ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 69

وَ لَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ بِالۡبُشۡرٰی قَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِیۡذٍ ﴿۶۹﴾
اور بلاشبہ یقینا ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوش خبری لے کر آئے، انھوں نے سلام کہا، اس نے کہا سلام ہو، پھر دیر نہیں کی کہ ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آیا۔ En
اور ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا۔ ابھی کچھ وقفہ نہیں ہوا تھا کہ (ابراہیم) ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے
En
اور ہمارے بھیجے ہوئے پیغامبر ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر پہنچے اور سلام کہا، انہوں نے بھی جواب سلام دیا اور بغیر کسی تاخیر کے گائے کا بھنا ہوا بچھڑا لے آئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 69) ➊ {وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِيْمَ بِالْبُشْرٰى: رُسُلُنَاۤ } ہمارے بھیجے ہوئے سے مراد فرشتے ہیں جو انسانی شکل میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس بیٹے اور پوتے، اسحاق اور یعقوب کی خوش خبری لے کر آئے تھے۔ ان کی تعداد بعض نے تین بیان کی، جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل، بعض نے نو (۹) اور بعض نے تیرہ (۱۳)، مگر قرآن و سنت سے ان کی تعداد کا ذکر ہمیں نہیں ملا۔ سورۂ حجر (۴۹، ۵۰) میں اللہ تعالیٰ نے اپنے غفور و رحیم ہونے اور اپنے عذاب کے عذاب الیم ہونے کی خبر دینے کا حکم دیا ہے۔ اس کے بعد ابراہیم اور لوط علیھما السلام کے یہ واقعات ذکر فرمائے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرشتوں کی ایک ہی جماعت ایک کے لیے خوش خبری اور دوسری قوم کے لیے عذاب لے کر آئی تھی۔ چنانچہ ان کے آنے سے اللہ تعالیٰ کی دونوں صفات کا اظہار ہوا تھا۔ یہاں ان فرشتوں کے آنے کو ابراہیم علیہ السلام کے لیے خوش خبری لانے والے فرمایا ہے، کیونکہ اگر ابراہیم علیہ السلام کے لیے بیٹے اور پوتے کی خبر خوش خبری ہے تو لوط علیہ السلام کی ملعون قوم کی بربادی کی خبر بھی ابراہیم اور لوط علیھما السلام دونوں کے لیے خوش خبری ہے، البتہ قوم لوط کے لیے بری خبر ہے۔
➋ { قَالُوْا سَلٰمًا قَالَ سَلٰمٌ: } پہلا { سَلٰمًا } منصوب ہے، یہ جملہ فعلیہ ہے: { نُسَلِّمُ سَلاَمًا } ہم سلام کہتے ہیں۔ دوسرا {سَلٰمٌ } مرفوع ہے، یعنی {سَلَامٌ عَلَيْكُمْ} تم پر سلام ہو۔ معلوم ہوا کہ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کیا جس میں کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے سلام کہنے کا حکم ہے۔ دیکھیے سورۂ نور (۲۷) بلکہ ابن عمر رضی اللہ عنھما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے: [اَلسَّلَامُ قَبْلَ السُّؤَالِ فَمَنْ بَدَأَكُمْ بِالسُّؤَالِ قَبْلَ السَّلَامِ فَلَا تُجِيْبُوْهٗ] [السلسلۃ الصحیحۃ: 458/1، ح: ۸۱۶] سلام سوال سے پہلے ہے، جو تم سے سلام سے پہلے سوال کرے، اسے جواب مت دو۔ اور ایک روایت میں فرمایا: [مَنْ بَدَأَ بِالْكَلَامِ قَبْلَ السَّلَامِ فَلَا تُجِيْبُوْهٗ] [صحیح الجامع: ۶۱۲۲] جو سلام سے پہلے بات کرے اسے جواب مت دو۔ ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے بہتر جواب دیا جو سورۂ نساء (۸۶) میں ہے، کیونکہ جملہ فعلیہ کچھ وقت کے لیے ہوتا ہے جب کہ جملہ اسمیہ میں استمرار یعنی ہمیشگی پائی جاتی ہے، یعنی تم پر ہمیشہ سلامتی ہو۔ { سَلٰمًا } کے جواب میں {سَلٰمٌ } بہتر جواب ہے۔
➌ { فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ:} اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ فرشتے انسانی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ حدیث میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ معروف حدیث جبریل علیہ السلام میں فرشتے کا ایک اعرابی کی شکل میں آنا بخاری و مسلم میں موجود ہے۔ [بخاری: ۴۷۷۷۔ مسلم: ۸] دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ابراہیم علیہ السلام اولو العزم پیغمبر ہو کر بھی مہمانوں کو پہچان نہ سکے، ورنہ وہ کھانے کا اہتمام نہ کرتے، کیونکہ فرشتے نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ علم غیب صرف اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام علم غیب نہیں رکھتے تھے تو پھر ان لوگوں کی کیا اوقات ہے جو نہ نبی ہیں اور نہ ان کے اصلی حالات اللہ کے سوا کوئی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی کیا حیثیت ہے؟ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ابراہیم علیہ السلام بے حد مہمان نواز تھے۔ یہ وصف ہر نبی خصوصاً ابراہیم علیہ السلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں بہت پایا جاتا تھا۔ ہماری ماں خدیجہ رضی اللہ عنھا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی وحی کے موقع پر آپ کے اوصاف میں اس وصف کا خصوصی ذکر فرمایا: [وَتَقْرِي الضَّيْفَ] [بخاری: ۳] آپ مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ صحابہ کا یہ حال تھا کہ نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: [كَانَ ابْنُ عُمْرَ لَا يَأْكُلُ حَتَّی يُؤْتٰی بِمِسْكِيْنٍ يَأْكُلُ مَعَهٗ] عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک کوئی مسکین ان کے ساتھ کھانے کے لیے نہ لایا جاتا۔ [بخاری، الأطعمۃ، باب المؤمن یأکل في معی واحد: ۵۳۹۳] پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے والد ماجد ابراہیم علیہ السلام کی فیاضی کا کیا حال ہو گا۔ چوتھی بات یہ معلوم ہوئی کہ مہمان نوازی میں دیر نہیں کرنی چاہیے، نہ ان سے اس بارے میں پوچھ گچھ کرنی چاہیے۔ سورۂ ذاریات میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام چپکے سے گھر گئے اور کھانا لے آئے۔ وقت کی مناسبت سے جو حاضر ہو پیش کر دیا جائے، مہمان کی خواہش ہے تو کھا لے، ورنہ اس کی مرضی۔
پانچویں یہ کہ ابراہیم علیہ السلام پر دنیوی لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ کا فضل تھا، ورنہ بھنا ہوا بچھڑا تھوڑی دیر میں لا کر پیش کر دینا ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ چھٹی یہ کہ وہ احادیث جن میں گائے کے گوشت کو بیماری کہا گیا ہے، بظاہر اچھی سند کی بھی ہوں تو شاذ ہیں، کیونکہ قرآن میں گائے کے گوشت کو بطور انعام ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی قربانی اور مختلف موقعوں پر ذبح کرنا قرآن مجید اور صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ یا اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیماری والی چیز کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟
ساتویں یہ کہ ابراہیم علیہ السلام، ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء بشر تھے اور کھانا کھاتے تھے۔ وہ نہ اللہ تعالیٰ یا اس کا کوئی جزو تھے اور نہ فرشتے، بلکہ وہ انسان تھے، کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ (دیکھیے فرقان: ۲۰) اور ان کی بیویاں تھیں اور اولادیں بھی۔ (دیکھیے رعد: ۳۸) جب کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتے ان سب سے پاک ہیں۔ آٹھویں یہ کہ صوفیاء جو جان دار یا اس سے نکلنے والی چیزیں اپنے خود ساختہ وظیفوں اور چلّوں کے دوران میں یا ہمیشہ کے لیے کھانا ترک کر دیتے ہیں وہ ملت ابراہیمی کے نہیں بلکہ ہندو مذہب کے پیروکار ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

69۔ 1 یہ دراصل حضرت لوط اور ان کی قوم کے قصے کا ایک حصہ ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام، حضرت ابراہیم ؑ کے چچا زاد بھائی تھے۔ حضرت لوط ؑ کی بستی بحرہ، میت کے جنوب مشرق میں تھی، جبکہ حضرت ابراہیم ؑ فلسطین میں مقیم تھے۔ جب حضرت لوط ؑ کی قوم کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ تو ان کی طرف سے فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے قوم لوط ؑ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں حضرت ابراہیم ؑ کے پاس ٹھہرے اور انھیں بیٹے کی بشارت دی۔ 69۔ 2 یعنی سلمنا سلاما علیک ہم آپ کو سلام عرض کرتے ہیں۔ 69۔ 3 جس طرح پہلا سلام ایک فعل مقدر کے ساتھ منصوب تھا۔ اس طرح یہ سالم مبتدا یا خبر ہونے کی بنا پر مرفوع ہے عبادت ہوگی: اَمْرُکُمْ سَلَا م، ُ یا عَلَیْکُمْ سَلَام، ُ۔ 69۔ 4 حضرت ابرا ہیم ؑ بڑے مہمان نواز تھے وہ یہ نہیں سمجھ پائے کہ یہ فرشتے ہیں جو انسانی صورت میں آئے ہیں اور کھانے پینے سے معزور ہیں، بلکہ انہوں نے انھیں مہمان سمجھا اور فورا مہمانوں کی خاطر تواضع کے لئے بھنا ہوا بچھڑا لا کر ان کی خدمت میں پیش کردیا۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مہمان سے پوچھنے کی ضرورت نہیں بلکہ جو موجود ہو حاضر خدمت کردیا جائے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

69۔ اور بلا شبہ ہمارے رسول (فرشتے) ابراہیم کے پاس خوشخبری [80] لے کر آئے تو ابراہیم کو سلام کیا انہوں نے سلام کا جواب دیا اور تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ وہ (مہمانی کے طور) ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے
[80] فرشتوں کا ابراہیمؑ کے پاس اسحاق کی خوشخبری لے کر جانا:۔
اس سورۃ میں بھی انبیاء کے قصص کی ترتیب وہی ہے جو پہلے سورۃ اعراف میں گذر چکی ہے یعنی ثمود کے بعد قوم لوط کی تباہی کا ذکر ہے یہاں ضمناً جو ابراہیمؑ کا ذکر آیا ہے تو بطور تمہید آیا ہے کیونکہ جو فرشتے قوم لوط کی ہلاکت کے لیے مامور کیے گئے تھے وہ پہلے سیدنا ابراہیمؑ کے پاس ہی ایک بیٹے کی خوشخبری دینے آئے تھے یہ فرشتے انسانی شکل میں آئے اور آکر سلام کیا سیدنا ابراہیمؑ نے سلام کا جواب دیا پھر ان کی مہمان نوازی میں مشغول ہو گئے اور تھوڑی دیر میں ایک بچھڑا بھون کر لے آئے اور کھانے کے لیے ان کے سامنے رکھ دیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ابراہیم علیہ السلام کی بشارت اولاد اور فرشتوں سے گفتگو ٭٭
ابراہیم علیہ السلام کے پاس دو فرشتے بطور مہمان بشکل انسان آتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کی خوشخبری اور ابراہیم علیہ السلام کے ہاں فرزند ہونے کی بشارت لے کر اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ وہ آ کر سلام کرتے ہیں۔ آپ علیہ السلام ان کے جواب میں سلام کہتے ہیں۔ اس لفظ کو پیش سے کہنے میں علم بیان کے مطابق ثبوت و دوام پایا جاتا ہے۔
