ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 94

فَاِنۡ کُنۡتَ فِیۡ شَکٍّ مِّمَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ فَسۡـَٔلِ الَّذِیۡنَ یَقۡرَءُوۡنَ الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَقَدۡ جَآءَکَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿ۙ۹۴﴾
پھر اگر تو اس کے بارے میں کسی شک میں ہے جو ہم نے تیری طرف نازل کیا ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تجھ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں، بلاشبہ یقینا تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے حق آیا ہے، سو تو ہرگز شک کرنے والوں سے نہ ہو۔ En
اگر تم کو اس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اُتری ہوئی) کتابیں پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا
En
پھر اگر آپ اس کی طرف سے شک میں ہوں جس کو ہم نے آپ کے پاس بھیجا ہے تو آپ ان لوگوں سے پوچھ دیکھیے جو آپ سے پہلی کتابوں کو پڑھتے ہیں۔ بیشک آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے سچی کتاب آئی ہے۔ آپ ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 94) {فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ …:} اس سورت کااصل موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت اور مخالفین کے شبہات کی تردید ہے۔ یہاں سورت کے آخر میں پھر اصل موضوع کی طرف توجہ فرمائی ہے۔ مشرکین عرب چونکہ ان پڑھ اور آسمانی کتابوں کے علم سے بے بہرہ تھے، اس لیے ان کو توجہ دلائی کہ اگر تمھیں کوئی شک ہے، خود علم نہیں ہے تو ان علمائے یہود سے دریافت کر لو جو تورات وغیرہ کا آسمانی علم رکھتے ہیں۔ ان میں سے جو منصف مزاج اور اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ اقرار کریں گے کہ قرآن واقعی آسمانی کتاب اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں، کیونکہ ان کی کتابوں میں جگہ جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتیں موجود ہیں اور آپ کی علامات بیان کی گئی ہیں۔ الغرض! یہ خطاب تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے مگر مقصود مشرکین عرب کو توجہ دلانا ہے، ورنہ آپ کو اپنی رسالت پر شک ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ بات بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ بعض اوقات ایک بات بطور فرض و تقدیر کی جاتی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ فی الواقع ایسا ہے، یعنی اگر فرض کریں آپ کو کوئی شک ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لیں، ان کی کتابوں میں آپ کا واضح ذکر خیر موجود ہے، پھر شک کیسا؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ جب عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھیں گے کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟ تو وہ اپنے تفصیلی بیان میں یہ بھی کہیں گے: «{ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ [المائدۃ: ۱۱۶] یعنی فرض کریں کہ میں نے یہ بات کہی تھی تو یا اللہ! تجھ سے تو اوجھل نہیں رہ سکتی۔ مطلب صاف ہے کہ میں نے یہ بات ہر گز نہیں کہی۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ شک تھا نہ آپ کو کسی اہل کتاب سے پوچھنے کی ضرورت تھی۔ ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ یہاں { كُنْتَ فِيْ شَكٍّ } میں ہر انسان کو براہ راست خطاب ہے، کیونکہ یہ کتاب ہر ایک کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

94۔ 1 یہ خطاب یا تو عام انسانوں کو ہے یا پھر نبی کے واسطے سے امت کو تعلیم دی جا رہی ہے۔ کیونکہ نبی کو تو وحی کے بارے میں کوئی شک ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ جو کتاب پڑھتے ہیں، ان سے پوچھ لیں ' کا مطلب ہے کہ قرآن مجید سے پہلے کی آسمانی کتابیں (تورات و انجیل وغیرہ) یعنی جن کے پاس یہ کتابیں موجود ہیں ان سے اس قرآن کی بابت معلوم کریں کیونکہ ان میں اس کی نشانیاں اور آخری پیغمبر کی صفات بیان کی گئی ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

