تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
پہلی تمام قوموں کے واقعات کے بعد اب خلاصہ بیان ہو رہا ہے کہ تم سے پہلے ان لوگوں میں ایسے اصحاب خیر کیوں نہ ہوئے جو اہل شر اور اہل فساد کو فساد فی الارض سے روکتے، یعنی ایسے لوگوں کی موجودگی نہایت ضروری تھی۔ پھر فرمایا، ایسے لوگ تھے تو سہی مگر نہایت تھوڑے، جن کی کچھ پیش نہ چلی، چنانچہ جب دوسروں پر عذاب آیا تو ان قلیل لوگوں کو ہم نے عذاب سے بچا لیا۔ اس میں مسلمانوں کو بھی تنبیہ ہے کہ جب تک ان میں ایسے اصحاب خیر موجود رہیں گے جو نیکی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور ایسے اصحاب خیر بالکل تھوڑے اور بے اثر نہیں ہوں گے تو اس وقت تک عذاب نہیں آئے گا۔ پھر پہلوں کی ہلاکت کا سبب بیان فرمایا کہ وہ ان نعمتوں اور خوش حالیوں میں پڑ کر اپنی خسیس خواہشات کے پیچھے ایسے لگے کہ وہ عذاب کے قابل مجرم بن گئے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ظالموں کا شیوہ یہی ہے کہ وہ اپنی بدعادتوں سے باز نہیں آتے۔ نیک علماء کے فرمان کی طرف توجہ بھی نہیں کریتے یہاں تک کہ اللہ کے عذاب ان کی بے خبری میں ان پر مسلط ہو جاتے ہیں۔ بھلی بستیوں پر اللہ کی طرف سے از راہ ظلم عذاب کبھی آتے ہی نہیں۔ آیت میں ہے «وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَـٰكِن ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ» ۱؎ [11-ھود:101] ’ ہم ظلم سے پاک ہیں لیکن خود ہی وہ اپنی جانوں پر مظالم کرنے لگتے ہیں ‘۔
اور جگہ ہے «وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ» ۱؎ [41-فصلت:46] ’ تمہارا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لمَّا ذكر تعالى إهلاك الأمم المكذِّبة للرسل، وأنَّ أكثرهم منحرفون عن أهل الكتب الإلهية، وذلك كلُّه يقضي على الأديان بالذَّهاب والاضمحلال؛ ذكر أنَّه لولا أنه جعل في القرون الماضية بقايا من أهل الخير، يدعون إلى الهدى وينهون عن الفساد والرَّدى، فحصل من نفعهم، وأبقيت به الأديان، ولكنَّهم قليلون جدًّا ، وغاية الأمر أنَّهم نجوا باتِّباعهم المرسلين، وقيامهم بما قاموا به من دينهم، وبكون حجَّة الله أجراها على أيديهم؛ ليهلك من هَلَكَ عن بيِّنة ويحيا من حَيَّ عن بيَّنة {و} لكن {اتَّبع الذين ظلموا ما أُتْرِفوا فيه}؛ أي: اتَّبعوا ما هم فيه من النعيم والترف، ولم يبغوا به بدلاً. {وكانوا مجرمين}؛ أي: ظالمين باتِّباعهم ما أترِفوا فيه، فلذلك حقَّ عليهم العقابُ واستأصلهم العذابُ.
وفي هذا حثٌّ لهذه الأمة أن يكون فيهم بقايا؛ مصلحون لما أفسد الناس، قائمون بدين الله، يدعون من ضلَّ إلى الهدى، ويصبرون منهم على الأذى، ويبصِّرونهم من العمى، وهذه الحالة أعلى حالة يرغب فيها الراغبون، وصاحبها يكون إماماً في الدين؛ إذا جعل عمله خالصاً لربِّ العالمين.