اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتۡ اَوۡدِیَۃٌۢ بِقَدَرِہَا فَاحۡتَمَلَ السَّیۡلُ زَبَدًا رَّابِیًا ؕ وَ مِمَّا یُوۡقِدُوۡنَ عَلَیۡہِ فِی النَّارِ ابۡتِغَآءَ حِلۡیَۃٍ اَوۡ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثۡلُہٗ ؕ کَذٰلِکَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡحَقَّ وَ الۡبَاطِلَ ۬ؕ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذۡہَبُ جُفَآءً ۚ وَ اَمَّا مَا یَنۡفَعُ النَّاسَ فَیَمۡکُثُ فِی الۡاَرۡضِ ؕ کَذٰلِکَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ ﴿ؕ۱۷﴾
اس نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو کئی نالے اپنی اپنی وسعت کے مطابق بہ نکلے، پھر اس ریلے نے ابھرا ہوا جھاگ اٹھا لیا۔ اور جن چیزوں کو کوئی زیور یا سامان بنانے کی غرض سے آگ پر تپاتے ہیں ان سے بھی اسی طرح کا جھاگ (ابھرتا) ہے۔ اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے، پھر جو جھاگ ہے سو بے کار چلا جاتا ہے اور رہی وہ چیز جو لوگوں کو نفع دیتی ہے، سو زمین میں رہ جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ مثالیں بیان کرتا ہے۔
En
اسی نے آسمان سے مینہ برسایا پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہہ نکلے پھر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے۔ اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح خدا (صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ تم سمجھو)
En
اسی نے آسمان سے پانی برسایا پھر اپنی اپنی وسعت کے مطابق نالے بہہ نکلے۔ پھر پانی کے ریلے نے اوپر چڑھے جھاگ کو اٹھا لیا، اور اس چیز میں بھی جس کو آگ میں ڈال کر تپاتے ہیں زیور یا ساز وسامان کے لئے اسی طرح کے جھاگ ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ حق وباطل کی مثال بیان فرماتا ہے، اب جھاگ تو ناکاره ہو کر چلا جاتا ہے لیکن جو لوگوں کو نفع دینے والی چیز ہے وه زمین میں ٹھہری رہتی ہے، اللہ تعالیٰ اسی طرح مثالیں بیان فرماتا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت17) ➊ { اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً …: ” اَوْدِيَةٌ“} (نالے) وادی کی جمع ہے جو اصل میں پانی بہنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ دو پہاڑوں کے درمیان خالی جگہ کو بھی کہہ لیتے ہیں، کبھی راستے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، کیونکہ پہاڑوں میں عموماً راستے پہاڑی نالوں کے کناروں کے ساتھ چلتے ہیں۔ {” زَبَدًا “} وہ کوڑا کرکٹ اور جھاگ جو پانی کی تیز رفتاری کے باعث اس کی سطح پر ابھر آتا ہے، یا ہانڈی کے اوپر ابھر آتا ہے۔{ ” رَابِيًا “ ” رَبَا يَرْبُوْ رَبْوًا “} (ن) سے اسم فاعل ہے، بمعنی بڑھنے والا، ابھرنے والا۔ {”حِلْيَةٍ “} سونے چاندی وغیر کا زیور جس سے انسان زینت حاصل کرتا ہے۔ {” جُفَآءً “} نالہ یا ہانڈی جو خس و خاشاک یا جھاگ وغیرہ کناروں پر پھینک دیتے ہیں، اسے {” جُفَآءً “} کہتے ہیں۔
شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ دو مثالیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کی بیان فرمائی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ باطل بعض اوقات حق کے اوپر غالب آ جائے، مگر آخر کار اللہ تعالیٰ اسے مٹا دیتا ہے اور بے قدر و قیمت بنا دیتا ہے، حسن انجام حق اور اہل حق ہی کا ہوتا ہے۔ جیسا کہ جھاگ اور خس و خاشاک بے شک پانی کو ڈھانپ لیتے ہیں، مگر آخر کار پانی انھیں کناروں پر پھینک کر بے کار کر دیتا ہے اور خالص پانی سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح سونا چاندی اور دوسری دھاتوں کو پگھلایا جائے تو ان کا میل کچیل بھی اوپر آ جاتا ہے مگر آخر کار کچھ اتار کر پھینک دیا جاتا ہے اور کچھ جل جاتا ہے۔ غرض، سارا میل کچیل بے کار جاتا ہے اور لوگوں کے لیے نفع مند دھات خالص حالت میں باقی رہ جاتی ہے، جیسے سونا اور چاندی، جس سے وہ زیور بناتے ہیں، یا لوہا، تانبا اور پیتل وغیرہ جس سے برتن، اسلحہ اور دوسرا سامان بنتا ہے۔ استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ان دونوں مثالوں میں حق (قرآن) کو پانی سے تشبیہ دی ہے اور نالوں سے مراد انسانوں کے دل ہیں جو اپنے اپنے ظرف و استعداد کے مطابق حق سے فیض حاصل کرتے ہیں، یا حق وہ زیور ہے جس سے نفوسِ انسانی آراستہ ہوتے ہیں اور لوگ معاش و معاد میں اس سے انواع و اقسام کے منافع اور فوائد حاصل کرتے ہیں۔ باطل کی مثال جھاگ کی سی ہے جو حق سے کشمکش کے موقع پر وقتی طور پر ابھر کر اوپر آ جاتا ہے مگر آخر کار مٹ جاتا ہے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَثَلُ مَا بَعَثَنِيَ اللّٰهُ مِنَ الْهُدَی وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيْرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَ مِنْهَا نَقِيَّةٌ، قَبِلَتِ الْمَاءَ، فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللّٰهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوْا وَسَقَوْا وَزَرَعُوْا، وَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةً أُخْرَی، إِنَّمَا هِيَ قِيْعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً فَذٰلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِيَ اللّٰهُ بِهِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَی اللّٰهِ الَّذِيْ أُرْسِلْتُ بِهِ] [بخاری، العلم، باب فضل من علم و علّم: ۷۹] ”اللہ تعالیٰ نے مجھے جو علم اور ہدایت دے کر بھیجا ہے اس کی مثال بہت زیادہ بارش کی ہے جو ایک زمین پر برسی۔ اس زمین کا ایک حصہ بہت عمدہ (زرخیز) تھا، اس نے پانی قبول کیا (جذب کر لیا)، پھر بہت سی گھاس اور چارا اگایا اور اس کے کچھ حصے سخت زمین کے گڑھے تھے جنھوں نے پانی روک لیا تو اللہ نے اس کے ساتھ لوگوں کو نفع پہنچایا، چنانچہ انھوں نے پیا اور پلایا اور کھیتی باڑی کی اور اس کے بعض حصے چٹیل میدان تھے جو نہ پانی روکتے تھے اور نہ گھاس اگاتے تھے، تو یہ اس شخص کی مثال ہے جس نے اللہ کے دین کی سمجھ حاصل کی اور اسے اس (علم و ہدایت) نے نفع دیا جسے دے کر مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا اور اس شخص کی مثال جس نے اس کی طرف نہ سر اٹھایا اور نہ اللہ کی وہ ہدایت قبول کی جو دے کر مجھے بھیجا گیا (ان تینوں میں سے آخری مثال کافر کی ہے)۔“
➋ {كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ:} یعنی بات سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے جیسے یہاں دو مثالیں بیان فرمائیں، ایک صحرائی اور پہاڑی لوگوں کو پیش آنے والی (نالوں کی) اور ایک شہری لوگوں کو پیش آنے والی (دھاتوں کی)۔ اسی طرح سورۂ بقرہ کے شروع میں منافقین کی دو مثالیں اور سورۂ نور (۳۹، ۴۰) میں کافروں کی دو مثالیں بیان فرمائیں۔ غرض قرآن و حدیث میں بہت سی مثالیں دے کر سمجھایا گیا ہے۔
شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ دو مثالیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کی بیان فرمائی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ باطل بعض اوقات حق کے اوپر غالب آ جائے، مگر آخر کار اللہ تعالیٰ اسے مٹا دیتا ہے اور بے قدر و قیمت بنا دیتا ہے، حسن انجام حق اور اہل حق ہی کا ہوتا ہے۔ جیسا کہ جھاگ اور خس و خاشاک بے شک پانی کو ڈھانپ لیتے ہیں، مگر آخر کار پانی انھیں کناروں پر پھینک کر بے کار کر دیتا ہے اور خالص پانی سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح سونا چاندی اور دوسری دھاتوں کو پگھلایا جائے تو ان کا میل کچیل بھی اوپر آ جاتا ہے مگر آخر کار کچھ اتار کر پھینک دیا جاتا ہے اور کچھ جل جاتا ہے۔ غرض، سارا میل کچیل بے کار جاتا ہے اور لوگوں کے لیے نفع مند دھات خالص حالت میں باقی رہ جاتی ہے، جیسے سونا اور چاندی، جس سے وہ زیور بناتے ہیں، یا لوہا، تانبا اور پیتل وغیرہ جس سے برتن، اسلحہ اور دوسرا سامان بنتا ہے۔ استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ان دونوں مثالوں میں حق (قرآن) کو پانی سے تشبیہ دی ہے اور نالوں سے مراد انسانوں کے دل ہیں جو اپنے اپنے ظرف و استعداد کے مطابق حق سے فیض حاصل کرتے ہیں، یا حق وہ زیور ہے جس سے نفوسِ انسانی آراستہ ہوتے ہیں اور لوگ معاش و معاد میں اس سے انواع و اقسام کے منافع اور فوائد حاصل کرتے ہیں۔ باطل کی مثال جھاگ کی سی ہے جو حق سے کشمکش کے موقع پر وقتی طور پر ابھر کر اوپر آ جاتا ہے مگر آخر کار مٹ جاتا ہے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَثَلُ مَا بَعَثَنِيَ اللّٰهُ مِنَ الْهُدَی وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيْرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَ مِنْهَا نَقِيَّةٌ، قَبِلَتِ الْمَاءَ، فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللّٰهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوْا وَسَقَوْا وَزَرَعُوْا، وَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةً أُخْرَی، إِنَّمَا هِيَ قِيْعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً فَذٰلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِيَ اللّٰهُ بِهِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَی اللّٰهِ الَّذِيْ أُرْسِلْتُ بِهِ] [بخاری، العلم، باب فضل من علم و علّم: ۷۹] ”اللہ تعالیٰ نے مجھے جو علم اور ہدایت دے کر بھیجا ہے اس کی مثال بہت زیادہ بارش کی ہے جو ایک زمین پر برسی۔ اس زمین کا ایک حصہ بہت عمدہ (زرخیز) تھا، اس نے پانی قبول کیا (جذب کر لیا)، پھر بہت سی گھاس اور چارا اگایا اور اس کے کچھ حصے سخت زمین کے گڑھے تھے جنھوں نے پانی روک لیا تو اللہ نے اس کے ساتھ لوگوں کو نفع پہنچایا، چنانچہ انھوں نے پیا اور پلایا اور کھیتی باڑی کی اور اس کے بعض حصے چٹیل میدان تھے جو نہ پانی روکتے تھے اور نہ گھاس اگاتے تھے، تو یہ اس شخص کی مثال ہے جس نے اللہ کے دین کی سمجھ حاصل کی اور اسے اس (علم و ہدایت) نے نفع دیا جسے دے کر مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا اور اس شخص کی مثال جس نے اس کی طرف نہ سر اٹھایا اور نہ اللہ کی وہ ہدایت قبول کی جو دے کر مجھے بھیجا گیا (ان تینوں میں سے آخری مثال کافر کی ہے)۔“
➋ {كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ:} یعنی بات سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے جیسے یہاں دو مثالیں بیان فرمائیں، ایک صحرائی اور پہاڑی لوگوں کو پیش آنے والی (نالوں کی) اور ایک شہری لوگوں کو پیش آنے والی (دھاتوں کی)۔ اسی طرح سورۂ بقرہ کے شروع میں منافقین کی دو مثالیں اور سورۂ نور (۳۹، ۴۰) میں کافروں کی دو مثالیں بیان فرمائیں۔ غرض قرآن و حدیث میں بہت سی مثالیں دے کر سمجھایا گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
17۔ 1 بقدرھا وسعت کے مطابق کا مطلب ہے نالے یعنی وادی دو پہاڑوں کے درمیان کی جگہ تنگ ہو تو کم پانی کشادہ ہو تو زیادہ پانی اٹھاتی ہے یعنی نزول قرآن کو جو ہدایت اور بیان کا جاع ہے بارش کے نزول سے تشبیہ دی ہے اس لیے کہ قرآن کا نفع بھی بارش کے نفع کی طرح عام ہے اور وادیوں کو تشبیہ دی ہے دلوں کے ساتھ اس لیے کہ وادیوں نالوں میں پانی جا کر ٹھرتا ہے جس طرح قرآن کا اور ایمان مومنوں کے دلوں میں قرار پکڑتا ہے۔ 17۔ 1 اس جھاگ سے جب پانی اوپر آجاتا ہے اور جو ناکارہ ہو ختم ہوجاتا ہے اور ہوائیں جسے اڑا لے جاتی ہیں کفر مراد ہے، جو جھاگ ہی کی طرح اڑ جانے والا اور ختم ہوجانے والا ہے۔ 17۔ 2 یہ دوسری شکل ہے کہ تانبے پیتل، سیسے یا سونے چاندی کو زیور یا سامان وغیرہ بنانے کے لئے آگ میں تپایا جاتا ہے تو اس پر بھی جھاگ کی شکل میں اوپر آجاتا ہے۔ پھر یہ جھاگ دیکھتے دیکھتے ختم ہوجاتا ہے اور دھات اصلی شکل میں باقی رہ جاتا ہے۔ 17۔ 3 یعی جب حق اور باطل کا آپس میں اجتماع اور ٹکراؤ ہوتا ہے تو باطل کو اسی طرح اثبات اور دوام نہیں ہوتا، جس طرح سیلابی ریلے کا جھاگ پانی کے ساتھ، دھاتوں کا جھاگ، جن کو آگ میں تپایا جاتا ہے دھاتوں کے ساتھ باقی نہیں رہتا بلکہ ناکارہ اور ختم ہوجاتا ہے۔ 17۔ 4 یعنی اس سے کوئی نفع نہیں ہوتا، کیونکہ جھاگ پانی یا دھات کے باقی رہتا ہی نہیں بلکہ آہستہ آہستہ بیٹھ جاتا ہے یا ہوائیں اسے اڑا لے جاتی ہیں۔ باطل کی مثال بھی جھاگ ہی کی طرح ہے۔ 17۔ 5 یعنی پانی اور سونا، چاندی، تانبا، پیتل وغیرۃ یہ چیزیں باقی رہتی ہیں جن سے لوگ فائدہ اٹھاتے اور فیض یاب ہوتے ہیں، اسی طرح حق باقی رہتا ہے جس کے وجود کو بھی زوال نہیں اور جس کا نفع بھی دائمی ہے۔ 17۔ 6 یعنی بات کو سمجھانے اور ذہن نشین کرانے کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے، جیسے یہیں دو مثالیں بیان فرمائیں اور اسی طرح سورة بقرہ کے آغاز میں منافقین کے لئے مثالیں بیان فرمائیں۔ اسی طرح سورة نور، آیات 39، 40 میں کافروں کے لئے دو مثالیں بیان فرمائیں۔ اور احادیث میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مثالوں کے ذریعے سے لوگوں کو بہت سی باتیں سمجھائیں۔ تفصیل کے لیے دیکھئے تفسیر ابن کثیر
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
17۔ اسی نے آسمان سے پانی برسایا جس سے وادیاں اپنی اپنی وسعت کے مطابق بہنے لگیں پھر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا اور جس چیز کو وہ زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لئے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے جو جھاگ ہے وہ تو سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کو فائدہ [25] دیتی ہے وہ (پانی) زمین میں رہ جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ (لوگوں کو سمجھانے کے لئے) مثالیں بیان کرتا ہے