94۔ پھر اگر آپ کو اس کتاب کے بارے میں کچھ شک ہو جو ہم نے آپ کی طرف نازل [104] کی ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لیجئے جو آپ سے پہلے کتاب (تورات) پڑھتے ہیں۔ یقیناً آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے حق آچکا ہے، لہذا آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں
[104] شک کا علاج اہل علم سے تحقیق کرنا ہے:۔
بظاہر یہ خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے لیکن اس سے مراد دوسرے لوگ ہیں اور یہ خطاب محض تاکید مزید کی بنا پر ہے وجہ یہ ہے کہ ہر نبی منزل من اللہ وحی پر سب سے پہلے خود ایمان لاتا ہے پھر دوسروں کو دعوت دیتا ہے اور شک اور ایمان دو بالکل متضاد چیزیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھلا اس بات میں کیسے شک کر سکتے تھے جس کی تمام دنیا کو دعوت دے رہے تھے اور سننے والوں کے دلوں میں بھی پہاڑ سے زیادہ مضبوط یقین پیدا کر دیتے تھے اب اگر اللہ کی نازل کردہ وحی میں کسی شخص کو شک پیدا ہو کہ آیا یہ واقعی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے یا نہیں تو اس کا علاج یہ نہیں کہ وہ شک میں ہی پڑا رہے بلکہ یہ ہے کہ جن لوگوں پر سابقہ آسمانی کتابیں نازل ہوئی ہیں اور وہ ان کتابوں کو پڑھتے بھی ہیں۔ یعنی یہود و نصاریٰ، ان سے پوچھ کر اپنا شک دور کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہود و نصاریٰ کی اکثریت ایسی تھی جو آپ پر ایمان نہیں لائے تھے تاہم ان میں کچھ انصاف پسند لوگ بھی موجود تھے جن میں سے کچھ ایمان لے آئے اور بعض نے بعض دوسری وجوہ کی بنا پر قبول نہیں کیا تھا پھر چونکہ اصولی لحاظ سے سب آسمانی کتابوں کی تعلیم ملتی جلتی ہے لہٰذا اہل کتاب میں سے بھی منصف لوگ یہ شہادت دے دیتے تھے کہ فی الواقع یہ آسمانی کتاب ہے۔ اور آپ کے اور صحابہ کے شک نہ کرنے کا عملی ثبوت یہ ہے کہ آپ نے یا صحابہ نے کبھی اہل کتاب سے یہ بات نہ پوچھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ٹھوس دلائل کے باوجود انکار قابل مذمت ہے ٭٭
{ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہ مجھے کچھ شک نہ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت } }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17907:مرسل]‏‏‏‏۔
پس اس آیت سے مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایمان کی مضبوطی کی جائے اور ان سے بیان کیا جائے کہ اگلی الٰہامی کتابوں میں بھی ان کے نبی کی صفتیں موجود ہیں، خود اہل کتاب بھی بخوبی واقف ہیں۔
جیسے «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» ۱؎ [7-الأعراف:157]‏‏‏‏ الخ میں ہے۔
ان لوگوں پر تعجب اور افسوس ہے ان کی کتابوں میں اس نبی آخر الزمان کی تعریف و توصیف اور جان پہچان ہونے کے باوجود بھی ان کتابوں کے احکام کا خلط ملط کرتے ہیں اور تحریف و تبدیل کر کے بات بدل دیتے ہیں اور دلیل سامنے ہونے کے باوجود انکاری رہتے ہیں۔ شک و شبہ کی ممانعت کے بعد آیات رب کی تکذیب کی ممانعت ہوئی۔ پھر بدقسمت لوگوں کے ایمان سے ناامیدی دلائی گئی۔ جب تک کہ وہ عذاب نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ تو اس وقت ایمان لائیں گے جس وقت ایمان لانا بے سود ہوگا۔
موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے لیے اور فرعونیوں کے لیے یہی بد دعا کی تھی «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:88]‏‏‏‏ ’ اے ہمارے رب! ان کے مالوں کو نیست و نابود کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے سو یہ ایمان نہ لانے پائیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب کو دیکھ لیں‘۔
«وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:111]‏‏‏‏ ’ ان کی جہالت اس درجے پر پہنچ چکی ہے کہ بالفرض ہم اپنے فرشتوں کو ان پر اتاریں، مردے ان سے بولیں ہر پوشیدہ چیز سامنے آ جائے جب بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا ہاں مرضی مولیٰ اور چیز ہے ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: ﴿ فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اگر آپ اس کی بابت شک میں ہیں جو ہم نے آپ کی طرف اتارا کہ آیا یہ صحیح ہے یا غیر صحیح ہے؟ ﴿ فَسْـَٔلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ تو ان سے پوچھ لیں جو آپ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں یعنی انصاف پسند اہل کتاب اور راسخ العلم علماء سے پوچھیے وہ اس چیز کی صداقت کا اقرار کریں گے جس کی آپ کو خبر دی گئی ہے اور وہ یہ بھی اعتراف کریں گے وہ اس ہدایت کے موافق ہے جو ان کے پاس ہے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ میں سے بہت سے لوگوں نے بلکہ ان میں سے اکثر لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی، آپ سے عناد رکھا اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وہ اہل کتاب سے اپنی صداقت پر گواہی لیں اور ان کی گواہی کو اپنی دعوت پر حجت اور اپنی صداقت پر دلیل بنائیں ... یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
