تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبوت سراسر وہبی، یعنی اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔ اس کے لائق افراد کا انتخاب وہ خود کرتا ہے، فرمایا: «{ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَجْتَبِيْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ يَّشَآءُ }» [آل عمران: ۱۷۹] ”اور لیکن اللہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے۔“ نبوت کسی کو محنت اور ریاضت سے حاصل نہیں ہوتی، جیسا کہ بعض گمراہ لوگوں کا خیال ہے، جن میں قادیانی دجال بھی شامل ہے۔
➌ { وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ …:} یعنی معجزات ہمارے اختیار میں نہیں، وہ اللہ کے حکم کے بغیر ظاہر نہیں ہوتے، اس لیے ہمارا بھروسا اللہ ہی پر ہے اور تمام اہل ایمان کو اسی پر بھروسا لازم ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اچھا اگر دلیل کے بغیر اطمینان نہیں تو دیکھ لو کہ یہ آسمان و زمین کیسے پیدا ہو گئے؟ موجود کے لیے موجد کا ہونا ضروری ہے۔ انہیں بغیر نمونہ پیدا کرنے والا وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» ہے اس عالم کی تخلیق تو مطیع و مخلوق ہونا بالکل ظاہر ہے اس سے کیا اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیں آتی؟ کہ اس کا صانع اس کا خالق ہے اور وہی اللہ تعالیٰ ہے جو ہر چیز کا خالق مالک اور معبود بر حق ہے۔
یا کیا تمہیں اس کی الوہیت اور اس کی وحدانیت میں شک ہے؟ جب تمام موجودات کا خالق اور موجود وہی ہے تو پھر عبادت میں تنہا وہی کیوں نہ ہو؟ چونکہ اکثر امتیں خالق کے وجود کے قائل تھیں پھر اوروں کی عبادت انہیں واسطہ اور وسیلہ جان کر اللہ سے نزدیک کرنے والے اور نفع دینے والے سمجھ کر کرتی تھیں اس لیے رسول اللہ علیہم السلام انہیں ان کی عبادتوں سے یہ سمجھا کر روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی طرف بلا رہا ہے کہ آخرت میں تمہارے گناہ معاف فرما دے اور جو وقت مقرر ہے اس تک تمہیں اچھائی سے پہنچا دے ہر ایک فضیلت والے کو وہ اس کی فضیلت عنایت فرمائے گا۔
اب امتوں نے پہلے مقام کو تسلیم کرنے کے بعد جواب دیا کہ تمہاری رسالت ہم کیسے مان لیں تم میں انسانیت تو ہم جیسی ہی ہے اچھا اگر سچے ہو تو زبردست معجزہ پیش کرو جو انسانی طاقت سے باہر ہو؟ اس کے جواب میں پیغمبران رب علیہم السلام نے فرمایا کہ یہ تو بالکل مسلم ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں۔ لیکن رسالت و نبوت اللہ کا عطیہ ہے وہ جسے چاہے دے۔ انسانیت رسالت کے منافی نہیں۔ اور جو چیز تم ہمارے ہاتھوں سے دیکھنا چاہتے ہو اس کی نسبت بھی سن لو کہ وہ ہمارے بس کی بات نہیں ہاں ہم اللہ سے طلب کریں گے اگر ہماری دعا مقبول ہوئی تو بیشک ہم دکھا دیں گے مومنوں کو تو ہر کام میں اللہ ہی پر توکل ہے۔ اور خصوصیت کے ساتھ ہمیں اس پر زیادہ توکل اور بھروسہ ہے اس لیے بھی کہ اس نے تمام راہوں میں سے بہترین راہ دکھائی۔ تم جتنا چاہو دکھ دو لیکن ان شاءاللہ دامن توکل ہمارے ہاتھ سے چھوٹنے کا نہیں۔ متوکلین کے گروہ کے لیے اللہ کا توکل کافی وافی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قالت لهم رسلهم} مجيبين لاقتراحهم واعتراضهم: {إن نحن إلاَّ بشرٌ مثلُكم}؛ أي: صحيح وحقيقة أنَّا بشرٌ مثلكم. {ولكن} ليس في ذلك ما يدفعُ ما جئنا به من الحقِّ؛ فإنَّ {الله يَمُنُّ على مَن يشاء من عبادِهِ}؛ فإذا منَّ الله علينا بوحيه ورسالته؛ فذلك فضله وإحسانه، وليس لأحدٍ أن يَحْجُرَ على الله فضله ويمنعه من تفضله؛ فانظروا ما جئناكم به؛ فإنْ كان حقًّا؛ فاقبلوه، وإن كان غير ذلك؛ فردُّوه، ولا تجعلوا حالنا حجَّة لكم على ردِّ ما جئناكم به، وقولكم: {فائتونا بسلطانٍ مبين}، فإنَّ هذا ليس بأيدينا وليس لنا من الأمر شيء. {وما كان لنا أن نأتِيَكم بسلطانٍ إلاَّ بإذن الله}: فهو الذي إن شاء جاءكم به وإن شاء لم يأتِكُم به، وهو لا يفعل إلاَّ ما هو مقتضى حكمته ورحمته. {وعلى الله}: لا على غيره، {فليتوكَّل المؤمنون}: فيعتمدون عليه في جلب مصالحهم ودفع مضارِّهم؛ لعلمهم بتمام كفايته وكمال قدرتِهِ وعميم إحسانه، ويثقون به في تيسير ذلك، وبحسب ما معهم من الإيمان يكونُ توكُّلهم. فعُلم بهذا وجوب التوكُّل وأنَّه من لوازم الإيمان ومن العبادات الكبار التي يحبُّها الله ويرضاها لتوقُّف سائر العبادات عليه.