تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ:} معلوم ہوا کوئی کمال کاریگر اور پوری قدرت والا مدبر ہے جس کے کرنے سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے، قرآن نے ان دلائل کا ذکر مختلف مقامات پر کیا ہے۔ عقل سے کام لینے والوں کے لیے اس میں بے شمار نشانیاں ہیں اور جو عقل سے کام نہیں لیتے ان کے لیے کوئی نشانی نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
رات دن ایک دوسرے کے پے در پے برابر آتے جاتے رہتے ہیں، ایک کا آنا دوسرے کا جانا ہے پس مکان سکان اور زمان سب میں تصرف اسی قادر مطلق کا ہے۔ اللہ کی ان نشانیوں، حکمتوں، اور دلائل کو جو غور سے دیکھے وہ ہدایت یافتہ ہو سکتا ہے۔ زمین کے ٹکڑے ملے جلے ہوئے ہیں، پھر قدرت کو دیکھے کہ ایک ٹکڑے سے تو پیداوار ہو اور دوسرے سے کچھ نہ ہو۔ ایک کی مٹی سرخ، دوسرے کی سفید، زرد، وہ سیاہ، یہ پتھریلی، وہ نرم، یہ میٹھی، وہ شور۔ ایک ریتلی، ایک صاف، غرض یہ بھی خالق کی قدرت کی نشانی ہے اور بتاتی ہے کہ فاعل، خود مختار، مالک الملک، لا شریک ایک وہی اللہ خالق کل ہے۔ نہ اس کے سوا کوئی معبود، نہ پالنے والا۔
«وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ» کو اگر «جَنَّاتٌ» پر عطف ڈالیں تو پیش سے مرفوع پڑھنا چاہیئے اور «أَعْنَابٍ» پر عطف ڈالیں تو زیر سے مضاف الیہ مان کر مجرور پڑھنا چاہیئے۔ ائمہ کی جماعت کی دونوں قرأتیں ہیں۔
«صِنْوَانٍ» کہتے ہیں ایک درخت جو کئی تنوں اور شاخوں والا ہو جیسے انار اور انجیر اور بعض کھجوریاں۔ «وَغَيْرُ صِنْوَانٍ» جو اس طرح نہ ہو ایک ہی تنا ہو جیسے اور درخت ہوتے ہیں۔ اسی سے انسان کے چچا کو «صُنوُالْاَبْ» کہتے ہیں۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ایک جڑ یعنی ایک تنے میں کئی ایک شاخدار درخت کھجور ہوتے ہیں اور ایک تنے پر ایک ہی ہوتا ہے یہی صنوان اور غیر صنوان ہے۔“ یہی قول اور بزرگوں کا بھی ہے۔ سب کے لیے پانی ایک ہی ہے یعنی بارش کا لیکن ہر مزے اور پھل میں کمی بیشی میں بے انتہا فرق ہے، کوئی میٹھا ہے، کوئی کھٹا ہے۔ حدیث میں بھی یہ تفسیر ہے ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3118،قال الشيخ الألباني:حسن]
الغرض قسموں اور جنسوں کا اختلاف، شکل صورت کا اختلاف، رنگ کا اختلاف، بو کا اختلاف، مزے کا اختلاف، پتوں کا اختلاف، تروتازگی کا اختلاف، ایک بہت ہی میٹھا، ایک سخت کڑوا، ایک نہایت خوش ذائقہ، ایک بے حد بد مزا، رنگ کسی کا زرد، کسی کا سرخ، کسی کا سفید، کسی کا سیاہ۔ اسی طرح تازگی اور پھل میں بھی اختلاف، حالانکہ غذا کے اعتبار سے سب یکساں ہیں۔ یہ قدرت کی نیرنگیاں ایک ہوشیار شخص کے لیے عبرت ہیں۔ اور فاعل مختار اللہ کی قدرت کا بڑا زبردست پتہ دیتی ہیں کہ جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے۔ عقل مندوں کے لیے یہ آیتیں اور یہ نشانیاں کافی وافی ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{و} من الآيات على كمال قدرتِهِ وبديع صنعته أن جعل {في الأرض قِطَعٌ متجاوراتٌ وجناتٌ}: فيها أنواع الأشجار: من الأعنابٍ والنخل والزَرْع، وغير ذلك، والنخيل التي بعضها {صنوان}؛ أي: عدة أشجار في أصل واحدٍ. {وغيرُ صِنْوانٍ}: بأن كان كل شجرة على حدتها، والجميع {يُسْقى بماء واحدٍ}: وأرضُه واحدةٌ. {ونُفضِّل بعضَها على بعضٍ في الأُكُل}: لوناً وطعماً ونفعاً ولذَّةً؛ فهذه أرض طيِّبة تنبت الكلأ والعشب الكثير والأشجار والزروع، وهذه أرضٌ تلاصِقُها لا تنبتُ كلأً ولا تمسك ماءً، وهذه تمسك الماء ولا تنبت الكلأ، وهذه تنبِتُ [الزروع] والأشجار ولا تنبِتُ الكلأ، وهذه الثمرةُ حلوةٌ وهذه مرَّةٌ وهذه بين ذلك؛ فهل هذا التنوُّع في ذاتها وطبيعتها أم ذلك تقدير العزيز الرحيم؟ {إنَّ في ذلك لآياتٍ لقوم يعقلونَ}؛ أي: لقوم لهم عقولٌ تهديهم إلى ما ينفعُهم وتقودهم إلى ما يرشدون ويعقلون عن الله وصاياه وأوامره ونواهيه، وأما أهلُ الإعراض وأهل البلادة؛ فهم في ظُلُماتهم يعمَهون وفي غيِّهم يتردَّدون، لا يهتدون إلى ربِّهم سبيلاً ولا يعون له قيلاً.