[25] معرکہ حق و باطل کی دو مثالیں اور بقائے انفع:۔
اس مثال میں علم وحی کو باران رحمت سے تشبیہ دی گئی ہے اور ایمان لانے والے سلیم الفطرت لوگوں کو ندی نالوں سے، جو اپنے اپنے ظرف کے مطابق اس باران رحمت سے بھرپور ہو کر رواں دواں ہو جاتے ہیں اور دعوت حق کے مقابلہ میں معاندین اور منکرین جو شورش برپا کرتے ہیں اسے اس جھاگ اور خس و خاشاک سے تشبیہ دی گئی ہے جو ایسے سیلاب میں پانی کی سطح کے اوپر آجاتا ہے۔ لیکن اس جھاگ اور خس و خاشاک کی حقیقت صرف اتنی ہی ہوتی ہے کہ کسی وقت بھی دریا اچھل کر اسے کناروں پر پھینک دیتا ہے۔ جہاں ہوا اور دھوپ اسے خشک کر کے ختم کر دیتی ہے اور یہ سب کچھ مٹی میں مل جاتا ہے اور پانی جو انسانوں کو نفع دینے والی چیز ہے، وہی باقی رہتی ہے۔ خواہ اس کا کچھ حصہ زمین جذب کر لے یا اکثر حصہ زمین کو سیراب کرنے کے لیے آگے رواں کر دے کہ وہ کسی دوسرے علاقہ کو سیراب کرے۔ حق و باطل کی دوسری مثال یہ ہے کہ جب دھاتوں کو، جن سے زیورات یا دوسری کارآمد اشیاء بنتی ہیں۔ کٹھالی میں تپایا جاتا ہے تو اس کا ناکارہ حصہ اور کھوٹ سب کچھ ایک دم اوپر آکر کام کی چیز کو چھپاتا ہی نہیں بلکہ اس پر پوری طرح چھا جاتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ با لآخر جل جاتا ہے اور اسے باہر پھینک دیا جاتا ہے اور مائع دھات جس کا زیور وغیرہ بنتا ہے وہ نیچے ہوتی ہے اسی طرح معرکہ حق و باطل میں ایک دفعہ باطل ضرور حق پر چھا جاتا ہے۔ لیکن بالآخر حق ہی باقی رہتا ہے کیونکہ وہی لوگوں کے فائدہ کی چیز ہوتی ہے۔ ان دونوں مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کریم اور اس کی تعلیم جو لوگوں کو نفع پہچانے والی چیز ہے، جاودانی اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ ہر دور میں قرآن کے بڑے بڑے عالم پیدا ہوئے اور ہوتے رہیں گے۔ باطل ان کے مقابلہ پر اتر آتا ہے اور ابتداءً حق پر چھا جاتا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ حق سے باطل پر یا وحی الٰہی کے عالموں سے معاندین اور منکرین حق پر ضربیں اور چوٹیں لگاتا ہے تو باطل جلد ہی خس و خاشاک اور جھاگ کی طرح ختم ہو جاتا ہے اور حق ہی باقی رہ جاتا ہے اور اس کے باقی رہنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس میں لوگوں کو فائدہ پہچانے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ ڈارون نے اپنے نظریہ ارتقاء میں بقائل لاصلاح صلح...... کی اصطلاح (SURVIVAL OF THE FITTEST) استعمال کی تھی۔ یعنی جس چیز میں باقی رہنے کی صلاحیت موجود ہو وہی باقی رہتی ہے۔ قرآن نے اس کے مقابلہ میں بقاء للانفع کا ذکر فرمایا ہے جو عقل کو ڈارونی اصطلاح سے بہت زیادہ اپیل کرتا ہے۔ یعنی ڈارون کا نظریہ یہ ہے کہ کسی چیز میں باقی رہنے کی صلاحیت ہے یا نہیں۔ اگر صلاحیت نہیں تو وہ باقی نہ رہے گی۔ جب کہ قرآن یہ بتلاتا ہے کہ جس چیز میں لوگوں کے لیے فائدہ ہو صرف وہی باقی رہتی ہے۔ کھوٹ میں لوگوں کے لیے کچھ فائدہ نہ تھا۔ لہٰذا وہ جل گیا۔ سونے میں لوگوں کے لیے فائدہ تھا۔ لہٰذا وہ باقی رہ گیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باطل بےثبات ہے ٭٭
