ہیں ہمارے اپنے اختیار میں کچھ نہیں۔ نہ ہی ہم اپنی مرضی سے تمہیں کوئی معجزہ دکھانے کی قدرت رکھتے ہیں اور نہ ہی ہم نے کبھی ایسا دعویٰ کیا ہے بلکہ ہم اپنے سب کاموں میں اللہ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کفار اور انبیاء میں مکالمات ٭٭
رسولوں کی اور ان کی قوم کے کافروں کی بات چیت بیان ہو رہی ہے۔ قوم نے اللہ کی عبادت میں شک و شبہ کا اظہار کیا اس پر رسولوں نے کہا اللہ کے بارے میں شک؟ یعنی اس کے وجود میں شک کیسا؟ فطرت اس کی شاہد عدل ہے انسان کی بنیاد میں اس کا اقرار موجود ہے۔ عقل سلیم اس کے ماننے پر مجبور ہے۔
اچھا اگر دلیل کے بغیر اطمینان نہیں تو دیکھ لو کہ یہ آسمان و زمین کیسے پیدا ہو گئے؟ موجود کے لیے موجد کا ہونا ضروری ہے۔ انہیں بغیر نمونہ پیدا کرنے والا وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہے اس عالم کی تخلیق تو مطیع و مخلوق ہونا بالکل ظاہر ہے اس سے کیا اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیں آتی؟ کہ اس کا صانع اس کا خالق ہے اور وہی اللہ تعالیٰ ہے جو ہر چیز کا خالق مالک اور معبود بر حق ہے۔
یا کیا تمہیں اس کی الوہیت اور اس کی وحدانیت میں شک ہے؟ جب تمام موجودات کا خالق اور موجود وہی ہے تو پھر عبادت میں تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ چونکہ اکثر امتیں خالق کے وجود کے قائل تھیں پھر اوروں کی عبادت انہیں واسطہ اور وسیلہ جان کر اللہ سے نزدیک کرنے والے اور نفع دینے والے سمجھ کر کرتی تھیں اس لیے رسول اللہ علیہم السلام انہیں ان کی عبادتوں سے یہ سمجھا کر روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی طرف بلا رہا ہے کہ آخرت میں تمہارے گناہ معاف فرما دے اور جو وقت مقرر ہے اس تک تمہیں اچھائی سے پہنچا دے ہر ایک فضیلت والے کو وہ اس کی فضیلت عنایت فرمائے گا۔
اب امتوں نے پہلے مقام کو تسلیم کرنے کے بعد جواب دیا کہ تمہاری رسالت ہم کیسے مان لیں تم میں انسانیت تو ہم جیسی ہی ہے اچھا اگر سچے ہو تو زبردست معجزہ پیش کرو جو انسانی طاقت سے باہر ہو؟ اس کے جواب میں پیغمبران رب علیہم السلام نے فرمایا کہ یہ تو بالکل مسلم ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں۔ لیکن رسالت و نبوت اللہ کا عطیہ ہے وہ جسے چاہے دے۔ انسانیت رسالت کے منافی نہیں۔ اور جو چیز تم ہمارے ہاتھوں سے دیکھنا چاہتے ہو اس کی نسبت بھی سن لو کہ وہ ہمارے بس کی بات نہیں ہاں ہم اللہ سے طلب کریں گے اگر ہماری دعا مقبول ہوئی تو بیشک ہم دکھا دیں گے مومنوں کو تو ہر کام میں اللہ ہی پر توکل ہے۔ اور خصوصیت کے ساتھ ہمیں اس پر زیادہ توکل اور بھروسہ ہے اس لیے بھی کہ اس نے تمام راہوں میں سے بہترین راہ دکھائی۔ تم جتنا چاہو دکھ دو لیکن ان شاءاللہ دامن توکل ہمارے ہاتھ سے چھوٹنے کا نہیں۔ متوکلین کے گروہ کے لیے اللہ کا توکل کافی وافی ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ ان کے رسولوں نے ان کے مطالبے اور اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ﴿اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثْلُكُمْ ہم تمھارے ہی جیسے آدمی ہیں۔ یعنی یہ صحیح اور حقیقت ہے کہ ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ مگر تمھارا یہ اعتراض اس حق کو باطل نہیں کر سکتا جسے ہم لے کر آئے ہیں کیونکہ ﴿ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے، احسان فرماتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی وحی اور رسالت سے نواز دیا تو یہ اس کا فضل و احسان ہے اور کسی کے بس میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو روک سکے اور اس کو اس کی نوازشوں سے منع کر سکے۔ تم اس چیز میں غور کرو جو ہم تمھارے پاس لے کر آئے ہیں اگر وہ حق ہے تو اسے قبول کر لو اور اگر وہ حق نہیں ہے تو بے شک اسے ٹھکرا دو۔ مگر ہم جو کچھ لے کر آئے اسے ٹھکرانے کے لیے ہمارے حال کو اپنے لیے دلیل نہ بناؤ اور تمھارا یہ کہنا ﴿ فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰ٘نٍ مُّبِیْنٍ کوئی واضح دلیل لے کر آؤ تو یہ چیز ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے اور ہمارے اختیار میں تو کچھ بھی نہیں۔
﴿ وَمَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰ٘نٍ اِلَّا بِـاِذْنِ اللّٰهِ ہمارا کام نہیں کہ تمھارے پاس کوئی دلیل لے آئیں مگر اللہ کے حکم سے یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اگر وہ چاہے تو تمھارے پاس معجزہ لے آئے اور اگر وہ نہ چاہے تو تمھارے پاس معجزہ نہ لائے اور وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اپنی حکمت اور رحمت کے تقاضے کے مطابق کرتا ہے ﴿وَعَلَى اللّٰهِ اور اللہ تعالیٰ ہی پر یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور پر نہیں ﴿ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ چاہیے کہ مومن بھروسہ کریں پس وہ اپنے مصالح کے حصول اور ضرر کو روکنے کے لیے اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ کیونکہ انھیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ کفایت تامہ، قدرت کاملہ اور بے پایاں احسان کا مالک ہے۔ جلب مصالح اور دفع ضرر میں آسانی پیدا کرنے میں اہل ایمان اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں اور ان کا توکل ان کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے توکل کا وجوب مستفاد ہوتا ہے نیز اس سے ثابت ہوتا ہے کہ توکل لوازمات ایمان اور بڑی بڑی عبادات میں شمار ہوتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کو محبوب اور جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے کیونکہ تمام عبادات توکل پر موقوف ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالت لهم رسلهم} مجيبين لاقتراحهم واعتراضهم: {إن نحن إلاَّ بشرٌ مثلُكم}؛ أي: صحيح وحقيقة أنَّا بشرٌ مثلكم. {ولكن} ليس في ذلك ما يدفعُ ما جئنا به من الحقِّ؛ فإنَّ {الله يَمُنُّ على مَن يشاء من عبادِهِ}؛ فإذا منَّ الله علينا بوحيه ورسالته؛ فذلك فضله وإحسانه، وليس لأحدٍ أن يَحْجُرَ على الله فضله ويمنعه من تفضله؛ فانظروا ما جئناكم به؛ فإنْ كان حقًّا؛ فاقبلوه، وإن كان غير ذلك؛ فردُّوه، ولا تجعلوا حالنا حجَّة لكم على ردِّ ما جئناكم به، وقولكم: {فائتونا بسلطانٍ مبين}، فإنَّ هذا ليس بأيدينا وليس لنا من الأمر شيء. {وما كان لنا أن نأتِيَكم بسلطانٍ إلاَّ بإذن الله}: فهو الذي إن شاء جاءكم به وإن شاء لم يأتِكُم به، وهو لا يفعل إلاَّ ما هو مقتضى حكمته ورحمته. {وعلى الله}: لا على غيره، {فليتوكَّل المؤمنون}: فيعتمدون عليه في جلب مصالحهم ودفع مضارِّهم؛ لعلمهم بتمام كفايته وكمال قدرتِهِ وعميم إحسانه، ويثقون به في تيسير ذلك، وبحسب ما معهم من الإيمان يكونُ توكُّلهم. فعُلم بهذا وجوب التوكُّل وأنَّه من لوازم الإيمان ومن العبادات الكبار التي يحبُّها الله ويرضاها لتوقُّف سائر العبادات عليه.