ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 35

اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ قُلۡ اِنِ افۡتَرَیۡتُہٗ فَعَلَیَّ اِجۡرَامِیۡ وَ اَنَا بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُجۡرِمُوۡنَ ﴿٪۳۵﴾
یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے، کہہ دے اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو میرا جرم مجھی پر ہے اور میں اس سے بری ہوں جو تم جرم کرتے ہو۔ En
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے یہ قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں
En
کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے خود اسی نے گھڑ لیا ہے؟ تو جواب دے کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہو تو میرا گناه مجھ پر ہے اور میں ان گناہوں سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 35){ اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ …:} اس آیت کی مفسرین نے الگ الگ تفسیریں کی ہیں۔ بعض نے اسے نوح علیہ السلام کے قصے ہی سے متعلق سمجھتے ہوئے اس میں خطاب نوح علیہ السلام سے قرار دیا ہے اور بعض نے اسے نوح علیہ السلام کے قصے کے درمیان جملہ معترضہ قرار دیا ہے اور اسے مشرکین مکہ کا قول قرار دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب قرار دیا ہے، یعنی کیا (مکہ کے کافر) کہتے ہیں کہ اس (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اس (قرآن) کو اپنے دل سے گھڑ لیا ہے۔ (اے محمد!) کہہ دے اگر میں نے اسے اپنے دل سے گھڑا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر پڑے گا اور تم جو گناہ کرتے ہو میں اس کی ذمہ داری سے بری ہوں۔ علمائے تفسیر میں سے رازی اور ان کی موافقت میں شوکانی نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے اور لکھا ہے کہ یہی اکثر مفسرین کا قول ہے۔ حافظ ابن کثیر اور صاحب کشاف نے دوسری تفسیر کو راجح قرار دیا ہے، یہی رائے شاہ عبد القادر رحمہ اللہ کی ہے، امکان دونوں کا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

35۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک یہ مکالمہ قوم نوح ؑ اور حضرت نوح ؑ کے درمیان ہوا اور بعض کا خیال ہے کہ یہ جملہ معترضہ کے طور پر نبی اکرم اور مشرکین مکہ کے درمیان ہونے والی گفتگو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ قرآن میرا گھڑا ہوا ہے اور میں اللہ کی طرف سے منسوب کرنے میں جھوٹا ہوں تو میرا جرم ہے، اس کی سزا میں ہی بھگتوں گا۔ لیکن تم جو کچھ کر رہے ہو، جس سے میں بری ہوں، اس کا بھی تمہیں پتہ ہے؟ اس کا وبال تو مجھ پر نہیں، تم پر ہی پڑے گا کیا اس کی بھی تمہیں کچھ فکر ہے؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

35۔ (اے نبی)! کیا کافر یہ کہتے ہیں کہ: اس نے یہ (قرآن) خود ہی گھڑ لیا ہے [42] آپ ان سے کہئے کہ: ”اگر میں نے گھڑا ہے تو میرا گناہ میرے ذمہ ہے اور جو تم جرم کر رہے ہو میں ان سے بری الذمہ ہوں
[42] کفار مکہ اور قوم نوح میں مماثلت:۔
سابقہ آیات میں نوحؑ کے جو حالات بیان کیے گئے ہیں اور جو کچھ ان کی قوم ان کو جواب دیتی اور ان سے تکرار کرتی رہی وہ بعینہ ویسے ہی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں قریش مکہ کی طرف سے پیش آرہے تھے لہٰذا قریش مکہ کو یہ شبہ لاحق ہوا کہ یہ تو ہمارے ہی حالات اور سوال و جواب ہیں جو نوحؑ کا نام لے کر ہمارے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک الزام یہ بھی لگا دیا کہ یہ باتیں تو یہ خود ہی بنا کر ہمارے سامنے بیان کر رہا ہے اور ”گفتہ آید در حدیث دیگراں“ کے مصداق ہم پر ہی یہ چوٹ کی جا رہی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ قریش مکہ سیدنا نوحؑ کے واقعات سے عبرت حاصل کرتے مگر اس کے بجائے ان کا ذہن برے پہلو کی طرف گیا اور اپنی اصلاح کرنے کی بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک اور الزام لگا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ آپ ان سے کہیے کہ اگر تمہارے کہنے کے مطابق یہ واقعہ میں نے گھڑا ہے تو پھر میں ہی اس جرم کا ذمہ دار ہوں لیکن جو جرائم تم کر رہے ہو ان کی بھی کچھ فکر ہے؟ وہ تو تمہیں ہی بھگتنا ہوں گے نہ کہ مجھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کفار کا الزام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جواب ٭٭
یہ درمیانی کلام اس قصے کے بیچ میں اس کی تائید اور تقریر کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ’ یہ کفار تجھ پر اس قرآن کے از خود گھڑ لینے کا الزام لگا رہے ہیں تو جواب دے کہ اگر ایسا ہے تو میرا گناہ مجھ پر ہے میں جانتا ہوں کہ اللہ کے عذاب کیسے کچھ ہیں؟ پھر کیسے ممکن ہے کہ میں اللہ پر جھوٹ افتراء گھڑ لوں؟ ہاں اپنے گناہوں کے ذمے دار تم آپ ہو ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوح علیہ السلام کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوح علیہ السلام کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُ٘لْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَ٘عَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَاَنَا بَرِیْٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجْرِمُوْنَ کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى (الانعام: 6؍164) کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا: ﴿ اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔ یعنی قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں۔ اس لیے فرمایا: ﴿ قُ٘لْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَ٘عَلَیَّ اِجْرَامِیْ کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِیْٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجْرِمُوْنَ اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں۔ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أم يقولونَ افتراه}: هذا الضمير محتملٌ أن يعود إلى نوح كما كان السياق في قصتِهِ مع قومه، وأنَّ المعنى: إنَّ قومه يقولون: افترى على الله كذباً، وكَذَبَ بالوحي الذي يزعم أنَّه من الله، وأنَّ الله أمره أن يقول: {قلْ إنِ افتريتُه فعليَّ إجرامي وأنا بريء مما تُجْرِمون}؛ أي: كلٌّ عليه وزره، {ولا تَزِرُ وازرةٌ وِزْرَ أخرى}. ويُحتمل أن يكون عائداً إلى النبيِّ محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، وتكون هذه الآية معترضةً في أثناء قصة نوح وقومه؛ لأنَّها من الأمور التي لا يعلمها إلا الأنبياء، فلما شرع الله في قصِّها على رسوله، وكانت من جملة الآيات الدالَّة على صدقه ورسالته؛ ذكر تكذيب قومه له، مع البيان التامِّ، فقال: {أم يقولونَ افتراه}؛ أي: هذا القرآن اختلقه محمدٌ من تلقاء نفسه؛ أي: فهذا من أعجب الأقوال وأبطلها؛ فإنَّهم يعلمون أنَّه لم يقرأ ولم يكتبْ ولم يرحلْ عنهم لدراسة على أهل الكتب، فجاء بهذا الكتاب الذي تحدَّاهم أن يأتوا بسورةٍ من مثله؛ فإذا زعموا مع هذا أنَّه افتراه؛ عُلِمَ أنَّهم معاندون، ولم يبقَ فائدةٌ في حجاجهم، بل اللائق في هذه الحال الإعراضُ عنهم، ولهذا قال: {قلْ إنِ افتريتُهُ فعليَّ إجرامي}؛ أي: ذنبي وكذبي. {وأنا بريءٌ مما تجرِمون}؛ أي: فلم تستلِجُّون في تكذيبي؟