(آیت 51) ➊ {يٰقَوْمِلَاۤاَسْـَٔلُكُمْعَلَيْهِاَجْرًا …: ”فَطَرَ“ } کا اصل معنی پھاڑنا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِذَاالسَّمَآءُانْفَطَرَتْ }»[الانفطار: ۱]”اور جب آسمان پھٹ جائے گا۔“ {”فَطَرَنِيْ“} سے مراد مجھے کسی گزشتہ نمونے کے بغیر پیدا فرمایا۔ ➋ { اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ:} تو کیا تم سمجھتے نہیں کہ جو شخص سچے دل سے دعوت وتبلیغ اور نصیحت کی مشقت اٹھا رہا ہے اور جسے صرف اپنے رب سے اجر لینا ہے، وہ تم سے کوئی اجرت یا دنیوی فائدہ کیوں چاہے گا؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
51۔ 1 اور یہ نہیں سمجھتے کہ جو بغیر اجرت کے اور لالچ کے تمہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہے وہ تمہارا خیر خواہ ہے، آیت میں یَاقَوْمِ! سے دعوت ایک طریقہ کار معلوم ہوتا ہے یعنی بجائے یہ کہنے کے ' اے کافرو ' اے مشرکو ' اے میری قوم سے مخاطب کیا گیا ہے۔ '
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
51۔ اے قوم! میں تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو اس کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ کیا تم سوچتے [58] نہیں؟
[58] دعوت اور رسالت پر اجر:۔
ہر پیغمبر نے اپنی قوم سے یہ بات کہی ہے کہ میں بغیر کسی لالچ کے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں اور تم ہو کہ مجھے اپنا دشمن سمجھ کر مجھ سے دست و گریبان ہوتے ہو۔ میں نے اپنا عیش و آرام بھی چھوڑا ہے دنیا کمانے کی فکر بھی چھوڑ رکھی ہے تم سے بھی کسی معاوضہ کا مطالبہ نہیں کر رہا پھر تم سب کی دشمنی بھی مول لے رہا ہوں آخر تم خود بھی کچھ سوچو تو سہی کہ میرا اس میں کیا ذاتی فائدہ ہو سکتا ہے ایسے شخص کی بات اتنی بے وزن تو نہیں ہو سکتی کہ اسے بلا سوچے سمجھے رد کر دیا جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قوم ہود کی تاریخ ٭٭
اللہ تعالیٰ نے ہود علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول علیہ السلام بنا کر بھیجا، انہوں نے قوم کو اللہ کی توحید کی دعوت دی، اور اس کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ سے روکا، اور بتلایا کہ جن کو تم پوجتے ہو ان کی پوجا خود تم نے گھڑ لی ہے۔ بلکہ ان کے نام اور وجود تمہارے خیالی ڈھکوسلے ہیں۔ ان سے کہا کہ میں اپنی نصیحت کا کوئی بدلہ اور معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ثواب میرا رب مجھے دے گا۔ جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ کیا تم یہ موٹی سی بات بھی عقل میں نہیں لاتے کہ یہ دنیا آخرت کی بھلائی کی تمہیں راہ دکھانے والا ہے اور تم سے کوئی اجرت طلب کرنے والا نہیں۔ تم استغفار میں لگ جاؤ، گذشہ گناہوں کی معافی اللہ تعالیٰ سے طلب کرو۔ اور توبہ کرو، آئندہ کے لیے گناہوں سے رک جاؤ۔ یہ دونوں باتیں جس میں ہوں اللہ تعالیٰ اس کی روزی اس پر آسان کرتا ہے۔ اس کا کام اس پر سہل کرتا ہے۔ اس کی نشانی کی حفاظت کرتا ہے۔ سنو ایسا کرنے سے «يُرْسِلِالسَّمَاءَعَلَيْكُممِّدْرَارًا»[71-نوح:11] تم پر بارشیں برابر عمدہ اور زیادہ برسیں گی اور تمہاری قوت وطاقت میں دن دونی رات چوگنی برکتیں ہوں گی۔ حدیث شریف میں ہے { جو شخص استغفار کو لازم پکڑ لے اللہ تعالیٰ اسے ہر مشکل سے نجات دیتا ہے، ہر تنگی سے کشادگی عطا فرماتا ہے اور روزی تو اسی جگہ سے پہنچاتا ہے جو خود اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو۔ ۱؎[سنن ابوداود:1508،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں