تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا:} نوح علیہ السلام اور دوسرے پیغمبروں کی امتوں کے کافروں کی طرح مکہ کے کافر بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہی بات کہا کرتے تھے کہ جو شخص ہماری طرح کا بشر ہو، جو کھاتا پیتا، بازاروں میں چلتا پھرتا، سوتا جاگتا، بیویاں اور بال بچے رکھتا ہو، آخر وہ اللہ کا رسول کیسے ہو سکتا ہے۔ (دیکھیے فرقان: ۷) مطلب یہ ہے کہ رسالت اور بشریت میں تضاد ہے اور ان دونوں کا ایک شخص میں جمع ہونا ناممکن ہے، حالانکہ تمام انبیاء میں دونوں اوصاف جمع تھے، جیسا کہ فرمایا: «{ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا }» [بنی إسرائیل: ۹۳] ”تو کہہ میرا رب پاک ہے، میں تو ایک بشر کے سو اکچھ نہیں جو رسول ہے۔“ اور دیکھیے سورۂ فرقان (۲۰) اور مومنون (۳۳، ۳۴) کفار آپ کا بشر ہونا جانتے تھے، کیونکہ آپ انھی میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے انھوں نے آپ کو رسول ماننے سے انکار کر دیا۔ افسوس کہ کچھ جدی پشتی مسلمان باپ دادا سے سن کر آپ کو رسول مانتے ہیں، مگر آپ کے بشر ہونے سے انکار کرتے ہیں۔ درحقیقت یہ ایک ہی ذہن ہے کہ انسان رسول نہیں ہو سکتا۔
➌ {وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ …: ”اَرَاذِلُ“ ”اَرْذَلُ“} کی جمع ہے، یعنی کم تر درجے کے لوگ۔{ ” بَادِيَ “ ” بَدَا يَبْدُوْ “} (ظاہر ہونا) سے اسم فاعل ہو تو معنی ہو گا ظاہر دیکھنے میں اور {”بَدَءَ يَبْدَءُ“} (شروع ہونا) سے ہو تو معنی ہو گا پہلی نظر میں، یعنی اس وجہ سے بھی ہم آپ کی پیروی اختیار نہیں کر سکتے کہ کچھ لوگ جو آپ کے متبع ہو گئے ہیں وہ تو دیکھنے ہی سے نظر آتے ہیں کہ ہمارے رذالے یعنی کم تر درجے کے لوگ ہیں۔ گویا ان کی نظر میں اس شخص کے تابع ہونا، جس کے پیروکار معاشرے میں نچلے درجے کے لوگ ہوں، ان کی شان کے منافی ہے۔ (دیکھیے شعراء: ۱۱۱) بعینہٖ یہی بات مکہ کے کھاتے پیتے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ان کی پیروی ہماری قوم کے غلام اور نچلے طبقے کے لوگ کرتے ہیں۔ (دیکھیے انعام: ۵۲ تا ۵۴) حالانکہ حق کی تاریخ سے ثابت ہے کہ اس کے ابتدائی پیروکار دنیوی لحاظ سے کمزور لوگ ہی ہوئے ہیں، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہرقل اور ابوسفیان کے سوال و جواب میں مذکور ہے کہ جب ابوسفیان نے بتایا کہ اس کی پیروی ضعفاء نے کی ہے تو ہرقل نے کہا، یہی لوگ تمام رسولوں کے پیروی کرنے والے رہے ہیں۔ [بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی …: ۷]
➍ { وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ:} ”ہم تمھارے لیے اپنے آپ پر کوئی برتری نہیں دیکھتے“ قوم کا یہ خطاب نوح علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں سے ہے کہ کسی بھی چیز میں تم ہم سے بڑھ کر نہیں ہو۔
➎ { بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِيْنَ:} یعنی اس بات میں کہ تم کہتے ہو نوح علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فقال الملأ الذين كَفَروا من قومِهِ}؛ أي: الأشراف والرؤساء رادِّين لدعوة نوح عليه السلام كما جَرَتِ العادة لأمثالهم أنَّهم أول مَن ردَّ دعوة المرسلين {ما نراك إلا بشراً مثلَنا}: وهذا مانعٌ بزعمهم عن اتِّباعه، مع أنه في نفس الأمر هو الصوابُ الذي لا ينبغي غيره؛ لأنَّ البشر يتمكَّن البشرُ أن يتلقَّوا عنه ويراجعوه في كلِّ أمرٍ؛ بخلاف الملائكة. {وما نراك اتَّبعك إلا الذين هم أراذِلُنا}؛ أي: ما نرى اتَّبعك منَّا إلا الأراذلُ والسَّفَلة ـ بزعمهم ـ وهم في الحقيقة الأشرافُ وأهل العقول، الذين انقادوا للحقِّ، ولم يكونوا كالأراذل الذين يُقال لهم: الملأ، الذين اتَّبعوا كل شيطان مَريدٍ، واتَّخذوا آلهة من الحجر والشجر يتقرَّبون إليها ويسجدون لها؛ فهل ترى أرذل من هؤلاء وأخس؟! وقولهم: {بادِيَ الرأي}؛ أي: إنما اتَّبعوك من غير تفكُّر ورويَّة، بل بمجرَّد ما دعوتهم اتَّبعوك؛ يعنون بذلك أنهم ليسوا على بصيرةٍ من أمرهم، ولم يعلموا أنَّ الحقَّ المبينَ تدعو إليه بداهةُ العقول، وبمجرَّد ما يصل إلى أولي الألباب يعرفونه ويتحقَّقونه، لا كالأمور الخفيَّة التي تحتاج إلى تأمُّل وفكر طويل. {وما نرى لكم علينا من فضل}؛ أي: لستم أفضل منا فننقادُ لكم، {بل نظنُّكم كاذبين}: وكذبوا في قولهم هذا؛ فإنَّهم رأوا من الآيات التي جعلها الله مؤيِّدة لنوح ما يوجِبُ لهم الجزم التامَّ على صدقه.