تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
عاشق نہ شدی محنت الفت نہ کشیدی
کس پیش تو از قصۂ ہجراں چہ کشاید
”نہ تو عاشق ہوا، نہ تو نے عشق کی مصیبت اٹھائی۔ تیرے سامنے کوئی جدائی کا قصہ کھول کر کیا سنائے۔“ یہ حقیقت ہے کہ فرشتوں سے تشبیہ پاک بازی میں دی جاتی ہے، حسن میں نہیں، جس طرح ایک اردو شاعر نے ڈینگ ماری ہے:
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
اس کی کئی دلیلیں آئندہ آیات میں آ رہی ہیں، میں ان کا ترتیب وار ذکر کرتا ہوں: (1) یوسف علیہ السلام نے دعا کی: «{ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ مِمَّا يَدْعُوْنَنِيْۤ اِلَيْهِ }» [یوسف: ۳۳] ”اے میرے رب! مجھے قید خانہ اس سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ سب مجھے دعوت دے رہی ہیں۔“ معلوم ہوا وہ عورتیں یوسف علیہ السلام کو دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ دعوت گناہ دینے کے لیے آئی تھیں۔ (2) یوسف علیہ السلام نے مزید دعا کی: «{ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ }» [یوسف: ۳۳] ”اور اگر تو مجھ سے ان کے (مکر) فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور جاہلوں سے ہو جاؤں گا۔“ معلوم ہوا وہ سب عورتیں یوسف علیہ السلام کو اپنے مکر و فریب میں پھنسانے کے لیے آئی تھیں نہ کہ صرف جمال یوسف کے دیدار کے لیے۔ (3) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ }» [یوسف: ۳۴] ” تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول فرمائی، اس نے اس (یوسف) سے ان (عورتوں) کا فریب ہٹا دیا۔“ اللہ تعالیٰ نے بھی اس دعوت کی کار روائی کو ان سب عورتوں کا مکر و فریب قرار دیا ہے۔ (4) یوسف علیہ السلام نے جب بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتائی اور بادشاہ نے انھیں بلوایا تو یوسف علیہ السلام نے اس کے قاصد سے کہا کہ اپنے مالک کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو: «{ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِيْ قَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ اِنَّ رَبِّيْ بِكَيْدِهِنَّ عَلِيْمٌ }» [یوسف: ۵۰] ”ان عورتوں کا کیا حال ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے، یقینا میرا رب ان کے فریب کو خوب جاننے والا ہے۔“ یہ آیت خصوصاً قابل غور ہے، جو لوگ کہتے ہیں کہ جہاں بھی عورتوں کے مکر کا ذکر ہے مراد صرف عزیز مصر کی بیوی ہے، دوسری عورتیں چونکہ اس کی ساتھی تھیں، اس لیے ان کا ذکر ساتھ آگیا۔ اب اس آیت پر غور کریں، عزیز کی بیوی نے تو ہاتھ کاٹے ہی نہیں تھے، وہ تو دوسری ہی عورتوں نے کاٹے تھے، یوسف علیہ السلام ان کے ہاتھ کاٹنے کو ان کا مکر و فریب قرار دے رہے ہیں۔ (5) بادشاہ نے ان تمام عورتوں کو بلا کر پوچھا: «{ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ }» [یوسف: ۵۱] ”تمھارا کیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف کو اس کے نفس سے پھسلایا؟“ معلوم ہوا کہ بادشاہ نے بھی ان کے ہاتھ کاٹنے کو یوسف علیہ السلام کے حسن و جمال سے بے خود ہو کر ہاتھ کاٹنے کے بجائے اسے ان کی سوچی سمجھی پھسلانے کی سازش قرار دیا۔
اگر کوئی صاحب فرمائیں کہ یہ تفسیر تم نے اپنے پاس سے کی ہے، تو جواب یہ ہے کہ جہاں قرآن وحدیث کی تفسیر کی کوئی نص صریح نہ ہو وہاں قرآن مجید کے عجائبات ونکات قیامت تک ظاہر ہوتے رہیں گے۔ ویسے مجھ سے پہلے مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ نے یہی تفسیر کی ہے، مولانا امین احسن اصلاحی نے (ان کے تفسیر میں منہج کے تفرد سے قطع نظر) یہی تفسیر کی ہے اور تفسیر مواہب الرحمان کے مصنف علامہ امیر علی ملیح آبادی رحمہ اللہ نے دوسری تفسیروں کے ساتھ یہ تفسیر بھی لکھی ہے، ان کے الفاظ ہیں: ”اور شاید کہ (عزیز کی بیوی نے) ان عورتوں سے اپنی مراد کے لیے استعانت چاہی ہو، اس طرح کہ آنحضرت (یوسف) علیہ السلام نے کہا تھا: «{ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّيْۤ اَحْسَنَ مَثْوَايَ }» یعنی اپنی پرورش کرنے والے عزیز مصر کی جو رو سے بلحاظ مربی ہونے کے یہ کام نہ کریں تو یہ عورتیں طالب ہوں، پھر ان کی تلویث کے بعد کام آسان ہو۔ چنانچہ بعض مفسرین نے قصہ روایت کیا کہ ان عورتوں میں ہر ایک نے زلیخا کی حیلہ گری و اشارہ سے آنحضرت (یوسف) علیہ السلام سے تخلیہ میں یہ خواہش ظاہر کی اور ہر طرح کی زینت و مکر اور لجاجت وحیلہ کا خاتمہ کر دیا تھا اور کلام ما بعد میں اس کی طرف اشارہ بھی نکلتا ہے۔ چنانچہ جب یہ صورت معاملہ نظر آئی تو یوسف علیہ السلام نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! قید خانہ مجھے زیادہ پسند ہے، یعنی وہی مجھے منظور ہے «{ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ }» اس کام سے جس کی طرف یہ عورتیں مجھے بلاتی ہیں۔