ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 52

وَ یٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ یُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدۡرَارًا وَّ یَزِدۡکُمۡ قُوَّۃً اِلٰی قُوَّتِکُمۡ وَ لَا تَتَوَلَّوۡا مُجۡرِمِیۡنَ ﴿۵۲﴾
اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آئو، وہ تم پر بادل بھیجے گا، جو خوب برسنے والا ہوگا اور تمھیں تمھاری قوت کے ساتھ اور قوت زیادہ دے گا اور مجرم بنتے ہوئے منہ نہ موڑو۔ En
اور اے قوم! اپنے پروردگار سے بخشش مانگو پھر اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تم پر آسمان سے موسلادھار مینہ برسائے گا اور تمہاری طاقت پر طاقت بڑھائے گا اور (دیکھو) گنہگار بن کر روگردانی نہ کرو
En
اے میری قوم کے لوگو! تم اپنے پالنے والے سے اپنی تقصیروں کی معافی طلب کرو اور اس کی جناب میں توبہ کرو، تاکہ وه برسنے والے بادل تم پر بھیج دے اور تمہاری طاقت پر اور طاقت قوت بڑھا دے اور تم جرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 52) ➊ {وَ يٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ …: السَّمَآءَ } آسمان کے علاوہ ہر بلند چیز کو بھی {سَمَاءٌ} کہہ لیتے ہیں، کیونکہ { سَمَا يَسْمُوْ } کا معنی بلند ہونا ہے، یہاں { السَّمَآءَ } سے مراد بادل یا بارش ہے۔ { مِدْرَارًا } یہ {دَرٌّ } سے مبالغے کا صیغہ ہے، جس کا معنی دودھ کا بہنا اور زیادہ ہونا ہے، پھر بہت برسنے والی بارش کے لیے بطور استعارہ استعمال ہونے لگا۔ { دَرَّتِ السَّمَاءُ بِالْمَطَرِ دَرًّا، وَ تَدِرُّ دَرًّا } جب آسمان سے بارش بہت برسے۔ ان آیات سے اور دوسرے مقامات مثلاً الاحقاف(۲۴) سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے فخر و غرور اور اپنے رسول ہود علیہ السلام کو جھٹلانے کی وجہ سے کافی عرصہ تک ان سے بارش روک لی گئی، جس کے نتیجے میں قحط کی وجہ سے ہر طرف دھول اڑنے لگی اور باوجود زبردست جسمانی ڈیل ڈول اور قوت کے سب لوگوں میں کمزوری نمایاں ہونے لگی تو ہود علیہ السلام نے انھیں سمجھایا کہ سب سے پہلے تو تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو شرک اور اس کی نافرمانی کی ہے، اس کی معافی مانگو۔ بہت سے مفسرین نے یہاں{ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ } سے شرک چھوڑ کر ایک اللہ پر ایمان لانا مراد لیا ہے۔ { ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَيْهِ } پھر اس کی طرف پلٹ آؤ، یعنی آئندہ اس کی ہر نافرمانی ترک کرنے اور ہر حکم بجا لانے کا پختہ عزم کرو، تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ تم پر ایسا بادل بھیجے گا جو خوب برسنے والا ہو گا اور تمھاری قوت کی کمی دور کرکے پہلے سے بھی زیادہ قوت عطا فرمائے گا۔ معلوم ہوا کہ استغفار اور توبہ سے قحط دور ہوتا ہے اور جسمانی، ذہنی اور مالی ہر قسم کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مزید فوائد کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۳) اور سورۂ نوح (۱۰ تا ۱۲)۔
➋ {وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِيْنَ:} یعنی میری اطاعت سے منہ نہ موڑو، ورنہ تم مجرم قرار پاؤ گے۔
➌ یہاں تک ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا اور اس مختصر سی تقریر میں تین دفعہ انھیں اے میری قوم! کہہ کر پکارا، تاکہ شاید قرابت کے واسطے ہی سے ان کے دلوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔ کیونکہ ہود علیہ السلام اسی قبیلے کے فرد ہو کر انھی کی بدخواہی نہیں کر سکتے تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