حق وباطل کے فرق، حق کی پائیداری اور باطل کی بے ثباتی کی یہ دو مثالیں بیان فرمائیں۔ ارشاد ہوا کہ ’ اللہ تعالیٰ بادلوں سے مینہ برساتا ہے، چشموں دریاؤں نالیوں وغیرہ کے ذریعے برسات کا پانی بہنے لگتا ہے۔ کسی میں کم، کسی میں زیادہ، کوئی چھوٹی، کوئی بڑی۔ یہ دلوں کی مثال ہے اور ان کے تفاوت کی۔ کوئی آسمانی علم بہت زیادہ حاصل کرتا ہے کوئی کم۔ پھر پانی کی اس رو پر جھاگ تیرنے لگتا ہے ‘۔ ایک مثال تو یہ ہوئی۔
دوسری مثال سونے چاندی لوہے تانبے کی ہے کہ ’ اسے آگ میں تپایا جاتا ہے سونے چاندی زیور کے لیے لوہا تانبا برتن بھانڈے وغیرہ کے لیے ان میں بھی جھاگ ہوتے ہیں تو جیسے ان دونوں چیزوں کے جھاگ مٹ جاتے ہیں، اسی طرح باطل جو کبھی حق پر چھا جاتا ہے، آخر چھٹ جاتا ہے اور حق نتھر آتا ہے ‘۔ جیسے پانی نتھر کر صاف ہو کر رہ جاتا ہے اور جیسے چاندی سونا وغیرہ تپا کر کھوٹ سے الگ کر لیے جاتے ہیں۔ اب سونے چاندی پانی وغیرہ سے تو دنیا نفع اٹھاتی رہتی ہے اور ان پر جو کھوٹ اور جھاگ آ گیا تھا، اس کا نام و نشان بھی نہیں رہتا۔
اللہ تعالیٰ لوگوں کے سمجھانے کے لیے کتنی صاف صاف مثالیں بیان فرما رہا ہے کہ سوچیں سمجھیں۔ جیسے فرمایا ہے کہ «وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ» ۱؎ [29-العنکبوت:43] ’ ہم یہ مثالیں لوگوں کے سامنے بیان فرماتے ہیں لیکن اسے علماء خوب سمجھتے ہیں ‘۔ بعض سلف کی سمجھ میں جو کوئی مثال نہیں آتی تھی تو وہ رونے لگتے تھے کیونکہ انہیں نہ سمجھنا علم سے خالی لوگوں کا وصف ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”پہلی مثال میں بیان ہے ان لوگوں کا جن کے دل یقین کے ساتھ علم الٰہی کے حامل ہوتے ہیں اور بعض دل وہ بھی ہیں، جن میں رشک باقی رہ جاتا ہے پس شک کے ساتھ کا علم بےسود ہوتا ہے۔ یقین پورا فائدہ دیتا ہے۔“
ابد سے مراد شک ہے جو کمتر چیز ہے، یقین کار آمد چیز ہے، جو باقی رہنے والی ہے۔ جیسے زیور جو آگ میں تپایا جاتا ہے تو کھوٹ جل جاتا ہے اور کھری چیز رہ جاتی ہے، اسی طرح اللہ کے ہاں یقین مقبول ہے شک مردود ہے۔
پس جس طرح پانی رہ گیا اور پینے وغیرہ کے کام آیا اور جس طرح سونا چاندی اصلی رہ گیا اور اس کے سازو سامان بنے، اسی طرح نیک اور خالص اعمال عامل کو نفع دیتے ہیں اور باقی رہتے ہیں۔ ہدایت وحق پر جو عامل رہے، وہ نفع پاتا ہے۔ جیسے لوہے کی چھری تلوار بغیر تپائے بن نہیں سکتی۔ اسی طرح باطل، شک اور ریاکاری والے اعمال اللہ کے ہاں کار آمد نہیں ہو سکتے۔ قیامت کے دن باطل ضائع ہو جائے گا۔ اور اہل حق کو حق نفع دے گا۔
دوسری مثال سونے چاندی لوہے تانبے کی ہے کہ ’ اسے آگ میں تپایا جاتا ہے سونے چاندی زیور کے لیے لوہا تانبا برتن بھانڈے وغیرہ کے لیے ان میں بھی جھاگ ہوتے ہیں تو جیسے ان دونوں چیزوں کے جھاگ مٹ جاتے ہیں، اسی طرح باطل جو کبھی حق پر چھا جاتا ہے، آخر چھٹ جاتا ہے اور حق نتھر آتا ہے ‘۔ جیسے پانی نتھر کر صاف ہو کر رہ جاتا ہے اور جیسے چاندی سونا وغیرہ تپا کر کھوٹ سے الگ کر لیے جاتے ہیں۔ اب سونے چاندی پانی وغیرہ سے تو دنیا نفع اٹھاتی رہتی ہے اور ان پر جو کھوٹ اور جھاگ آ گیا تھا، اس کا نام و نشان بھی نہیں رہتا۔
اللہ تعالیٰ لوگوں کے سمجھانے کے لیے کتنی صاف صاف مثالیں بیان فرما رہا ہے کہ سوچیں سمجھیں۔ جیسے فرمایا ہے کہ «وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ» ۱؎ [29-العنکبوت:43] ’ ہم یہ مثالیں لوگوں کے سامنے بیان فرماتے ہیں لیکن اسے علماء خوب سمجھتے ہیں ‘۔ بعض سلف کی سمجھ میں جو کوئی مثال نہیں آتی تھی تو وہ رونے لگتے تھے کیونکہ انہیں نہ سمجھنا علم سے خالی لوگوں کا وصف ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”پہلی مثال میں بیان ہے ان لوگوں کا جن کے دل یقین کے ساتھ علم الٰہی کے حامل ہوتے ہیں اور بعض دل وہ بھی ہیں، جن میں رشک باقی رہ جاتا ہے پس شک کے ساتھ کا علم بےسود ہوتا ہے۔ یقین پورا فائدہ دیتا ہے۔“
ابد سے مراد شک ہے جو کمتر چیز ہے، یقین کار آمد چیز ہے، جو باقی رہنے والی ہے۔ جیسے زیور جو آگ میں تپایا جاتا ہے تو کھوٹ جل جاتا ہے اور کھری چیز رہ جاتی ہے، اسی طرح اللہ کے ہاں یقین مقبول ہے شک مردود ہے۔
پس جس طرح پانی رہ گیا اور پینے وغیرہ کے کام آیا اور جس طرح سونا چاندی اصلی رہ گیا اور اس کے سازو سامان بنے، اسی طرح نیک اور خالص اعمال عامل کو نفع دیتے ہیں اور باقی رہتے ہیں۔ ہدایت وحق پر جو عامل رہے، وہ نفع پاتا ہے۔ جیسے لوہے کی چھری تلوار بغیر تپائے بن نہیں سکتی۔ اسی طرح باطل، شک اور ریاکاری والے اعمال اللہ کے ہاں کار آمد نہیں ہو سکتے۔ قیامت کے دن باطل ضائع ہو جائے گا۔ اور اہل حق کو حق نفع دے گا۔
سورۃ البقرہ کے شروع میں منافقوں کی دو مثالیں اللہ رب العزت نے بیان فرمائیں «مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ» ۱؎ [2-البقرة:17] ’ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے (شبِ تاریک میں) آگ جلائی ‘۔ «أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ» ۱؎ [2-البقرة:19] ’ یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو) ‘۔ ایک پانی کی ایک آگ کی۔
سورۃ النور میں کافروں کی دو مثالیں بیان فرمائیں۔ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً» ۱؎ [24-النور:39] ایک سراب یعنی ریت کی، دوسری «أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ سَحَابٌ» ۱؎ [24-النور:40] ’ سمندر کی تہہ کے اندھیروں کی ‘۔ ریت کا میدان موسم گرما میں دور سے بالکل لہریں لیتا ہوا دریا کا پانی معلوم ہوتا ہے۔
چنانچہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { قیامت کے دن یہودیوں سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا مانگتے ہو؟ کہیں گے پیاسے ہو رہے ہیں، پانی چاہیئے تو ان سے کہا جائے گا کہ پھر جاتے کیوں نہیں ہو؟ چنانچہ جہنم انہیں ایسی نظر آئے گی جیسے دنیا میں ریتیلے میدان }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:183]
دوسری آیت میں فرمایا «أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ سَحَابٌ» ۱؎ [24-النور:40] بخاری و مسلم میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جس ہدایت وعلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی۔ زمین کے ایک حصہ نے تو پانی کو قبول کیا، گھاس چارہ بکثرت آ گیا۔ بعض زمین جاذب تھی، اس نے پانی کو روک لیا پس اللہ نے اس سے بھی لوگوں کو نفع پہنچایا۔ پانی ان کے پینے کے، پلانے کے، کھیت کے کام آیا اور جو ٹکڑا زمین کا سنگلاخ اور سخت تھا نہ اس میں پانی ٹھہرا نہ وہاں کچھ پیداوار ہوئی۔ پس یہ اس کی مثال ہے جس نے دین میں سمجھ حاصل کی اور میری بعثت سے اللہ نے اسے فائدہ پہنچایا اس نے خود علم سیکھا دوسروں کو سکھایا اور مثال ہے اس کی جس نے اس کے لیے سر بھی نہ اٹھایا اور نہ اللہ کی وہ ہدایت قبول کی جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں۔ پس وہ سنگلاخ زمین کی مثل ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:79]