“ آیت کی یہ تفسیر اور بھی کئی مفسرین نے کی ہو گی مگر مجھے قدیم مفسرین میں سے جن بزرگوں سے یہ تفسیر ملی ہے وہ ہیں سلطان العلماء، شیخ الاسلام عز الدین ابن عبد السلام رحمہ اللہ، چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ جس مرض میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اس مرض کا واقعہ ہے کہ نماز کا وقت ہو گیا، اذان ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو وہ نماز پڑھائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ”ابوبکر غمگین آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔“ آپ نے دوبارہ یہی حکم دیا تو انھوں نے دوبارہ یہی کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری دفعہ یہی حکم دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوْسُفَ مُرُوْا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ] [بخاری، الأذان، باب حد المریض أن یشھد الجماعۃ: ۶۶۴] ”تم یوسف کے ساتھ والیاں ہو، ابوبکر سے کہو نماز پڑھائے۔“ صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت (۶۷۹) میں ہے کہ پہلی دو دفعہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے یہ بات کہی تھی، تیسری بار ان کے کہنے کے مطابق حفصہ رضی اللہ عنھا نے کہی تھی۔
اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن احجر رحمہ اللہ نے {” إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوْسُفَ“} كی شرح عام مفسرين كے مطابق كرنے كے بعد آخر ميں لكها ہے:{ ” وَ وَقَعَ فِيْ أَمَالِي ابْنِ عَبْدِ السَّلَامِ أَنَّ النِّسْوَةَ أَتَيْنَ امْرَأَةَ الْعَزِيْزِ يُظْهِرْنَ تَعْنِيْفَهَا وَ مَقْصُوْدُهُنَّ فِي الْبَاطِنِ أَنْ يَدْعُوْنَ يُوْسُفَ إِلٰي أَنْفُسِهِنَّ“ كَذَا قَالَ وَلَيْسَ فِيْ سِيَاقِ الْآيَةِ مَا يُسَاعِدُ مَا قَالَ“} [فتح الباری 153/2، ح: ۶۶۵] ”ابن عبد السلام کی امالی میں آیا ہے کہ وہ عورتیں عزیز کی بیوی کے پاس آئیں، وہ ظاہر تو اس پر طعن و ملامت اور سختی کر رہی تھیں، حالانکہ ان کا مقصود باطن میں یہ تھا کہ وہ یوسف کو اپنی اپنی طرف دعوت دیں۔“ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عبد السلام نے ایسے فرمایا، حالانکہ سیاق میں کوئی ایسی چیز نہیں جو ان کی تائید کرتی ہو۔“
ظاہر ہے کہ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کو سلطان العلماء کی بات سے اتفاق نہیں، کیونکہ ان کے خیال میں سیاق ان کی موافقت نہیں کرتا، مگر اس بندۂ عاجز نے سیاق قرآن میں سے پانچ دلیلیں اسی تفسیر کے صحیح ہونے کی بیان کی ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان {”صَوَاحِبُ يُوْسُفَ“ } بھی اس کی تائید کر رہا ہے۔ ({والله اعلم وعلمه اتم})
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سہیلی میں ہے کہ آپ کو آدم علیہ السلام کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ علیہ السلام کی اولاد میں آپ علیہ السلام کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور یوسف علیہ السلام کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ علیہ السلام کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔
بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہو گا۔ [١] مسلمان عادل بادشاہ [٢] وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری [٣] وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے [٤] وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں [٥] وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی [٦] وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں [٧] وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔ [صحیح بخاری:660]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وكان هذا القول منهنَّ مكراً ليس المقصودُ به مجردَ اللَّوم لها والقدح فيها، وإنَّما أرَدْنَ أن يتوصَّلْن بهذا الكلام إلى رؤية يوسف الذي فُتِنَتْ به امرأة العزيز لتَحْنَقَ امرأةُ العزيز وتريهنَّ إيَّاه ليعذِرْنها، ولهذا سمَّاه مكراً، فقال: {فلما سمعتْ بمكرِهِنَّ أرسلت إليهنَّ}: تدعوهنَّ إلى منزلها للضيافة، {وأعتدتْ لهن متَّكأ}؛ أي: محلاًّ مهيئاً بأنواع الفرش والوسائد وما يُقصد بذلك من المآكل اللَّذيذة، وكان في جملة ما أتت به وأحضرته في تلك الضيافة طعامٌ يحتاجُ إلى سكينٍ: إمَّا أُترُجٌّ أو غيره. {وآتت كلَّ واحدة منهنَّ سكِّيناً}: ليقطِّعْن فيها ذلك الطعام، {وقالتْ} ليوسفَ: {اخرجْ عليهنَّ }: في حالة جماله وبهائه، {فلما رأيْنَهُ أكْبَرْنَهُ}؛ أي: أعظمنه في صدورهنَّ ورأين منظراً فائقاً لم يشاهِدْنَ مثله؛ {وقطَّعْن}: من الدَّهَش {أيدِيَهُنَّ}: بتلك السكاكين اللاتي معهن، {وقلنَ حاش لله}؛ أي: تنزيهاً لله، {ما هذا بشراً إنْ هذا إلاَّ مَلَكٌ كريمٌ}: وذلك أن يوسف أعطي من الجمال الفائق والنور والبهاء ما كان به آيةً للناظرين وعبرةً للمتأملين.