52۔ 1 حضرت ہود ؑ نے توبہ و استغفار کی تلقین اپنی امت یعنی اپنی قوم کو کی اور اس کے دو فوائد بیان فرمائے جو توبہ اور استغفار کرنے والی قوم کو حاصل ہوتے ہیں۔ جس طرح قرآن کریم اور بھی بعض مقامات پر یہ فوائد بیان کئے گئے ہیں (ملاحظہ سورت نوح ا۔ 11) اور نبی کا بھی فرمان ہے من لزم الاستغفار جعل اللہ لہ من کل ھم فرجا، ومن کل ضیق مخرجا ورزقہ من حیث لا یحتسب (ابوداود) ' جو پابندی سے استغفار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر فکر سے کشادگی، اور ہر تنگی سے راستہ بنا دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔ 52۔ 2 یعنی میں تمہیں جو دعوت دے رہا ہوں، اس سے اعراض اور اپنے کفر پر اصرار مت کرو۔ ایسا کرو گے تو اللہ کی بارگاہ میں مجرم اور گناہ گار بن کر پیش ہو گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

52۔ اور اے قوم! اپنے پروردگار سے معافی مانگو، پھر اسی کے آگے توبہ کرو وہ تم پر موسلا دھار بارش [59] برسائے گا اور تمہاری موجودہ قوت میں مزید اضافہ کرے گا تم مجرموں کی طرح منہ نہ پھیرو“
[59] توبہ و استغفار سے رزق میں فراوانی:۔
قوم عاد کو کھیتی باڑی سے بڑی دلچسپی تھی اور زیادہ تر زراعت ہی ان کا ذریعہ معاش تھا وہ تین سال سے خشک سالی کی مصیبت میں گرفتار تھے اور بارش نہیں ہو رہی تھی۔ اس مصیبت کے دفعیہ کے لیے ہودؑ نے انھیں اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کرنے کی تلقین فرمائی اور انھیں یقین دلایا کہ اگر تم ایک اللہ کی طرف رجوع کر کے اپنے سابقہ گناہوں کی سچے دل سے معافی طلب کرو گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر آسمان سے بارش برسا کر رزق کے دروازے کھول دے گا جس سے تمہاری مالی اور بدنی قوت دونوں میں اضافہ ہو گا نیز خوش حالی کا دور دورہ ہو جائے گا اس بات کا تو قوم نے کوئی جواب نہ دیا البتہ کسی صریح معجزہ کا مطالبہ کر دیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَیٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہو چکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ ﴿ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ پھر اس کے آگے توبہ کرو۔ یعنی آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے ﴿ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّؔدْرَارًا وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿ وَّیَزِدْؔكُمْ قُ٘وَّةً اِلٰى قُ٘وَّتِكُمْ اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا: ﴿ مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّ٘ةً (حم السجدہ: 41؍15) ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے پس اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کی قوت میں اور اضافہ کر دے گا۔ ﴿ وَلَا تَتَوَلَّوْا اور روگردانی نہ کرو۔ یعنی اپنے رب سے منہ نہ موڑو ﴿ مُجْرِمِیْنَ گناہ گار ہو کر یعنی تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہ موڑو اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت نہ کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويا قوم استغفروا ربكم}: عما مضى منكم، {ثم توبوا إليه}: فيما تستقبلونه بالتوبة النَّصوح والإنابة إلى الله تعالى؛ فإنَّكم إذا فعلتم ذلك؛ {يُرْسِل السماءَ عليكُم مِدْراراً}: بكثرة الأمطار التي تَخْصُبُ بها الأرض ويكثر خيرها، {ويَزدْكم قوةً إلى قوَّتكم}: فإنَّهم كانوا من أقوى الناس، ولهذا قالوا: {من أشدُّ مِنَّا قوَّةً}، فوعدهم أنَّهم إن آمنوا زادهم قوَّةً إلى قوَّتهم، {ولا تتولَّوا}: عنه؛ أي: عن ربكم {مجرمين}؛ أي: مستكبرين عن عبادته، متجرِّئين على محارمه.