ایک اور حدیث میں ہے { میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی جب آگ نے اپنے آس پاس کی چیزیں روشن کر دیں تو پتنگے اور پروانے وغیرہ کیڑے اس میں گر گر کر جان دینے لگے وہ انہیں ہر چند روکتا ہے لیکن بس پھر بھی وہ برابر گر رہے ہیں بالکل یہی مثال میری اور تمہاری ہے کہ میں تمہاری کمر پکڑ پکڑ کر تمہیں روکتا ہوں اور کہہ رہا ہوں کہ آگ سے پرے ہٹو لیکن تم میری نہیں سنتے، نہیں مانتے، مجھ سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گرے چلے جاتے ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3426] پس حدیث میں بھی پانی اور آگ کی دونوں مثالیں آ چکی ہیں۔
سورۃ النور میں کافروں کی دو مثالیں بیان فرمائیں۔ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً» ۱؎ [24-النور:39] ایک سراب یعنی ریت کی، دوسری «أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ سَحَابٌ» ۱؎ [24-النور:40] ’ سمندر کی تہہ کے اندھیروں کی ‘۔ ریت کا میدان موسم گرما میں دور سے بالکل لہریں لیتا ہوا دریا کا پانی معلوم ہوتا ہے۔
چنانچہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { قیامت کے دن یہودیوں سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا مانگتے ہو؟ کہیں گے پیاسے ہو رہے ہیں، پانی چاہیئے تو ان سے کہا جائے گا کہ پھر جاتے کیوں نہیں ہو؟ چنانچہ جہنم انہیں ایسی نظر آئے گی جیسے دنیا میں ریتیلے میدان }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:183]
دوسری آیت میں فرمایا «أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ سَحَابٌ» ۱؎ [24-النور:40] بخاری و مسلم میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جس ہدایت وعلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی۔ زمین کے ایک حصہ نے تو پانی کو قبول کیا، گھاس چارہ بکثرت آ گیا۔ بعض زمین جاذب تھی، اس نے پانی کو روک لیا پس اللہ نے اس سے بھی لوگوں کو نفع پہنچایا۔ پانی ان کے پینے کے، پلانے کے، کھیت کے کام آیا اور جو ٹکڑا زمین کا سنگلاخ اور سخت تھا نہ اس میں پانی ٹھہرا نہ وہاں کچھ پیداوار ہوئی۔ پس یہ اس کی مثال ہے جس نے دین میں سمجھ حاصل کی اور میری بعثت سے اللہ نے اسے فائدہ پہنچایا اس نے خود علم سیکھا دوسروں کو سکھایا اور مثال ہے اس کی جس نے اس کے لیے سر بھی نہ اٹھایا اور نہ اللہ کی وہ ہدایت قبول کی جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں۔ پس وہ سنگلاخ زمین کی مثل ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:79]
ایک اور حدیث میں ہے { میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی جب آگ نے اپنے آس پاس کی چیزیں روشن کر دیں تو پتنگے اور پروانے وغیرہ کیڑے اس میں گر گر کر جان دینے لگے وہ انہیں ہر چند روکتا ہے لیکن بس پھر بھی وہ برابر گر رہے ہیں بالکل یہی مثال میری اور تمہاری ہے کہ میں تمہاری کمر پکڑ پکڑ کر تمہیں روکتا ہوں اور کہہ رہا ہوں کہ آگ سے پرے ہٹو لیکن تم میری نہیں سنتے، نہیں مانتے، مجھ سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گرے چلے جاتے ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3426] پس حدیث میں بھی پانی اور آگ کی دونوں مثالیں آ چکی ہیں۔