ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرعد (13) — آیت 19

اَفَمَنۡ یَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ الۡحَقُّ کَمَنۡ ہُوَ اَعۡمٰی ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿ۙ۱۹﴾
پھر کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیرے رب کی جانب سے تیری طرف اتارا گیا وہی حق ہے، اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے ؟ نصیحت تو عقلوں والے ہی قبول کرتے ہیں۔ En
بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے اور سمجھتے تو وہی ہیں جو عقلمند ہیں
En
کیا وه ایک شخص جو یہ علم رکھتا ہو کہ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے جو اتارا گیا ہے وه حق ہے، اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھا ہو نصیحت تو وہی قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت19){ اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ …: } یہاں یہ کہنے کے بجائے کہ کیا وہ شخص جو جانتا ہے اس شخص کی طرح ہے جو نہیں جانتا، یوں فرمایا کہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے؟ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ کی طرف سے آنے والی نشانیاں آنکھوں سے نظر آ رہی ہیں، جو ان کا علم اور یقین نہیں رکھتا درحقیقت وہ اندھا ہے اور اس کا یہ اندھا پن قیامت کو اچھی طرح ظاہر ہو جائے گا۔ دیکھیے سورۂ طہ (۱۲۴ تا ۱۲۶) یہ مومن اور کافر کی مثال ہے۔{ اُولُوا ذُوْ} کی جمع ہے، بمعنی والے۔ { الْاَلْبَابِ } { لُبٌّ} کی جمع ہے، ہر چیز میں سے جو خالص ہو، خالص عقل جو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک ہو۔ (مفردات) اس لیے ترجمہ عقل والوں کے بجائے عقلوں والے کیا ہے۔ مراد یہ ہے کہ نصیحت صرف خالص اور پاکیزہ عقل والے حاصل کرتے ہیں، الٹے دماغ والے نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

19۔ 1 یعنی ایک وہ شخص جو قرآن کی حقانیت و صداقت پر یقین رکھتا ہو اور دوسرا اندھا ہو یعنی اسے قرآن کی صداقت میں شک ہوگیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ استفہام انکار کے لیے ہے یعنی یہ دونوں اسی طرح برابر نہیں ہوسکتے جس طرح جھاگ اور پانی یا سونا تانبا اور اس کی میل کچیل برابر نہیں ہو سکتے 19۔ 2 یعنی جن کے پاس قلب سلیم اور عقل صحیح نہ ہو اور جنہوں نے اپنے دلوں کو گناہوں کے زنگ سے آلودہ اور اپنی عقلوں کو خراب کرلیا ہو، وہ اس قرآن سے نصیحت حاصل نہیں کرسکتے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ آپ کی طرف اپنے پروردگار سے اتارا گیا ہے وہ حق ہے اس شخص جیسا ہی ہے جو (اس حقیقت سے) اندھا ہے؟ مگر نصیحت [28] تو دانشمند ہی قبول کرتے ہیں
[28] یعنی ایک شخص اللہ کی نازل کردہ ہدایات کو حق سمجھ کر اپنی پوری زندگی اس کے مطابق ڈھال لیتا ہے، حرام و حلال کی تمیز کرتا ہے۔ ظلم و زیادتی سے بچتا اور اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اور دوسرا شخص محض اپنے مفادات کے پیچھے پڑا رہا ہے اور اس غرض کے لیے وہ ہر طرح کے جائز و ناجائز حربے اختیار کرتا، لوگوں کے حقوق غصب کرتا اور ان پر ظلم و زیادتی کرتا رہتا ہے۔ کیا یہ دونوں ایک جیسے ہو سکتے ہیں؟ یا ان کا طرز عمل ایک جیسا ہو گا؟ مگر یہ بات تو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو کچھ عقل و فکر سے کام لیتے ہیں اور خود اللہ کی بتائی ہوئی راہ پر گامزن ہیں

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ایک موازنہ ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ’ ایک وہ شخص جو اللہ کے کلام کو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب اترا سراسر حق مانا ہو، سب پر ایمان رکھتا ہو، ایک کو دوسرے کی تصدیق کرنے والا اور موافقت کرنے والا جانا ہو، سب خبروں کو سچ جانتا ہو، سب حکموں کو مانتا ہو، سب برائیوں کو جانتا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا قائل ہو ‘۔
اور آیت میں ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا» ۱؎ [6-الأنعام:115]‏‏‏‏ ’ اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں ‘۔
’ اور دوسرا وہ شخص جو نابینا ہو، بھلائی کو سمجھتا ہی نہیں اور اگر سمجھ بھی لے تو مانتا نہ ہو، نہ سچا جانتا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے ‘۔
جیسے فرمان ہے کہ «لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ» ۱؎ [59-الحشر:20]‏‏‏‏ ’ دوزخی اور جنتی برابر نہیں، جنتی خوش نصیب ہیں ‘، یہی فرمان یہاں ہے کہ ’ یہ دونوں برابر نہیں ‘۔ بات یہ ہے کہ بھلی سمجھ سمجھداروں کی ہی ہوتی ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اہل علم و عمل اور غیر اہل علم لوگوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَ٘مَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ بھلا جو شخص جانتا ہے کہ جو کچھ اترا آپ پر آپ کے رب کی طرف سے، حق ہے پس اس حق کو خوب سمجھ لیا اور اس پر عمل پیرا ہوا ﴿ كَ٘مَنْ هُوَ اَعْمٰى برابر ہو سکتا ہے اس کے جو کہ اندھا ہے اور وہ حق کا علم رکھتا ہے نہ حق پر عمل کرتا ہے، دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ پس بندے پر لازم ہے کہ وہ غور کرے کہ فریقین میں سے کس کا حال اچھا اور کس کا انجام بہتر ہے، پھر اسے چاہیے کہ اسی راستے کو ترجیح دے اور اسی گروہ کی پیروی میں رواں دواں رہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص غوروفکر نہیں کرتا کہ اس کے لیے کیا چیز فائدہ مند اور کیا چیز نقصان دہ ہے؟ ﴿ اِنَّمَا یَتَذَكَّـرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں یعنی جو پختہ عقل اور کامل رائے رکھتے ہیں یہ لوگ کائنات کا لب لباب اور بنی آدم میں چنے ہوئے لوگ ہیں۔
اگر آپ ان کے اوصاف کے بارے میں سوال کریں تو آپ ان اوصاف سے بڑھ کر کوئی وصف نہیں پائیں گے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں وہ ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کی تھی اور وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا یعنی اس کے حقوق کو کامل طور پر قائم کرنا، ان کو پوری طرح ادا کرنا یعنی ان حقوق کی نشوونما اور ان میں خیر خواہی کرنا۔ ﴿ وَ اور ان حقوق کی تکمیل یہ ہے کہ وہ ﴿ لَا یَنْقُ٘ضُوْنَ الْمِیْثَاقَ وہ اقرار کو نہیں توڑتے۔ یعنی اس عہد کو نہیں توڑتے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے باندھا ہے۔ اس آیت کریمہ کے حکم میں ہر قسم کا معاہدہ، عہد، قسم اور نذر وغیرہ داخل ہیں جنھیں بندے اپنے آپ پر لازم کرتے ہیں۔ اس عہد اور میثاق کو بتمام پورا کیے بغیر بندہ، عقل مندوں میں شمار نہیں ہو سکتا جن کے لیے ثواب عظیم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: مفرقاً بين أهل العلم والعمل وبين ضدِّهم: {أفَمَن يعلمُ أنَّما أنزِلَ إليك من ربِّك الحقُّ}: ففهم ذلك وعمل به. {كَمَنْ هو أعمى}: لا يعلم الحقَّ ولا يعمل به؛ فبينهما من الفرق كما بين السماء والأرض؛ فحقيقٌ بالعبد أن يتذكَّر ويتفكَّر، أيُّ الفريقين أحسن حالاً وخير مآلاً، فيؤثر طريقها، ويسلك خلف فريقها، ولكن ما كلُّ أحدٍ يتذكَّر ما ينفعه ويضره. {إنَّما يتذكَّر أولو الألباب}؛ أي: أولو العقول الرزينة والآراء الكاملة، الذين هم لبُّ العالم وصفوةُ بني آدم. فإن سألتَ عن وصفِهم؛ فلا تجدُ أحسن من وصف الله لهم بقوله: {الذين يُوفونَ بعهدِ اللهِ}: الذي عَهِدَهُ إليهم والذي عاهدهم عليه من القيام بحقوقه كاملة موفرة؛ فالوفاء بها توفيتها حقَّها من التتميم لها والنصح فيها، ومن تمام الوفاء بها أنَّهم {لا ينقُضون الميثاقَ}؛ أي: العهد الذي عاهدوا الله عليه، فدخل في ذلك جميع المواثيق والعهود والأيمان والنُّذور التي يعقِدُها العباد، فلا يكون العبد من أولي الألباب الذين لهم الثواب العظيم إلا بأدائها كاملةً وعدم نقضها وبخسها.