اس کا جواب متعدد پہلوؤں سے دیا جاتا ہے۔
(۱) جب شہادت کی اضافت کسی گروہ، کسی مذہب کے ماننے والوں یا کسی شہر کے لوگوں کی طرف کی جاتی ہے تو اس کا اطلاق صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو ان میں عادل اور سچے ہوتے ہیں اور ان کے علاوہ دیگر لوگ خواہ اکثریت ہی میں کیوں نہ ہوں، ان کی شہادت معتبر نہیں کیونکہ شہادت، عدالت اور صدق پر مبنی ہوتی ہے اور یہ مقصد بہت سے ربانی احبار کے ایمان سے حاصل ہوگیا تھا، مثلاً:عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب اور بہت سے دیگر اہل کتاب جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء کے عہد میں اور بعد کے زمانوں میں ایمان لاتے رہے۔
(۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر اہل کتاب کی شہادت دراصل ان کی کتاب تورات، جس کی طرف یہ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، کے بیان پر مبنی ہے جب تورات میں ایسا مواد موجود ہو جو قرآن کی موافقت اور اس کی تصدیق کرتا ہو اور اس کی صحت کی شہادت دیتا ہو، تب اگر اولین و آخرین تمام اہل کتاب اس کے انکار پر متفق ہو جائیں تو ان کا یہ انکار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے قرآن میں قادح نہیں۔
(۳) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ اپنے لائے ہوئے قرآن کی صداقت پر اہل کتاب سے استشہاد کریں اور ظاہر ہے کہ یہ حکم علی الاعلان دیا گیا تھا اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اہل کتاب میں بہت سے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے ابطال کے بڑے حریص تھے۔ اگر ان کے پاس کوئی ایسا مواد موجود ہوتا جو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو رد کرسکتا تو وہ ضرور اسے پیش کرتے چونکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی اس لیے دشمنوں کا عدم جواب اور مستجیب کا اقرار اس قرآن اور صداقت پر سب سے بڑی دلیل ہے۔
(۴) اکثر اہل کتاب ایسے نہ تھے جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو رد کر دیا ہو بلکہ ان میں سے اکثر ایسے لوگ تھے جنھوں نے آپ کی دعوت کو قبول کر لیا تھا اور انھوں نے اپنے اختیار سے آپ کی اطاعت کی کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو روئے زمین پر اکثر لوگ اہل کتاب تھے۔ اسلام پر زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ شام، مصر، عراق اور ان کے آس پاس کے علاقوں کے اکثر لوگ مسلمان ہوگئے، یہ ممالک اہل کتاب کے مذہب کا گڑھ تھے۔ اسلام قبول کرنے سے صرف وہی لوگ باقی رہ گئے تھے جن کے پاس سرداریاں تھیں اور جنھوں نے اپنی سرداریوں کو حق پر ترجیح دی تھی، نیز وہ لوگ باقی رہ گئے جنھوں نے ان سرداروں کی پیروی کی جو حقیقی طور پر نہیں بلکہ برائے نام اس دین کی طرف منسوب تھے، مثلاً:فرنگی، جن کے دین کی حقیقت یہ ہے کہ وہ دہریے ہیں اور تمام انبیاء و مرسلین کے مذاہب کے دائرے سے خارج ہیں وہ صرف ملکی رواج کے طور پر اور اپنے باطل پر ملمع کی خاطر دین مسیح کی طرف منسوب ہیں۔ جیسا کہ ان کے حالات کی معرفت رکھنے والے جانتے ہیں۔
﴿ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّتحقیق آ گیا آپ کے پاس حق جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی شک نہیں ﴿ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ آپ کے رب کی طرف سے، پس آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَؔكُ٘نْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّؔنْهُ (الاعراف:7؍2) یہ کتاب ہے جو آپ پر نازل کی گئی ہے، پس آپ کے دل میں کوئی تنگی نہیں آنی چاہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى لنبيِّه محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -: {فإن كنتَ في شكٍّ مما أنزلنا إليك}: هل هو صحيحٌ أم غير صحيح، {فاسأل الذين يقرؤون الكتاب من قبلك}؛ أي: اسأل أهل الكتب المنصفين والعلماء الراسخين؛ فإنهم سيقرُّون لك بصدق ما أخبرت به وموافقته لما معهم.