سلام کے بعد ہی ابراہیم علیہ السلام ان کے سامنے مہمان داری پیش کرتے ہیں۔ بچھڑے کا گوشت جسے گرم پتھروں پر سینک لیا گیا تھا، لاتے ہیں۔ جب دیکھا کہ ان نو وارد مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے ہی نہیں، اس وقت ان سے کچھ بدگمان سے ہو گئے اور کچھ دل میں خوف کھانے لگے۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہلاکت قوم لوط کے لیے جو فرشتے بھیجے گئے وہ بصورت نوجوان انسان زمین پر آئے۔ ابراہیم علیہ السلام کے گھر پر اترے آپ نے انہیں دیکھ کر بڑی تکریم کی، «فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:26،27]‏‏‏‏ ’ جلدی جلدی اپنا بچھڑا لے کر اس کو گرم پتھوں پر سینک کر لا حاضر کیا اور خود بھی ان کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ گئے ‘، آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ سارہ کھلانے پلانے کے کام کاج میں لگ گئیں۔
ظاہر ہے کہ فرشتے کھانا نہیں کھاتے۔ وہ کھانے سے رکے اور کہنے لگے ابراہیم علیہ السلام ہم جب تلک کسی کھانے کی قیمت نہ دے دیں کھایا نہیں کرتے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں قیمت دے دیجئیے انہوں نے پوچھا کیا قیمت ہے، آپ علیہ السلام نے فرمایا «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر کھانا شروع کرنا اور کھانا کھا کر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہنا یہی اس کی قیمت ہے۔‏‏‏‏
اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے میکائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا اور دل میں کہا کہ فی الواقع یہ اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنا خلیل بنائے۔‏‏‏‏ اب بھی جو انہوں نے کھانا شروع نہ کیا تو آپ علیہ السلام کے دل میں طرح طرح کے خیالات گزرنے لگے۔
سارہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خود ابراہیم علیہ السلام ان کے اکرام میں یعنی ان کے کھانے کی خدمت میں ہیں، تاہم وہ کھانا نہیں کھاتے تو ان مہمانوں کی عجیب حالت پر انہیں بے ساختہ ہنسی آگئی۔
ابراہیم علیہ السلام کو خوف زدہ دیکھ کر فرشتوں نے کہا آپ علیہ السلام خوف نہ کیجئے۔‏‏‏‏ اب دہشت دور کرنے کے لیے اصلی واقعہ کھول دیا کہ ہم کوئی انسان نہیں فرشتے ہیں۔ قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں کہ انہیں ہلاک کریں۔‏‏‏‏
سارہ رضی اللہ عنہا کو قوم لوط کی ہلاکت کی خبر نے خوش کر دیا۔ اسی وقت انہیں ایک دوسری خوشخبری بھی ملی کہ اس ناامیدی کی عمر میں تمہارے ہاں بچہ ہوگا۔ انہیں عجب تھا کہ جس قوم پر اللہ کا عذاب اتر رہا ہے، وہ پوری غفلت میں ہے۔
الغرض فرشتوں نے آپ علیہ السلام کو اسحاق نامی بچہ پیدا ہونے کی بشارت دی۔ اور پھر اسحاق علیہ السلام کے ہاں یعقوب علیہ السلام کے ہونے کی بھی ساتھ ہی خوشخبری سنائی۔
اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل علیہ السلام تھے۔ کیونکہ اسحاق علیہ السلام کی تو بشارت دی گئی تھی اور ساتھ ہی ان کے ہاں بھی اولاد ہونے کی بشارت دی گئی تھی۔ یہ سن کر سارہ علیہ السلام نے عورتوں کی عام عادت کے مطابق اس پر تعجب ظاہر کیا کہ میاں بیوی دونوں کے اس بڑھے ہوئے بڑھاپے میں اولاد کیسی؟ یہ تو سخت حیرت کی بات ہے۔
فرشتوں نے کہا امر اللہ میں کیا حیرت؟ تم دونوں کو اس عمر میں ہی اللہ بیٹا دے گا گو تم سے آج تک کوئی اولاد نہیں ہوئی اور تمہارے میاں کی عمر بھی ڈھل چکی ہے۔ لیکن اللہ کی قدرت میں کمی نہیں وہ جو چاہے ہو کر رہتا ہے، اے نبی علیہ السلام کے گھر والو تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہیں، تمہیں اس کی قدرت میں تعجب نہ کرنا چاہے۔ اللہ تعالیٰ تعریفوں والا اور بزرگ ہے۔‏‏‏‏