فإن قيل: إن كثيراً من أهل الكتاب من اليهود والنصارى، بل ربما كان أكثرهم ومعظمهم، كذَّبوا رسول الله، وعاندوه، وردُّوا عليه دعوته، والله تعالى أمر رسوله أن يستشهدَ بهم، وجعل شهادتَهم حجةً لما جاء به وبرهاناً على صدقه؛ فكيف يكونُ ذلك؟! فالجوابُ عن هذا من عدة أوجه:

منها: أنَّ الشهادة إذا أضيفت إلى طائفةٍ أو أهل مذهبٍ أو بلدٍ ونحوهم؛ فإنَّها إنما تتناول العدول الصادقين منهم، وأما مَنْ عداهم؛ فلو كانوا أكثر من غيرهم؛ فلا عبرة فيهم؛ لأن الشهادة مبنيَّة على العدالة والصدق، قد حصل ذلك بإيمان كثيرٍ من أحبارهم الرَّبانيِّين؛ كعبد الله بن سلام وأصحا به وكثيرٍ ممَّن أسلم في وقت النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - وخلفائه ومن بعدهم.

ومنها: أن شهادة أهل الكتاب للرسول مبنيَّة على كتابهم التوراة الذي ينتسبون إليه؛ فإذا كان موجوداً في التوراة ما يوافق القرآن ويصدِّقُه ويشهدُ له بالصحَّة؛ فلو اتَّفقوا من أولهم وآخرهم على إنكار ذلك؛ لم يقدحْ بما جاء به الرسول.

ومنها: أنَّ الله تعالى أمر رسوله أن يستشهد بأهل الكتاب على صحَّة ما جاءه وأظهر ذلك وأعلنه على رؤوس الأشهاد، ومن المعلوم أن كثيراً منهم من أحرص الناس على إبطال دعوة الرسول محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -؛ فلو كان عندهم ما يردُّ ما ذكره الله؛ لأبدَوْه وأظهروه وبيَّنوه، فلما لم يكنْ شيءٌ من ذلك؛ كان عدم ردِّ المعادي وإقرار المستجيب من أدلِّ الأدلَّة على صحَّة هذا القرآن وصدقه.

ومنها: أنه ليس أكثر أهل الكتاب ردَّ دعوة الرسول، بل أكثرُهم استجاب لها وانقاد طوعاً واختياراً؛ فإنَّ الرسولَ بُعِثَ وأَكْثَرُ أهل الأرض المتديِّنين أهل الكتاب ، فلم يمكثْ دينُه مدةً غير كثيرة حتى انقاد للإسلام أكثر أهل الشام ومصر والعراق وما جاورها من البلدان التي هي مقرُّ دين أهل الكتاب ولم يبقَ إلا أهل الرياسات الذين آثروا رياساتهم على الحقِّ ومَنْ تبِعَهم من العوامِّ الجهلة ومن تديَّن بدينهم اسماً لا معنى؛ كالإفرنج الذين حقيقة أمرهم أنَّهم دهريَّة منحلُّون عن جميع أديان الرسل، وإنَّما انتسبوا للدين المسيحيِّ ترويجاً لملكهم وتمويهاً لباطلهم؛ كما يعرف ذلك من عرف أحوالهم البيِّنة الظاهرة.

وقوله: {لقد جاءك الحق}؛ أي: الذي لا شكَّ فيه بوجه من الوجوه، {من ربِّك فلا تكوننَّ من الممترينَ }: كقوله تعالى: {كتابٌ أُنزِلْ إليكَ فلا يكن في صدرك حرجٌ منه}.